30/04/2026
جناب جسٹس سردار لیاقت حسین،چیف جسٹس عدالت عالیہ آزاد جموں و کشمیراور جناب جسٹس سید شاہد بہار، سینئرجج عدالت عالیہ آزادجموں وکشمیر نے میرپور میں قائم معروف فلاحی ادارہ Kashmir Orphan Relief Trust (KORT) کا دورہ فرمایا۔دورہ کے دوران جناب چیف جسٹس اور معزز سینئر جج نے ادارے کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیاجس دوران چیئرمین KORT چوہدری محمود اختر نے معزز مہمانوں کو ادارہ کے اغراض و مقاصد، کارکردگی اور جاری فلاحی خدمات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کمپلیکس کے اندر قائم کلاس رومز کا وزٹ کیا اور وہاں زیرِ تعلیم یتیم اور مستحق بچوں کے ساتھ گھل مل گئے، اُن سے شفقت سے گفتگو کی اور ان کی تعلیمی و رہائشی سہولیات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔Kashmir Orphan Relief Trust (KORT) ایک معروف فلاحی ادارہ ہے جو یتیم اور مستحق بچوں کی کفالت کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ ادارہ بچوں کو معیاری تعلیم، رہائش، صحت کی سہولیات اور بہترین اخلاقی و سماجی تربیت فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ معاشرے کے مفید اور بااعتماد شہری بن سکیں۔ KORT کو پاکستان اور آزاد کشمیر میں یتیم بچوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے نمایاں اور معتبر اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔جناب چیف جسٹس اورمعزز سینئر جج نے ادارے کی خدمات کو سراہتے ہوئے اسے معاشرے کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال قرار دیا اور کہا کہ ایسے فلاحی ادارے دکھی انسانیت کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔دورہ کے اختتام پر چیئرمین KORT نے جناب چیف جسٹس و سینئر جج کو یادگاری شیلڈزبھی پیش کیں.
26/04/2026
جسٹس سردار لیاقت حسین، چیف جسٹس عدالت عالیہ آزاد جموں و کشمیر، نے مورخہ 22 اپریل 2026 کو تحصیل بار ایسوسی ایشن پٹہکہ کے زیر اہتمام خواجہ عبدالوحید ایڈووکیٹ مرحوم کے لیے منعقدہ تعزیتی ریفرنس میں شرکت فرمائی۔
تقریب میں صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آزاد جموں و کشمیر راجہ آفتاب احمد ایڈووکیٹ، صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن آزاد جموں و کشمیر راجہ جہانگیر اکرم ایڈووکیٹ، صدر تحصیل بار ایسوسی ایشن پٹہکہ چوہدری مشتاق ایڈووکیٹ، جنرل سیکرٹری تحصیل بار ایسوسی ایشن پٹہکہ رئیس عباسی ایڈووکیٹ، سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل آزاد جموں و کشمیر راجہ سعید خان ایڈووکیٹ، سردار ریشم خان ایڈووکیٹ، چوہدری محمد اسماعیل ایڈووکیٹ سمیت تحصیل بار ایسوسی ایشن پٹہکہ کے وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تعزیتی ریفرنس میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج و ایڈیشنل ضلع قاضی پٹہکہ، سول جج و تحصیل قاضی پٹہکہ، تحصیل انتظامیہ اور خواجہ عبدالوحید ایڈووکیٹ مرحوم کے اہلِ خانہ کے افراد بھی موجود تھے۔
