ہر جگہ سے نفری کی کمی کی شکایت آتی ہے۔ اگر 7 لاکھ اہلکار موجود ہیں تو نتائج بھی نظر آنے چاہئیں۔ ایک محدود فورس نے امن قائم کر کے دکھایا تو باقی نفری کو بھی مؤثر بنانا ہوگا۔ فوری طور پر فرنٹ لائن اہلکاروں کی تربیت شروع کی جائے۔ تھانے، خدمت مراکز، پٹرولنگ پوائنٹس اور سڑکوں پر موجود اہلکار عوام سے باوقار انداز میں بات کریں۔ پولیس خدمت کے لیے ہے، خوف پھیلانے کے لیے نہیں۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف
PMLN FANS M Garh
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نظریے، قیادت اور عوامی خدمت کے سفر کو اجاگر کرنے والا آفیشل فین پیج۔
کمیونٹی پولیسنگ کا تصور متعارف کروانا ضروری ہے۔ جاپان کی مثال لی جا سکتی ہے، جہاں کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کو جیکٹ دے کر پولیسنگ کی تربیت دی جاتی ہے اور وہ انٹرنز کی طرح گورنمنٹ یا پولیس کے ساتھ ڈیوٹیز انجام دیتے ہیں۔ بسنت میں کمیونٹی کو شامل کرنے کا ماڈل کامیاب رہا۔ پولیس کی اصلاح سے پہلے عوام کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔ پولیس عوام کی حفاظت کرتی ہے، اس سے ڈر صرف مجرموں کو ہونا چاہیے، عام شہریوں کو نہیں۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف
موبائل پولیس سٹیشنز خواتین کے لیے شروع کیے گئے ہیں تاکہ وہ بغیر کسی خوف یا سٹیگما کے اپنی شکایات درج کرا سکیں۔ دیہاتی اور دور دراز علاقوں میں یہ سٹیشنز خواتین کے پاس جا کر ہراسمنٹ، زیادتی یا کسی بھی طرح کے ظلم کی کمپلینٹس لے کر ان کی مدد کریں، اور ان کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف
پولیس اصلاحات کے لیے مرحلہ وار منصوبہ ضروری ہے۔ کچھ اقدامات چند دن میں ہوں، کچھ 3 ماہ میں اور کچھ طویل مدت میں مکمل ہوں۔ قانون پر عمل درآمد یکساں ہو تو لوگ خود پابندی کرتے ہیں۔ ہیلمٹ اور ٹریفک قوانین کی مثال سامنے ہے۔ مسئلہ عوام نہیں، نفاذ میں کمزوری ہے۔ آئی جی اپنی ٹیم کے ساتھ فوری ہدایات جاری کریں۔ ہر ڈی پی او کو واضح ڈوز اور ڈونٹس دیے جائیں۔ پٹرولنگ اور ناکوں پر موجود اہلکار شائستہ رویہ اپنائیں، باعزت انداز میں بات کریں اور شہریوں کی عزت کا خیال رکھیں۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف
کہتے تھے بڑے جوش سے ہر گھر سے قافلہ نکلا،گتنی کی تو پتہ چلا لاہور سے کوئی نہیں نکلا
مجھے افسوس ہے کہ بعض ہسپتالوں میں مریضوں کو دوائیاں ہاسپٹل میں ہونے کے باوجود باہر خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ فارماسسٹ اور لیبز کی ساز باز کی وجہ سے غریب لوگ سخت مشکلات میں آتے ہیں۔ ساہیوال کے چلڈرن وارڈ میں آگ کا واقعہ میری آنکھوں کے سامنے تھا، جس نے ہسپتال کے فلاز واضح کر دیے۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف
پنجاب کی تاریخ میں شاید یہ واحد موقع ہے جب چیف منسٹر نے اپنی اہم ٹیم کے ساتھ اس طرح ون آن ون انٹریکشن کیا۔ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا، اسی وجہ سے ہیلتھ سیکٹر مسائل کا گڑھ بن گیا تھا۔ یہ آسان کام نہیں، ہیروئک ٹاسک ہے۔ میں آپ سب کو خوش آمدید کہتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ سب کھلے دل سے سنیں گے، سمجھیں گے اور عمل کریں گے۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف
کم از کم ہمیں یہ مشکل نہیں ہوتی کہ آج کی دیہاڑی نہیں لگے گی تو بچے بھوکے پیٹ سوئیں گے، دوسروں کی مشکلات دل سے محسوس کریں۔ اللہ تعالیٰ کی مدد آپ کی زندگی میں آئے گی۔ ڈی ایچ کیو میں دوائی موجود ہے، پر مریض باہر جانا پڑتا ہے، یہ مسئلہ سمجھیں۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف
ہم نے 10 ہزار پلس بچوں کی کرٹیکل ہارٹ سرجریز مکمل کیں، جن کی زندگی بچائی گئی۔ ایجوکیشن یا ٹرانسپورٹ کی کمی سے زندگی نہیں جاتی، لیکن ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں اگر کمی ہو یا تاخیر ہو، تو خدانخواستہ انسان اپنی زندگی کھو سکتا ہے، ہر کمی اور ہر فیصلہ اہم ہے۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف
عمران نیازی کے آنکھ کے معاملے پر بہت سے شکوک وشبہات جنم لے رہے ہیں ، اگر عمران نیازی کی آنکھ کا مسلہ تھا تو کچھ دن قبل جب عظمیٰ خان عمران نیازی سے ملی تب آنکھ کا مسلہ کیوں اجاگر نہ کیا گیا
پاکستان میں اب ایسی کوئی حکومت نہیں ہے جو لوگوں کی بیماری پر طنز کرے یا ان کا مذاق اُڑائے۔ یہاں تک کہ ماضی میں مُردوں پر بھی طنز کیا جاتا تھا، اور "تابوت آ گیا، تابوت پارسل ہو گیا" جیسے جملے کہے جاتے تھے۔اختیار ولی
Click here to claim your Sponsored Listing.
