06/09/2025
🌸✨ عید میلادالنبی ﷺ مبارک ✨🌸
الحمدللہ! ہمیں آقا ﷺ کی ولادت باسعادت کا جشن منانے کا شرف حاصل ہوا۔
اللہ پاک اس بابرکت دن کے صدقے ہماری زندگیوں کو سکون، گھروں کو رحمتوں اور دلوں کو نورِ ایمان سے بھر دے۔
یا اللہ! سیلاب سے متاثرہ ہمارے بھائی بہنوں اور بچوں پر اپنی خاص رحمت فرما، ان کے دکھ درد دور کر، ان کے گھروں کو آباد فرما، اور ان کی مدد کے اسباب پیدا فرما۔ 🤲
یا اللہ! ہمیں اپنے محبوب ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین 🌹
✨ عید میلادالنبی ﷺ کی خوشیاں مبارک ہوں ✨
06/07/2025
کربلا کی صبح 10 محرم کو ایسی خاموشی سے طلوع ہوئی، جیسے آسمان رکا ہوا ہو۔
نماز فجر کے بعد امام حسینؑ خیمے سے باہر آئے، آسمان کی طرف دیکھا، اور زمین پر نگاہ ڈالی۔
آج کوئی خطبہ نہ دیا، صرف اتنا کہا: “آج ہماری آخری رات گزر چکی، اب ہر دل کو اللہ کے حضور پیش ہونے کا وقت قریب ہے۔”
صفیں تیار کی گئیں۔ صرف 72 جانثار باقی تھے، جن میں کچھ نوجوان، کچھ بزرگ، کچھ غلام اور کچھ شیر خوار بچے۔
ایک طرف ہزاروں کا یزیدی لشکر، دوسری طرف وہ لوگ جنہیں دنیا نے کردار سے پہچانا۔
سب سے پہلے امام کے بیٹے علی اکبرؑ نے اجازت مانگی۔ حسینؑ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر اجازت دے دی۔
علی اکبرؑ نے جب دشمنوں کے درمیان گھوڑا دوڑایا، تو خود عمر بن سعد نے کہا: “ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے محمد ﷺ خود تلوار لیے آئے ہوں۔”
جب شہید ہوئے، حسینؑ دوڑے، لاش گود میں لی، آواز کانپ رہی تھی:
“اے میرے بیٹے، تُو گیا، مگر میری کمر بھی ٹوٹ گئی۔”
پھر امام کے بھتیجے قاسمؑ نے اجازت مانگی۔ وہ ابھی صرف 13 برس کے تھے، پاؤں میں جوتا بھی نہ تھا۔
بہت روئے، گلے لگے، امام نے کہا: “بیٹا، تیرا چہرہ مجھے حسنؑ کی یاد دلاتا ہے۔”
قاسمؑ نے لڑائی میں شجاعت دکھائی، پھر شہید ہوئے۔
جب لاش آئی تو امام نے کہا: “قاسم، تُو نے میری روح کو چیر دیا۔”
ایک لمحہ آیا جب امام نے خیمے کے پیچھے سے ربابؑ کو بلایا اور کہا: “اصغرؑ کو لاؤ۔”
ربابؑ نے کانپتے ہوئے چھ ماہ کے بچے کو امام کے حوالے کیا۔
امام نے اصغرؑ کو میدان میں بلند کر کے کہا: “اے لوگو، اگر مجھے مجرم سمجھتے ہو تو اس بچے پر رحم کرو۔”
حرملہ نے تین شاخوں والا تیر مارا، جو علی اصغرؑ کے حلق سے پار ہو گیا۔
امام نے ہاتھوں میں خون لیا، آسمان کی طرف بلند کیا، اور کہا:
“اے رب، یہ تیرے نبی کے نواسے کا خون ہے۔ تو گواہ رہنا۔”
پھر خود خیمے کے پیچھے جا کر زمین کھودی، اور اصغرؑ کو دفن کیا۔
اب امام نے علمدارِ لشکر، حضرت عباسؑ کو بلایا۔
فرات قریب تھا، پیاس تھی، مشکیزہ ہاتھ میں لیا، پانی بھرا، مگر پیا نہیں۔
واپس آتے ہوئے بازو کاٹ دیے گئے۔
پھر سر پر عمود مارا گیا، عباسؑ زمین پر آ گئے۔
حسینؑ دوڑے، عباسؑ کا سر گود میں لیا،
“عباس، اب میرا علمدار نہیں رہا، اب میں تنہا ہوں۔”
اب امام نے ساتھیوں کو ایک ایک کر کے رخصت کیا۔
مسلم بن عوسجہ، جنہوں نے سب سے پہلے بیعت کی تھی،
حبیب بن مظاہر، امام کے 75 سالہ بزرگ صحابی،
زہیر بن قین، جو پہلے مخالف تھے، مگر حسینؑ سے مل کر جانثار بن گئے۔
جون، جو سابق غلام تھے، حسینؑ نے فرمایا تھا: “جون، تم آزاد ہو، جا سکتے ہو۔”
مگر جون نے کہا: “میرے جسم سے بدبو آتی ہے، مگر میری وفا سے نہیں!”
