Safe City Muzaffargarh

Safe City Muzaffargarh

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Safe City Muzaffargarh, Government Organization, DPO Office Muzaffargarh, Katechri Chowk Muzaffargarh, Muzaffargarh.

Safe City Muzaffargarh Project is an initiative led by the Punjab Safe Cities Authority (PSCA) to enhance public safety and security through technology and data-driven approaches.

25/05/2026

سیف سٹی کے تحت عیدالاضحیٰ صفائی و سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ

عیدالاضحیٰ کے انتظامات کے حوالے سے ADCR (قائم مقام ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ) اور ADCG / ایم ڈی ستھرا پنجاب مظفرگڑھ کے درمیان اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صفائی، ویسٹ مینجمنٹ اور سیکیورٹی امور کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر DSP سیف سٹی مظفرگڑھ طارق ستار اور اسسٹنٹ منیجر سیف سٹی نبیل صفدر بھی موجود تھے۔ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے صفائی آپریشن اور متعلقہ انتظامات کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔

Muzaffargarh Police DC MUZAFFARGARH_Official Government Graduate College Muzaffargarh RPO DG Khan Patrolling Police - DG Khan Region Punjab Safe Cities Authority

25/05/2026

https://www.facebook.com/share/17hGGUAX3R/

17 سال بعد کرن کی اپنے والد سے ملاقات!

کچھ جدائیاں انسان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ اپنے ساتھ لے جاتی ہیں۔ کرن کی کہانی بھی ایسی ہی ایک طویل جدائی، خاموش انتظار اور امید کی کہانی ہے، جو 17 سال بعد مکمل ہوئی۔

کرن کم عمری میں اسلام آباد سے لاپتہ ہوئی تھی۔ اُس وقت وہ ایک معصوم بچی تھی، جو نہ دنیا کی پیچیدگیوں کو سمجھ سکتی تھی، نہ اکیلے حالات کا سامنا کر سکتی تھی۔ اس کے لاپتہ ہونے کے بعد اس کے خاندان کے لیے زندگی جیسے بدل گئی۔ دن گزرتے گئے، مہینے سالوں میں بدلتے گئے، مگر گھر والوں کے دل میں یہ سوال ہمیشہ زندہ رہا کہ کرن کہاں ہوگی، کس حال میں ہوگی، اور کبھی واپس آئے گی یا نہیں۔

وقت گزرتا رہا، مگر جدائی کا درد کم نہ ہو سکا۔ ایک بیٹی کا یوں اچانک لاپتہ ہو جانا کسی بھی خاندان کے لیے ایسا دکھ ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ گھر کے ہر فرد نے اپنے اپنے انداز میں اس کمی کو محسوس کیا، مگر ایک باپ کے دل میں بیٹی کی یاد ہمیشہ باقی رہی۔

دوسری طرف کرن کراچی میں لاوارث حالت میں ملی، جہاں اسے ایدھی سینٹر منتقل کر دیا گیا۔ وہ محفوظ تو تھی، مگر اس کی شناخت ادھوری تھی۔ اس کی یادداشت بکھری ہوئی تھی، ماضی کے کچھ دھندلے نام اور جگہیں اس کے ذہن میں موجود تھیں، مگر وہ اپنے گھر یا خاندان کے بارے میں مکمل معلومات دینے سے قاصر تھی۔

سال گزرتے گئے۔ کرن بڑی ہوتی گئی، مگر اس کا اپنے خاندان سے رابطہ نہ ہو سکا۔ اس کی زندگی ایک نامکمل پہچان کے ساتھ آگے بڑھتی رہی، جیسے ایک کہانی جس کے اہم صفحے کہیں کھو گئے ہوں۔

جب کرن کا کیس میرا پیارا ٹیم کے پاس آیا تو ٹیم نے اسے صرف ایک کیس نہیں سمجھا، بلکہ ایک ایسے انسان کی کہانی سمجھا جو برسوں سے اپنی شناخت اور اپنے خاندان سے دور تھی۔ میرا پیارا ٹیم نے کرن سے تفصیلی گفتگو کی، اس کی باتوں کو صبر سے سنا، اس کی یادداشت میں موجود ہر چھوٹے بڑے اشارے کو نوٹ کیا اور ان معلومات کو جوڑ کر اس کے خاندان تک پہنچنے کی کوشش شروع کی۔

کبھی کوئی نام، کبھی کوئی جگہ، کبھی کوئی دھندلی یاد، ہر بات اہم تھی۔ میرا پیارا ٹیم نے مسلسل محنت، فیلڈ ورک، ریکارڈ چیکنگ اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے جدید نظام کی مدد سے کرن کی شناخت تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھی۔

آخرکار اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک اہم پیش رفت ہوئی۔ کرن کے خاندان کا سراغ ضلع قصور میں ملا۔ یہ لمحہ صرف ایک معلوماتی کامیابی نہیں تھا، بلکہ 17 سال کی جدائی کے بعد ایک خاندان کے لیے امید کی واپسی تھی۔

جب تصدیقی عمل مکمل ہوا اور یہ بات واضح ہوئی کہ کرن وہی بیٹی ہے جو برسوں پہلے اپنے خاندان سے بچھڑ گئی تھی، تو خوشی اور جذبات کا کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا۔ ایک باپ جس نے اپنی بیٹی کو 17 سال پہلے کھو دیا تھا، آج اسے دوبارہ دیکھنے جا رہا تھا۔

