By ♥️
~Epi 1~
•••══༻۔۔۔۔¤___¤۔۔۔۔༺══•••
انتہائی تاریک، بھیانک اور موسلا دھار قہر ناک بارش والی سیاہ رات تھی، بادل اور بجلی اس وحشت سے گرج رہے تھے کہ دل کانپ سا جاتا۔
اپنے کیے سارے گناہوں کا بوجھ قدرت اسکے کندھے سے اتارنے کا تہیہ کیے بیٹھی تھی، عباد حشمت کیانی نامی گرامی سیاست دان، دشمن کے وار سے اپنے ہی آنگن کو اجڑنے سے نہ بچا سکا تھا۔
علاقے کے نیشنل ہوسپٹل خون میں لت پت نسوانی وجود کو بانہوں میں اٹھائے وہ حلق کے بل چینختا داخل ہوا تھا۔
اسکی سفید شرٹ خون سے تر تھی، چہرے پر کرب کی انتہا، تکلیف کی آخری حد لیے وہ جیتے جی شاید مر سا گیا تھا۔
حسین، دنیا کا فخر، اک وحشی بھی، شاید اک نادانستہ جرم کا مرتکب بھی تبھی تو قدرت نے اسکے اعمال اسکے سامنے لائے تھے
اسکی ایک جنبش پر کئی ملک کے بڑے بڑے لوگ کٹ پتلی کی طرح ناچتے تھے مگر آج ہوسپٹل میں وہ صرف ایک اجڑا ہوا پور پور بکھرا دیوانہ اپنے ہاتھوں سے ریت کی مانند پھسلتی حیات کے بچاو کے لیے کچھ بھی نہ کرسکنے پر اپنے ہاتھ مل رہا تھا۔
جسے اپنی نہیں گُل مینے اور اسکے وجود میں پلتی ننھی جان کی فکر خون کے آنسو رلا رہی تھی۔
گاڑی پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا، وہ آخری سانسیں لے رہی تھی مگر عباد حشمت کیانی نے اپنی آخری سانس کب کی حلق سے کھینچ لی تھی۔
گُل مینے کو فوری طور پر آئی سی یو روم شفٹ کیا گیا تھا، پورے ہوسپٹل میں ایمرجنسی نافذ تھی۔
خونی جن زاد بن کر بھی بے بسی پر ماتم کرتے عباد سے کچھ فاصلے پر کھڑی ایک مغربی مکمل سیاہ لباس والی عورت بھی کھڑی تھی جو کرب ناک دیکھائی دے رہی تھی۔
"ممکن ہے ہمیں یہ آپریٹ فوری کرنا پڑے، انتظار کیا تو آپکی بیوی کے ساتھ ساتھ آپکے بچے کی جان بھی چلی جائے گی۔ گل مینے کا بہت خون بہہ چکا ہے عباد صاحب، ہمیں اجازت دیں کہ ہم آپکے بچے کو بچانے کی ایک کوشش کر لیں۔ دیر ہو گئی تو ہم مریضہ کے ساتھ ساتھ اس بچے کو بھی کھو دیں گے"
جب ڈاکٹرز اور نرسوں کی پوری ٹیم نے ماں کی ابتر حالت اور بچے کی زندگی کے خطرے کا بتایا تو اس لمحہ اپنی حاکمیت کے باوجود وہ شخص ہارے جواری کا روپ دھار گیا تھا، جسکے ہاتھوں اسکی ساری پونجی لٹ گئی تھی۔
ان پیپرز پر اس سنگین خطرے کے باوجود آپریٹ کی ہامی کے دستخط کرتے وقت وہ لاشعور میں اپنا جنازہ پڑھ رہا تھا، تکلیف نے تو اس سنگدل دل کے ہر کونے میں پنجے گاڑ لیے تھے، گل مینے نے گویا چلے جانا تھا، وہ یکدم اسکی پربہار زندگی کے ہر باب سے ویسے ہی اوجھل ہونے والی تھی جیسے شامل ہوئی تھی۔
بہت اجلت میں، شاید یونہی، بلاوجہ۔۔۔۔
اس سوہان روح انتظار کو کئی گھنٹے گزر گئے، یکدم پورے ہوسپٹل کی ساری روشنیاں گُل ہو گئیں۔
ہر طرف افراتفری مچ چکی تھی۔
دس منٹ ہی گزرے تھے کہ روشنیاں واپس بحال ہو گئیں مگر وہ ایک جملہ عباد پر اس پورے ہوسپٹل کی عمارت گرا گیا۔
"ہم نے آپ کے بیٹے کو بچا لیا تھا وہ بلکل ٹھیک اور صحت مند تھا مگر وہ ناجانے کیسے غائب ہو گیا۔۔۔۔"
اپنی سماعت میں پگھلا سیسہ اترتا محسوس کیے وہ بپھری موج سا آئی سی یو روم کی سمت دوڑا۔
وہاں اسکی بیوی گُل مینے کی لاش تھی، وہ اس بچے کو جنم دینے کے بعد بس چند لمحے جی سکی تھی، اسکے ساکت خاکی وجود پر سفید چادر ڈال دی گئی تھی۔
آنکھیں، روح، جسم اور جان سب ماتم منانے لگے۔
عباد نے اپنا کانپتا ہاتھ بڑھا کر ایک آخری بار گُل مینے کا چہرہ اذیت سے دیکھا۔
پورے ہوسپٹل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، جلد از جلد یہ خبر میڈیا میں پھیل گئی۔
"مشہور جنرلسٹ اور یوتھ کے پاور فل لیڈر عباد حشمت کیانی کا نومولود بیٹا ہوسپٹل سے پُراسرر طور سے غائب ہو گیا"
ہر چینل پر یہی خبر تھی، عباد کی اس تکلیف پر وہ سیاہ کپڑوں والی عورت استہزایہ ہنسی تھی، جیسے اس شخص کی اذیت نے اسے سکون بخشا۔
جو عباد حشمت کے جسم سے لہو کا ایک ایک قطرہ نچوڑ دینے کی خواہاں تھی، اسکے نفیس اور خوبصورت چہرے پر نجس مسکراہٹ اور غرور درج تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اسے لگتا تھا یہ برستی بارش صرف امیر لوگوں کے لطف کا سبب بنتی ہے، اسے انجوائے کرنا تو امیروں کےچونچلے ہیں۔
غریب لوگ جو بمشکل اپنا تن ڈھانپتے ہوں، انکے لیے یہ بارش انکے کچے گھروں کی تباہی تھی۔
وہ دن اسے آج بھی یاد تھا جب وہ کچی بستی کی جھونپڑیوں میں اپنی ماں، بابا، دادی اور دادا کے ساتھ غربت کے باوجود آسودگی سے رہتی تھی، ایک رات چراغ کے جلے رہ جانے نے پوری جھونپڑی کو جلا کر خاکستر کر ڈالا۔