پھر وہ بھی شہید ہو گئے۔
یہ سب جانثار ایک ایک کر کے گئے، اور 10 محرم کی دوپہر تک میدان خالی ہوتا گیا۔
اب خیمے سے صرف امام، ان کا گھوڑا ذوالجناح، اور بیبیاں بچی تھیں۔
امام نے چھوٹا سا خطبہ دیا:
“میں نے تم لوگوں کو حق کی دعوت دی، تم نے مجھے پیاسا رکھا۔ اب آؤ، مجھ سے لڑو، کہ میں تنہا ہوں۔”
امام میدان میں اترے، 60 سے زائد دشمنوں کو قتل کیا۔
تلوار ان کے ہاتھ میں تھی، مگر زبان پر فقط ذکرِ خدا۔
ایک تیر آنکھ میں لگا، ایک نیزہ سینے میں، پھر تلواروں کی بارش ہوئی۔
امام گھوڑے سے گرے، آواز دی:
“اے میرا علی اکبر، اے عباس، اے قاسم، تمہیں پکار رہا ہوں…”
شمر آگے بڑھا، اور امام کا سر تن سے جدا کر دیا۔
شہادت مکمل ہوئی
لبوں پر آخری الفاظ تھے:
“خدایا، تیرے فیصلے پر راضی ہوں۔”
خیموں پر حملہ ہوا،
زینبؑ نے سجادؑ کو بچایا،
سکینہؑ نے اپنے باپ کے سر کا آخری دیدار کیا۔
72 شہداء میں شامل تھے:
• بنو ہاشم سے: علی اکبرؑ، قاسمؑ، عباسؑ، جعفرؑ، عثمانؑ، عبداللہؑ، محمدؑ، ابوبکرؑ، علی اصغرؑ
• غیر بنو ہاشم: حبیب بن مظاہرؑ، زہیر بن قینؑ، مسلم بن عوسجہؑ، جونؑ، نافع بن ہلالؑ، عمرو بن قرظہؑ، یزید بن زیادؑ، اور دیگر وفادار اصحابؑ
ہر ایک نے جان دی، مگر بیعت نہ کی۔
یہ 10 محرم تھا
جہاں پانی بند ہوا، مگر وفا بہہ نکلی،
جہاں سر کٹے، مگر اصول سلامت رہے،
جہاں تلواریں چلیں، مگر ضمیر نہ جھکا۔
یہ وہ دن ہے جس نے ہمیں سکھایا:
جب حق خطرے میں ہو، تو تنہا کھڑے ہونا بھی کامیابی ہے۔
⸻
📚 حوالہ جات:
• تاریخ طبری – امام، اہل بیت اور اصحاب کی شہادتیں
• البدایہ والنہایہ – ابن کثیر – اصغرؑ، اکبرؑ، عباسؑ کا ذکر
• الکامل فی التاریخ – ابن اثیر – میدان کی تفصیل
• انساب الاشراف – بلاذری – امام حسینؑ کے آخری لمحات
• Wikipedia & Al-Islam org – 72 شہداء کی فہرست
06/07/2025
حر…
یزیدی فوج کا سینئر کمانڈر۔
ایک بہادر، تربیت یافتہ ملٹری آفیسر،
