13/05/2026
میانوالی کے غیرت مند سپوتو!
اللہ تعالیٰ کے فضل اور آپ کے تعاون سے، اپریل 2026 تک موساز فنڈ سے 60 لاکھ روپے سے زائد کی مالی معاونت نادر اور قابل طلباء کو فراہم کی جا چکی ہے۔
آپ کے اس شاندار تعاون سے
موساز نے درجنوں خاندانوں کے روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد رکھی دی ہے۔
اس وقت ہمارے زیرِ کفالت طلباء کی ڈگری مکمل ہونے تک ہمیں اگلے 3 سالوں میں مزید 33 لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔
جبکہ ہمارے پاس اس وقت فنڈ میں تقریباً 9 لاکھ روپے موجود ہیں۔
مطلب کہ اگر ہم آج کے بعد ایک بھی نیا طالب علم شامل نہ کریں، تب بھی ہمیں 24 لاکھ روپے کا شارٹ فال (کمی) درپیش ہے۔
لیکن
ہمارے پاس روزانہ نئے ذہین اور مستحق طلباء اپنی فریاد لے کر آتے رہتے ہیں۔
کیا ہم وسائل کی کمی کی وجہ سے ان شاہینوں کے پر کاٹ دیں؟
ہمیں اپنے موجودہ طلباء کا سفر مکمل کرنے اور نئے آنے والے مستحق بچوں کو سہارا دینے کے لیے آپ کے مستقل تعاون کی ضرورت ہے۔
آئیں! موساز کے دست و بازو بنیں
تاکہ میانوالی کا کوئی بھی ٹیلنٹ
فیس نہ ہونے کی وجہ سے
تعلیم سے محروم نہ رہے۔
سیکرٹری نشرو اشاعت موساز
ماحی خان
13/05/2026
موساز ۔۔۔ انقلاب بذریعہ تعلیم کا ساتھ
۔۔
تعلیم وہ انویسٹمنٹ ہے جو نسلوں کو بدل کر صدیوں تک نفع دیتی رہتی ہے ۔
تعلیم مستقل شناخت بناتی ہے ۔
تعلیم وقار پیدا کرتی ہے اور احترام و اکرام سے نوازتی ہے ۔
تعلیم تو وہ دولت ہے کو چوری نہیں ہو سکتی ۔۔۔
تعلیم ہتھیار بھی ہے اوزار بھی ہے۔ راستہ بھی۔ شمع بھی ہے ۔ رہنما بھی ہے۔
تعلیم پیمانہ بھی ہے۔
تو آئیں انقلاب بذریعہ تعلیم کا حصہ بنیں
اMUSAS موساز کا ساتھ دیں۔
میانوالی سے جہالت ، غربت اور پسماندگی کو دور کرنے کا سبب بنیں۔
آئیں دوسروں کے لیے تعلیم کا سبب بنیں۔۔۔
کل آپ کے لیے کئی اور اسباب پیدا ہو چکے ہوں گے ۔
۔۔
طارق اقبال خان ۔۔۔سابق صدر موساز ۔
13/05/2026
آپ کی ہر مدد کسی نہ کسی ہونہار بچے کے روشن مستقبل تک پہنچتی ہے۔
“موساز” اس یقین کے ساتھ کام کرتا ہے کہ امانت اور اعتماد ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔
آپ کی دی گئی سپورٹ اُن طلبہ کی تعلیمی فیس پر خرچ کی جاتی ہے جو مالی مشکلات کے باوجود اپنے خواب پورے کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔
ہمارا مقصد صرف مدد کرنا نہیں، بلکہ ایک محفوظ اور بہتر مستقبل کی بنیاد رکھنا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اعتماد بہت قیمتی ہوتا ہے، اسی لیے ہر تعاون کو پوری ذمہ داری اور دیانت داری کے ساتھ صحیح جگہ پہنچایا جاتا ہے۔
✨ آپ کی چھوٹی سی مدد کسی بڑے خواب کو زندہ رکھ سکتی ہے۔
ہالہ بھروں
08/05/2026
میانوالی کی بیٹیاں بھی بہادر اور غیرت مند ہیں۔
میانوالی کی ایک ایسی قابلِ فخر یتیم بیٹی ، جس کے لیے "موساز" نے اپنے ہی بنائے ہوئے قانون توڑ دیے۔