اور پھر وہ لمحہ آیا جس کا انتظار برسوں سے کیا جا رہا تھا۔ کرن اپنے والد سے دوبارہ ملی۔ 17 سال کی خاموشی، دکھ، انتظار اور بے بسی ایک ملاقات میں سمٹ آئے۔ وقت نے بہت کچھ بدل دیا تھا، مگر باپ بیٹی کا رشتہ آج بھی زندہ تھا۔

یہ صرف کرن کی اپنے والد سے ملاقات نہیں تھی، بلکہ ایک بیٹی کی شناخت کی واپسی تھی۔ ایک باپ کی برسوں کی دعا قبول ہوئی، ایک خاندان کو اپنی بچھڑی ہوئی بیٹی ملی، اور ایک ادھوری کہانی مکمل ہو گئی۔

الحمدللہ، میرا پیارا ٹیم کی مسلسل محنت، صبر، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کرن 17 سال بعد اپنے والد سے مل گئی۔ یہ کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر کوشش جاری رکھی جائے تو برسوں کی جدائی بھی ختم ہو سکتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچھڑے ہوئے اپنے پیاروں تک پہنچ سکتے ہیں۔

میرا پیارا ٹیم کا مشن یہی ہے کہ کوئی گمشدہ، لاوارث یا شناخت سے محروم بچہ اپنے خاندان سے جدا نہ رہے۔

واللہ المستعان

24/05/2026

تین سال بعد سپیشل چائلڈ علی کی اپنے والد سے ملاقات

الحمدللہ! کچھ کہانیاں وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں، بلکہ مسلسل کوشش، امید اور اللہ کے کرم سے ایک دن مکمل ہو جاتی ہیں۔

یہ کہانی علی کی ہے، ایک ایسے سپیشل بچے کی جو تقریباً تین سال قبل قصور سے لاپتہ ہو گیا تھا۔ اس وقت علی اپنی شناخت، گھر کا پتہ یا خاندان کے بارے میں کوئی معلومات بتانے سے قاصر تھا۔ وہ ایک نہایت کمزور اور بے سہارا حالت میں ملا، جس کے بعد اسے بحفاظت ایدھی سینٹر منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کی دیکھ بھال کی جاتی رہی۔

علی کے خاندان کی تلاش کے لیے میرا پیارا ٹیم نے پنجاب پولیس کے تعاون سے قصور اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں متعدد بار سرچ آپریشن کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ علی کا انٹرویو میرا پیارا کے آفیشل فیس بک پیج پر متعدد بار اپلوڈ کیا گیا تاکہ سوشل میڈیا کے ذریعے اس کے خاندان تک پہنچا جا سکے۔

آخرکار، اللہ تعالیٰ کے فضل سے علی کے والد نے سوشل میڈیا پر علی کا انٹرویو دیکھا اور فوراً میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کیا۔ ٹیم نے فوری طور پر رابطہ اور تصدیقی عمل مکمل کیا، اور پھر وہ لمحہ آیا جس کا انتظار تین سال سے کیا جا رہا تھا۔

الحمدللہ، تین سال کی طویل جدائی کے بعد علی کو اس کے والد سے بحفاظت ملا دیا گیا۔ یہ لمحہ صرف ایک بچے کی واپسی نہیں، بلکہ ایک باپ کی امید، ایک خاندان کی دعا اور میرا پیارا ٹیم کی مسلسل محنت کی کامیابی تھا۔

یہ کیس اس بات کا ثبوت ہے کہ میرا پیارا ٹیم کا مشن صرف ایک ڈیوٹی نہیں، بلکہ ایک عزم ہے کہ کوئی بچہ، بزرگ یا ذہنی و جسمانی طور پر کمزور فرد اپنے پیاروں سے جدا نہ رہے۔

میرا پیارا ٹیم اپنی اسی لگن، محنت اور جذبے کے ساتھ بچھڑوں کو اپنوں سے ملانے کا سفر جاری رکھے گی۔

24/05/2026

یہ معصوم بچہ اپنا نام غلام اور والد کا نام ناصر بتاتا ہے۔ غلام 22 مئی 2025 کو اپنے والد کے ساتھ داتا دربار، لاہور آیا تھا، جہاں وہ لاپتہ ہو گیا۔
بچہ اپنے گھر کا پتہ بھی داتا دربار، لاہور بتاتا ہے۔ میرا پیارا ٹیم نے بچے کو متعدد بار فیلڈ وزٹ بھی کروایا ہے، لیکن تاحال اس کے گھر یا خاندان کا سراغ نہیں مل سکا۔
میرا پیارا ٹیم غلام کے ورثاء کی تلاش میں دن رات کوشاں ہے۔ اگر آپ غلام یا اس کے اہلِ خانہ کے بارے میں کوئی بھی معلومات رکھتے ہیں، تو براہِ کرم فوری طور پر میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کریں۔
آپ کا ایک شیئر اس بچے کی زندگی بدل سکتا ہے اور اسے اپنے خاندان تک پہنچا سکتا ہے۔
Contact: 03090000015
Case ID: 130700031

