جماعت اسلامی حلقہ3 مظفرآباد شہر

جماعت اسلامی حلقہ3 مظفرآباد شہر

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from جماعت اسلامی حلقہ3 مظفرآباد شہر, Political Party, Muzaffarabad.

03/11/2024

مثال:
آپ کو اپنے ادارے یا گھر کی دیکھ بھال و دیگر انتظامات کے لیے ایک بندے کی ضرورت ہو آپ اس کے لیے ایک طریق کار اپناتے ہیں کہ کون ہے جو اس کام کے قابل ہے, آپ کے پاس پانچ چھے امیدوار آتے ہیں اور آپ اپنے گھر والوں سے ووٹنگ کے نتیجے میں کثرت رائے سے ایک بندے کا انتخاب کرتے ہیں۔۔
آپ نے جب بندے کا انتخاب کیا اس سے بعد جب بھی وہ روز مرہ کے کام کرتا ہو اور آپ اس کے ہر کام پر اس کو مبارک بھی دیتے اور شکریہ بھی ادا کرتے ہوں اس کو مالا بھی ڈالتے ہوں اور اس کا پھولوں سے استقبال بھی کرتے ہوں اور مٹھائیاں بھی تقسیم کرتے ہوں تو آپ کیا سمجھتے ہیں لوگوں کی آپ کے بارے میں کیا رائے ہوگی؟؟؟
بالکل لوگ جو رائے آپ کے بارے میں رکھیں گے وہی رائے ہم اپنے وزاء اور اپنے منتخب نمائندوں کے لیے رکھتے ہیں ہم میں سے ہی ہمارے بھائیوں نے ایک بہتر نمائندے کا انتخاب کیا تھا اور اگر وہ اپنی امیدوں پر پورا اتر رہا ہے تو اسے شاباشی اور حوصلہ افزائی تو ضرور بنتی ہے البتہ شکریہ, مالا مٹھائیاں اور مبارکبادیں یہ قابل غور ہیں اس لیے پڑھے لکھے بن کر اپنے نمائندوں کے آگے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہونا چھوڑیں بلکہ آپ جو ٹیکس کی صورت ان کی ضروریات کا خیال رکھ رہے ہیں اس کے مطابق کام کاج کروائیں تاکہ یہ قوم بدلے اور اس کی ترجیحات بدلیں۔۔۔۔۔

والسلام
قاضی بلال احمد
3نومبر 2024

08/10/2024

08 اکتوبر 2005، وہ دن جب زمین لرزی اور ہزاروں زندگیاں پل بھر میں بدل گئیں۔ بچے اسکول گئے مگر واپس نہ آئے، مائیں اپنے بچوں کی واپسی کا انتظار کرتی رہ گئیں۔ ہر طرف چیخ و پکار تھی، دل دکھ سے بھرے اور آنکھیں اشکبار تھیں۔ گھروں کے ملبے تلے دبے لوگ، والدین اپنے بچوں کو پکار رہے تھے، پورے خاندان صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔

لوگ مدد کو پکارتے رہے مگر زمین نے سب آوازیں دبا دیں۔ بھائی اپنی بہن کو بچاتے بچاتے خود موت کے منہ میں چلے گئے۔ ہر طرف موت کا سناٹا چھا گیا۔ خدا کرے وہ دن دوبارہ کبھی نہ آئے۔ الللہ پاک تمام شہدائے زلزلہ کے دراجات میں بلندیاں عطا فرما کر جنت میں اعلی مقام پر فائز فرماۓ اور تمام مسلمانوں کو ایسی ناگہانی آفات و بليات سے محفوظ فرماۓ۔ الللہ ھمارے مظلوم و مجبور فلسطینی اور مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کی غائب سے مدد فرماۓ جن پر أۓ روز زلزلے سے زیادہ ظلم و جبر کے پہاڑ گراۓ جا رھے ھیں اور امت مسلمہ خواب غفلت میں سوئی ھوئی ھے۔