ماں ، بابا اور دادی جھلس کر مر گئے، دادا نے کسی طرح منہا سلطان کو بچا تو لیا مگر وہ خود دھوئیں کے باعث دمہ اور سانس کے مرض کا شکار ہو گئے۔
جس آگ نے منہا کا سارا خاندان نگل لیا وہی آگ اسکے اندر اس ننھی تئیس سالا عمر سے ہی اس سفاک زمانے کے لیے بھری تھی۔
سنسان سڑک پر وہ مکمل بھیگی، آج پھر خود کے ساتھ ہوتی ناانصافی پر یوں راستے میں ہی سارا بلک بلک کر رونا چاہتی تھی۔
جس ہوٹل میں وہ ہفتہ وار کچن کی صفائی کی نوکری پر لگی تھی ان لوگوں نے ہفتے بعد زرا چوری کے الزام پر اُسے بنا تنخواہ دیے دھکے دے کر نکال دیا تھا۔
آج دادا جان کی دوا بھی لینی تھی، ایک دل تو چاہا کاش اتنے پیسے مل جائیں کے وہ دادا کو زہر دے کر خود بھی کھا لے اور اس درد دیتی حیات سے چھٹکارہ ملے۔
دادا نے اسے حکیم کے پیشے کے سنگ محنت مزدوری کیے سرکاری سکول میں پوری بارہ جماعتیں پڑھوائی تھیں مگر پچھلے تین سال سے وہ تقریبا اپنے کام کے مندے ہونے اور اپنی غربت کا سوچ سوچ بستر سے آ لگے تھے، منہا دن میں کئی چھوٹی موٹی نوکری، کام اور دھندا ڈھونڈ ڈھونڈ کر کرتی۔
ہر چھوٹا بڑا کام اسکی ننھی جان سہہ لیتی ، اسے اپنا اور دادا کا خود ہی پیٹ پالنا تھا۔
یہاں تک کہ آج صبح ایک کنسٹرکشن بلڈنگ میں اینٹیں تک اٹھا کر چار سو روپے کما کر آئی تھی مگر یہ چار سو روپے اسے صرف دردناکی سے چِرا رہے تھے، اس کی بے بسی پر ہنس رہے تھے۔
چھوٹا سا دو کمروں والا بوسیدہ، پرانا ہر سہولت کے فقدان والا ڈربہ نما مکان جس کا ہر مہینے تین ہزار کرایہ دینا پڑتا، اسکا اور اسکے دادا کے سر کو ڈھانپنے کا چھوٹا سا وسیلہ تھا۔
مالک مکان کو تو ہر پہلی کو نقط کرایہ درکار ہوتا، اُس ظالم بے حس کو اس سے کیا فرق پڑتا کہ وہ دادا پوتی کرایے کی ادائیگی کے لیے اپنے جسم کا کونسا حصہ پیجیں۔
بارش لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی جا رہی تھی، اور اسی شدت سے منہا کی درد اور تکان میں لپٹی ہچکیاں اس سنسان رات میں گونج رہی تھیں۔
وہ دادا کے سامنے کیسے روتی، جو خود اپنی موت کی دعا مانگتے تھے، حکیم کا پیشہ ٹھپ تھا، آجکل لوگ کہاں حکیموں کے پاس آتے تھے۔
ابھی کچھ لمحے ہی گزرے کہ منہا کو لگا اس نے کوئی بہت دردناک آہٹ سنی ہو، دل دہلاتی کلکاری۔
اپنی ہتھیلی سے آنکھیں رگڑتی وہ سڑک سے ملحقہ کچے راستے کی سمت بڑھی جہاں لکڑیاں اور کچھ ساتھ کچرے کے شاپر دھرے تھے۔
وہاں منصوعی چھت کے باعث بارش پہنچنے سے قاصر تھی۔
وہاں کا دل چیڑتا منظر دیکھ کر اس کا سارا درد اور آہیں گلے میں گھٹ سی گئیں۔
وہ تڑپ کر زمین پر بیٹھی اور وہ چھوٹا سا نومولود کمبل میں لپٹا تڑپتا بچہ فوری اپنی گود میں بھر کر اسکی اکھڑتی سانس پر فوری اپنے کندھے پر لٹکائے بیگ سے چھتری نکالے کھول کر خود پر پھیلا لی، بچے کی ابتر حالت محسوس کیے وہ سر پٹ تیزی سے اپنے گھر کی سمت دوڑی۔
وہ کچھ وقت پہلے پیدا ہوا بچہ گھر پہنچنے تک شاید سانس لینا چھوڑ چکا تھا، دادا جان ، دروازہ کھولنے پر منہا کو ہاتھ میں اس گیلے کمبل میں لپیٹے بچے کو دیکھ کر وہ خود تڑپ کر دروازہ بند کیے پیچھے لپکے۔
"پُتری۔۔۔۔یہ کیا ہے۔۔۔پُتری یہ کس کا بچہ ہے"
دیوار کا سہارہ لیے لڑکھڑاتے ہوئے دادا جان نے دہل کر منہا سے پوچھا جو فی الحال کسی بھی چیز کا جواب دیے بنا اس برہنہ بچے کو باریک گھر کے اکلوتے خشک کمبل میں لپیٹتی بستر پر لٹائے خود تشویش سے دادا جان کی سمت مڑی۔
"دادو یہ مجھے پار والے راستے پر لکڑیوں کے کچرے سے ملا ، یہ تڑپ رہا تھا۔۔۔۔ک۔۔کوئی کیسے کر سکتا ہے اس ننھی جان پر یہ ظلم۔۔۔۔ آپ حکیم ہیں ناں۔۔۔اسے دیکھیں ناں دادو یہ تو لگتا ہے مر جائے گا۔۔۔۔ اسے دیکھیں ٹھنڈ بھی لگ سکتی۔۔۔دادو اسکا دھیان رکھیں میں دودھ کا انتظام کر کے آتی۔۔۔۔"
اپنے کمائے آج کے وہ چار سو کے میلے نوٹ مٹھی میں زور سے دباتی وہ دادا جان کو بھاری اور آنسووں سے بھیگی آواز کے سنگ کہتی خود اُسی بھیگے خلیے میں اچھے سے گرد چادر لپیٹے باہر نکل گئی۔
معظم سلطان اس نومولود بچے کو دیکھ کر اپنی آنکھیں نم ہونے سے نا بچا سکے، فوری طور پر اپنا دوائیوں والا بیگ دیوار پر لگی کیل سے اتار کر وہ اس بچے کہ پاس بیٹھے جو بظاہر سانس نہ لے رہا تھا۔
"او سوہنے مالکا زندگی دے اس بچے کو"
اپنے چمڑے کے بوسیدہ بیگ سے وہ کوٹی خاص جڑی بوٹی کا مرکب زدہ مرتبان کھولے اس میں پسا ہوا کوئی دوائی کا مائع حالت ذخیرہ انگلی پر لگائے اس بچے کی روئی سے بھی نازک گردن اور سینے پر لگانے لگے، ہلکا سا اسکے ناک کے قریب لگایا۔
