معلم (The Teacher) وہ نہیں جو تمہیں کچھ بھی سکھا دے۔ بلکہ معلم وہ ہوتا ہے جو تُمہاری رُوح میں پہلے سے موجود صرف تمہارے حصے کے علم کو دریافت کرنے کا طریقہ سکھا دے۔ تب تُم مزے سے اپنے راستے پر چلنا شروع ہو جاتے ہو۔
تمہارا ذاتی علم اُس وقت تک خوابیدہ ہوتا ہے جب تک اُسے جگایا نہ جائے۔ معلم کبھی بھی مچھلی کو اُڑنا نہیں سکھاتا بلکہ وہ سبق بھول چکی مچھلی کو نہایت دلکش انداز میں تیرنے کی جانب راغب کر دیتا ہے۔ شاید مچھلیوں کو اِس علم کی ضرورت نہ پڑے مگر انسان اپنی روح کو بھول جاتا ہے، اُسے ضرورت پڑتی ہے۔
لہذا مَیں نے تمہیں کچھ بھی نیا نہیں سکھایا۔ یہ سب تُم پہلے سے جانتے تھے مگر بُھولے ہوئے تھے۔
معلم | The Master
پاؤلو کوئیلہو
Faraz Mukhtiar
!!..خدا کا ڈر ، دانائی کا نقطہء آغاز ہے
اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا۔ میری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔
اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت اور مال حرمت والے ہیں۔
لوگو کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،
کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو۔ تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔
یاد رکھو، تم نے اللہ سے ملنا ہے، اور اللہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔
اللہ نے سود کو ختم کر دیا، اس لیے آج سے سارا سود ختم کر دو (معاف کر دو)۔
تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں۔ جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔
عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (پارٹنر) اور بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔
کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔
اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو۔ اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔
زبان کی بنیاد پر, رنگ نسل کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا, کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر, عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں, ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ تم سب اللہ کی نظر میں برابر ہو۔
برتری صرف تقوی کی وجہ سے ہے۔
یاد رکھو! تم ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔
یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جاےَ گا۔ میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔
میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، قرآن اور میری سنت، اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔
سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا۔ اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں۔اور یہ ممکن ہے کو بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اور عمل) کر سکیں۔
*پھرآسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا*،
اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا۔
خطبہ حج الوداع
حضرت محمد ﷺ
" "
اکیلے ہوتے جاؤ گے ۔ کسی سے اونچا بولو گے
کسی کو نیچا سمجھو گے ۔ کسی کا حق جو مارو گے
انا ' ناحق دکھاؤ گے ۔ تو یاروں کو گنواؤ گے
اکیلے ہوتے جاؤ گے
ذرا سی دیر کو سوچو ۔ زباں کو روک کر دیکھو
انا کو توڑ کر دیکھو ۔ تسلی سے سنو سب کی
تسلی سے کہو اپنی ۔ جو یونہی طیش کھاؤ گے
اکیلے ہوتے جاؤ گے.
"تم رفتہ رفتہ مرنے لگتے ہو"
تم رفتہ رفتہ مرنے لگتے ہو
جب تم سفر نہیں کرتے
جب تم مطالعہ نہیں کرتے
جب تم زندگی کی آوازیں نہیں سنتے
جب تم خود کو نہیں سراہتے
تم رفتہ رفتہ مرنے لگتے ہو
جب خود اپنی خود اعتمادی کو مار دیتے ہو
جب دوسروں کو اپنی مدد کرنے سے روک دیتے ہو
تم رفتہ رفتہ مرنے لگتے ہو
جب تم اپنی عادتوں کے غلام بن جاتے ہو
انہی راستوں پر روز چلتے ہو
جب تم اپنا معمول نہیں بدلتے۔۔
جب تم مختلف رنگ نہیں پہنتے
یا انجان لوگوں سے بات نہیں کرتے
تم رفتہ رفتہ مرنے لگتے ہو
جب تم اپنے شوق اور اس سے جڑے
بھرپور جذبات کے احساسات سے
گریزاں رہتے ہو
وہ جو تمھاری آنکھوں کو روشن
اور دل کی دھڑکن کو تیز کرتے ہیں
تم رفتہ رفتہ مرنے لگتے ہو
جب تم لایقینی میں پنہاں
خطرے کو مول نہیں لیتے
جب تم اپنے خواب کے پیچھے نہیں جاتے
جب تم خود کو اجازت نہیں دیتے
کہ اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار
معقول مشورے سے دور جا سکو
خود کو رفتہ رفتہ مرنے سے روک لو۔۔
خوش رہنا مت بھولو۔۔!!