Photos from ‎جماعت اسلامی حلقہ3 مظفرآباد شہر‎'s post 26/08/2024

ضلع قاضی میرپور استاد محترم جناب قاضی محمد محفوظ مغل صاحب کے ساتھ یادگاری تصویر۔

21/07/2024

منقول

*قیمتی اثاثہ*

”خالہ جان...!!!“
کسی کی میٹھی آواز سنائی دی۔ میرے کان کھڑے ہو گئے لیکن بولی کچھ نہیں... بدستور برتن دھونے میں مصروف رہی۔ اتنے میں دوبارہ وہی آواز سنائی دی۔

”خالہ جان...!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ“
خالہ جان کہتے ہوئے نہایت ادب سے سلام کیا گیا۔
اب کی بار میں رہ نہ سکی اور فوراً مڑ کے دیکھا۔
ایک سات آٹھ سال کا پیارا سا بچہ دروازے پر کھڑا تھا۔
”خالہ جان! سنیے...
کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“

”بیٹا جی! آپ دروازے میں تو کھڑے ہی ہیں اندر بھی آ جائیں۔“
میں نے خوش دلی سے کہا۔

”جی معذرت چاہتا ہوں دراصل دروازے کا پٹ کھلا ہوا تھا تو میں اندر داخل ہو گیا۔“
ابھی تو میں اس کے ”خالہ جان“ کہنے کے سحر سے نہ نکلی تھی کہ ایسا شستہ جملہ بولا گیا... حیرت در حیرت!!
اور ابھی حیرت کے سمندر میں ہی غوطہ زن تھی کہ پھر آواز آئی...

”خالہ جان! میں آپ کے پڑوس میں رہتا ہوں۔ وہ ادھر کتھئی رنگ کے بڑے دروازے والا گھر ہمارا ہے۔ امی جان نے کہا ہے کہ آپ کسی وقت ہمارے گھر تشریف لائیے اور اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو آج شام ہی تشریف لے آئیے۔“

میں اسے جواب کیا دیتی... میں تو ابھی تک اس چھوٹے سے بچے کی سلیقہ مند گفتگو کے سحر سے ہی نہ نکل پا رہی تھی۔

وہ گھر جسے ہم سب براؤن گیٹ والا گھر کہتے تھے، اردو میں ”کتھئی رنگ کا دروازہ“ کہنا کتنا خوب صورت لگ رہا تھا.. پھر اوپر سے بچے کا انداز گفتگو ایسا دل نشین...
مجھے کہیں پڑھا ہوا وہ شعر یاد آیا

میرے کانوں میں مصری گھولتا ہے
کوئی بچہ جب اردو بولتا ہے

سنیے..
تشریف لائیے...
زحمت نہ ہو تو....
خالہ جان...
کیسا مٹھاس گھولتا لفظ ہے ”خالہ جان!!“
آج کون کسی کو خالہ جان کہتا ہے...! محلے بھر کے بچے بھی اور رشتے داروں کے بچے بھی.. سب نے ایک ہی لفظ پکڑا ہوا ہے..۔ آنٹی۔۔۔!
اففف! اچانک ہی اس لفظ آنٹی سے متلی سی ہونے لگی۔

”خالہ جان!“
اس نے پھر مجھے مخاطب کیا۔
”پھر میں امی جان سے کیا کہوں آپ کے بارے میں؟“
”جی جی بیٹا! ان سے کہنا میں شام کو ضرور آؤں گی۔“
”جی بہتر! میں اب چلتا ہوں خالہ جان!“
وہ سر جھکا کے سلام کرتا ہوا چلا گیا۔ اور میں سوچتی رہ گئی ۔۔۔ یا اللّٰہ! یہ اردو تہذیب کا گم شدہ خزانہ کہاں سے اس محلے میں آ گیا۔

کسی زمانے میں اردو میری بھی کمزوری رہی تھی۔ مگر شادی کے جھمیلوں میں پڑ کے وہ ادب وہ شاعری.... سب خواب ہو گئے جیسے=۔

شام کو میں ان کے گھر پہنچی تو دروازہ ایک بچی نے کھولا جو یقیناً اسی تمیز دار بچے کی بہن تھی۔ نہایت ادب سے سلام کیا اور دائیں ہاتھ سے گھر کے اندر کی جانب آنے کا اشارہ کرتے ہوئے اسی دلربا انداز میں مسکرا کر بولی....
”اندر تشریف لائیے خالہ جان!“
میں اس کے ساتھ ہی آگے بڑھ گئی۔