24/05/2026

یہ کہانی ہے ایک ایسی بچی ارم کی جو اس کے والد کے مطابق مرحوم سمجھی جاتی تھی اور میرا پیارا ٹیم کی کاوش سے پانچ سال بعد اپنے والد سے واپس مل گئی۔۔۔۔۔!
اللہ تعالیٰ نے ایک بوڑھے باپ کے دکھی دل کی دعا قبول کر لی اور اس کی پانچ سال پہلے گم ہونے والی بیٹی ارم کو اس سے ملا دیا۔ الحمدللہ رب العالمین تصویر میں نظر آنے والی بچی ارم ہے جو پانچ سال قبل لاہور سے لاپتہ ہو گئی تھی۔ گھر کا پتہ بھول جانے کے باعث وہ اپنے خاندان تک واپس نہ پہنچ سکی۔ کسی شہری نے اسے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کر دیا۔ ارم اور اس کے والدین چلاس سے محنت مزدوری کے لیے لاہور آئے تھے، اس لیے وہ شہر کے علاقوں سے زیادہ واقف نہیں تھی۔ اسے صرف گلبرگ کے قبرستان کا پتہ یاد تھا، نہ گھر کا پتہ، نہ گلی کا نام اور نہ ہی کوئی ایسی نشانی جس سے اس کے والدین تک پہنچا جا سکتا۔
پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی میرا پیارا ٹیم بچی کو گلبرگ لے گئی۔ مغرب کی نماز کے وقت ایک مسجد کے باہر رکے تو نماز کے بعد ایک بزرگ نے بچی کو دیکھا اور حیرت سے بول اٹھے: “اس بچی کا تو سنا تھا کہ فوت ہو گئی تھی… یہ یہاں کیسے آئی؟” انہی بزرگ نے بتایا کہ ارم اور اس کا خاندان کبھی ان کے کرایہ دار تھے۔ ان سے معلوم ہوا کہ ارم کے والد شاہدرہ منتقل ہو چکے ہیں اور فروٹ کی ریڑھی لگاتے ہیں۔
میرا پیارا ٹیم شاہدرہ پہنچی اور تلاش کرتے کرتے ایک بزرگ ریڑھی والے تک پہنچی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہی ظاہر شاہ ہیں… ارم کے برسوں سے منتظر والد۔ باپ نے بیٹی کو دیکھا تو ساکت رہ گئے، پھر اسے سینے سے لگایا، ریڑھی ڈھانپی اور فوراً ہمارے ساتھ گھر روانہ ہو گئے۔
گھر کے قریب پہنچے تو ایک ہمسائی دوڑتی ہوئی آئی اور چیخ اٹھی: “ارم! تم زندہ ہو؟ کہاں سے آئی ہو؟” گھر پہنچتے ہی ماں بیٹی سے لپٹ گئی، روتی جاتی اور اللہ کا شکر ادا کرتی جاتی۔ بہن بھائیوں نے بھی ارم کو پہچان لیا اور گھر میں ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔
بعد میں والد صاحب نے بتایا کہ جب ارم لاپتہ ہوئی تو گھر کے پیچھے پانی کی گزرگاہ تھی، انہیں یہی گمان ہوا کہ شاید بچی پانی میں بہہ گئی ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اس کا غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کر دیا تھا۔ اللہ اکبر۔
آخر میں ایک پڑوسی نے بتایا کہ یہ باپ روز نماز میں دعا کرتا تھا: “یا اللہ! اگر میری بیٹی زندہ ہے تو مجھ سے ملا دے، اور اگر نہیں تو اسے اپنی جنت میں جگہ عطا فرما دے۔”
اور ، اس بوڑھے باپ کی دعا قبول ہو گئی۔ اور میرا پیارا ٹیم کی کاوش کام آگی
ماشاءاللہ لا قوۃ الا باللہ
واللہ المستعان

یہ کہانی ہے ایک ایسی بچی ارم کی جو اس کے والد کے مطابق مرحوم سمجھی جاتی تھی اور میرا پیارا ٹیم کی کاوش سے پانچ سال بعد اپنے والد سے واپس مل گئی۔۔۔۔۔!

اللہ تعالیٰ نے ایک بوڑھے باپ کے دکھی دل کی دعا قبول کر لی اور اس کی پانچ سال پہلے گم ہونے والی بیٹی ارم کو اس سے ملا دیا۔ الحمدللہ رب العالمین تصویر میں نظر آنے والی بچی ارم ہے جو پانچ سال قبل لاہور سے لاپتہ ہو گئی تھی۔ گھر کا پتہ بھول جانے کے باعث وہ اپنے خاندان تک واپس نہ پہنچ سکی۔ کسی شہری نے اسے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کر دیا۔ ارم اور اس کے والدین چلاس سے محنت مزدوری کے لیے لاہور آئے تھے، اس لیے وہ شہر کے علاقوں سے زیادہ واقف نہیں تھی۔ اسے صرف گلبرگ کے قبرستان کا پتہ یاد تھا، نہ گھر کا پتہ، نہ گلی کا نام اور نہ ہی کوئی ایسی نشانی جس سے اس کے والدین تک پہنچا جا سکتا۔
پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی میرا پیارا ٹیم بچی کو گلبرگ لے گئی۔ مغرب کی نماز کے وقت ایک مسجد کے باہر رکے تو نماز کے بعد ایک بزرگ نے بچی کو دیکھا اور حیرت سے بول اٹھے: “اس بچی کا تو سنا تھا کہ فوت ہو گئی تھی… یہ یہاں کیسے آئی؟” انہی بزرگ نے بتایا کہ ارم اور اس کا خاندان کبھی ان کے کرایہ دار تھے۔ ان سے معلوم ہوا کہ ارم کے والد شاہدرہ منتقل ہو چکے ہیں اور فروٹ کی ریڑھی لگاتے ہیں۔
میرا پیارا ٹیم شاہدرہ پہنچی اور تلاش کرتے کرتے ایک بزرگ ریڑھی والے تک پہنچی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہی ظاہر شاہ ہیں… ارم کے برسوں سے منتظر والد۔ باپ نے بیٹی کو دیکھا تو ساکت رہ گئے، پھر اسے سینے سے لگایا، ریڑھی ڈھانپی اور فوراً ہمارے ساتھ گھر روانہ ہو گئے۔
گھر کے قریب پہنچے تو ایک ہمسائی دوڑتی ہوئی آئی اور چیخ اٹھی: “ارم! تم زندہ ہو؟ کہاں سے آئی ہو؟” گھر پہنچتے ہی ماں بیٹی سے لپٹ گئی، روتی جاتی اور اللہ کا شکر ادا کرتی جاتی۔ بہن بھائیوں نے بھی ارم کو پہچان لیا اور گھر میں ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔
بعد میں والد صاحب نے بتایا کہ جب ارم لاپتہ ہوئی تو گھر کے پیچھے پانی کی گزرگاہ تھی، انہیں یہی گمان ہوا کہ شاید بچی پانی میں بہہ گئی ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اس کا غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کر دیا تھا۔ اللہ اکبر۔
آخر میں ایک پڑوسی نے بتایا کہ یہ باپ روز نماز میں دعا کرتا تھا: “یا اللہ! اگر میری بیٹی زندہ ہے تو مجھ سے ملا دے، اور اگر نہیں تو اسے اپنی جنت میں جگہ عطا فرما دے۔”
اور ، اس بوڑھے باپ کی دعا قبول ہو گئی۔ اور میرا پیارا ٹیم کی کاوش کام آگی
ماشاءاللہ لا قوۃ الا باللہ
واللہ المستعان

