25/01/2026
جماعت اسلامی گوادر کے صحرا میں
Jammat e Islami Kotla LA-24 Muzaffarabad 1 Jammat Islami Kotla LA-26 Muzaffarabad 1
25/01/2026
جماعت اسلامی گوادر کے صحرا میں
تشنگی جم گٸ میرے ہونٹوں پہ پتھر کی طرح
میں ڈوب کر بھی تیرے دریا سے پیاسا نکلا
✍️پاکستان کی کمزوری کے حوالے سے یاد آیا 🌱
☝️غزوہ خندق،میں جب ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ
وسلم نے چٹان کو ضرب دے کر توڑا تو آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا کہ
🍁مجھے اس ، چنگاری میں قیصر وکسرئ اور روم کی
سلطنت کے ٹکڑے نظر آئے ہیں 🌾
🍂تو پتا ہے منافقین نے یہ سن کر کیا کہا تھا 🌱
🍁 یا کیا سوچا کہ
🌿بھوک سے پیٹ پر پتھر باندھے ہوٸے ہیں ۔
اور ، دعوے اونچی سلطنت کی تباہی کے🥀
اور جب منافقین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر 11 لٹکی تلواریں دیکھ کر حیران ہو گئے ۔🌹
🍁مقصد پاکستان کا 80 فیصد بجٹ درست استعمال ہوا ہے 🍁
✍️ خَیْرُ النَّاسِِ مَنْ یَّنْفَعُ النَّاس۔ 🌾🌻🌺
🍁بہترین انسان وه ہے🌹 جس کا وجود دوسروں
کے لیے فائدے مند ہو۔🍁🌻
جو عہدہ چھوڑنے کے بعد دس منٹ پاکستان میں رہنا گوارا نہیں سمجھتے
وہ باقی لوگوں کو غدار کہتے شرم نہیں کرتے
🌱*ہمارے معاشرے میں ہزاروں لوگ ایسے بھی ہیں* 🌱
🌹*جو دِل کے کسی کونے میں کسی اور کا پیار
زندہ رکھ کر میاں بیوی کی زندگی گزار رہے ہیں۔۔۔۔۔🌼*🥀
کفر‘‘: شرک ،،،،،
جن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے ان میں سے کسی ایک بات کو بھی نہ ماننا یا انکار کرنا کفر ہے،مثلاً: کوئی شخص خداتعالیٰ کو نہ مانے یا خدا تعالیٰ کی صفات کا انکار کرے یا دو تین خدا مانے یا فرشتوں کا انکار کرے یا خداتعالیٰ کی کتابوں میں سے کسی کتاب کا انکار کرے یا کسی پیغمبر کو نہ مانے یا تقدیر سے منکر ہو یا قیامت کے دن کو نہ مانے یا خداتعالیٰ کے قطعی احکام میں سے کسی حکم کا انکار کرے یا رسولُ اللہ ﷺکی دی ہوئی کسی خبر کو جھوٹا سمجھے تو ان تمام صورتوں میں کافر ہوجائے گا ۔
’’شرک‘‘:
شرک اُسے کہتے ہیں کہ خداتعالیٰ کی ذات یا صفات میں کسی دوسرے کو شریک کرے ، ذات میں شرک کرنے کے معنی یہ ہیں کہ دوتین خدا ماننے لگے، جیسے عیسائی کہ تین خدا ماننے کی وجہ سے مشرک ہیں، اور جیسے آتش پرست کہ دو خدا ماننے کی وجہ سے مشرک ہوئے، اور جیسے بت پرست کہ بہت سے خدا مان کر مشرک ہوتے ہیں ۔ صفات میں شرک کرنے کا معنی یہ ہے کہ خدا کی صفات کی طرح کسی دوسرے کے لیے کوئی صفت ثابت کرنا، کیوں کہ کسی مخلوق میں خواہ وہ فرشتہ ہو یا نبی ، ولی ہو یا شہید ، پیر ہو یا امام، خداتعالیٰ کی صفتوں کی طرح کوئی صفت نہیں ہوسکتی ۔
شرک فی الصفات کی چند قسمیں درج ذیل ہیں:
(۱) شرک فی القدرت: یعنی خداتعالیٰ کی طرح صفتِ قدرت کسی دوسرے کے لیے ثابت کرنا ،مثلاً: یہ سمجھنا کہ فلاں پیغمبر یا ولی یا شہید وغیرہ پانی برسا سکتے ہیں یا بیٹا بیٹی دے سکتے ہیں یا مرادیں پوری کرسکتے ہیں یا روزی دے سکتے ہیں یامارنا جِلانا اُن کے قبضے میں ہے یا کسی کو نفع اور نقصان پہنچا نے پر قدرت رکھتے ہیں ؛ یہ تمام باتیں شرک ہیں ۔
(۲) شرک فی العلم: یعنی خداتعالیٰ کی طرح کسی دوسرے کے لیے صفتِ علم ثابت کرنا، مثلاً یوں سمجھنا کہ خداتعالیٰ کی طرح فلاں پیغمبر یا ولی وغیرہ غیب کا علم رکھتے تھے یا خدا کی طرح ذرّہ ذرّہ کا انہیں علم ہے یا دور و نزدیک کی تمام چیزوں کی خبر رکھتے ہیں یہ سب شرک فی العلم ہے ۔
