Jamaat Islami Youth Neelam

Jamaat Islami Youth Neelam

Share

Youth Organization

08/10/2024

جماعت اسلامی کی ممبر شپ اختیار کریں اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں-

شہاب حسین
صدر جماعت اسلامی یوتھ ضلع نیلم

19/04/2023

اللہ تعالٰی استقامت عطا فرمائے آمین ثم امین

برادر شہاب حسین کو جماعت اسلامی یوتھ ضلع لوئر نیلم کا صدر مقرر کیا گیا ہے، اللہ تعالٰی سے انکی استقامت کیلے دعا کریں۔

جماعت اسلامی یوتھ ضلع نیلم

Photos from Jamaat Islami Youth Neelam's post 19/04/2023

تقریب حلف برادری جماعت اسلامی یوتھ ضلع لوئر نیلم اٹھمقام پی ڈبلیو ڈی گیسٹ ہاوس میں منعقد ہوئی صدر جماعت اسلامی یوتھ ضلع لوئر نیلم بردار شہاب حسین کی نے صدارت کا حلف لیا، بابر جاوید صاحب سیاسی و سماجی شخصیت کو بھی جماعت اسلامی میں شامل کیا گیا،
صدر جماعت اسلامی یوتھ آزاد کشمیر خالد محمود زیدی صاحب نے حلف لیا۔
جماعت اسلامی یوتھ ضلع نیلم

19/04/2023

کنڈی پریمیر لیگ لیسواء کنڈی میں منعقد ہورہا ہے جس کے سپانسر شیخ عمر نزیر صاحب سی ای او ایلپس ٹورز ہیں۔ جبکہ مہمان خصوصی صدر جماعت اسلامی یوتھ ضلع لوئر نیلم شہاب حسین ہوں گے جبکہ امیر یوسی سالخلہ ساجد حسین بھائی خصوصی شرکت کریں گے
جماعت اسلامی یوتھ ضلع نیلم

19/04/2023

برادر میاں غلام مجتبی کو جماعت اسلامی یوتھ ضلع نیلم کا نائب صدر مقرر کیا گیا ہے،
اللہ تعالٰی سے دعا ہیکہ اللہ تعالٰی انکو استقامت عطا فرمائے آمین ثم امین
جماعت اسلامی یوتھ ضلع نیلم۔

19/04/2023

برادر شہاب حسین کو جماعت اسلامی یوتھ ضلع لوئر نیلم کا صدر مقرر کیا گیا ہے، اللہ تعالٰی سے انکی استقامت کیلے دعا کریں۔