انھیں اندازہ تھا یہ بچہ چند گھنٹوں پہلے پیدا ہوا ہے، اسکی ناف پر لگا خشک خون اور وہ چٹکی سی بھی لال ہو چکی تھی۔
جھک کر اس بچے کے چھوٹے سے سینے سے کان لگایا تو بہت ہلکی دھڑکن محسوس ہوئی۔
بھلے وہ بچہ عام بچوں کی نسبت زیادہ صحت مند اور انتہائی خوبصورت تھا مگر جو سفاکی اس کے ساتھ ہوئی تھی اسکا بچ جانا اللہ کی کوئی کرامت ہی ہو سکتی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
"اب تک تو وہ کسی کُتے بِلے کی خوراک بھی بن گیا ہوگا، ہمارا انتقام تقریبا پورا ہو گیا۔۔۔۔ گُل مینے تو قبر میں جا کر اپنے انجام کو پہنچی ہی ساتھ ساتھ میں نے عباد حشمت کیانی کو تاعمر کی اذیت میں جھونک دیا۔۔۔۔۔ "
ہوسپٹل کے اندھیارے کونے میں پشت کر کے چھپا نسوانی وجود جو مکمل ڈھکا تھا، کسی سے فون پر ہمکلام تھا۔
کوریڈو میں اس بپھرے ریچھ کی ہیجانی ڈھاریں یہاں تک سنائی دے رہی تھیں۔
مقابل وہ ایک نقاب پوش آدمی اسی بارش سے بھیگے چھوٹے سے ڈربے نما گھر کے کچھ فاصلے پر کھڑا تھا۔
"ہاں سہی کہا، وہ مر گیا ہے۔۔۔۔۔ اب تم جا کر عباد کا غم غلط کرو۔۔۔ میں تم سے چالیسویں کے بعد ملوں گا"
اس پُراسرار آدمی نے کہہ کر کال کاٹی اور سامنے اس گھر پر نظر گاڑے کچھ دیر اس جگہ وہ اچھی طرح ذہن نشین کرتا رہا اور پھر وہاں سے چلا گیا۔
پورے ہوسپٹل کے سٹاف کی روحیں تک تھر تھر کانپ رہی تھیں، پورے ہوسپٹل کو پولیس اور میڈیا نے گھیر رکھا تھا۔
"میں تم سب کو ایک ایک کر کے زندہ زمین میں گاڑ دوں گا، آخر کہاں گیا میرا بچہ۔۔۔۔۔ مجھے ڈھونڈ کر دو، ورنہ تم سب کی جان عباد حشمت کیانی خود لے گا۔۔۔۔"
کوئی نہیں تھا آج اسکا درماں، اندر پڑی گُل مینے کی لاش پر ماتم کرتا یا اپنے بچے کے کھو جانے پر خود کو بھی زندہ کسی قبر میں گاڑ دیتا جسے ابھی تک باپ کی نظر نے دیکھا تک نہ تھا۔
پولیس کے لوگ ہر ایک فرد سے پوچھ گچھ کر رہے تھے ہسپتال سیل کر دیا گیا تھا۔
بڑے بڑے منسٹروں کے تعزیت اور دل جوئی کے فون عباد کے پرسنل تقریبا ہم عمر گارڈ سراج علی کو سینکڑوں تعداد میں آچکے تھے۔
"ہے۔۔۔۔عباد۔۔۔سنبھالو خود کو ہنی، ہم ڈھونڈ لیں گے بے بی کو"
لگ بھگ پچیس سالا خوبصورت سی دوشیزہ ، جس نے آگے بڑھ کر اس سرخ لہو رنگ میں نہائے زخمی شیر کو بانہوں میں سموئے سنبھالنا چاہا مگر وہ اسے بُری طرح دھکا دیتا لہو چھلکاتے چہرے کے سنگ غرایا۔
گر سراج علی بروقت فاریہ کو نہ سہارہ دیتا تو وہ عباد کے دھکا دینے پر ابھی تک زمین بوس ہو جاتی، رہانت اور تضخیک کا احساس بمشکل جبر کرتی وہ سراج کو نفرت سے پرے دھکیلتی پھر سے زخمی شیر کی سمت بڑھی جس نے قنوطیت کے سنگ اس بری طرح مکا ہوا میں لہرا کر دیوار سے مارا کہ خون کی لکیر اسکے ہاتھ کو سرخ انگارہ کر گئی۔
"عباد۔۔۔۔عباد میں جانتی ہوں تم تکلیف میں ہو لیکن حوصلہ رکھو۔۔۔ میں ہوں ناں تمہارے ساتھ، مما بھی ہیں۔۔۔۔ اس مشکل گھڑی میں خود کو تنہا مت سمجھو"
اس بھاری وجود والے کی پشت کو گھمانے کی ناکام کوشش کرتی وہ پھر سے اس وحشت ناک شخص کا چہرہ تھامنے کو قریب آئی اور اس بار عباد نے نفرت چھلکاتی لہو رنگ آنکھیں گاڑے ایک لمحے میں فاریہ کا گلا دبوچا۔
"اگر اپنی زندگی چاہیے تو فی الحال دفع ہو جاو یہاں سے فاریہ۔۔۔۔۔۔اور اپنی اس ماں کو بھی لے کر گم کرو شکل۔۔۔۔۔ تم جیسے مطلب پرستوں کی ہمدردیاں لے گا کیا اب عباد حشمت کیانی۔۔۔۔۔ مرا نہیں ہوں۔۔۔۔ "
بُری طرح حقارت سے اس لڑکی کو راہ سے ہٹاتا وہ پولیس کے لوگوں کی سمت لپکا مگر تمام ذلت کے باوجود فاریہ نے مڑ کر کچھ فاصلے پر سیاہ لباس میں لپٹی اس عورت کو دیکھ کر شیطانی مسکراہٹ دی۔
"مرنے تو تمہیں دیں گے بھی نہیں سوئیٹ کزن، کیا سمجھا تھا تم نے کہ تم فاریہ کیانی کے مقابلے میں اس کوٹھے کی طوائف گُل مینے کو لاو گے اور میں برداشت کرلوں گی، ہاہا گئی تمہاری گُل مینے جہنم میں اور ساتھ تمہارا وہ بے گناہ بچہ۔۔۔۔چچ چچ۔۔۔ عباد حشمت کیانی تم اب فاریہ کے پاس ہی لوٹو گے،اپنی بیوی اور بچے کا غم مٹانے۔۔۔۔۔ مجھے انتظار رہے گا ہنی"
سفاکیت سے بھری ہوئی وہ لڑکی اتنا بڑا ظلم ڈھا کر یہ بھول گئی تھی کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔
اور سب سے بڑھ کر مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہوتا ہے۔
دوسری سمت وہی نقاب پوش جو واپس سڑک کی سمت جا رہا تھا ایک تیز ترین ٹرک سے ٹکرانے کے باعث کئی فٹ دور جا گرا۔
بارش تھم چکی تھی مگر اس آدمی کے سر سے نکلتا خون سڑک پر جمع شدہ کھڑے ہوئے پانی کو لال انگارہ کر گیا۔