23/05/2026

الحمدللہ! سات سال بعد عبدالغفار اپنی والدہ سے مل گیا!

کچھ خبریں صرف خوشی نہیں دیتیں، بلکہ دل کو سکون بھی دیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک خوشی کی خبر یہ ہے کہ دسمبر 2018 میں کراچی سے لاپتہ ہونے والا سپیشل بچہ عبدالغفار سات سال کی طویل جدائی کے بعد اپنی والدہ سے دوبارہ مل گیا۔

ذرا سوچیں، ایک سات سال کا معصوم بچہ، جو نہ ٹھیک سے بول سکتا ہو، نہ اپنے گھر کا پتا بتا سکتا ہو، نہ اپنے والدین تک پہنچنے کا راستہ جانتا ہو، اچانک اپنے خاندان سے بچھڑ جائے تو اس پر کیا گزری ہوگی؟ اور دوسری طرف ایک ماں، جس کا بچہ لاپتہ ہو جائے، وہ ہر دن کس اذیت، کس انتظار اور کس بے بسی کے ساتھ گزارتی ہوگی؟

سن 2018 میں یہی سانحہ عبدالغفار کے خاندان کے ساتھ پیش آیا۔ کراچی کا رہائشی عبدالغفار اپنے گھر والوں سے بچھڑ گیا۔ وہ سپیشل بچہ تھا، اس لیے اپنے بارے میں مکمل معلومات دینے سے قاصر تھا۔ کسی نیک دل شہری نے اسے لاوارث حالت میں دیکھا اور انسانی ہمدردی کے تحت ایدھی ہوم میں داخل کروا دیا، جہاں اس کی دیکھ بھال اور حفاظت کا بندوبست کیا گیا۔

عبدالغفار محفوظ تو تھا، مگر اپنی ماں سے دور تھا۔ ایک طرف وہ بچہ تھا جو اپنی شناخت بتانے سے قاصر تھا، اور دوسری طرف اس کی ماں تھی جو سالوں تک اپنے بیٹے کی تلاش میں بے چین رہی۔ دن گزرتے گئے، مہینے سالوں میں بدلتے گئے، مگر عبدالغفار کے گھر والوں کو اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ ایک ماں کی آنکھیں اپنے بچے کی راہ تکتی رہیں، مگر ہر بار انتظار مزید لمبا ہوتا گیا۔

پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے میرا پیارا پروگرام کے تحت ٹیم نے اس مشن کو پورے پاکستان تک پھیلایا تاکہ ہر گمشدہ، لاوارث اور نامعلوم بچے کو اس کے گھر تک پہنچایا جا سکے۔ اسی مقصد کے لیے میرا پیارا ٹیم نے لاہور سے کراچی جا کر وہاں کے یتیم خانوں اور فلاحی اداروں کا وزٹ کیا۔ کراچی کے اداروں میں موجود 1000 سے زائد ایسے بچوں کا ڈیٹا لیا گیا جو گمشدگی کی حالت میں وہاں پہنچے تھے اور کسی وجہ سے واپس اپنے گھروں تک نہ جا سکے۔

میرا پیارا ٹیم نے ہر بچے کا انٹرویو کیا، ان کی معلومات اکٹھی کیں، اور ہر ممکن کوشش کی کہ ان بچوں کی شناخت بحال ہو سکے۔ ان بچوں کے انٹرویوز میرا پیارا کے آفیشل فیس بک پیج پر شیئر کیے گئے، اس امید کے ساتھ کہ شاید کوئی ماں، کوئی باپ، کوئی بہن، کوئی بھائی یا کوئی رشتہ دار ان چہروں میں اپنے بچھڑے ہوئے پیارے کو پہچان لے۔

انہی ویڈیوز میں عبدالغفار کا انٹرویو بھی شامل تھا۔ وہ معصوم بچہ جو نہ بول سکتا تھا، نہ اپنے گھر کا پتا بتا سکتا تھا، برسوں سے اپنی شناخت کے بغیر ایک ادارے میں زندگی گزار رہا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرا پیارا ٹیم اس کے لیے امید کی ایک کرن بن گئی۔