ان کی والدہ اور دادی جان نے پرتپاک خیر مقدم کیا ۔
”ارے آئیے نا! آپ کا اپنا ہی گھر ہے۔ تشریف رکھیے۔“ کم عمر خاتون نے کہا جو یقیناً ان بچوں کی والدہ ماجدہ تھی۔

”دراصل ہمیں یہاں آئے ہوئے دو ماہ ہی ہوئے ہیں۔ آپ سے ابھی تک ملاقات نہیں ہو سکی تھی تو سوچا شام کی چائے مل کر پیتے ہیں۔ آپ کو ناگوار تو نہیں گزرا؟“
”ارے نہیں نہیں بالکل نہیں۔ بلکہ مجھے تو اچھا لگا، آپ نے اتنی اپنائیت سے بلایا۔“

پھر میں کافی دیر وہاں بیٹھی رہی وہ سب لوگ بہت خوب صورت گفتگو کر رہے تھے۔ لب و لہجہ آداب سے گندھا ہوا ۔۔۔ چھوٹے بچے بھی اسی انداز میں بات کررہے تھے۔ لڑ رہے تھے تو بھی اتنی تمیز سے ۔۔۔
”آپ ہماری پینسل واپس کر دیجیے ورنہ ہم بابا جان سے آپ کی شکایت کر دیں گے۔“

مجھے بے ساختہ وہ شعر یاد آیا۔۔۔

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں
واپس آنے لگی تو میں نے بڑی محبت و اپنائیت سے انھیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ جسے انھوں نے بڑی خوش دلی سے قبول کیا ۔۔۔ کہنے لگیں:
”چشمِ ما روشن دلِ ما شاد ۔۔۔ ضرور آئیں گے بیٹا! آپ کہیں اور ہم نہ آئیں ایسے تو حالات نہیں“۔ پھر وہ مجھے دروازے تک چھوڑنے آئیں۔ دعائیہ کلمات سے رخصت کیا، فی امان اللہ کہا۔

میں گھر آئی تو بہت کھوئی کھوئی سی تھی ۔۔۔ اردو کا ایسا بیش بہا خزانہ میرے گھر میں کیوں موجود نہیں تھا؟ میرے اردگرد سب لوگ ایسے کیوں ہیں جو اپنی روزمرہ گفتگو میں آدھے لفظ انگریزی کے بول کر خوش ہوتے ہیں اور اس پہ فخر کرتے ہیں۔
مجھے لگا میرا کوئی بہت بڑا نقصان ہو گیا ہے ۔
_____

رات کو میاں صاحب گھر آئے تو ان سے تذکرہ کرنے لگی۔
”احمد! وہ لوگ اتنے مہذب ہیں کہ کیا بتاؤں۔۔۔ آہستہ آواز میں اور بہت ٹھہرے ٹھہرے لہجے میں بات کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کی ایسی تعظیم کرتے ہیں کہ دیکھنے والا حیران رہ جائے ۔۔۔ اور پتا ہے کیا۔۔۔؟ ان کے گھر کوئی آتا نہیں کوئی بیٹھتا نہیں۔۔۔ وہاں سب لوگ تشریف لاتے ہیں اور تشریف رکھتے ہیں۔ ان کے گھر میں ڈرائنگ روم، باتھ روم اور بیڈ روم نہیں ہیں، بلکہ وہاں مہمان خانہ ہے، خواب گاہ ہے، باورچی خانہ ہے، غسل خانہ ہے۔ اور بیڈ شیٹ کو کہتی ہیں پلنگ پوش! کتنا حسین لفظ ہے نا پلنگ پوش! ایک ہم ہیں۔۔ بیڈ شیٹ بیڈ شیٹ کرتے نہیں تھکتے۔ پورے پورے غلام ہی بن گئے ہیں انگریزوں کے۔ اور پتا ہے۔۔۔ وہ اپنے بچے کو کھانا کھلاتے ہوئے کہہ رہی تھیں بیٹا جی! آپ ٹھیک سے کھائیے اور یہ سارا ختم کیجیے۔
اور ہمارے یہاں مائیں اپنے بچوں کو کہہ رہی ہوتی ہیں ”جلدی جلدی فنش (finish) کرو، شاباش۔۔ گڈ بوائے۔۔۔۔“
اففففففف! احمد ! مجھے ان انگریزی کے لفظوں سے وحشت سی ہو رہی ہے جو ہم نے اپنی روزمرہ گفتگو میں زبردستی شامل کر لیے ہیں۔