ٹرک ڈرائیور باہر نکل کر اس زخمی تک پہنچے جسکی سانس چل رہی تھی اور اسے لے کر ہسپتال روانہ ہو گئے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
"دیکھو غریب لڑکی یہ کوئی بھک منگوں کا لنگر خانہ نہیں کہ تم کب سے بحث کر رہی ہو، کہہ دیا کہ ایک روپیہ بھی معاف نہیں ہوگا اس لیے نکلو شاباش پتلی گلی سے"
چار سو میں چھوٹا سا فیڈر تو آگیا تھا مگر دودھ کے ڈبے کے لیے دو سو کم پڑ رہے تھے، منہا نے آج تک کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلایا تھا مگر اس ننھی جان کے لیے اس وقت دودھ کا ڈبہ اشد اہم تھا۔
"دیکھو بھائی میں وعدہ کرتی کل تم کو پیسے دے جاوں گی، مجھے دے دو پلیز گھر میں بچہ بھوکا ہے۔۔۔۔ اللہ نے اگر اتنا دیا ہے تو کسی مجبور کی مجبوری سمجھنے کی بھی کوشش کرو"
تاسف کے سنگ وہ ہنوز کاونٹرر پر کھڑی بے بسی سے بولی مگر مقابل تو فرعونیت کا راج تھا، پیسے کی ناجانے کونسی اکڑ۔
"جا معاف کر فقیرنی، ایک پھوٹی کوڑی نہیں معاف کروں گا۔۔۔سب جانتا ہوں تم جیسوں کی مکاری۔۔۔۔ دوبارہ تم نے شکل ہی نہیں دیکھانی۔۔۔۔اب نکل یہاں سے ورنہ سیکورٹی بلوا لوں گا"
وہ ہٹ دھرم سا سفاک دکاندار زہریلے لفظوں سے منہا کا کلیجہ چیڑ گیا، مگر وہ اپنے آنسو روکنے پر مہارت رکھتی تھی۔
"اللہ کرے تیرا یہ سٹور آگ سے جل کر خاک ہو جائے، تجھے کھانے کو روٹی نہ ملے پھر تو بلک بلک کر روئے۔۔۔ بدعا دیتی ہے تجھے منہا سلطان۔۔۔۔۔ اور خبردار جو مجھے فقیرنی کہا، تیرے جیسے امیر سے تو لاکھ درجے اچھے ہم غریب ہیں۔ لعنت ہو تجھ پر"
ایک لمحے میں وہ خشک دودھ کا پیکٹ اٹھا کر اس دکاندار کے کاونٹر پر پٹخے تین سو کا وہ چھوٹا سا فیڈر بھی زمین پر پٹخ کر چار سو واپس مٹھی میں دبوچے باہر بھاگ گئی۔
بارش تھم گئی پر اسکی آنکھیں صورت برسات برسیں۔
"یا اللہ ہم جیسے مر بھی سہولت سے نہیں سکتے، مجھے ا۔۔اپنی پرواہ نہیں وہ ننھا وجود مر جائے گا۔۔۔۔ کیوں دیتا ہے تو ان درندوں کو اولاد جو اسکے لائق نہیں ہوتے۔۔۔۔ مجھے راستہ بتائیں ناں ان چار سو روپوں میں اس بچے کی بھوک کیسے مٹے گی"
اپنی سوجھی حلقوں کی زد میں ڈوبی آنکھیں رگڑتی وہ اپنی چپل گھسیٹے سڑک کے ساتھ ساتھ چلنے لگی۔
اچانک کسی آہٹ پر مڑی۔
سامنے ہی اسکے ساتھ ہوٹل میں کام کرنے والی حور نامی لڑکی بھاگتی ہوئی آتی دیکھائی دی۔
منہا نے اپنا چہرہ رگڑے دھندلائی آنکھوں سے اسکو دیکھا جو اسکے قریب آن رکی اور ہزار کے تین نوٹ اسکی سمت بڑھائے۔
"منہا۔۔۔ تم پر ہوٹل والے نے جس چوری کا الزام لگایا تھا وہ غلط فہمی تھی۔ اسکو اسکے پیسے مل گئے تھے، وہ شرمندہ تھا تبھی اس نے یہ تمہاری ہفتے کی تنخواہ بھیجوائی ہے۔۔۔۔ میں ابھی ہی نکلی تھی تم پر نظر پڑ گئی۔۔۔یہ لو اور کل آجانا واپس۔۔۔۔۔اب میں جاتی"
اپنے ہاتھ میں آتے وہ تین نوٹ دیکھ کر منہا کی آنکھیں پھر سے بھیگ گئیں، بھرائی آنکھیں اٹھا کر نظر آسمان پر ڈالی جیسے اس پالن ہار کی شکر گزار تھی۔
فورا سے پہلے دوسرے سٹور کی سمت دوڑی، فیڈر، خشک دودھ کا ڈبہ، زیرو سائز ڈائپر اور دادا کی دوا میڈیکل سٹور سے لیے وہ خوشی خوشی گھر لوٹی۔
تب تک دادا جان چھوٹے سے لوہے کے برتن میں لکڑیاں جلا کر کمرے میں موجود ٹھنڈ کا خاتمہ کرنے میں کامیاب تھے۔
وہ بچہ ابھی بھی سخت تکلیف میں تھا، مگر منہا کے ہاتھوں میں اتنے سارے لوازمات دیکھ کر وہ بھی اس اجاڑ گھر میں اس ننھے بچے کی آمد کی برکت دیکھ کر مسکرائے۔
وہ مکمل بھیگی تھی اب تو کانپ رہی تھی، اسکی کم سن خوبصورتی اسکے حالات نے دبا دی تھی۔
اک نظر بیقراری سے اس بچے کی سمت دیکھتی وہ بھیگا سا مسکائی، دادا جان نے بڑھ کر شفقت سے منہا کا سر چوما۔
"م۔۔یں پالوں گی اسے دادوو، احد سلطان نام رکھتے ہیں اسکا۔۔۔۔ یہ ٹھیک تو ہو جائے گا ناں"
اس روئی کے گولے جیسے نازک بچے کا نرم ملائم سا ہاتھ پکڑ کر سہلاتی وہ مڑ کر تڑپ کر دادا جان سے پوچھتے بولی جو آگے سے تسلی آمیز مسکائے۔
"اگر بخار نہ ہوا تو بہتر ہو جائے گا ان شاء اللہ، لیکن تم جاو یہ گیلے کپڑے بدل لو ورنہ بیمار ہو جاو گی۔۔ میں یہیں ہوں احد سلطان کے پاس"
اپنی جان سے پیاری منہا کی فکر بھانپتے وہ اسے ملائم سی تاکید کرتے بولے جو ایک آخری پیار اور دکھ سے بھری نظر احد پر ڈالتی افسردہ سی دوسرے کمرے کی جانب چلی گئی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
Jitna acha response utni speed say epi aye gi.♥️
Aijaz Rao frnds
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Aijaz Rao frnds, Library, Okara.