جسے امام حسینؑ کے قافلے کی interception کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
جب حسینؑ مکہ سے نکلے،
تو حرؓ کو brief دیا گیا:
“انہیں راستے میں روکنا ہے،
کسی صورت آگے نہ جانے دینا،
نہ واپس مدینہ جانے دینا۔”
📘 تاریخ طبری، جلد 5:
“حرؓ نے امام کو روک کر کہا:
‘مجھے آپ کو محصور رکھنے کا حکم ہے
نہ آپ کو واپسی کی اجازت ہے، نہ کوفہ داخلے کی۔’”
وہ strategic point جو حرؓ نے روکا…
اسی جگہ کربلا بن گئی۔
⸻
لیکن یہ کوئی عام آپریشن نہیں تھا۔
امام حسینؑ سے حرؓ کی پہلی ملاقات میں ہی روحانی کمپلکیشن شروع ہو گئی تھی۔
نماز میں حرؓ امام حسینؑ کے پیچھے کھڑا ہوا۔
اور تب احساس ہوا:
“میں جسے روک رہا ہوں،
وہ نبی ﷺ کا نواسہ ہے…
جس کے پیچھے نماز ہو سکتی ہے،
اس کے خلاف جنگ…؟”
⸻
پھر دن گزرتے گئے…
پیاس بڑھتی گئی،
خیمے تپتے گئے،
اور دریا بہتا رہا مگر حرؓ کی آنکھیں اب ضمیر کی سطح پر تیر رہی تھیں۔
📘 البدایہ والنہایہ، جلد 8:
“حرؓ ساری رات بے چین رہا۔
بار بار کہتا رہا:
’کیا میں وہ پہلا شخص بنوں گا جو حسینؑ کے خون میں ہاتھ ڈالے گا؟‘”
حرؓ کا ضمیر battlefield میں بیدار ہوا
اور یہ تاریخ کا پہلا recorded military defection بن گیا،
جہاں ایک فوجی کمانڈر دشمن کی فوج چھوڑ کر
حق کی صف میں شامل ہوا…
بلکہ شہید ہو گیا۔
⸻
10 محرم کی صبح،
حرؓ کا گھوڑا یزیدی کیمپ سے نکلا،
مگر رخ حسینؑ کے خیمے کی طرف تھا۔
حرؓ آ کر گھوڑے سے اترا،
اور کہا:
“یا ابنِ رسول اللہ،
میں وہ ہوں جس نے آپ کو یہاں روکا…
کیا آپ مجھے معاف کریں گے؟”
📘 الکامل فی التاریخ – ابن اثیر:
“امام حسینؑ نے فرمایا:
‘حر! تُو دنیا میں بھی آزاد ہے اور آخرت میں بھی۔
تُو نے ضمیر جگا لیا۔’”
⸻
حرؓ نے تلوار اٹھائی،
اور اب وہ اسی مورچے پر لڑ رہا تھا
جہاں کل وہ پہرہ دے رہا تھا۔
📘 انساب الاشراف – بلاذری:
“حرؓ شدید جنگ کے بعد زخمی ہوا،
امام حسینؑ خود اس کے پاس آئے،
سر گود میں رکھا،
اور فرمایا:
‘اے حر… تُو نے خود کو بچا لیا۔ تُو کامیاب ہے!’”