جب عبدالغفار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تو یہ پیغام اس کے والدین تک پہنچا۔ والدین نے ویڈیو دیکھی اور فوراً اپنے بچے کو پہچان لیا۔ وہی بچہ جسے وہ سات سال سے ڈھونڈ رہے تھے، ان کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ اس لمحے ایک ماں کے دل کو جو سکون ملا، اسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔

میرا پیارا ٹیم نے فوری طور پر تصدیقی عمل شروع کیا۔ تمام ضروری معلومات، ریکارڈ اور شناختی پہلوؤں کی جانچ پڑتال کے بعد عبدالغفار کو اس کی والدہ سے ملوا دیا گیا۔ سات سال کی جدائی، انتظار، دکھ اور بے بسی کے بعد ایک ماں کا سینہ ٹھنڈا ہوا اور عبدالغفار اپنے گھر واپس پہنچ گیا۔

یہ کامیابی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل، میرا پیارا ٹیم کی محنت، فلاحی اداروں کے تعاون اور سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی بدولت ممکن ہوئی۔ یہ کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت خالص ہو، کوشش مسلسل ہو اور عوام ساتھ دیں تو بچھڑے ہوئے بچوں کو ان کے گھروں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

میرا پیارا ٹیم کا مقصد یہی ہے کہ کوئی بچہ لاوارث نہ رہے، کوئی خاندان اپنے پیارے سے ہمیشہ کے لیے جدا نہ رہے، اور ہر گمشدہ بچے کو اس کی شناخت، اس کا گھر اور اس کا خاندان واپس مل سکے۔

آپ سب سے گزارش ہے کہ میرا پیارا کے پیغامات کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، کیونکہ آپ کا ایک شیئر کسی ماں کے انتظار کو ختم کر سکتا ہے اور کسی بچے کو اس کے گھر واپس پہنچا سکتا ہے۔

واللہ المستعان

23/05/2026

13 سال بعد مریم کی اپنے خاندان تک واپسی!
الحمدللہ، اللہ تعالیٰ کا کروڑوں بار شکر ہے کہ سرگودھا سے تعلق رکھنے والی مریم، جو 13 سال قبل لاہور سے لاپتہ ہوئی تھی، اس کے خاندان کا پتہ لگا لیا گیا اور وہ 13 سال بعد اپنے خاندان سے مل گئی۔
یہ صرف ایک بچی کی واپسی نہیں، بلکہ 13 سال کے انتظار، تکلیف، تلاش اور امید کی مکمل ہوتی ہوئی کہانی ہے۔
سن 2012 میں مریم صرف چھ سال کی معصوم بچی تھی۔ وہ سرگودھا سے تعلق رکھتی تھی اور لاہور کے علاقے سبزہ زار میں ایک گھر میں رہ رہی تھی، جہاں سنبل نامی خاتون کے بچے کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ ایک دن مریم گھر سے نکلی، راستہ بھول گئی اور پھر واپس نہ آ سکی۔
ذرا سوچیں، ایک چھ سال کی بچی ایک انجان شہر میں اکیلی ہو جائے، نہ اسے راستوں کی سمجھ ہو، نہ وہ اپنے گھر کا مکمل پتہ بتا سکے، نہ یہ جانتی ہو کہ واپس اپنوں تک کیسے پہنچنا ہے۔ اسی بے بسی میں مریم لاوارث حالت میں ملی، جس کے بعد کسی نیک دل شہری نے اسے چائلڈ پروٹیکشن بیورو منتقل کر دیا، جہاں اس کی حفاظت اور دیکھ بھال کا بندوبست کیا گیا۔
مریم محفوظ تو ہو گئی، مگر اپنے گھر، اپنے والدین اور اپنے بہن بھائیوں سے دور ہو گئی۔ وقت گزرتا گیا، دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے گئے۔ مریم بڑی ہوتی گئی، مگر اس کے دل میں اپنے گھر کی دھندلی یادیں باقی رہیں۔ اسے اپنے والد کا نام اکبر یاد تھا، اپنے بھائیوں ناظم، اسامہ، ساجد، واجد اور عابد کے نام یاد تھے، اپنی بہن فروہ کا نام یاد تھا، اور یہ بھی یاد تھا کہ اس کا تعلق سرگودھا کے کسی مضافاتی علاقے سے ہے۔
یہ یادیں مریم کے لیے اپنے گھر تک پہنچنے کی واحد امید تھیں۔
پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے میرا پیارا پروگرام کے تحت ٹیم نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں موجود لاوارث اور گمشدہ بچوں کے انٹرویوز شروع کیے، تاکہ ان بچوں کی شناخت بحال ہو سکے اور انہیں ان کے خاندانوں تک پہنچایا جا سکے۔ اسی سلسلے میں مریم کے بھی متعدد انٹرویوز ریکارڈ کیے گئے اور میرا پیارا کے آفیشل فیس بک پیج پر شیئر کیے گئے۔
مریم کی ویڈیوز کو خاص طور پر لاہور، سرگودھا اور ملحقہ اضلاع میں شیئر کیا گیا، تاکہ اگر کوئی شخص اسے جانتا ہو، اس کے خاندان کو پہچانتا ہو یا اس کے ماضی سے متعلق کوئی معلومات رکھتا ہو تو فوری طور پر میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کرے۔
میرا پیارا ٹیم نے صرف سوشل میڈیا مہم پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ فیلڈ میں جا کر بھی ہر ممکن کوشش کی۔ ٹیم مریم کو ساتھ لے کر سرگودھا، بھلوال، کوٹ مومن اور اُن علاقوں تک گئی جن کے بارے میں مریم نے اپنی یادداشت کے مطابق بتایا تھا۔ لاہور سبزہ زار کالونی میں گوگل میپ کے ذریعے بھی تلاش کی گئی اور فیلڈ وزٹ بھی کروائے گئے، تاکہ اس گھر یا علاقے کا سراغ مل سکے جہاں مریم کبھی رہتی تھی۔
کئی کوششوں کے باوجود ہر بار تلاش ایک نئے سوال پر آ کر رک جاتی تھی۔ مگر میرا پیارا ٹیم نے امید نہیں چھوڑی، کیونکہ کبھی کبھی ایک چھوٹا سا اشارہ بھی برسوں کی جدائی ختم کر دیتا ہے۔
اور پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھیں، وہ لمحہ آ گیا جس کا انتظار 13 سال سے کیا جا رہا تھا۔ میرا پیارا ٹیم کی جانب سے شیئر کی گئی مریم کی ویڈیو اس کے بھائی تک پہنچی۔ بھائی نے ویڈیو دیکھی اور فوراً پہچان لیا کہ یہ وہی مریم ہے، جو برسوں پہلے اپنے خاندان سے بچھڑ گئی تھی۔
یہ لمحہ ایک خاندان کے لیے ناقابلِ بیان خوشی کا لمحہ تھا۔ جس بچی کو 13 سال سے تلاش کیا جا رہا تھا، وہ زندہ سلامت موجود تھی۔ وہ مریم، جس کی یاد میں گھر والے برسوں تک بے چین رہے، آخرکار اپنے پیاروں تک پہنچنے والی تھی۔
میرا پیارا ٹیم نے فوری طور پر رابطہ کیا، معلومات حاصل کیں اور تصدیقی عمل شروع کیا۔ ضروری ویریفکیشن کے بعد مریم کے خاندان کا پتہ لگا لیا گیا، اور 13 سال بعد اپنے خاندان سے مل گئی۔
یہ کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی دعا ضائع نہیں جاتی، کوئی امید بے کار نہیں جاتی، اور کوئی کوشش رائیگاں نہیں جاتی۔ 13 سال کی جدائی کے بعد ایک بیٹی کو اپنا گھر واپس مل گیا، ایک باپ کو اپنی بچھڑی ہوئی بیٹی مل گئی، بہن بھائیوں کو اپنی بہن واپس مل گئی، اور ایک خاندان دوبارہ مکمل ہو گیا۔
یہ سب اللہ تعالیٰ کے خاص فضل، میرا پیارا ٹیم کی مسلسل محنت، فیلڈ ورک، سوشل میڈیا مہم، چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے تعاون اور عوام کی توجہ سے ممکن ہوا۔
میرا پیارا ٹیم کا مشن یہی ہے کہ کوئی بچہ لاوارث نہ رہے، کوئی خاندان اپنے پیارے سے ہمیشہ کے لیے جدا نہ رہے، اور ہر گمشدہ بچے کو اس کی شناخت، اس کا گھر اور اس کا خاندان واپس مل سکے۔
آپ سب سے گزارش ہے کہ میرا پیارا کی پوسٹس کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، کیونکہ آپ کا ایک شیئر کسی مریم کو اس کے گھر واپس پہنچا سکتا ہے۔
ماشاءاللہ لا قوۃ الا باللہ
واللہ المستعان