جماعت اسلامی یوتھ ضلع نیلم

09/08/2021

جماعت اسلامی آزاد کشمیر نے ریاست کی 33 میں سے 31 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے۔ اپنے پرچم، اپنے نشان کے ساتھ پہلی بار انتخابی مقابلہ میں اترے۔ اور کل 30 ہزار کے قریب ووٹ حاصل کیے۔
جماعت کے حاصل کردہ ووٹ، پی ٹی آئی کے 6 لاکھ 13 ہزار 590 ووٹوں، نون لیگ کے 4 لاکھ 91 ہزار 91، مسلم کانفرنس کے 1 لاکھ 53 ہزار 861 اور پی پی پی کے 3 لاکھ 49 ہزار 895 ووٹوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔
میری عمر 40 سال ہو چکی ہے، جب سے میرا ووٹ بنا، یہ پہلی بار تھا کہ ہمارے حلقے سے جماعت اسلامی کا امیدوار بھی مقابلے میں موجود تھا۔ ووٹ کے لیے جس کو بھی کہا۔ 70 فیصد کا جواب تھا کہ جماعت ہر اعتبار سے ووٹ کی حقدار ہے۔ لیکن انتخابات میں نون یا پی ٹی آئی کی حمایت کرے گی، تو کیوں نہ براہ راست اُنہی کی حمایت کی جائے تاکہ جو فوائد ممکن ہیں وہ حاصل کر لیے جائیں۔ 25 فیصد کہتے تھے کہ جماعت مقابلے کی پوزیشن میں نہیں ہے اس لیے ووٹ دینا بے سود ہے۔ باقی 5 فیصد میں سے کچھ جماعت کے کھلے مخالف تھے اور کچھ پکے سپورٹرز۔
ماضی کی روایات کے تناظر میں جماعت اسلامی کے حوالے سے قائم تاثر غلط بھی نہیں تھا۔ پھر انتخابات سے چار روز قبل جب عبد الرشید ترابی صاحب نے اسٹیبلشمنٹ کے حمایت یافتہ ارب پتی الیاس تنویر کے حق میں دستبرداری اختیار کی تو گویا اس تاثر پر مہر تصدیق ثبت ہو گئی۔ پی ٹی آئی، پی پی پی اور نون لیگ کی پراپوگنڈا مشینری نے اس موقعہ کو غنیمت جانا اور افواہ جنگل کی آگ کی طرح پھیلا دی کہ جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے حق میں دستبردار ہو گئی ہے۔ عید کے روز 100 سے زیادہ کالیں مجھے موصول ہوئیں۔ لو جی ہم جو کہتے تھے وہی ہوگیا نا۔
جماعت اسلامی کی قیادت نے damage control کی کوشش کی تو ضلع باغ سے جماعت کی قیادت کے خلاف ایک طوفان بدتمیزی بھرپا ہو گیا۔ جس سے مخالفین کے وارے نیارے ہوئے۔ اور کارکنان میں مایوسی کی لہر دوڑنا عین فطری تھا۔
یہ اُن حالات کی ایک معمولی سی جھلک ہے جس میں موجودہ الیکشن ہوئے۔
یہ 30 ہزار ووٹ وہ ہیں، جو ہر طرح کے لالچ۔ سڑک، پانی، بجلی، نوکری جیسے تحریص کے ہر حربے کو ٹھکرا کر ڈالے گئے ہیں۔
جب "پانچ بار امیر جماعت کے منصب پر فائز رہنے والے مربی" بھی پکار اٹھے تھے کہ وہ ہارنے کے لیے انتخاب لڑنے کو تیار نہیں۔ ایسے میں جن 30 ہزار ووٹرز نے ہارنے کے سوفیصد یقین کے باوجود ووٹ ڈالے اُن کی کمٹمنٹ آسمان کی بلندیوں کو چھونے والی ہے۔
انتہائی حوصلہ شکن اور مایوس کُن حالات میں سامنے آنے والے 30 ہزار ووٹرز جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے لیے کسی پوشیدہ خزانہ ملنے کے مترادف ہیں۔ اب یہ قیادت پر منحصر ہے کہ وہ اس خزان سے کیا کام لیتی ہے۔
جماعت اگر روایتی بیوروکریٹوں والے طریقہ کار کو ترک کر کے میدان عمل میں اُترے۔ 30 ہزار کمٹڈ ووٹرز کو اگلے 3 ماہ کے دوران ممبر بنانے کا لازمی ہدف طے کیا جائے۔ مرکز ہر ضلع سے ہفتہ وار رپورٹ طلب کر کے اسی یقینی بنائے۔ ماہانہ بنیادیوں پر پرواگرامات کا سلسلہ باقاعدگی سے ہو۔ 2 سال میں کم از کم 20 ہزار نئے ممبران کو رکن بنایا جائے۔ یونین کونسل کی سطح پر مضبوط اور فحال تنظیم موجود ہو۔