04/07/2025
جب امام حسینؑ نے دیکھا کہ ان کے خیمے میں پانی ختم ہو چکا ہے اور شیر خوار بچہ علی اصغر (جنہیں عبد اللہ رضی اللہ عنہ بھی کہا جاتا ہے) شدتِ پیاس سے تڑپ رہا ہے، تو وہ اُسے اپنی گود میں لے کر میدان میں آئے۔
امام نے دشمن سے کہا:
“اگر مجھے پانی نہیں دیتے، تو اس بچے کو تو پانی دے دو۔”
جواب میں حرملہ بن کاهل اسدی نامی شقی القلب سپاہی نے تین شاخوں والا تیر چلایا، جو علی اصغر کے گلے میں پیوست ہو گیا۔
امام نے بچے کے خون کو ہاتھوں میں لیا، آسمان کی طرف اٹھایا
اور دعا کی:
“اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنَّا هَذَا الْقُرْبَانَ”
“اے اللہ! اس قربانی کو ہماری طرف سے قبول فرما۔”
02/07/2025
آج 6 محرم الحرام ہے…
کربلا کی ریت مزید گرم ہو چکی ہے،
امام حسینؑ کے خیمے ایک طرف،
اور یزیدی لشکر ہر طرف
جن کی تعداد اب 30,000 سے بڑھ چکی تھی۔
ایسے میں نواسۂ رسول ﷺ اور ان کے 72 جانثار خیموں میں محصور،
پیاسے، تنہا…
مگر جھکنے کو تیار نہیں۔
📘 البدایہ والنہایہ – ابن کثیر (جلد 8، صفحہ 187):
“ابن زیاد نے عمر بن سعد کو پیغام بھیجا کہ اگر حسینؑ بیعت نہ کریں تو ان پر سختی کرو اور فیصلہ کن کارروائی کرو۔”
اس دن شبث بن ربعی، حجار بن ابجر، قیس بن اشعث اور شمر بن ذی الجوشن کو بھی کربلا بھیج دیا گیا،
جنہوں نے پہلے امام حسینؑ کو خطوط لکھ کر دعوت دی تھی کہ “آئیے، ہم آپ کے ساتھ ہیں!”
اب وہی لوگ تلواریں لیے امامؑ کے سامنے آ کھڑے ہوئے۔
📘 تاریخ طبری (جلد 5):
“ابن زیاد نے ان افراد کو دھمکی دی تھی کہ اگر حسینؑ کے مقابلے میں نہ گئے تو ان پر بغاوت کا الزام لگا کر قتل کیا جائے گا۔”
ادھر خیموں میں…
بچوں کی سسکیاں بلند ہو رہی تھیں،
سکینہؑ روتی ہوئی ماں کے گلے لگ کر کہتی تھی:
“امی جان، فرات تو بہہ رہا ہے، پھر ہمیں پانی کیوں نہیں دیتے؟”
اور مائیں، امامہؑ، ربابؑ، لیلیٰؑ
صرف خاموش ہو کر آسمان کو تکتی تھیں۔
جہاں سے۔۔۔
بس صبر نازل ہوتا تھا۔
امام حسینؑ جانتے تھے
یہ سب اتنا آسان نہیں ہوگا۔
اسی لیے اس رات، یعنی 6 محرم کی شام کو، امامؑ نے اپنے اصحاب کو بلایا
اور فرمایا:
“میں تم سب کو آزاد کرتا ہوں۔
اندھیری رات ہے، دشمن صرف میرے خون کا پیاسا ہے،
تم چاہو تو چلے جاؤ۔”
لیکن کوئی نہ گیا۔
نہ عباسؑ، نہ اکبرؑ، نہ مسلم بن عوسجہ،
نہ حبیب، نہ زہیر…
جواب میں عباسؑ نے تلوار کھینچی،
اکبرؑ نے لبیک کہا،
اور سب نے حسینؑ کے ساتھ شہادت کا عہد کر لیا
یہ وہ دن تھا جب خوف ٹوٹا نہیں، جلا دیا گیا۔
جہاں وفا نے جنگ سے پہلے ہی فتح حاصل کر لی۔
📘 الکامل فی التاریخ – ابن اثیر (جلد 4):