سچ کہتی ہوں احمد! میں جب سے ان کے گھر سے آئی ہوں ایک عجیب سے سحر میں گرفتار ہوں۔ ان کی میٹھی زبان کا جادو میرے سر چڑھ کر بول رہا ہے۔۔۔ ان کی گفتگو ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔۔۔ اور ان بچوں کی دادی جان تو ایسی گفتگو کرتی ہیں کہ دل موہ لیتی ہیں۔ بات بات پہ کوئی نہ کوئی شعر یا محاورہ گفتگو کو چار چاند لگا رہے تھے، مگر ایسے کہ ان میں کوئی تصنع یا بناوٹ محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
اپنی بہو سے کہہ رہی تھیں ۔۔
”علینہ بیٹی! یہ رکابیاں یہاں تپائی پر رکھ دیجیے اور چائے کی پیالی بہن کو پکڑائیے!
مجھے پھر اردو کی رومانویت لیے ایک شعر یاد آ گیا۔۔۔

وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی بولی وہی بولے جسے اردو آئے۔

”ارے بھئی بیگم! ہم بھی کوئی لکھنوی ادب کی بھاری بھرکم کتاب لے آتے ہیں، وہاں سے سیکھ سیکھ کر مہذب اردو بولا کریں گے۔ بس اب کھانا تو لے آؤ یار۔۔۔ بہت بھوک لگی ہے۔ یا آج اردو کے لیکچر سے ہی پیٹ بھرنا پڑے گا؟“

”آپ بیٹھیے۔۔۔ میں کھانا لے کر آتی ہوں۔“
انھیں کھانا دے کر میں پھر اردو کے نوحے پڑھنے میں مصروف ہو گئی۔۔۔

”اردو کتنی خوب صورت کتنی مہذب زبان ہے! ہم نے اسے کیوں چھوڑ دیا؟ ہم ایسے کیوں ہو گئے؟ آدھے تیتر آدھے بٹیر ۔۔ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔۔۔! ہم نہ جانے کون سی تہذیب کے پیچھے دوڑنے لگے ہیں۔ نہ جانے کون سی رنگین اردو بولنے لگے ہیں! اپنا قیمتی اثاثہ کھوئے چلے جا رہے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں! ہمارے اسکولوں میں انگریزی پڑھائی جاتی ہے۔ ہمارے بچے اردو سے نا آشنا ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارے گھروں سے اردو زبان بوریا بستر سمیٹ رہی ہے اور ہم بےخبر ہیں۔ اردو سے اس دشمنی کی وجہ کیا ہے آخر ۔۔۔۔؟ ہم جانے انجانے میں کیوں اپنا نقصان کرتے چلے جا رہے ہیں... میں سوچتی رہی اور سوچتی چلی گئی۔۔۔۔!

زبانیں کاٹ کر رکھ دی گئیں نفرت کے خنجر سے
یہاں کانوں میں اب الفاظ کا رس کون گھولے گا؟

ہمارے عہد کے بچوں کو انگلش سے محبت ہے
ہمیں یہ ڈر ہے مستقبل میں اردو کون بولے گا؟

(تحریر کی مصنفہ کا نام معلوم نہیں ہو سکا)

05/04/2024

*حافظ نعیم الرحمٰن ۔ ایک تعارف*

*پیدائش اور خاندانی پس منظر*

■ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن 1972 میں حیدرآباد، سندھ میں ایک متوسط طبقے کے گھرانے میں پیدا ہوئے
■ ان کے والدین کا آبائی تعلق علیگڑھ سے تھا
■ وہ چار بھائی اور تین بہنیں ہیں،
■ وہ نارتھ ناظم آباد ، بلاک A میں ایک کرائے کے مکان میں رہتے ہیں ۔
■ حافظ نعیم الرحمن کے ماشاءاللہ، تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے، دو بیٹے حافظ قرآن بھی ہیں
■ حافظ نعیم الرحمان کی بیگم ، شمائلہ نعیم ڈاکٹر ہیں اور جماعت اسلامی کی فعال رکن ہیں