کام (𝑷𝒓𝒐𝒇𝒆𝒔𝒔𝒊𝒐𝒏) اور عشق(𝑷𝒂𝒔𝒔𝒊𝒐𝒏) کی کشمکش
وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
جو عشق کو کام سمجھتے تھے
یا کام سے عاشقی کرتے تھے
ہم جیتے جی مصروف رہے
کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا
کام عشق کے آڑے آتا رہا
اور عشق سے کام اُلجھتا رہا
پھر آخر تنگ آ کر ہم ہے
دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
(فیض احمد فیض)
جس جگہ خواہشِ قلبی اور فرض منصبی کی سرحدیں مل جائیں ،وہ مقام شُکر کہلاتا ھے۔اس بات کو ایک اور انداز میں یوں بھی کہا جاسکتا ھے کہ اگر آپ کا پروفیشن اور passion ایک ھوجائے تو آپ اپنے کام کے ایک ایک لمحہ کو پرلطف پائیں گے ۔
واصف علی واصف فرمایا کرتے تھے "خوش نصیب وہ ھے، جو اپنے نصیب پر خوش ھے"
بس آپ اپنی محبت ،اپنے عشق سے جڑے رہییے،بامراد رہیے ،بانصیب رہیے۔
ھم تیرے ساتھ ساتھ ہیں،
اے عشق خوش عناں !!!“
#تخیّلانہ_فکر_و_عمل
چاروں طرف، قافلہ کوئی نہیں
فاصلوں کا شہر ہے، راستہ کوئی نہیں
ہر مکیں ہے اجنبی ہر نظر نا آشنا
ہم سفر ہیں ہر قدم، ہم نوا کوئی نہیں
THE REAL LOSS..!!
موجودہ دنیا آخرت کا پیش نظارہ ہے۔ یہاں وہ نعمتیں اور لذتیں جو اللہ تعالیٰ نے آخرت میں مکمل طور پر مہیا کی ہیں انسان کو ابتدائی شکل میں دی جاتی ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ جب وہ پانی کے ایک ایک قطرے کو دیکھتا ہے، تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک عظیم سمندر کی علامت ہے، اور وہ اس دنیا کے نامکمل انعامات کے پیچھے چھپی ابدیت کی لاتعداد خوشیاں دیکھ سکتا ہے۔
جو شخص اس دنیا کی اصل فطرت کو سمجھتا ہے وہ اس دنیا کی عارضی لذتوں سے ہٹ کر آخرت کی ابدی خوشیوں کی طرف دیکھے گا۔ صرف وہی جو دنیا کو اس کی حقیقی روشنی میں نہیں دیکھتا ہے وہ اس میں ذخیرہ کرے گا اور آخرت کے بجائے اسے اپنا آخری ہدف بنائے گا۔
سورج انسان کو بعد کی زندگی کی چمک سے آشنا کرنے کے لیے چمکتا ہے۔ پھول اور درخت ہمیں خُدا کی ابدی دنیا کی خوبصورتی کی یاد دلانے کے لیے کھلتے ہیں۔ دنیا کی لذتیں آنے والی دنیا کی آرزو کو بڑھانے کا کام کرتی ہیں، لیکن اکثر انسان ان میں اس قدر مگن ہو جاتا ہے کہ آخرت کی لامحدود خوشیوں کا خیال تک نہیں رہتا۔
جو شخص اس دنیا کی لذت سے متاثر ہوتا ہے وہ آخرت سے محروم ہوجاتا ہے۔ جب وہ اس دنیا میں پہنچ جائے گا اور اس کی لازوال نعمتوں کو دیکھے گا تو وہ کیسی کرب اور مایوسی محسوس کرے گا۔
تب اسے اپنی بے وقوفی کا احساس ہو گا۔" یہ،" وہ پکارے گا، "حقیقی زندگی ہے۔ زمینی زندگی کی اب کوئی حقیقت نہیں ہے۔ لیکن میں نے دنیا کی عبوری نعمتوں کی خاطر ابدی زندگی کھو دی ہے۔ میں نے حقیقی اور پائیدار خوشی کو کھو دیا ہے - یہ سب ان لذتوں کی خاطر جو برداشت نہیں کرتے تھے۔ زمین پر آزادی کی تلاش میں، جہاں کوئی آزادی نہیں ملتی تھی، میں نے حقیقی آزادی کھو دی جو اب ملنی تھی۔
Inspiring indicator from TREE
(میرے گھر کے پاس ایک درخت ہے۔ میں اسے ’’روحانی درخت‘‘ کہتا ہوں۔ میں اس سے روحانی الہام حاصل کرتا ہوں۔ ایک درخت ایک مسلسل بڑھتا ہوا وجود ہے جو شروع میں ایک بیج تھا، جس میں ایک مکمل بڑھنے والا درخت بننے کی صلاحیت موجود ہے۔ ایک بیج اپنے اردگرد کی کائنات سے خوراک لیتا ہے اور پھر درخت بنتا ہے۔ روحانیت کا بھی یہی حال ہے، جو ہر انسان چاہتا ہے اور اپنے بنیادی کردار کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ اس روحانیت کا ادراک کرنے کے لیے انسان کو اپنے اردگرد کی کائنات سے روحانی خوراک حاصل کرنی چاہیے۔ ایک درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آکسیجن میں بدلتا ہے۔ ایک روحانی شخص منفی حالات سے مثبت سبق لے سکتا ہے۔ اس نقطہ نظر سے، درخت ایک روحانی شخصیت کا ایک مجسمہ ہے. مولانا وحید الدین خان)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Telephone
Address
Nawabshah
67450