(۳) شرک فی السمع والبصر: یعنی خداتعالیٰ کی صفت ِ سمع یا بصر میں کسی دوسرے کو شریک کرنا، مثلاً: یہ اعتقاد رکھنا کہ فلاں پیغمبر یا ولی ہماری تمام باتوں کو دورونزدیک سے از خود سن لیتے ہیں یا ہمیں اور ہمارے کاموں کو ہر جگہ سے دیکھ لیتے ہیں؛ سب شرک ہے ۔
(۴) شرک فی الحکمُ: یعنی خداتعالیٰ کی طرح کسی اور کو حاکم سمجھنا اور اس کے حکم کو خداکے حکم کی طرح ماننا، یہ بھی شرک ہے ۔
(۵) شرک فی العبادت : یعنی خداتعالیٰ کی طرح کسی دوسرے کو عبادت کا مستحق سمجھنا ، مثلاً: کسی قبریا پیر کو سجدہ کرنا یا کسی کےلیے رکوع کرنا، یا کسی پیر، پیغمبر ، ولی ، امام کے نام کا روزہ رکھنا یا کسی کی نذراور منت ماننی یاکسی قبر یا مرشد کے گھر کا خانہ کعبہ کی طرح طواف کرنا ؛یہ سب شرک فی العبادۃ ہے ۔
نیز بہت سے کام ایسے ہیں کہ اُن میں شرک کی ملاوٹ ہے، ان تمام کاموں سے پرہیز کرنا بھی لازم ہے ، جیسے : نجومیوں سے غیب کی خبریں پوچھنا ، پنڈت کو ہاتھ دکھلانا ، کسی سے فالکھلوانا، چیچک یا کسی اور بیماری کی چھوت کرنااور یہ سمجھنا کہ ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جاتی ہے ۔ تعزیہ بنانا ، علم اٹھانا ، قبروں پر چڑھاوا چڑھانا ، نذر نیاز گزراننا، خداتعالیٰ کے سوا کسی کے نام کی قسم کھانا،تصویریں بنانا یا تصویروں کی تعظیم کرنا ، کسی پیر یا ولی کو حاجت روا ،مشکل کشا کہہ کر پکارنا ، کسی پیر کے نام کی سر پر چوٹی رکھنا یا محرم میں اماموں کے نام کا فقیر بننا ، قبروں پر میلہ لگانا وغیرہ ۔
’’بدعت‘‘:
بدعت اُن چیزوں کو کہتے ہیں جن کی اصل شریعت سے ثابت نہ ہو، یعنی قرآنِ مجید اور حدیث شریف میں اُس کا ثبوت نہ ملے اور رسولُ اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام اور تابعین اور تبعِ تابعین کے زمانہ میں اس کی ضرورت یا امکان کے باجوداسے نہ کیا جائے، اور بعد کے زمانے میں اور اُسے دین کا کام سمجھ کر کیا یا چھوڑا جائے، اور ترک کرنے والے کو ملامت کی جائے۔ بدعت بہت بری چیز ہے ، حضوررسولِ مقبول ﷺنے بدعت کو مردود فرمایا ہے اور جو شخص بدعت نکالے اس کو دین کا ڈھانے والا بتایا ہے اور فرمایا ہے کہ ہر بدعت گم راہی ہے اورہرگم راہی دوزخ میں لے جانے والی ہے
تکبر اور اس کی اقسام
السلامُ علیکم
دوستو اپنی سمجھ، تجربے اور علمیت کو اپنے تک محدود رکھنا بُخل ھے چاھے وہ مذھب کے حوالے سے ھو، سائنس ھو یا کوئی دوسرا شعبۂ زندگی ھو کیونکہ علم یا علمیت روشنی ھے اور معاشرے میں علم پھیلانا فیاضی بھی ھے اور صدقۂ جاریہ بھی لہٰذا اس سے سب کو بہرور کرانا چاہئے جس سے صحیح سمت کا تعین بھی ھوتا ھے اور معاشرہ بھی بگاڑ کی بجائے اصلاح کی طرف گامزن ھونے لگ جاتا ھے
تکبر کے لغوی معنی بڑائی کے ھیں اور اصطلاحی اعتبار سے تکبر ایک ایسی انسانی کیفیت و حالت ھے جس میں انسان اپنے آپ کو دوسرے انسانوں سے زیادہ فوقیت و فضیلت دیتا ھے
حدیث شریف میں تکبر کی دو قسمیں بیان کی گئی ھیں جو حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کچھ یوں مروی ھے کہ “تکبر، حق کا انکار اور لوگوں کو حقیر جاننا ھے” لہٰذا جو اللہ تعالٰی اور اس کے انبیاء علیہ سلام کا منکر ھے وہ دراصل تکبر ھی کر رھا ھے جبکہ تکبر کا اُلٹ تواضع ھے جس کے معنی عاجزی اور انکساری کے ھیں اور احادیث کے مطابق جو شخص اللہ کے لئے تواضع اختیار کرتا ھے تو اللہ تعالٰی اسے سربلند فرماتا ھے اور دنیا کی نظروں میں بھی اسے قابل عظمت و احترام بناتا ھے