ہمارا دینِ اسلام ہمیں درس دیتا ہے کہ
یتیم کے ساتھ شفقت اور محبت سے پیش آئیں۔ اسی جذبے کے تحت، دسمبر 2025 میں موساز کے پاس ایک بے حد حساس کیس آیا
یہ کیس گلزار احمد (مرحوم) کی قابلِ فخر بیٹی ماہ نور کا تھا۔ ماہ نور نے اپنی محنت اور قابلیت کے بل بوتے پر اسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج (IMDC) میں، اچھے نمبروں کی بنیاد پر مکمل سکالرشپ پر داخلہ حاصل کر لیا تھا۔ اس کا داخلہ قریبی رشتہ داروں نے کرایا تھا اور وہ فنانشلی سپورٹ بھی کر رہے تھے، مگر میڈیکل کی تعلیم کے دیگر اخراجات (ہاسٹل وغیرہ) اتنے زیادہ تھے کہ انہوں نے مجبوراً موساز انتظامیہ کو سکالرشپ کے لیے درخواست بھیجی۔
دسمبر کی میٹنگ میں جب ماہ نور بیٹی کا کیس سامنے رکھا گیا، تو تمام کابینہ نے دکھی دل کے ساتھ آئین کا حوالہ دیا۔ موساز کے آئین کے مطابق، تنظیم صرف سرکاری یونیورسٹیوں میں میرٹ پر داخلہ لینے والے بچوں کو سپورٹ کرتی ہے، جبکہ ماہ نور کا داخلہ پرائیویٹ کالج میں تھا۔ قانوناً سکالرشپ جاری نہیں کی جا سکتی تھی۔
اس نازک موڑ پر، چیرمین موساز ڈاکٹر حنیف نیازی صاحب نے انتظامیہ کو متوجہ کیا اور وہ تاریخی جملہ کہا جس نے سمت بدل دی:
"اگر موساز ایک ایسی یتیم بچی، جس کا نہ والد ہے اور نہ والدہ، اور وہ بن بھی ڈاکٹر رہی ہے، اسے سپورٹ نہیں کرے گی تو پھر موساز کا بنیادی مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔"
چیرمین صاحب کی اس جذباتی اور اصولی پکار پر، تمام کابینہ نے متفقہ طور پر موساز کے آئین میں تبدیلی منظور کی۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ:
"میانوالی کا کوئی بھی یتیم بیٹا یا بیٹی، جس کا میرٹ پر کسی بھی سرکاری یا پرائیویٹ یونیورسٹی میں داخلہ ہوگا، موساز اسے مالی سپورٹ کرے گی۔"
اس فیصلے کے بعد سب کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔ قابلِ فخر بیٹی ماہ نور کے لیے، اس کی ضرورت کے مطابق، 5 سال کے لیے 6 لاکھ روپے کی سکالرشپ جاری کر دی گئی۔
لیکن
ابھی ایک خوبصورت اور جذباتی پہلو باقی ہے۔ سکالرشپ جاری ہونے کے صرف 3 ماہ بعد(ابھی صرف 30 ہزار روپے کی ان کو جاری ہوئے تھے کہ)، اللہ پاک نے اس خاندان پر کرم کیا۔ ماہ نور کے بھائی کی ایک اچھی کمپنی میں ملازمت لگ گئی اور وہ خود کمانے کے قابل ہو گئے۔
گزشتہ دنوں اس قابلِ فخر بیٹی کا قابلِ فخر بھائی موساز انتظامیہ کے پاس آیا۔ اس نے موساز کا شکریہ ادا کیا اور ایک ایسی بات کہی جو میانوالی کی غیرت کا سر فخر سے بلند کر دیتی ہے:
"میری جاب لگ چکی ہے، الحمدللہ! اب میں اپنی بہن کے تعلیمی اخراجات خود اٹھا لوں گا۔ جو 6 لاکھ روپے کی سکالرشپ آپ نے میری بہن کے لیے جاری کی تھی، وہ اب کسی اور غریب اور مستحق بیٹے یا بیٹی کو جاری کر دیں۔ ہم کسی حقدار کا حق نہیں مارنا چاہتے۔ میں اور میری بہن آپ سب کا شکریہ ادا کرنے آئے ہیں۔"