12/01/2021
یسین نے رات کا کھانا اپنے والد محمود, والدہ حمیرا اور حرمان کے ساتھ کھایا۔ حرمان کے والدین فوت ہونے کے بعد وہ اُنہیں کے ساتھ رہا کرتا تھا۔ وہ لوگ کھانے سے فارغ ہوکر سونے کے لیۓ چلے گئے۔ یسین بھی اپنے بستر پر دراز ہو گیا لیکن جیسے ہی اس نے آنکھ بند کی ایک بھولا بھالا چہرہ نظروں کے سامنے آگیا۔ گھنی پلکیں, کانپتے ہوئے زرد ہونٹ اور حجاب کے ہالے میں میک اپ سے بے نیاز وہ چہرہ کتنا شفّاف تھا۔ یسین نے اپنی آنکھیں کھولیں۔ چند لمحے وہ بستر پر یوں ہی لیٹا رہا پھر ایک دم سے اس کا وجود ہوا بن کر غائب ہونے لگا۔
•••••
اپنے کمرے میں بستر کے کنارے بیٹھی تقدس سامنے کھلی ہوئی کھڑکی سے نظر آتے ادھورے چاند کو دیکھ رہی تھی جس کی چاندنی نے تقدس کے کمرے کو روشن کر رکھا تھا۔ تقدس کے بال کھلے ہوئے تھے اور چہرے پر آنسوؤں کے نشان تھے۔ وہ یوں ہی بیٹھی تھی جب ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا اور اس کے بال پیچھے ہوئے۔ تقدس نے موبائل میں وقت دیکھا۔ ڈیڑھ بجنے کے قریب تھے۔ وہ اٹھی اور کھڑکی بند کر کے بیڈ پر آکر لیٹ گئی۔ اچانک اس کی آنکھیں بھاری ہونے لگیں۔ اسے محسوس ہوا جیسے کوئی اس کے چہرے پر آہستگی سے پھونک کر پیچھے ہوا تھا۔ تقدس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی لیکن غنودگی بڑھتی ہی گئی اور آخر کار وہ چند ہی لمحوں میں گہری نیند سو گئی۔
یسین نے اسے پہلی مرتبہ کھلے ہوئے بالوں میں دیکھا تھا۔ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی لیکن چہرے پر موجود آنسوؤں کے نشان نے اس کی توجہ حالات پر مبذول کرائی۔ اتنے میں تقدس کروٹ لی تو یسین نے زیر لب کچھ پڑھ کر اس پر پھونک ماری۔ تقدس کو پرسکون کرنے کے لیے اسے سلانا ضروری تھا اور یسین نے یہی کیا, اور چند لمحے اسے دیکھنے کے بعد جس خاموشی سے آیا تھا اسی خاموشی سے واپس چلا گیا۔
•••••
اگلے دن یسین اپنے روزمرہ کے معمولات میں مگن تھا جب اچانک ہی اس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔ اسے اپنے قریب ماسون کی موجودگی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ گہری گہری سانسیں لیتا اس کی سمت معلوم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اچانک ہی قریب واقع جھاڑیوں میں کچھ حرکت ہوئی۔ یسین فوراً دوڑتا ہوا وہاں پہنچا تو دور کہیں ایک ہیولا سا بھاگتا دکھائی دیا۔ یسین اس کا پیچھا کرنے لگا مگر وہ جتنا قریب جاتا ہیولا اتنا ہی دور ہونے لگتا۔ اس بھاگ دوڑ میں وہ لوگ اسی ویرانے میں آ نکلے جہاں یسین نے پہلی مرتبہ تقدس کو دیکھا تھا۔ سیاہ سائے نے بھاگتے ہوئے پیچھے دیکھا تو اگلے ہی قدم پر وہ سامنے کھڑے یسین سے ٹکرا گیا۔ یسین جو اسے دھوکے میں رکھ کر خود سامنے آ کھڑا ہوا تھا اب خونخوار نظروں سے سیاہ سائے کو دیکھ رہا تھا۔ سیاہ سائے نے اپنے چغے میں ہاتھ ڈالا اور ایک کائی رنگ کا مائع نکال کر یسین پر پھینکا۔ یسین اس اچانک افتاد کے لیے تیار نہیں تھا۔ وہ ایک چیخ مار کر پیچھے ہوا۔ سیاہ سایہ اسے دھکا دے کر بھاگ اٹھا۔ پورا ویرانہ یسین کی چیخ سے گونجنے لگا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی زخمی شیر چنگھاڑ رہا ہو۔ یسین نے اپنا ایک ہاتھ درخت پر رکھا تو درخت کا وہ حصہ اس کے ہاتھ میں کسی موم کی طرح سما گیا۔ یسین نے وہ درخت ایک ہاتھ سے اکھاڑ دیا۔ اسے سخت تکلیف ہو رہی تھی جیسے جسم کا ایک ایک حصہ جل رہا ہو۔ وہ کچھ دیر برداشت کرتا رہا پھر اچانک ہی بے دم ہوکر زمین پر گر پڑا۔ اس کی سانسیں آہستہ ہوتیں گئیں۔ آنکھوں سے نور دور ہونے لگا تھا۔
•••••
تقدس آج پھر سے اس ویرانے میں آئی تھی۔ ابھی وہ اِدھر اُدھر ہی ٹہل رہی تھی جب اس کی نظر ایک شخص پر پڑی جو زمین پر گرا ہوا تھا۔ تقدس اس کے قریب آئی تو دیکھا کہ ایک نہایت خوبرو اور وجیہہ سا باوقار دکھنے والا مرد بیہوش زمین پر پڑا ہوا تھا۔
" سنیں۔۔ آپ ٹھیک تو ہیں۔؟" وہ قریب بیٹھتے ہوئے بولی۔ پھر اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکال کر چند چھینٹے اس کے چہرے پر مارے۔ یسین نے ٹھنڈک کا احساس ہوتے ہی آنکھیں کھولیں تو نظریں تقدس سے چار ہو گئیں۔
" پانی۔" وہ نقاہت سے گویا ہوا۔ تقدس نے اس کے سر کو تھوڑا سا سہارا دیا اور دوسرے ہاتھ سے بوتل اس کے منہ سے لگائی۔
" تم جاؤ۔۔ میری وجہ سے خود کو تکلیف میں نہ ڈالو۔" یسین نے پانی پینے کے بعد اسے مخاطب کیا۔
" کسی کو تکلیف میں اکیلا چھوڑ جانا بھی گناہ ہے۔" وہ اسے سہارا دے کر اٹھاتی ہوئی بولی۔ " آپ بہت تکلیف میں لگ رہے ہیں۔ آپ میرے ساتھ آئیں۔"
" مجھے کہاں لے جاؤ گی۔؟"