سب سے پہلے تکبر ابلیس نے کیا تھا جب اللہ تعالٰی نے اس سمیت تمام فرشتوں سے حضرت آدم علیہ کو سجدہ کرنے کا کہا اور ابلس نے اس کا انکار کیا اور یوں ابلیس کا حشر آپ سب کے سامنے ھے اور وہ سجدہ چونکہ دراصل اللہ تعالٰی کا حکم ھی تھا تو وہ اللہ تعالٰی کو ھی سجدہ کرنے کے مترادف تھا یا اسے سجدۂ تعظیمی بھی کہا جا سکتا ھے جو شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل جائز تھا جیسا کہ حضرت یوسف علیہ سلام کو اس کے بھائیوں نے کیا تھا
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالٰی فرماتے ھیں کہ “ کبریائی (تکبر) میری چادر ھے اور عظمت میری ازار ھے، جس شخص نے ان دونوں میں سے کسی ایک پر مجھ سے مقابلہ کیا، میں اسے آگ میں پھینک دوں گا” اور دوسری جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “وہ شخص جنت میں داخل نہیں ھوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ھوگا” جبکہ قرآن میں اللہ تعالٰی فرماتا ھے کہ “بیشک خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ھے اور تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا”
تکبر اور عُجب معنوی لحاظ سے قریب تر ھیں لیکن ایک باریک فرق ان کے درمیان موجود ھے کہ عُجب خود پسندی ھے یعنی اپنے آپ میں کسی کمال یا اچھائی پر فخر کرنا ھے جبکہ اس سے کسی دوسرے انسان کو کمتر نہ سمجھنا بھی شامل ھے اور یہ تکبر کے ذمرے میں نہیں آتا لیکن تکبر کی جڑ ضرور ھے جبکہ تکبر میں انسان دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھتا ھے اور تکبر کے تین درجات ھیں یعنی اللہ تعالٰی کے سامنے تکبر کرنا، انبیاء کے سامنے تکبر کرنا اور مخلوق کے سامنے تکبر کرنا جہاں اللہ تعالٰی اور انبیاء کرام کے سامنے تکبر کُفر ھے لیکن مخلوق کے سامنے تکبر کُفر تو نہیں ھے لیکن گُناہِ کبیرہ ضرور ھے جبکہ تکبر کی دو قِسمیں ھیں ایک باطنی اور دوسرا ظاہری، باطنی تکبر ایک نفسانی کیفیت ھے جبکہ ظاہری تکبر وہ تکبر ھے جو تمھاری اعضاء و جوارح سے بھی سرزد ھوتے ھیں اور جو شخص اپنے آپ کو تو بالا سمجھتا ھے لیکن کسی دوسرے شخص کو اپنے سے بالا یا برابر سمجھتا ھے تو یہ تکبر نہیں کہلائے گا اور اسی طرح کسی کو تو حقیر یا کمتر سمجھتے ھو لیکن خود کو بھی حقیر ھی سمجھتے ھو تو یہ بھی تکبر کے ذمرے میں نہیں آتا
تکبر کے ذکر سے عام طور پر ھمارے ذھنوں میں جو فوری طور پر خیال آتا ھے وہ یہ ھے کہ تکبر تو مالدار ھی کرتا ھے لیکن علماء کرام نے اس کی درجہ بندی کچھ یوں کر رکھی ھے (1۔علم پر) (2۔عبادت پر) (3۔مال و دولت پر) (4۔حسب و نسب پر) (5۔ عہدہ یا منصب پر ) (6۔کامیابیوں پر) (7۔حُسن و جمال پر) (8۔طاقت پر) لہٰذا شیطانی وسوسوں اور ورغلانے سے بچئیے اور خود کو عالم فاضل سمجھ کر دوسروں کو جاہل نہ سمجھنا کہ تکبر کی درجہ بندی میں علم پر تکبر سب سے اوپر آتا ھے اور خود تقویٰ دار ھو کر دوسروں کو گناہ گار دیکھ کر تکبر نہ کرنا کہ یہ درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر آتا ھے اور اسی طرح حسب و نسب، دولت، منصب، طاقت اور حُسن و جمال کی وجہ سے دوسروں کو حقیر نہ جانئیے کہ یہ سارے تکبر ھی کے ذمرے میں آتے ھیں
اللہ تبارک و تعالٰی ھمیں تواضع سے نوازے اور ہر قسم کے تکبر سے بچا
14/09/2024