اس بھائی نے یہ بھی وعدہ کیا کہ مستقبل میں وہ دونوں بہن بھائی موساز کے ڈونر بنیں گے۔
میں، جنرل سیکرٹری موساز ملک محمد سلیمان اپنی جملہ موساز کابینہ کی طرف سے اس قابلِ فخر اور غیرت مند بیٹی ماہ نور اور اس کے بے حد غیرت مند بھائی کو دونوں ہاتھوں سے سلام پیش کرتا ہوں۔
تحریر:
ملک محمد سلیمان
جنرل سیکرٹری موساز
#میانوالی #موساز #خودداری
MUSAS موساز Dr Hanif Niazi Tariq Iqbal Khan Nyazi Irfan Khan Niazi ماحی خان قمرالحسن بھروں زادہ Irfan Shahid ہالہ بھروں Salahuddin Rokhri Wala Naveed Iqbal Sheikh Muhammad Masood Malik Pervaiz Iqbal مواز خیل Kaleem Ullah Khan Niazi
06/05/2026
یہ وہ لوگ ہیں جو صرف باتیں نہیں کرتے، بلکہ خاموشی سے کسی کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔
“موساز” کی ٹیم اُن باہمت افراد پر مشتمل ہے جو دل سے یہ مانتے ہیں کہ تعلیم ہر بچے کا حق ہے، چاہے اُس کے حالات جیسے بھی ہوں۔
یہ لوگ صرف وقت نہیں دیتے، بلکہ اپنی توانائی، اپنی سوچ اور اپنی محنت اس مقصد کے لیے وقف کر دیتے ہیں کہ کوئی ہونہار بچہ صرف پیسوں کی کمی کی وجہ سے اپنے خواب ادھورے نہ چھوڑ دے۔
ہر رضاکار، ہر ممبر ایک ہی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے
کہ ہر بچے کو آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔
کبھی کسی طالب علم کی فیس کا انتظام کرنا، کبھی اُس کی رہنمائی کرنا، اور کبھی اُس کی ہمت بننا…
یہ سب کام اسی جذبے کے ساتھ کیے جاتے ہیں کہ کسی ایک زندگی میں روشنی لائی جا سکے۔
یہ صرف ایک ٹیم نہیں، بلکہ ایک خوبصورت مشن ہے…
امید بانٹنے کا، خواب سنوارنے کا، اور ایک بہتر مستقبل بنانے کا۔
آئیے، آپ بھی اس کارِ خیر کا حصہ بنیں 🤝✨
ہالہ بھروں
04/05/2026
ہر بچے کی آنکھوں میں ایک خواب ہوتا ہے۔
کوئی ڈاکٹر بننا چاہتا ہے، کوئی انجینئر، اور کوئی اپنے والدین کا سہارا بننے کا خواب دیکھتا ہے۔
مگر افسوس، ہمارے معاشرے میں بہت سے ہونہار بچے صرف مالی مشکلات کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے۔
ایسے ہی کئی قابل اور محنتی طلبہ کے لیے “موساز” امید کی ایک کرن ہے۔
ہم اُن بچوں کی تعلیمی فیس میں مدد کرتے ہیں جو پڑھنے کا شوق اور صلاحیت تو رکھتے ہیں، لیکن وسائل نہیں رکھتے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ غربت کسی بچے کے خوابوں کا فیصلہ نہیں کرنی چاہیے۔
اگر ایک قابل طالب علم کو صرف ایک موقع مل جائے، تو وہ اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کا مستقبل بھی بدل سکتا ہے۔
آئیے، مل کر کسی ایک بچے کے خواب کو ٹوٹنے سے بچائیں۔
آپ کی چھوٹی سی مدد کسی کے روشن مستقبل کی وجہ بن سکتی ہے۔ ✨
ہالہ بھروں
03/05/2026