" میرے گھر چلیں۔" وہ دونوں اب کھڑے ہو چکے تھے البتہ یسین نے اس کا سہارا ہٹا کر درخت کا سہارا لیا تھا۔
" تمہاری یہ پاک نیت ہی کافی ہے۔ اب جاؤ۔" یسین نے درخت سے اپنی پیشانی ٹکا دی۔ تقدس نے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا جہاں گہرے بادل اکھٹے ہو رہے تھے۔ اس نے دوبارہ یسین کو دیکھا جس کے سفید کپڑے پر کہیں کہیں خون اور پیپ کے نشان سے تھے۔ تقدس نے ادھر اُدھر دیکھا تو اسے جھاڑیوں کی آڑ دکھائی دی۔ اس نے بنا کچھ سوچے سمجھے یسین کا بازو تھاما اور اسے سہارا دیتی وہیں جھاڑیوں کے پاس لے جانے لگی۔ یسین بھی خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑا۔ تقدس جھاڑیوں کے پاس آئی۔ یسین کو بیٹھایا۔ اپنا بیگ سائڈ پر رکھا اور خود اس آڑ کے باہر نکل گئی۔ اس نے ارد گرد سے لکڑیاں اکھٹی کیں اور جھاڑیوں کے اوپر ڈالنے لگی۔ اس کے اس طرح کرنے سے وہ جھاڑی نما آڑ ایک کُٹیا سی لگنے لگی۔ تقدس ان سب سے فارغ ہو کر یسین کے پاس آئی۔
" اپنا کپڑا ہٹائیں تاکہ زخموں کو صاف کیا جا سکے۔" اس کی بات پر یسین نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنا کرتا اتار کر کنارے رکھتے ہوئے بولا۔
" مجھے بارش کا پانی دو اور جیسے میں کہوں ویسے ہی کرنا۔" تقدس نے " جی۔" کہہ کر اپنی بوتل میں بارش کا پانی جمع کرنا شروع کیا۔ جب بوتل بھر گئی تو اس نے وہ پانی یسین کی جانب بڑھایا۔ یسین نے اس پانی پر کچھ پڑھا اور اسے دوبارہ دے دیا۔ تقدس نے ہچکچاتے ہوئے اپنے بیگ سے رومال نکالی, پھر پانی رومال پر انڈیل کر اس سے یسین کے سینے پر موجود زخم کو آہستہ آہستہ صاف کرنے لگی۔ یسین نے مٹھیاں بھینچ گئیں اور آنکھیں بند کر لیں۔
" آپ کے زخم تو سبز سے ہیں۔ کہیں انفیکشن نہ پھیل گیا ہو۔" تقدس بغور زخم کو دیکھتے ہوئے بولی تو یسین نے اسے دیکھا۔ تقدس نے سر اٹھایا۔ وہ ایک دوسرے کے مقابل موجود آنکھوں میں اپنا اپنا عکس دیکھ رہے تھے۔ ایک خواب سی کیفیت تھی۔ دونوں اپنی جگہ بے مثال تھے۔ یکایک تقدس نے اپنی آنکھیں جھکا لیں اور دوبارہ یسین کے زخم صاف کرنے لگی۔
" آ۔۔ آپ نے بتایا نہیں۔۔ آپ زخمی کیسے ہوۓ۔؟" وہ بے ربط جملے کے ساتھ گویا ہوئی۔
" اس کا جواب ابھی نہیں دے سکتا۔"
" اچھا۔" اسے ہلکی سی مایوسی ہوئی جسے یسین نے بخوبی محسوس کیا۔
" میرا نام یسین ہے۔ یہاں سے کچھ فاصلے پر گھر ہے۔ انشاء اللہ کبھی اپنی محسنہ کو ضرور لے جاؤں گا۔" اس نے تقدس کو بہلانے کی کوشش کی۔
" محسنہ کیسی۔؟ یہ تو میرا فرض تھا۔" وہ مسکرائی۔ " اور میرا نام تقدس ہے۔" یسین اس بات پر صرف مسکرا کر رہ گیا۔ اتنی دیر میں حرمان اسے ڈھونڈتے ہوئے وہاں آگیا۔
" بھائی آپ یہاں۔؟" وہ جلدی سے قریب آ بیٹھا۔ " میں نے آپ کو گھر سے باہر جاتے دیکھا تو آپ کے پیچھے آگیا لیکن درمیان میں راستہ بھٹک گیا تھا۔" اس نے تقدس کو دیکھ کر انسانوں کی طرح باتیں کیں۔
" یہ میرا دوست, میرا بھائی حرمان ہے۔ یہ مجھے لے جائے گا اور حرمان یہ میری محسنہ تقدس ہیں, میں زخمی ہو گیا تھا۔ انہوں نے میری مدد کی۔" یسین نے دونوں کا تعارف کرایا۔ " اب تم جاؤ کافی دیر ہو گئی ہے اور بارش بھی رک چکی ہے۔"
" جی۔" تقدس اٹھ کھڑی ہوئی اور جانے کے لیے مڑی لیکن پھر ایک لمحے کو رک کر اس نے یسین کو دیکھا۔ " اپنا خیال رکھیۓ گا۔" وہ اتنا کہہ کر چلی گئی۔
" پہلے گھر چلتے ہیں پھر بات ہوگی۔" حرمان کے کچھ پوچھنے سے قبل ہی وہ اپنے تئیں بات ختم کرتا ہوا بولا۔ حرمان نے اسے سہارا دیا اور اگلے ہی لمحے وہ دونوں ہوا کی صورت غائب ہو گئے۔
•••••
حرمان یسین کو لے کر جب گروہ میں پہنچا تو ہر طرف شور مچ گیا کہ یسین زخمی ہے۔ سردار محمود اور حمیرا خانم فوراً سے بھی پیشتر اس کے پاس آئے۔
" یہ سب کیسے ہوا حرمان۔؟" حمیرا خانم نے بے چینی سے پوچھا۔
" سب پتہ چل جائے گا پہلے اس کا علاج ضروری ہے۔" وہ اسے لے کر جعفر کے پاس آئے جو اس گروہ کے سب سے بڑے طبیب اور عامل تھے۔
" کیا ہوا ہے۔؟" اُنہوں نے یسین سے پوچھا۔
" ماسون نے کوئی مائع پھینکا تھا۔" یسین نے بتایا۔ جعفر نے سر ہلاتے ہوئے اس کے زخم دیکھے اور سب کو وہاں سے جانے کے لیے کہا۔ انہوں نے زیر لب کچھ پڑھنا شروع کیا اور ایک سفید چمکدار مائع نکال کر اس کے زخموں پر رکھنے لگے۔ یسین نے اپنے دانت سے ہونٹ کو دبایا۔
" تکلیف ہوگی تھوڑی۔۔" جعفر اس کے زخم پر مرہم رکھ رہے تھے۔ " اس بدبخت نے تم پر سیاہ عمل کا تیار کردہ مائع پھینکا تھا جو تمہاری جلد کو زخمی کرتا ہوا خون میں سرایت کرنے لگا تھا لیکن اب یہ رحمانی دعا سے تیار کردہ مائع تمہیں ٹھیک کر دے گا۔" وہ جانتے تھے کہ خون سے اس سیاہ اثر کو دور کرنے کی وجہ سے یسین کو تکلیف ہوگی لیکن یہ تکلیف چھوٹی تھی کیوں کہ اگر وہ سیاہ مائع اس کے خون میں گردش کرنے لگتا تو بہت کچھ غلط ہو سکتا تھا۔ موت بھی ہو سکتی تھی یا پھر اس کی تاثیر سے یسین بھی برا جن بن جاتا۔