*تعلیم*
■ جامع مسجد دارالعلوم، لطیف آباد، یونٹ 10 سے حفظ کیا
■ ابتدائ تعلیم نورالاسلام پرائمری اسکول، حیدرآباد سے حاصل کی اور میٹرک علامہ اقبال ہائ اسکول سے کیا
■ حیدرآباد سے میٹرک کے بعد حافظ نعیم الرحمٰن کی فیملی کراچی منتقل ہوگئی
■انہوں نے پاکستان شپ اونرز کالج سے انٹرمیڈیٹ کیا ۔
■ انہوں نے ملک کی معروف درس گاہ این ای ڈی یونیورسٹی سے بی ای سول انجینئرنگ میں کیا ۔
■ بعد ازاں انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے اسلامک ہسٹری میں ماسٹرز بھی کیا ہے

*اسلامی جمعیت طلبہ سے تعلق*

■ زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہوئے اور ایک فعال اور متحرک طالب علم رہنما کے طور پر اپنی شناخت منوانے میں کامیاب ہوئے
■ طلباء حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر وہ گرفتار بھی ہوئے اور مختلف مواقع پر تین بار جیل کاٹی۔
■ اسلامی جمعیت طلبہ کراچی اور پھر صوبہ سندھ جمعیت کے ناظم بھی رہے
■ انہیں 1998 میں اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظم اعلیٰ یعنی مرکزی صدر منتخب کیا گیا
■ حافظ نعیم الرحمان دو سال اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ رہے ۔

*جماعت اسلامی سے وابستگی*

■ اسلامی جمعیت طلبہ سے فراغت کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی اور عملی سیاست میں قدم رکھا ۔
■ سن 2001 کے شہری حکومتوں کے انتخابات میں انہوں نے ضلع وسطی کراچی کی ایک یونین کونسل سے نائب ناظم کا الیکشن لڑے اور کامیاب ہوئے ۔
■ حافظ نعیم الرحمٰن لیاقت آباد زون کے امیر جماعت اسلامی، ضلع وسطی کے نائب امیر، کراچی جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری اور نائب امیر بھی رہے
■ سن 2013 میں انہیں جماعت اسلامی کراچی کا امیر پہلی مرتبہ منتخب کیا گیا۔