“حسینؑ نے اپنے ساتھیوں کو جانے کی اجازت دی، مگر ہر کسی نے انکار کیا۔ سب نے مرنے کی قسم کھا لی۔”
⸻
کربلا میں آج بھی کوئی تیر نہیں چلا،
کوئی شہادت پیش نہیں آئی…
لیکن آج حوصلے امر ہو گئے۔
یہ وہ دن تھا جب حسینؑ نے دنیا کو بتا دیا تھا کہ:
“میں یزید جیسے فاسق، فاجر، ظالم کی بیعت نہیں کروں گا۔
میرے خون کا آخری قطرہ بہہ جائے گا،
مگر…
بیعت نہیں ہوگی۔”
02/07/2025
آج 5 محرم ہے…
01/07/2025
عمر بن سعد کل 4000 کے لشکر کے ساتھ آیا تھا،
مگر آج 5 محرم کو ابن زیاد نے کوفہ کے قبائل کو خط بھیجے
“جو حسینؑ کے خلاف جنگ میں شریک نہیں ہوگا، اس سے وظیفہ، زمین، اور سرکاری منصب واپس لے لیا جائے گا۔
تاریخ طبری (جلد 5) میں لکھا ہے:
“ابن زیاد نے قبائل کو مجبور کیا کہ وہ یزید کی اطاعت ثابت کریں… اور اگر نہیں تو اُن کی حیثیت ختم کر دی جائے گی۔”
اور پھر لشکر آنے لگے
بنی تمیم، بنی بصرہ، بنی کلب، بنی کندہ…
جو کبھی نانا ﷺ سے محبت کے دعوے کرتے تھے،
آج ان کے نواسے کو پیاسا دیکھ کر بھی تلوار لیے آ کھڑے ہوئے
تاریخ طبری (جلد 5، صفحہ 413–415) میں درج ہے:
“ابن زیاد نے کوفہ کے شرفاء اور قبائل کو لکھا کہ جو حسین بن علیؑ کے خلاف لشکر میں شامل نہیں ہوگا، اس سے ذمہ داری، مال، اور عہدہ واپس لے لیا جائے گا۔”
یہی وہ لالچ تھا جس نے ہزاروں لوگوں کو نواسۂ رسولﷺ کے مقابل لا کھڑا کیا.
الکامل فی التاریخ از ابن اثیر میں لکھا ہے:
“یزیدی لشکر کی تعداد 5 محرم تک 20,000 کے قریب ہو چکی تھی، اور امام حسینؑ اب مکمل محاصرے میں تھے۔”
ادھر خیموں میں پیاس بڑھ چکی تھی۔
بچوں کی آنکھیں فرات کی طرف دیکھتی تھیں،
مگر فرات پر سپاہی کھڑے تھے، نیزے لے کر،
نواسۂ رسول ﷺ کو پانی سے روکنے کے لیے۔
البدایہ والنہایہ – ابن کثیر لکھتے ہیں:
“امام حسینؑ سے پھر بیعت کا مطالبہ کیا گیا، اور انہوں نے انکار کر دیا، فرمایا:
’مجھ جیسا، اُس جیسے کی بیعت نہیں کرے گا”
حسینؑ جانتے تھے،
اب یہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں،
مگر یہ بھی جانتے تھے کہ حق پر ڈٹ جانا ہی اصل فتح ہے۔
آج بھی کربلا میں کوئی نیزہ نہیں چلا…
نہ کوئی جنگ ہوئی…
نہ کوئی شہادت…
لیکن آج ایمان کی سانسیں تیز ہو چکی ہیں،
اور باطل اپنی تعداد پر اکڑنے لگا ہے۔
امام حسینؑ کے خیموں میں جو 72 جانثار موجود تھے
ان کے دلوں میں موت کا خوف نہیں،
بس یہ دُکھ تھا کہ
کاش ہزار جانیں ہوتیں،
اور ہر جان حسینؑ کے قدموں میں قربان ہوتی۔
آج 5 محرم ہے…
یزید تخت پر ہے،
فوج ہذارو میں ہے…
مگر دنیا جانتی ہے:
جیت اُسی کی ہوگی، جس نے پیاس میں بھی صبر کیا۔۔۔
امامؑ کی ایک بات، ایک پوزیشن واضح ہے