•••••
دوسری طرف تقدس جب گھر پہنچی تو سب کے چہرے پر ناگواری کے اثرات دیکھ کر ہی اسے اندازہ ہو گیا کہ آج دوبارہ ذلیل ہونا ہے۔
" کہاں سے آ رہی ہو۔؟" امانت صاحب نے کرخت لہجے میں پوچھا۔ سلیمہ کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ سے تقدس سمجھ گئی کہ اُن کا کان اچھی طرح بھرا جا چکا ہے۔
" میں آج واک پر گئی تھی اور مجھے ایک زخمی شخص ملا۔ اس کی مدد کرنے میں دیر ہو گئی۔" اس نے جھکے ہوئے سر کے ساتھ جواب دیا۔
" ایسے کسی کی بھی مدد نہیں کی جاتی زمانہ کتنا خراب ہے کچھ خبر بھی ہے۔ آج کے بعد تم کہیں نہیں جاؤ گی سمجھ آئی۔" امانت صاحب کا لہجہ کسی بھی رعایت سے عاری تھا۔
" یہ زیادتی ہے۔" اس نے احتجاج کیا۔
" مجھے مت سکھاؤ۔" وہ اتنا کہہ کر اٹھ گئے۔ سلیمہ بھی مسکراتی ہوئی پلٹ گئی۔ تقدس فورا اپنے کمرے میں آئی اور دروازہ بند کر کے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
•••••
جاری ہے,
ناول کے متعلق اپنی رائے کمنٹ کریں, نیکسٹ ایپی پرسوں پوسٹ ہوگی, جزاک اللّہ تعالیٰ.
-Rao
#حدتِ_عشق
" آتشِ عشق یہ عبادت ہے,
زہد و تقویٰ کی راہ سے آگے,
خالی کشکول ہیں جدھر دیکھو,
آنکھ اشکوں سے خون ہو بیٹھی,
بن جلے راہ عشق میں نہ ملیں,
وصلِ محبوب کا تقاضہ ہے,
خاک ہو, خون ہو, فنا ہوجا,
عشق ہستی ہے ذات سے آگے۔"
( از صالحہ منصوری ) آنکھیں بند کئے وہ زیر لب جملے ادا کر رہا تھا جیسے ان الفاظ میں اپنا سکون ڈھونڈ رہا ہو۔ سفید شلوار قمیض میں ملبوس, عمامہ بازو میں رکھے, خوبرو سا دکھنے والا وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ یسین تھا۔ اس کی بھوری آنکھوں میں سمندر سی گہرائی کی جھلک تھی۔ باتوں میں پختگی اور چہرے پر اکثر سنجیدگی طاری رہتی۔ اپنے گروہ کا سب سے طاقتور اور ظاہری, باطنی تمام خوبیوں سے مالا مال جن۔
ہاں وہ جن تھا۔۔ ابنِ آتش۔۔ جس کی اہلیت و شہرت نہ صرف اس کے اپنے گروہ بلکہ کئی سارے گروہوں میں پھیل چکی تھی۔ جس کی زبان سے نکلا ہوا لفظ حرف آخر سمجھا جاتا تھا۔ وہ خاصوں میں خاص تھا اور کیوں نہ ہوتا وہ گروہ کے سردار محمود کا اکلوتا بیٹا تھا۔
آج وہ اکیلے سیر و تفریح کی خاطر لوگوں کے ہجوم سے دور نکل آیا تھا۔ اس نے ایک ویران جگہ پر موجود درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھنا مناسب سمجھا۔ ابھی اسے کچھ دیر ہی گزری تھی جب کسی انسان کے دوڑنے کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔ اس نے فوراً اپنی آنکھیں کھولیں اور ارد گرد دیکھا تو اسے ایک لڑکی دکھائی دی۔ عبایا میں ملبوس, نوس پیس کندھے پر حمائل کیے چھوٹے سے بیگ کی اسٹریپ پر باندھے, وہ روتی ہوئی دوڑ رہی تھی۔ اپنے حال سے بےخبر وہ لڑکی یسین سے کچھ فاصلے پر آکر رک گئی۔ یسین کی نظر اس کے پاؤں پر گئی جو برہنہ تھے اور اس سفید خوبصورت پاؤں پر صرف انگلیوں پر موجود مہندی کا رنگ بہت بھلا معلوم ہو رہا تھا۔ اس کی نظر لڑکی کے چہرے پر گئی۔ سرخ و سفید چہرہ مسلسل رونے سے گلابی مائل ہو چکا تھا۔ اس کی آنکھیں گرے رنگ کی تھیں اور ہونٹ قدرتی طور پر ہلکے زرد سے تھے۔۔ وہ لڑکی اب روتے ہوئے زمین پر بیٹھ گئی اور دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بلک بلک کر رونے لگی۔ اس کی آہیں یسین کے دل کو بےچین کرنے لگیں مگر وہ اسے نہیں دیکھ سکتی تھی کیوں کہ یسین نے خود کو اس کی نظروں سے اوجھل کر رکھا تھا۔
" اللہ۔" بالآخر اس لڑکی نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا۔ " انت تدری من حبیبی, ( تو جانتا ہے کہ میرا محبوب کون ہے۔)
من حبیبی انت تدری, ( کون ہے میرا محبوب تو جانتا ہے۔)
قد کتمت حب حتی, ( میں نے اپنی محبت کو چھپایا۔)
ضاق بالکتمان صدری۔ ( یہاں تک کہ اس کی راز داری سے میرا سینہ تنگ ہو گیا۔)" وہ روتی جاتی اور کہتی جاتی جب کہ یسین خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ کس محبت کی بات کر رہی تھی۔؟ اسے علم نہ تھا لیکن لڑکی کے اگلے جملے نے یہ عقدہ بھی کھول دیا۔
" مجھے کچھ نہیں چاہیے اللہ, مجھے صرف تو چاہیے, مجھے اپنی محبت کے ایک ذرّے سے نواز دے الٰہی, مجھے اس دنیا اور اس دنیا کے لوگوں سے وحشت ہوتی ہے۔ مجھے لوگوں کی نہیں صرف تیری ضرورت ہے۔ اے معاون حقیقی تو میرا معبود ہے مجھے اکیلے نہ چھوڑ۔" یسین اس کے انداز میں کھو سا گیا۔ ابھی وہ اس فسوں سے نکل ہی نہیں پایا تھا کہ کسی کے آنے کا گمان سا ہوا۔ لڑکی نے جلدی جلدی اپنے آنسو پونچھے اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