*بطور امیر جماعت اسلامی کراچی*

■ بطور امیر جماعت اسلامی کراچی، حافظ نعیم الرحمن نے کراچی کی سیاست پہ طاری جمود کو غیر معمولی جرات اور تحرک کے ذریعے توڑا۔
■انہوں نے کراچی کے مسائل کے حل اور سندھ حکومت کی جانب سے جاری زیادتیوں کے خلاف پرزور آواز بلند کرنا شروع کی
■ جب کوئی بھی سیاسی جماعت کراچی کی دگرگوں امن و امان کی صورتحال، کے الیکٹرک، نادرا کے مسائل اور بحریہ ٹاؤن متاثرین کے لیے آواز اٹھانے کو تیار نہیں تھا تو حافظ نعیم الرحمان اور جماعت اسلامی ان کی آواز بنے ۔
■ کراچی میں جماعت اسلامی نے حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں "حق دو کراچی کو تحریک " کا آغاز کیا جو شہر کی سیاست میں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔ اور یہ تحریک کراچی کے حقوق کی سب سے توانا آواز بن گئی ۔
■ جب سندھ حکومت نے بلدیاتی اداروں کے رہے سہے اختیارات بھی سلب کرلیے تو جنوری 2022 میں سندھ اسمبلی کے باہر سخت سردی اور بارش میں کھلے آسمان تلے تاریخ ساز دھرنے کا آغاز ہوا ۔ یہ دھرنا 29 روز تک جاری رہا ، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو مجبورا بلدیاتی اداروں کے اختیارات واپس کرنے کے لیے معاہدہ پر دستخط کیئے
■ 15 جنوری 2023 کراچی میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تو جماعت اسلامی نے تمام سیاسی جماعتوں سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ۔ اگر ریاستی طاقت استعمال کرکے نتائج نہ بدلے جاتے تو جماعت اسلامی شہر میں سب سے زیادہ یونین کونسلز بھی جیتنے میں کامیاب رہتی ۔۔ بدترین دھاندلی کے باوجود جماعت اسلامی نے 87 یونین کونسلز اور 9 ٹاؤنز جیت لیے۔
■8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں ایک بار پھر کراچی نے حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں جماعت اسلامی پر بھرپور اعتماد کیا اور وہ شہر سے پونے آٹھ لاکھ ووٹ حاصل کرنے اور کئی سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی مگر فارم 47 میں نتائج بدل کر یہ سیٹیں جماعت اسلامی سے چھین لی گئیں
■ حافظ نعیم الرحمٰن نے ان انتخابات میں الیکشن کمیشن کے مطابق اعلان شدہ جیتی ہوئی سیٹ یہ کہہ کر چھوڑ دی کہ وہ مخالف امیدوار سے ایک ہزار ووٹ سے ہارے ہیں اس لیے ان کا ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ وہ یہ سیٹ قبول کریں ۔
■ حافظ نعیم الرحمان کے اس حیرت انگیز اور جرات مندانہ اقدام کی نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی بھرپور پذیرائی ہوئی ۔ سیاسی مخالفین نے بھی حافظ نعیم الرحمان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ۔
■ تمام غیر جانبدار سروے۔ حافظ نعیم الرحمن کو کراچی کا اس وقت کا سب سے مقبول رہنما بتاتے ہیں

*دیگر خدمات*

■ کراچی کے عوام کے مسائل کے حل کیلئے، نہایت فعال اور متحرک پبلک ایڈ کمیٹی قائم کی
■ حافظ نعیم الرحمان جماعت اسلامی کراچی کے امیر کے ساتھ ساتھ "الخدمت ویلفیئر سوسائٹی کراچی" کے صدر بھی ہیں ۔
■ انہوں نے نوجوانوں کے لئے فری آئی ٹی پروگرام "بنو قابل" لانچ کیا جو اپنی نوعیت کا انقلابی پروگرام ثابت ہوا اور جلد پورے ملک میں پھیل گیا ۔ شہر کے ہزاروں نوجوانوں نے مفت کورسز کیے ۔
■ حافظ نعیم الرحمٰن نے جماعت اسلامی کراچی کے دفتر ادارہ نور حق میں بنو قابل کا کیمپس بنایا تو یہ بھی اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ تھا جب سیاسی جماعت کے دفتر میں روزانہ سیکڑوں نوجوان حصول تعلیم کے لیے رخ کرتے نظر آئے۔
■ اسی عرصے میں ناظم آباد کراچی میں الخدمت کا جدید ترین اور عالمی معیار کا ڈائیگنوسٹک سینٹر مکمل ہوا
■ کووڈ، سندھ اور بلوچستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب میں الخدمت کراچی نے بے مثال خدمات انجام دیں ۔

*پیش ورانہ خدمات*
■ حافظ نعیم الرحمان پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں اور ایک نجی کمپنی سے منسلک ہیں ۔
■ ان کی کمپنی کو اعلی کوالٹی کی خدمات کے پیش نظر ایوارڈ بھی دئیے گئے

*دیگر دلچسپیاں*

■ حافظ نعیم الرحمٰن نہ صرف کرکٹ میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں بلکہ شعر و ادب کے بھی دلدادہ ہیں ۔
■ علامہ اقبال کے اردو اور فارسی کلام پہ گہری نظر ہے
■ وہ حافظ قرآن ہیں ، اردو اور انگریزی پر عبور رکھتے ہیں
■ مسحور کن قرآت اور دلگداز نعت خوانی ان کا پوشیدہ وصف ہے
■ چین ، ترکی ، متحدہ عربامارات، بنگلہ دیش،برطانیہ، جاپان ، قطر اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک کے دورے کر چکے ہیں ۔