بعض اوقات ایک ذہین بچہ صرف اس لیے اپنے خواب ادھورے چھوڑ دیتا ہے کیونکہ اُس کے والدین کے پاس فیس ادا کرنے کے پیسے نہیں ہوتے۔
کتنے ہی بچے ایسے ہیں جو ڈاکٹر بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بہترین انجینئر، وکیل، استاد یا سائنسدان بن سکتے ہیں، مگر غربت اُن کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، کمی صرف مواقع کی ہے۔
“موساز” اسی امید کا نام ہے جو اُن ہونہار بچوں کا ہاتھ تھامتی ہے جن کے خواب مالی مشکلات کی وجہ سے ٹوٹنے لگتے ہیں۔
ہماری کوشش صرف فیس ادا کرنا نہیں بلکہ ایک روشن مستقبل بنانا ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب ایک بچہ تعلیم حاصل کرتا ہے تو صرف اُس کی زندگی نہیں بدلتی بلکہ پورا خاندان اور آنے والی نسلیں بدل جاتی ہیں۔
ہر بچے کی آنکھوں میں ایک خواب ہوتا ہے۔
کوئی سفید کوٹ پہن کر مریضوں کی خدمت کرنا چاہتا ہے، کوئی پل اور عمارتیں بنا کر ملک کی ترقی میں حصہ لینا چاہتا ہے، اور کوئی انصاف کے میدان میں نام روشن کرنا چاہتا ہے۔
مگر ان خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے صرف حوصلہ کافی نہیں ہوتا، سہارا بھی چاہیے ہوتا ہے۔
“موساز” اُن خوابوں کا سہارا بننے کی کوشش کر رہا ہے۔
ہم یقین رکھتے ہیں کہ قابلیت کا تعلق دولت سے نہیں بلکہ محنت اور لگن سے ہوتا ہے۔ اگر ایک قابل طالب علم کو صحیح موقع اور سپورٹ مل جائے تو وہ ناممکن کو بھی ممکن بنا سکتا ہے۔
آئیے، مل کر کسی بچے کی زندگی بدلتے ہیں۔
آپ کی ایک چھوٹی سی مدد کسی طالب علم کی تعلیم جاری رکھ سکتی ہے، کسی ماں باپ کی پریشانی کم کر سکتی ہے، اور کسی خواب کو ٹوٹنے سے بچا سکتی ہے۔
✨ کیونکہ تعلیم صرف ایک فرد نہیں، پورے معاشرے کا مستقبل بدلتی ہے۔
🤝 موساز کے ساتھ مل کر ہونہار بچوں کے خوابوں کو حقیقت بنائیں۔
ہالہ بھروں
01/05/2026
آج یومِ مزدور پر جہاں دنیا صرف چھٹی مناتی ہے،
وہاں موساز (MUSAS) ایک عملی قدم اٹھانے کا عزم دہراتی ہے۔
ہمارا وژن بڑا واضح ہے
ہم نہیں چاہتے کہ وسائل کی کمی کسی ذہین طالب علم کے راستے کی دیوار بنے، خاص طور پر ان محنت کشوں کے بچوں کے لیے جو دن بھر کڑی دھوپ میں اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے پسینہ بہاتے ہیں۔
موساز اسکالرشپ پروگرام:
موساز ان تمام مستحق اور غریب طلباء کے لیے "تعلیمی وظائف" (Scholarships) مہیا کرنے کے مشن پر گامزن ہے جو اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اپنے خاندان اور ملک کا نام روشن کرنا چاہتے ہیں۔
ہمارا ماننا ہے کہ
ایک مزدور کا بچہ بھی ڈاکٹر، انجینئر اور افسر بننے کا اتنا ہی حق رکھتا ہے جتنا کوئی اور۔
ہمارا عہد:
ہم ان ناتواں کندھوں کا بوجھ بانٹیں گے جو مزدوری کر کے قلم کی حرمت بچانا چاہتے ہیں۔
موساز ٹیم کا مقصد صرف مالی امداد نہیں، بلکہ
ان شاہینوں کو وہ پرواز دینا ہے جس کا خواب ان کے محنت کش والدین نے دیکھا تھا۔
آئیں!