13 سال بعد مریم کی اپنے خاندان تک واپسی!

الحمدللہ، اللہ تعالیٰ کا کروڑوں بار شکر ہے کہ سرگودھا سے تعلق رکھنے والی مریم، جو 13 سال قبل لاہور سے لاپتہ ہوئی تھی، اس کے خاندان کا پتہ لگا لیا گیا اور وہ 13 سال بعد اپنے خاندان سے مل گئی۔

یہ صرف ایک بچی کی واپسی نہیں، بلکہ 13 سال کے انتظار، تکلیف، تلاش اور امید کی مکمل ہوتی ہوئی کہانی ہے۔

سن 2012 میں مریم صرف چھ سال کی معصوم بچی تھی۔ وہ سرگودھا سے تعلق رکھتی تھی اور لاہور کے علاقے سبزہ زار میں ایک گھر میں رہ رہی تھی، جہاں سنبل نامی خاتون کے بچے کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ ایک دن مریم گھر سے نکلی، راستہ بھول گئی اور پھر واپس نہ آ سکی۔

ذرا سوچیں، ایک چھ سال کی بچی ایک انجان شہر میں اکیلی ہو جائے، نہ اسے راستوں کی سمجھ ہو، نہ وہ اپنے گھر کا مکمل پتہ بتا سکے، نہ یہ جانتی ہو کہ واپس اپنوں تک کیسے پہنچنا ہے۔ اسی بے بسی میں مریم لاوارث حالت میں ملی، جس کے بعد کسی نیک دل شہری نے اسے چائلڈ پروٹیکشن بیورو منتقل کر دیا، جہاں اس کی حفاظت اور دیکھ بھال کا بندوبست کیا گیا۔

مریم محفوظ تو ہو گئی، مگر اپنے گھر، اپنے والدین اور اپنے بہن بھائیوں سے دور ہو گئی۔ وقت گزرتا گیا، دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے گئے۔ مریم بڑی ہوتی گئی، مگر اس کے دل میں اپنے گھر کی دھندلی یادیں باقی رہیں۔ اسے اپنے والد کا نام اکبر یاد تھا، اپنے بھائیوں ناظم، اسامہ، ساجد، واجد اور عابد کے نام یاد تھے، اپنی بہن فروہ کا نام یاد تھا، اور یہ بھی یاد تھا کہ اس کا تعلق سرگودھا کے کسی مضافاتی علاقے سے ہے۔