“یزید سے بیعت نہیں ہوگی… چاہے جان چلی جائے، مگر حق نہیں چھوڑا جائے گا۔”
30/06/2025
آج 4 محرم ہے…
کربلا کا محاصرہ مزید سخت ہو چکا ہے۔
کل عمر بن سعد 4000 کے لشکر کے ساتھ آیا تھا،
آج مزید کمک پہنچ گئی ہے
یزید کی فوج بڑھتی جا رہی ہے،
کربلا کے محاصرے کے لیے مختلف قبائل کے لشکر پہنچنے لگے جن میں بنی تمیم، بنی اسد، بنی کلب، اور دوسرے شامل تھے۔
اور حسینؑ کے خیموں کا گھیرہ تنگ ہوتا جا رہا ہے۔
تاریخ کے مطابق آج کے دن اہلِ کوفہ کی طرف سے ہزاروں مزید سپاہی کربلا پہنچے۔
یزیدی لشکر کی تعداد اب ہزاروں میں ہے،
اور ہر چہرہ صرف ایک کام کے لیے لایا گیا ہے
نواسۂ رسولؐ سے بیعت یا موت۔
ابو مخنف روایت کرتے ہیں کہ عمر بن سعد نے آج کے دن کربلا میں اپنے خیمے نصب کیے،
اور اپنی فوج کو حکم دیا کہ فرات سے امام حسینؑ کے خیموں کی طرف ہر رسائی بند کر دی جائے۔
ادھر امام حسینؑ کے خیموں میں فضا بدل چکی تھی۔
پیاس بڑھ رہی تھی،
پانی پر پابندی 3 محرم سے شروع ہو چکی تھی، مگر 4 محرم کو مکمل سختی سے نافذ کی گئی
مگر حوصلے بھی اتنے ہی بلند تھے۔
سید الساجدین، امام زین العابدینؑ، جو اس وقت بیمار تھے،
سنتے رہے کہ کس طرح دشمن آہستہ آہستہ خیموں کو گھیر رہا ہے…
اور سکینہؑ، علی اصغرؑ… سب بچوں کی آنکھوں میں سوال تھا:
“بابا… کیا ہم واپس مدینہ جا سکیں گے؟”
مگر مدینہ اب خواب ہو چکا تھا،
اور کربلا حقیقت۔
حسینؑ جانتے تھے کہ اب یہ لشکر واپس نہیں جائے گا،
اب صرف نیزے بولیں گے،
اور تاریخ لکھی جائے گی
خون سے، صبر سے، اور پیاس سے۔
آج 4 محرم ہے…
جہاں باطل نے اپنی تعداد بڑھائی،
مگر حق نے اپنی نیت اور یقین۔
حسینؑ تنہا نہیں تھے
72 دل ایسے تھے جو موت سے نہیں ڈرتے تھے
امامؑ کا مؤقف واضح تھا: بیعت نہیں ہوگی، ظلم کے آگے سر نہیں جھکے گا…
30/06/2025
چار محرم کو کیا ہوا
چار محرم کی صبح کربلا کے سنّاٹے میں ایک عجیب سا سکوت امام حسینؑ اور ان کے وفادار ساتھیوں نے فجر کی نماز کے بعد اللہ کے حضور سجدہ شکر ادا کیا،
اس دن لشکر یزید کی تیاریوں میں غیر معمولی تیزی آ چکی تھی۔ امامؑ کے خیمے کے باہر دشمن کے خیمے بڑھتے جا رہے تھے، اور ہر قدم دشمن کے ارادوں کو بے نقاب کر رہا تھا۔ ایسے میں عمر بن سعد، جو کہ صحابی رسول سعد بن ابی وقاص کا بیٹا تھا، امام حسینؑ کے پاس ایک مذاکراتی پیغام لے کر آیا۔ یہ بظاہر امن اور مفاہمت کی باتیں تھیں۔
عمر بن سعد سے امام حسین کے مذاکرات میں تین راستے پیش کیے:
یا تو امام حسینؑ یزید کی بیعت کریں
یا کسی سرحدی علاقے میں چلے جائیں تاکہ خلافت کو خطرہ نہ ہو
یا واپس مدینہ لوٹ جائیں۔
