25/02/2023
ادب پروری اور مجلس ادبیات جامع میرپور
ادب کسی بھی سماج کی روایتی قدروں اور اس کا سماجی معاشی و معاشرتی سوچ و اقدار کا ترجمان ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہیکہ دنیا کے ہر کونے میں تخلیق کیا جانے والا ادب، آرٹ اور باقی تخلیقی مہارتیں دوسری جگہوں سے یکسر مختلف حالت میں پائی جاتی ہیں۔ تاہم سماج میں ادب پروری جہاں تک سماجی اور فکری سوچ کی وسعت عطا کرتی ہے وہیں پر سماجی رویوں میں ایک مثبت تبدیلی لانے کا باعث بھی بنتی ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں انیسویں اور بیسویں صدی جے دوران بڑا ادبی ماحول سرگرم رہا تاہم اکیسویں صدی کے آغاز میں ہی یوں لگتا ہے کہ جیسے ادب پر ایک نقطہء ٹھہراؤ آ لگا اور کلاسیکل ادب سے لوگوں کا تعلق تقریباً ختم ہوتا دکھائی دیا وہیں پر کچھ ایسے لوگ بھی اسی دھرتی پر اٹھے جنہوں نے اس قوم کی ڈوبتی ہوئی نیا کو پار لگانے کا فیصلہ کیا اور زمانے کو ایک نئی جہت بخشی۔ اس ادبی خلا کے پیچھے راز کیا مخفی تھا وہ ایک حالیہ تحقیق کے دوران سامنے آیا جہاں ایک بین الاقوامی سروے رپورٹ سے پتہ چلا کہ برصغیر پاک و ہند میں ایک سطحی علم رکھنے والا آدمی تقریباً تمام عمر میں تیس کتابیں پڑھتا ہے جبکہ وہیں پر ایک یورپی معاشرے میں ایک عام آدمی سالانہ اوسطاً چالیس کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے۔
اس ضمن میں مجلس ادبیات جامع میرپور جو کہ جامع کے اندر سال دو ہزار تیرہ سے اپنی ادبی خدمات پیش کرنے میں پیش پیش ہے نے بیڑا اٹھایا اور ایک فیصلہ کیا کے مجلس ادبیات کے ممبران کی لیے ہر پندرہ روز میں ایک ادبی نشست کا آغاز کیا جائے گا۔ درون جامع کچھ مسائل ہونے کیوجہ سے یہ معاملہ دسمبر سے تاخیر کا شکار ہوتا رہا اور آخر کار ایک خواب، ایک سوچ جس کا بنیادی مقصد صرف اور صرف طلباء کی تخلیقی، تنقیدی، فکری اور سماجی سوچ کو بالیدگی عطا کرنا تھا گزشتہ ہفتے میں اس کا انعقاد معزز ڈی ایس اے ڈاکٹر الطاف صاحب اور ڈپٹی ڈی ایس اے عنصر صاحب کی کاوشوں کی وجہ سے ممکن ہو سکا جس میں میرپور بار ایسوسی ایشن سے ایڈوکیٹ امیتاز حسین راجہ نے شرکت کی اور طلباء سے ادب اور تنقیدی و تعمیری سوچ کے متعلق بات کی گی۔ عزت مآب مہمان امتیاز حسین راجہ جو کہ کتاب مکالمہ کے تخلیق کار ہیں نے طلباء کے سامنے اپنی کتاب مکالمہ بھی پیش کی اور جامع کے اندر ادبی سرگرمیوں کے بحالی اور ترویج کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کی بھی یقین دھانی کروائی۔ آپ کی تشریف آوری سے طلباء کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور مجلس ادبیات کے لیے اپنے قیمتی وقت سے وقت نکالنے پر ہم آپ کے ممنون و مشکور بھی ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ سٹوڈنٹس افیئرز اور چیف لائبریرین سنٹرل لائبریری و جملہ عملہ کا بھی شکریہ جنہوں نے اس ایونٹ کو آرگنائز کروانے میں ہر ممکن مدد فراہم کی اور امید کرتے ہیں کہ یہ تعلق مزید بھی بڑھتا رہے گا اور جامع کے اندر ادب کا یہ پودا یونہی نشوونما پاتا رہے گا۔
Note Caption, content, and pics are taken from MUST Literary Society

25/02/2023
23/02/2023
23/02/2023
22/02/2023