جناب چیف جسٹس سردار لیاقت حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ خواجہ عبدالوحید ایڈووکیٹ مرحوم کے تعزیتی ریفرنس میں شرکت میرے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ خواجہ عبدالوحید ایڈووکیٹ مرحوم نہایت قابل، لائق اور اعلیٰ کردار کے مالک تھے اور تاریخ ہمیشہ انہی شخصیات کو یاد رکھتی ہے جو اپنے کردار کی بلندی سے پہچانی جاتی ہیں۔ جناب چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں مزید کہا پٹہکہ بار کے وکلاء کے کردار میں خواجہ عبدالوحید ایڈووکیٹ مرحوم کی جھلک نمایاں ہے، جو ان کی پیشہ ورانہ دیانت اور اعلیٰ اقدار کا ثبوت ہے۔ انہوں نے وکلاء پر زور دیا کہ وہ خواجہ عبدالوحید ایڈووکیٹ کی پیشہ ورانہ کمٹمنٹ اور اصولوں کو آگے بڑھائیں۔
تعزیتی ریفرنس کے اختتام پر مرحوم کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔
بعد ازاں جناب چیف جسٹس نے ایڈیشنل ضلعی فوجداری عدالت اور تحصیل فوجداری عدالت پٹہکہ کی عمارت کا معائنہ فرمایا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ عدالتیں قائم کرنے سے قبل بنیادی لوازمات کی فراہمی ناگزیر ہے، جبکہ عدالتوں کے قیام کے بعد بھی ضروری سہولیات کا مکمل نہ ہونا ایک سوالیہ نشان ہے۔
جناب چیف جسٹس نے اسسٹنٹ کمشنر پٹہکہ کو ہدایت فرمائی کہ جوڈیشل کمپلیکس پٹہکہ کے لیے فوری طور پر مناسب جگہ مختص کی جائے تاکہ عدالتی نظام کو مزید بہتر اور مؤثر بنایا جا سکے۔
23/04/2026
Transfers and Postings of Additional District and Session Judges, Senior Civil Judges and Civil Judges.
23/04/2026
مظفرآباد (پی آئی ڈی) 23 اپریل 2026
جسٹس سردار لیاقت حسین، چیف جسٹس عدالت عالیہ آزاد جموں و کشمیر اور جسٹس خالد رشیدچوہدری جج عدالت عالیہ آزاد جموں و کشمیر نے بروز جمعرات عدالت عالیہ ہیڈکوارٹر مظفر آباد پر زیر سماعت مقدمات کے ساتھ ساتھ ویڈیولنک کے ذریعہ عدالت عالیہ سرکٹ بینچ کوٹلی و راولاکوٹ سے متعلقہ سنگل بینچ و ڈویژن بینچ کے 70 سے زائد مقدمات کی سماعت کی۔ متعلقہ وکلاء صاحبان نے مقدمات میں ویڈیولنک کے ذریعہ اپنے دلائل معزز عدالت گرامی کے روبرو پیش کیے جس پر عدالت گرامی نے متعدد مقدمات کو یکسوکیا اور بعض مقدمات میں حکم بھی صادر کیا۔
23/04/2026
مظفرآباد (پی آئی ڈی)23 اپریل 2026
جسٹس سید شاہد بہار، سینئر جج عدالت عالیہ آزاد جموں و کشمیر و جسٹس چوہدری خالد رشید، جج عدالت عالیہ آزاد جموں و کشمیر پر مشتمل فاضل ڈویژن بینچ نے مقدمہ عنوانی '' سردار جاوید شریف وغیرہ بنام قانون ساز اسمبلی وغیرہ میں لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ کے ترقیاتی پروگرام سے متعلق ایکٹ 2025 کو آئینی قرار دیتے ہوئے متذکرہ ایکٹ کے حوالہ سے دائر رٹ پیٹیشن خارج کر دی ہے۔ متذکرہ فیصلہ جسٹس سید شاہد بہار سینئر جج عدالت عالیہ آزاد جموں و کشمیر نے تحریر فرمایا۔ متذکرہ مقدمہ میں مختلف اضلاع کے چیئر مینز، میئرز اور لوکل کونسلرز کی جانب سے ایکٹ 2025 کی بعض دفعات کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایکٹ 2025 کی بعض دفعات لوکل گورنمنٹ ایکٹ 1990 سے متصادم ہیں تاہم معزز عدالت گرامی نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 1990 اور ایکٹ 2025 دونوں ایک ہی نوعیت کے قوانین ہیں۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 1990 قانون کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جبکہ ایکٹ 2025 میں ترقیاتی امور کے حوالہ سے اضافی طریقہ کار فراہم کیا گیا ہے۔ اس طرح متذکرہ ایکٹ ہا ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور دونوں ایک ساتھ نافذ العمل رہ سکتے ہیں۔ فیصلہ میں مزید قرار دیا گیا کہ قانون سازی پارلیمنٹ/ اسمبلی کا اختیار ہے جس میں عدالت عام حالات میں مداخلت نہیں کر سکتی تاہم عدالت صرف مخصوص حالات میں جب کوئی قانون واضح طور پر آئین سے متصادم ہو تو ایسی قانون سازی کے حوالہ سے مداخلت کی جاسکتی ہے۔د یگرمقدمہ عنوانی ''عائشہ مصطفی بنام یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر وغیرہ کو فاضل بینچ بر مشتمل جسٹس سید شاہد بہار سینئر حج عدالت عالیہ آزاد جموں و کشمیر نے یکسو کرتے ہوئے طلباء کے ساتھ امتیازی سلوک کو غیر قانونی قرار دیا۔ فیصلہ میں یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ پالیسی جس کے تحت صرف 2023 کے بعد داخل ہونے والے طلباء کو دو سالہ ڈگری (Exit Degree) دی جارہی تھی، کو امتیازی اور غیر منصفانہ قرار دیا گیا۔ فیصلہ میں Doctrine of Legitimate Expectation کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا گیا کہ ایک جیسے حالات میں طلباء کو یکساں سلوک کا حق حاصل ہے اور کسی بھی پالیسی کا مخصوص طلباء پر اطلاق درست نہ ہے۔ فاضل عدالت گرامی نے Doctrine of Continuing Mandamus کے تحت یونیورسٹی کے مجاز حکام کو طلباء کی درخواستیں فوری طور پر یکسو کرتے ہوئے اندر 30 ایام ڈگری ہا جاری کرنے، تعلیمی ریکارڈ درست کرنے اور تمام ضمنی فوائد طلباء کو فراہم کرتے ہوئے تعمیلی رپورٹ اندر 02 ماہ زیر دستخطی کے روبرو پیش کرنے کی ہدایت فرمائی۔
21/04/2026
مظفرآباد (پی آئی ڈی) 21 اپریل 2026
جناب جسٹس سردار لیاقت حسین چیف جسٹس عدالت العالیہ آزاد جموں و کشمیر، جناب جسٹس سید شاہد بہار سینئر جج عدالت عالیہ، اور جناب جسٹس چوہدری خالد رشید جج عدالت العالیہ، نے محکمہ جنگلات آزاد جموں و کشمیر کے زیر انتظام شجرکاری مہم موسمِ بہار 2026 کے سلسلے میں احاطہ عدالت عالیہ ہیڈکوارٹر مظفرآباد میں پوداجات لگائے۔ اس موقع پر سیکرٹری جنگلات چوہدری محمد فرید، ناظم اعلیٰ پرنسپل ڈاکٹر سردار افتخار احمد، ناظم اعلیٰ علاقائی ملک اسد محمود، پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر ذاکر حسین، چیف پلاننگ آفیسر سید عتیق الرحمن شیرازی، ناظمینِ جنگلات ارتضیٰ قریشی اور سید مظہر نقوی سمیت محکمہ جنگلات کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔ جناب چیف جسٹس عدالت عالیہ آزاد جموں و کشمیر سردار لیاقت حسین نےاس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شجرکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ اور سرسبز آزاد کشمیر کے لیے شجرکاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ درخت لگانا صرف زمین کو سرسبز بنانا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے زندگی، تحفظ اور امید کا پیغام دینا ہے.