اس یومِ مزدور پر ہم مل کر یہ عہد کریں کہ
علم کی شمع ہر اس گھر تک پہنچائیں گے جہاں غربت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔
تعلیم سب کے لیے، خواب سب کے لیے!
سیکرٹری نشرو اشاعت موساز
ماحی خان
#موساز #اسکالرشپ #میانوالی
21/04/2026
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
آج 21 اپریل،
مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبال کا یومِ وفات ہے۔
وہ شخصیت جنہوں نے برِصغیر کے مسلمانوں کو غلامی کی زنجیریں توڑنے اور خودی کا سبق یاد دلایا۔
موساز (MUSAS) ٹیم اس عہد کے ساتھ
ڈاکٹر اقبال کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے کہ
ہم ان کے شاہینوں کی طرح
خودی، خدمتِ خلق اور بلند پروازی کے اصولوں پر
کاربند رہیں گے۔
آئیں! آج کے دن ہم
اقبال کے خوابوں کا پاکستان بنانے اور
انسانیت کی فلاح کے لیے
اپنی جدوجہد کو تیز کرنے کا عزم کریں۔
موساز : عہد ساز
سیکرٹری نشرو اشاعت موساز
ماحی خان
#موساز #میانوالی #خودی
18/04/2026
With Tariq Iqbal Khan Nyazi – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
17/04/2026
کچھ خوشیاں صرف نصیب نہیں ہوتیں، بلکہ برسوں کی سسکیوں اور یقینِ کامل کا انعام ہوتی ہیں۔
صدرِ موساز جناب عرفان خان نیازی صاحب کی زندگی کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے، جہاں
آزمائشوں کے طوفان تو آئے مگر اللہ کی ذات پر یقین کا دِیا نہیں بجھ سکا۔
فروری 2019 میں بیٹی حریم فاطمہ کی صورت میں پہلی رونق آئی، مگر اس کے بعد امتحان کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے دل چھلنی کر دیے۔
ذدو معصوم پھول کھلے اور خوشبو پھیلانے سے پہلے ہی رخصت ہو گئے— میڈیکل سائنس کے بڑے بڑے نام اپنی "کہانیاں" سنا رہے تھے اور خدشات کا ایک جال تھا جو ڈیڑھ سال تک عرفان بھائی کے گرد بُنا رہا۔
مگر وہ کہتے ہیں نہ کہ:
"جہاں بندے کی تدبیر ختم ہوتی ہے، وہاں رب کی تقدیر شروع ہوتی ہے"
شادی کی 8ویں سالگرہ کے موقع پر، قدرتِ الٰہی پر کامل توکل کے صدقے، اللہ پاک نے تمام اندیشوں کو مٹا کر عرفان بھائی کو "حارث عبداللہ خان" کی صورت میں وہ نویدِ جاں عطا کی جس نے ماضی کے تمام دکھ دھو ڈالے۔
اس پُر مسرت موقع پر جنرل سیکرٹری ملک سلیمان، فنانس سیکرٹری برہان احمد خان، نوید اقبال اور محمد مہربان بھائی نے صدرِ محترم کے گھر حاضری دی اور "موساز ٹیم" کی جانب سے مبارکباد کے ساتھ ڈھیروں دعائیں پیش کیں۔
دعا:
ربِ کریم حارث عبداللہ خان کو لمبی زندگی، صحت اور والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔ (آمین)
منجانب:
سیکرٹری نشر و اشاعت (موساز)
ماحی خان