ان شرائط کو لے کر عمر بن سعد ابن زیاد کے پاس گیا تو ابن زیاد نے ان شرائط کو مسترد کر دیا اور صرف اور صرف یزید کی بیعت کرنے پر ہی اصرار کیا ہے
امام حسینؑ کا دو ٹوک جواب تھا
مثلی لا یبایع مثلہ — میرے جیسا اُس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔
عمر بن سعد کوفہ کی حکومت کا خواہش مند تھا، اور وہ یہ چاہتا تھا کہ جنگ نہ ہو اور وہ ابن زیاد اور یزید دونوں کی نظر میں معتبر رہے۔ لیکن جب اس کی یہ چال امامؑ کے انکار سے ناکام ہوئی۔
چار محرم کو کربلا کے میدان میں دشمن کے لشکر کی تعداد دس ہزار سے بڑھ کر بیس ہزار کے قریب پہنچ چکی تھی۔ ایک طرف امام حسینؑ کا قافلہ، جس میں بہتر جانثار تھے، جن کے دل تقویٰ اور صداقت سے لبریز تھے، اور دوسری طرف ایک فوج جو دنیا کی حرص اور ظلم کی نمائندہ تھی۔
اسی دن ایک اور فیصلہ کن لمحہ آیا 😭 شریعتِ محمدی کے وفاداروں کے لیے پانی بند کرنے کے لیے دباؤ اور نگرانی شروع کی گئی یعنی پانی کی رسائی مشکل بنا دی گئی۔ فرات کے کنارے رہتے ہوئے پیاس سے تڑپنا کیسا عذاب تھا؟ خاص طور پر جب معصوم چھوٹے بچے بچے العطش! العطش! پکارنے لگیں۔
اس دن کی شدت نے نہ صرف جسموں کو، بلکہ تاریخ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ چار محرم کو کربلا میں ظلم اور حق کی سرحدیں مکمل طور پر واضح ہو گئیں۔ اگرچہ ابھی جنگ شروع نہ ہوئی تھی، لیکن روحانی میدان میں فتح امام حسینؑ کی ہو چکی تھی۔ ان کے انکار نے باطل کی بنیادیں ہلا دی تھیں۔
یہ وہ دن تھا جب کربلا صرف ایک مقام نہ رہا، بلکہ ایک نظریہ بن گیا—ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کا نظریہ۔ چار محرم کو تاریخ نے قلم روک کر لکھا کہ کچھ صدائیں تلوار سے نہیں، سچائی سے مار کرتی ہیں۔
نوٹ : کمنٹس میں فرقہ واریت سے گریز کریں اگر اپ واقعہ کربلا میں امام حسین اور ال رسول کے خلاف کھڑے ہونے والوں کو حق پر سمجھتے ہیں تو مجھے بلاک کریں
📚 حوالہ جات
1. تاریخ الامم والملوک – امام محمد بن جریر الطبری (م 310ھ)
📌 مکتبہ فکر: اہل سنت – جلیل القدر مفسر، محدث و مؤرخ
2. الکامل فی التاریخ – ابن الاثیر الجزری (م 630ھ)
📌 مکتبہ فکر: اہل سنت – معتبر مؤرخ و فقیہ
3. البدایہ والنہایہ – حافظ ابن کثیر الدمشقی (م 774ھ)
📌 مکتبہ فکر: اہل سنت – معروف محدث و مؤرخ
4. الفتوح – ابن اعثم الکوفی (م 314ھ)
📌 مکتبہ فکر: اہل سنت
09/09/2024
Zindagi ka asli maqsad apne rab ki riza hasil karna hai
(Peer-e-Kamil)
09/09/2024
Insaan ka khud par yaqeen hi uska sabse bara aqaidah hota hai
(Peer-e-Kamil)