21/04/2026
مظفر آباد(پی آئی ڈی )21 اپریل 2026
جسٹس سردار لیاقت حسین، چیف جسٹس عدالت عالیہ آزاد جموں و کشمیر سے کیپٹن (ر) لیاقت ملک انسپکٹر جنرل آف پولیس آزاد کشمیر نے عدالت عالیہ ہیڈ کوارٹر مظفر آباد میں ملاقات کی۔ دوران ملاقات جسٹس سید شاہد بہار سینئر جج عدالت عالیہ آزاد جموں و کشمیر بھی موجود تھے ۔ ملاقات کے دوران چیف جسٹس نے انصاف کی بروقت اور مؤثر فراہمی ، عدالتی احکامات پر من و عن عملدرآمد اور تفتیشی معیار کی بہتری میں پولیس کے کلیدی کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اظہار فرمایا کہ تفتیشی عمل کو شفاف اور موثر بنانے کے حوالہ سے محکمہ پولیس کی سطح پر اقدامات کیے جانے ناگزیر ہیں۔ کسی بھی فوجداری مقدمہ میں ملزمان کو قرارواقعی سزا دینے کا انحصار پولیس کی جانب کی گئی تفتیش پر ہوتا ہے۔ پولیس کی جانب سے مضبوط شہادت کی بنیاد پر مقدمات مجاز عدالت ہا میں پیش ہونے کی صورت میں ہی ملزمان کو سزائیں دی جاسکتی ہیں۔ فوجداری مقدمات میں ناقص تفتیش اور پائے جانے والے قانونی و واقعاتی سقم Ultimately ملزمان کی بریت کا موجب بنتے ہیں جو کہ معاشرہ کے لیے کسی طور مناسب نہ ہے۔ دوران ملاقات انسپکٹر جنرل آف پولیس نے پولیس کی پیشہ ورانہ کار کردگی اور تفتیشی نظام میں بہتری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا اور عدلیہ کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ۔
21/04/2026
راجہ اطہرعلی خان، رجسٹرار عدالتِ عالیہ آزاد جموں و کشمیرکے تبادلہ کے موقع پر اُن کو الوداع کرنے کے سلسلہ میں عدالت عالیہ ہیڈکوارٹر مظفرآباد میں ایک سادہ مگرپروقار تقریب کا انعقاد کیا گیاجس میں جناب جسٹس سردار لیاقت حسین، چیف جسٹس عدالت عالیہ آزادجموں وکشمیر نے خصوصی طور پر شرکت فرمائی۔ دوران تقریب جناب چیف جسٹس نے راجہ اطہر علی خان کی بطور رجسٹرار عدالت عالیہ خدمات کو سراہتے ہوئے آفیسر موصوف کے لیے نیک تمناؤں و خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے اس امیدکا اظہارکیا کہ آفیسر موصوف آئندہ بھی اپنے فرائض منصبی اسی لگن و محنت سے سرانجام دیتے رہیں گے۔ جناب چیف جسٹس نے اس موقع پر آفیسران و اہلکاران عدالت عالیہ آزادجموں وکشمیر کو اپنے فرائض ایمانداری، محنت و لگن سے سرانجام دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین عدالتی و دفتری آداب ملازمت کی پابندی کو یقینی بنائیں اور ادارے کی بہتری کے لیے کماحقہ اپنی تمام صلاحیتو ں کو بروئے کارلائیں۔جناب چیف جسٹس نے مزیدہدایت فرمائی کہ عدالت عالیہ کے ملازمین کے طرزعمل سے اس امر کا اظہار ہونا چاہیے کہ وہ اعلی عدالتی ادارہ سے وابستہ ہیں۔آخر میں جناب چیف جسٹس نے راجہ اطہر علی خان سابق رجسٹرار عدالت عالیہ آزادجموں وکشمیر کو آزادجموں وکشمیر ہائی کورٹ کا سووینئر بھی دیا۔