یہ یادیں مریم کے لیے اپنے گھر تک پہنچنے کی واحد امید تھیں۔

پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے میرا پیارا پروگرام کے تحت ٹیم نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں موجود لاوارث اور گمشدہ بچوں کے انٹرویوز شروع کیے، تاکہ ان بچوں کی شناخت بحال ہو سکے اور انہیں ان کے خاندانوں تک پہنچایا جا سکے۔ اسی سلسلے میں مریم کے بھی متعدد انٹرویوز ریکارڈ کیے گئے اور میرا پیارا کے آفیشل فیس بک پیج پر شیئر کیے گئے۔

مریم کی ویڈیوز کو خاص طور پر لاہور، سرگودھا اور ملحقہ اضلاع میں شیئر کیا گیا، تاکہ اگر کوئی شخص اسے جانتا ہو، اس کے خاندان کو پہچانتا ہو یا اس کے ماضی سے متعلق کوئی معلومات رکھتا ہو تو فوری طور پر میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کرے۔

میرا پیارا ٹیم نے صرف سوشل میڈیا مہم پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ فیلڈ میں جا کر بھی ہر ممکن کوشش کی۔ ٹیم مریم کو ساتھ لے کر سرگودھا، بھلوال، کوٹ مومن اور اُن علاقوں تک گئی جن کے بارے میں مریم نے اپنی یادداشت کے مطابق بتایا تھا۔ لاہور سبزہ زار کالونی میں گوگل میپ کے ذریعے بھی تلاش کی گئی اور فیلڈ وزٹ بھی کروائے گئے، تاکہ اس گھر یا علاقے کا سراغ مل سکے جہاں مریم کبھی رہتی تھی۔

کئی کوششوں کے باوجود ہر بار تلاش ایک نئے سوال پر آ کر رک جاتی تھی۔ مگر میرا پیارا ٹیم نے امید نہیں چھوڑی، کیونکہ کبھی کبھی ایک چھوٹا سا اشارہ بھی برسوں کی جدائی ختم کر دیتا ہے۔

اور پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھیں، وہ لمحہ آ گیا جس کا انتظار 13 سال سے کیا جا رہا تھا۔ میرا پیارا ٹیم کی جانب سے شیئر کی گئی مریم کی ویڈیو اس کے بھائی تک پہنچی۔ بھائی نے ویڈیو دیکھی اور فوراً پہچان لیا کہ یہ وہی مریم ہے، جو برسوں پہلے اپنے خاندان سے بچھڑ گئی تھی۔

یہ لمحہ ایک خاندان کے لیے ناقابلِ بیان خوشی کا لمحہ تھا۔ جس بچی کو 13 سال سے تلاش کیا جا رہا تھا، وہ زندہ سلامت موجود تھی۔ وہ مریم، جس کی یاد میں گھر والے برسوں تک بے چین رہے، آخرکار اپنے پیاروں تک پہنچنے والی تھی۔

میرا پیارا ٹیم نے فوری طور پر رابطہ کیا، معلومات حاصل کیں اور تصدیقی عمل شروع کیا۔ ضروری ویریفکیشن کے بعد مریم کے خاندان کا پتہ لگا لیا گیا، اور 13 سال بعد اپنے خاندان سے مل گئی۔

یہ کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی دعا ضائع نہیں جاتی، کوئی امید بے کار نہیں جاتی، اور کوئی کوشش رائیگاں نہیں جاتی۔ 13 سال کی جدائی کے بعد ایک بیٹی کو اپنا گھر واپس مل گیا، ایک باپ کو اپنی بچھڑی ہوئی بیٹی مل گئی، بہن بھائیوں کو اپنی بہن واپس مل گئی، اور ایک خاندان دوبارہ مکمل ہو گیا۔

یہ سب اللہ تعالیٰ کے خاص فضل، میرا پیارا ٹیم کی مسلسل محنت، فیلڈ ورک، سوشل میڈیا مہم، چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے تعاون اور عوام کی توجہ سے ممکن ہوا۔

میرا پیارا ٹیم کا مشن یہی ہے کہ کوئی بچہ لاوارث نہ رہے، کوئی خاندان اپنے پیارے سے ہمیشہ کے لیے جدا نہ رہے، اور ہر گمشدہ بچے کو اس کی شناخت، اس کا گھر اور اس کا خاندان واپس مل سکے۔

آپ سب سے گزارش ہے کہ میرا پیارا کی پوسٹس کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، کیونکہ آپ کا ایک شیئر کسی مریم کو اس کے گھر واپس پہنچا سکتا ہے۔