امداد باہمی کے تحت مقامی ڈویلپنٹ پروجیکٹس شروع کیے جائیں۔ الخدمت کو صحت اور ریڈ فاونڈیشن کو تعلیم کے شعبے میں مزید متحرک کیا جائے۔ ضلع اور تحصیل کی سطح پر الخدمت ہسپتال قائم کیے جائیں۔ ان اسکولوں اور ہسپتالوں میں جماعت کے ممبران اور اراکین کے لیے خصوصی کوٹہ اور رعایتی پیکجز ہوں۔ ان اداروں میں جماعت کے متحرک کارکنان کے روزگار کا بندوبست ہو۔ جماعت کے ممبران اور اراکین کے بچوں کے لیے تعلمی اسکالر شپ پروگرامات شروع کیے جائیں۔ ممبران اور اراکین کے لیے "صحت تقافل" کا نظام بنایا جائے۔
جے یو آئی یوتھ کے تحت خود روزگار کے تربیتی پروگرامات شروع کیے جائیں۔ جماعت ممبران اور اراکین کے لیے کارپوریٹ اسپورٹ اور مائکروفنانسنگ کی سہولت کا اجرا کیا جائے۔ (خصوصا پھولوں، پھلوں اور سبزیوں کی کاشت، برداشت، پروسیسنگ اور پیکنگ کا بہت بڑا اسکوپ موجود ہے۔)
اگر مذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ ہر ممبر کو پانچ اور رکن کو دس نئے ووٹ بنانے کا ہدف دیا جائے تو اگلے الیکشن میں ڈھائی لاکھ پکے ووٹر میسر آ سکیں گے۔ حالات کے رُن کے مطابق ایک لاکھ مزید ووٹ ڈلنے کی توقع بھی کی جا سکے گی۔ ساڑے تین لاکھ کے قریب اپنے ووٹوں کے ساتھ جماعت اسلامی آزاد کشمیر کی سب سے موثر سیاسی وقت ہو سکتی ہے۔
لیکن اس سب کے لیے محنت کی ضروت ہے۔ ویسٹ کوٹ اور کلف والے کپڑے الماریوں میں بند کرنا ہونگے۔ دفتری سیاست ترک کر کے میدان عمل کی سیاست میں اترنا ہوگا۔ ذمہ داری اور منصب صرف اور صرف کارکردگی سے مشروط کرنا ہوگا۔ جو افراد پرفارمنس نہیں دے سکتے اُنہیں ذمہ داریوں سے سبکدوش کرنا ہوگا۔ (تحریک کے لیے دی گئی قربانیوں اور خدمات کا اجر اللہ نے دینا ہے۔) شفافیت کو سو فیصد یقینی اور احتساب کو نمائشی کے بجائے حقیقی بنانا ہوگا۔
اگر اب بھی وہی راویتی بے ڈھنگی چال ہی رہی۔ تو اگلی بار امایوس کارکنان کی تعداد میں مزید اضافہ ہی دیکھنے کو ملے گا۔ اب اسلامی انقلاب کے کھوکھلے نعروں اور دیہاڑی دار مزدور والی تقریر سے بہلنے والے افراد کی تعداد میں روز بروز کمی آتی جا رہی ہے۔

مہتاب عزیز

10/01/2021

محترم کلیم زاہد جنرل سیکرٹری ضلع نیلم ایبٹ آباد کے نجی ہسپتال میں سیکرٹری جنرل کشمیر محترم خالد زیدی کے بیٹے احمد کی عیادت کر رہے ہیں.

08/01/2021

صدر جماعت اسلامی یوتھ لوئر نیلم محترم جنید الحسن پولیس کی جانب سے اساتذہ پر ہونے والے تشدد کے خلاف بنتل چوک آٹھمقام میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کر رہے ہیں
🎥جاوید

16/12/2020

امیدوار اسمبلی اپر نیلم محمد الطاف اور انوارلحق ایڈووکیٹ کا گریس ویلی کے مسا ٸل کو ملکی سطح پر اجاگر کرانے کے لیے دنیا نیوز کے چینل سے گفتگو میں انکا کہنا ہے کہ گریس کے مکینوں کے مسائل میں روڈ کی بندش کے باعث اضافہ ہوجاتا ہے۔ ان کا مذید کہنا ہےکہ صحت کی سہولیات کا گریس میں فقدان پایا جاتا ہے ۔حکومت وقت کو فوری طور پر ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Muzaffarabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Muzaffarabad
13231