Photos from ‎جماعت اسلامی حلقہ3 مظفرآباد شہر‎'s post 15/03/2024

برادر محترم جناب ڈاکٹر ضیاء احمد شیخ کو بذریعہ پبلک سروس کمشن اسسٹنٹ ڈائریکٹر احتساب بیورو بی 17 تعیناتی پر صمیم قلب سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
اللّٰہ تعالٰی مزید کامیابیاں اور کامرانیاں نصیب فرمائے آمین یارب العالمین

13/03/2024

خود احتسابی فارم

یہ فارم پرنٹ کروا لیں۔ اور روزانہ کی بنیاد پر اپنی کارکردگی نوٹ کرتے جائیں۔ رمضان کے اختتام پر جائزہ لیجیے کہ اس رمضان کیا کھویا اور کیا پایا؟
یہ چھوٹی سی سرگرمی آپ کو جہاں اعمال کرنے میں مدد دے گی وہیں حشر میں اعمال نامہ ملنے کا احساس بھی دنیا میں کروا دے گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی شان کے مطابق اس کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

11/03/2024

کل ایک میسج ملا پڑھنے کے بعد سوچا آپ کے سامنے رکھ دوں۔
میسج پڑھیے گا اور جائزہ لیجئیے گا۔

کل رات عشاء کے بعد ابلیس پاکستان بھر کی تمام تاجر تنظیموں کے نمائندوں سے ایک آن لائن کانفرنس کے ذریعے خطاب کریں گے
اور رمضان المبارک میں اپنی غیر موجودگی میں تاجروں کی سابقہ خدمات کو خراج تحسین پیش کریں گے
اور آ رہے رمضان کیلئے خصوصی ہدایات جاری فرمائیں گے
ابلیس سے جب اس حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ پاکستانی تاجر حضرات خصوصاً الحاج ٹائپ تاجر حضرات کبھی میری کمی محسوس نہیں ہونے دیتے
میں ایک ماہ قید رہتا ہوں تو میرا سارا کام یہ سنبھالتے ہیں
ذخیزہ اندوزی ، ناجائز منافع خوری ، ملاوٹ ، بے ایمانی کے جو طریقے ان تاجروں نے ایجاد کئے ہیں میں تو خود ان سے بہت متاثر ہوتا ہوں، مگر مجھے ایک بات کبھی سمجھ نہیں آتی، رمضان میں میری تعلیم و تبلیغ پر چل کر یہ تاجر اپنے مسلمان بھائیوں کا خون چوس کر کروڑوں روپے اکٹھے کرتے ہیں
پھر انہی پیسوں سے حج پہ جاتے ہیں
اور وہاں آ کر مجھے کنکریاں مارتے ہیں
یہ بڑی عظیم منافقت ہے
حالانکہ کنکریاں تو ان کو پڑنی چاہیے۔

Photos from ‎جماعت اسلامی حلقہ3 مظفرآباد شہر‎'s post 26/02/2024

مورخہ 24 فروری 2024 بروز ہفتہ تھوتھال میرپور میں اے کے ٹاپر سکول * کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات و رزلٹ میں شرکت کی جہاں اور کے عنوان پر بریف کیا اور حسنہ تربیہ پروگرام پر تفصیلا گفتگو کی جسے والدین کی طرف سے بھرپور سراہا گیا۔

Photos from Public Relations Office, MUST, Mirpur's post 29/10/2023
Photos from ‎جماعت اسلامی حلقہ3 مظفرآباد شہر‎'s post 15/10/2023

*انا لله وانا الیه راجعون*
سینئیر ایگزیکٹو پبلک ریلیشنز سید مرتضٰی شاہ بخاری بھائی کی والدہ محترمہ وفات فرما گئیں ہیں. اللہ تعالٰی مرحومہ کی مغفرت فرمائے انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو کو صبر جمیل عطا ہو. آمین.
نماز جنازہ آج 4 بجے مظفرآباد گوجرہ میں ادا کی جائے گی جبکہ کل بروز پیر آبائی گاؤں ہلمت میں نماز جنازہ و تدفین ہو گی.

Want your business to be the top-listed Government Service in Muzaffarabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Muzaffarabad
EIDGHAHROADMUZAFFARABAD