ماشاءاللہ لا قوۃ الا باللہ
واللہ المستعان

22/05/2026

معصوم #عائشہ کی گیارہ سال بعد گھر واپسی ... ! جو صرف ایک گمشدہ بچی کی اپنے گھر پہنچنے کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسی ماں کی درد بھری داستان ہے جس نے گیارہ برس تک اپنی بیٹی کی واپسی کی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ اس پوسٹ میں نظر آنے والی 2014 کی معصوم عائشہ کی تصویر اُس وقت کی ہے جب یہ ننھی بچی فیصل آباد میں ایک شہری کو لاوارث حالت میں ملی۔ شہری نے انسانیت کے جذبے کے تحت اُسے ایس او ایس ویلیج فیصل آباد پہنچا دیا، جہاں اس کی بہتر دیکھ بھال کی جاتی رہی، مگر دوسری طرف ایک ماں اپنی بیٹی کی جدائی میں ہر روز تڑپتی رہی۔ یہ گیارہ برسوں کی طویل جدائی صرف وقت کا فاصلہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا درد تھا جس میں ایک بچی اپنوں کے بغیر پروان چڑھی اور ایک ماں ہر رات اپنی بیٹی کی یاد میں آنسو بہاتی رہی۔ عائشہ نے اپنی معصوم عمر کے وہ قیمتی سال یتیم خانے میں گزارے جن میں بچوں کو سب سے زیادہ ماں کی گود، باپ کے سائے اور گھر کی محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ وقت گزرتا گیا مگر اُس کی زندگی سے جڑی یادیں، چہرے اور رشتے دھندلے ہوتے چلے گئے۔ جب پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے #میراپیارا پروگرام کی ری یونفیکیشن ٹیم نے عائشہ کا انٹرویو کیا تو وہ صرف اپنا نام ہی بتا سکی۔ نہ اُسے اپنے گاؤں کا نام یاد تھا، نہ گھر کا راستہ اور نہ ہی اپنے خاندان کی کوئی واضح پہچان۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وقت نے اُس کے ماضی کو اپنی گرد میں چھپا لیا ہو۔ لیکن شاید اللہ تعالیٰ نے اس جدائی کے اختتام کا وقت مقرر کر دیا تھا۔ “میرا پیارا” ٹیم نے عائشہ کی ویڈیو اپنے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی۔ یہ ویڈیو ہزاروں لوگوں تک پہنچی اور پھر اللہ کے فضل و کرم سے ایک معجزہ رونما ہوا۔ فیصل آباد کی ایک خاتون نے ویڈیو دیکھتے ہی فوراً پہچان لیا کہ یہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھنے والی وہی گمشدہ بچی عائشہ ہے جو برسوں پہلے اپنے خاندان سے بچھڑ گئی تھی۔ جیسے ہی رابطے مکمل ہوئے، ملاقات کا دن آ پہنچا اور وہ لمحہ کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ ماں نے جیسے ہی اپنی بیٹی کو دیکھا، اُس کی آنکھوں سے برسوں سے رکے آنسو بہنے لگے جبکہ عائشہ بھی چند لمحوں تک خاموشی سے اپنی ماں کو دیکھتی رہی جیسے وہ یقین کرنے کی کوشش کر رہی ہو کہ یہ خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ پھر ماں نے سنبھال کر رکھی ہوئی پرانی تصویریں نکالیں، وہی تصویریں جو گیارہ برس تک اُس کی امید، صبر اور دعا کا سہارا بنی رہیں۔ بالآخر ماں اور بیٹی ایک دوسرے سے لپٹ کر زاروقطار رو پڑیں۔ یہ آنسو صرف خوشی کے نہیں تھے بلکہ برسوں کی جدائی، بے شمار دعاؤں، جاگتی راتوں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی گواہی تھے۔ “میرا پیارا” ٹیم کے لیے یہ صرف ایک کامیاب ری یونین نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا وہ جذبہ ہے جو ہر مشکل کو آسان بنا دیتا ہے۔ جب نیت خالص ہو اور مقصد بچھڑے ہوئے لوگوں کو اُن کے پیاروں سے ملانا ہو تو اللہ تعالیٰ راستے خود پیدا فرما دیتا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سوشل میڈیا اگر مثبت مقصد کے لیے استعمال ہو تو وہ بچھڑے ہوئے خاندانوں کو دوبارہ ملا سکتا ہے، امید کے چراغ روشن کر سکتا ہے اور برسوں سے بچھڑی دعاؤں کو قبولیت کا راستہ دکھا سکتا ہے۔
واللہ المستعان۔
Case Id:132421056

22/05/2026

لیہ میں قانون کی تیسری آنکھ کھل گئی

پنجاب سیف سٹیز پراجیکٹ کا ایک اور سنگِ میل عبور،
اب "سیف سٹی لیہ" کی صورت میں شہر بھر میں 195 جدید کیمروں کا جال بچھا دیا گیا۔

جدید ٹیکنالوجی سے لیس یہ نظام جرائم کی روک تھام، ٹریفک مانیٹرنگ اور شہریوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

کرائم رپورٹر فرزانہ صدیق کا خصوصی وی لاگ دیکھیے اور جانیے کہ یہ منصوبہ لیہ کے امن و امان کیلئے کس قدر اہم ثابت ہوگا۔

22/05/2026

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) - سیف سٹی مظفرگڑھ

بہاری کالونی مویشی منڈی کی ڈرون کیمروں کے ذریعے فضائی نگرانی!

عوام الناس کے جان و مال کے تحفظ اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سیف سٹی مظفرگڑھ کی جانب سے بہاری کالونی مویشی منڈی کی ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے کڑی نگرانی (Surveillance) کی جا رہی ہے۔

مقصد: منڈی میں آنے والے بیوپاریوں اور خریداروں کے تحفظ کو یقینی بنانا، ٹریفک کی روانگی کو برقرار رکھنا اور کسی بھی مشکوک سرگرمی پر نظر رکھنا۔

عزم: جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، آپ کی حفاظت کا ضامن!

کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوراً پکار 15 پر کال کریں۔

DC MUZAFFARGARH_Official Muzaffargarh Police RPO DG Khan Punjab Safe Cities Authority Government Graduate College Muzaffargarh Patrolling Police - DG Khan Region

Want your business to be the top-listed Government Service in Muzaffargarh?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

DPO Office Muzaffargarh, Katechri Chowk Muzaffargarh
Muzaffargarh