" تقدس۔۔ تقدس۔۔ کہاں ہو۔؟" وہ کوئی عورت تھی جو اسے ڈھونڈتے ہوئے پکار رہی تھی۔
" ہاں۔" وہ خود کو سنبھال چکی تھی کہ اتنے میں وہ عورت بھی اسے ڈھونڈتے ہوئے وہیں آگئی۔ یہ عورت تیکھے انداز اور بھدے سے جسم کی مالک تھی۔ عمر لگ بھگ تیس کے قریب رہی ہوگی۔ دوپٹہ ندارد اور شلوار قمیض میں ملبوس وہ تقدس کے قریب آ کھڑی ہوئی۔
" میں نے تمہیں کھڑکی سے یہاں آتے دیکھا تھا۔ تم کیا کر رہی تھی۔؟" تیز آواز میں پوچھنے کے ساتھ ہی اس نے ادھر اُدھر بھی دیکھا۔ تقدس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھٹکا۔
" ابھی میں تمہارے آگے جواب دہ نہیں ہوئی ہوں سلیمہ۔" تقدس اتنا کہہ کر آگے بڑھ گئی۔ سلیمہ خود بھی جانے کے لیے مڑ گئی۔ یسین ماجرا جاننے کے لیے تقدس کے پیچھے ہی چلا آیا۔ کچھ دور جانے کے بعد وہ لوگ اب ایک گھر میں داخل ہو چکے تھے۔ یہ گھر کچھ اس طرح سے بنا تھا کہ دروازہ کھلتے ہی ہال سا تھا جس کے آگے کچن تھا۔ اوپری منزل پر تین کمرے تھے۔ جن میں ایک تقدس کا, دوسرے اس کے بابا امانت کا اور تیسرا کمرہ اس کے بھائی فہد اور فہد کی بیوی سلیمہ کا تھا۔ چھوٹا سا یہ گھر ان چار افراد پر مشتمل تھا۔ گو کہ امانت صاحب اپنی بیوی کی وفات کے بعد اپنے بچوں میں برابر پیار و حق تقسیم کرتے تھے لیکن سلیمہ کی چرب زبانی کبھی اتنی غالب آ جاتی کہ تقدس کا وجود کہیں بہت پیچھے چھپ سا جاتا۔ سلیمہ اس سے نہ صرف حسد کرتی تھی بلکہ وہ صرف اپنا آپ منوانے کے چکر میں رہا کرتی تھی۔ امانت صاحب کبھی سمجھتے اور اکثر نہ سمجھتے۔ فہد بیوی کے ہاتھوں کا کھلونا تھا جسے وہ جب چاہتی, جس طرح چاہتی نچا سکتی تھی۔ فہد کے لیے اس کی بیوی ہی سب کچھ تھی۔
•••••
" آخر تم کر کیا رہی تھیں۔؟" سلیمہ تقدس کے پیچھے پیچھے گھر میں داخل ہوئی۔ فہد کام پر گیا ہوا تھا اور امانت صاحب اپنے کسی دوست سے ملنے گئے ہوئے تھے۔
" مجھے برائی پر مجبور مت کرو سلیمہ, جب ایک بار کہہ دیا کہ میں تمہارے آگے جواب دہ نہیں ہوں تو کیوں پریشان کر رہی ہو۔؟" تقدس مڑ کر بولی۔
" تو تم کچھ بھی کرو ہم بولیں بھی نہ۔؟"
" سلیمہ۔" تقدس کا ضبط جواب دینے لگا تھا۔ " میں تمہاری طرح شادی سے پہلے کسی کے بستر کی زینت نہیں بننے گئی تھی۔ سن لیا اب میرا پیچھا چھوڑ دو۔" وہ اتنا کہہ کر اپنے کمرے میں داخل ہوئی اور زور سے دروازہ بند کر لیا۔ سلیمہ غصّے سے لال ہوا چہرہ لیے وہیں کھڑی رہ گئی۔ یہ سچ تھا کہ شادی سے قبل وہ کسی دوسرے کے ساتھ رہ چکی تھی لیکن فہد نے جانتے ہوئے بھی سلیمہ سے شادی کی۔ یہ اور بات ہے کہ امانت صاحب کو اس کی کوئی خبر نہ تھی مگر تقدس واقف تھی۔
" آج تمہیں رلا کر نہ چھوڑا تو میں بھی سلیمہ نہیں۔" وہ سخت غصّے سے گویا ہوئی۔
•••••
تقدس کمرے میں آئی۔ عبایا اور بیگ ایک طرف رکھا۔ اسے تکلیف ہو رہی تھی کہ اس نے اپنی زبان جھگڑ کر آلودہ کیوں کی۔؟
" اللہ۔" وہ دیوار سے لگ کر زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ " میں اپنی زبان پاک رکھنا چاہتی ہوں لیکن یہ لوگ۔۔" اس کے آنسو بہہ نکلے۔ " میں اپنی ریاضت ضائع نہیں کرنا چاہتی میرے اللہ, یا تو انہیں ہدایت نصیب فرما یا مجھے اس قید سے رہائی عطا فرما۔" وہ رو رہی تھی اور اس کے سامنے بیٹھا یسین اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ ان چھوئی, پاکیزہ, سادہ اور دنیا کی رنگینیوں سے دور رہنے والی لڑکی اس کی آنکھوں میں سماتی دل میں اترتی چلی گئی۔ یسین کو اسے روتے دیکھ کر تکلیف ہو رہی تھی۔ وہ خود اپنی کیفیت سے انجان تھا کہ آخر تقدس کو روتا دیکھ کر اسے کیوں تکلیف ہو رہی ہے۔؟ تقدس کچھ دیر اور روتی رہی پھر وہیں روتے روتے سو گئی۔ اس کے سونے کے بعد یسین بھی کھڑکی سے باہر چلا گیا۔
تقدس بچپن سے ایسی بی تھی۔ ہر حال میں حق کی راہ چننے والی۔ بڑھتی عمر کے ساتھ وہ اکیلے رہنے لگی تھی کیوں کہ اسے لگتا تھا کہ ہجوم کے ذریعے زبان فضول گوئی سے آلودہ اور گناہوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اسے ہمیشہ اس بات کا دھڑکا لگا رہتا کہ کہیں اس کی وجہ سے کچھ غلط نہ ہو جائے۔ اس کی زبان سے کوئی غلط جملہ نہ ادا ہو, اس کے ہاتھ سے کسی کو ضرر نہ پہنچے, مگر شاید وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اپنی ذات کے شر سے ڈرنا ہر ایک کے نصیب میں نہیں ہوتا, اور جن کے نصیب میں ہوتا ہے وہ بڑے نصیب والے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ تو اللہ کے محبوب ہوتے ہیں جن کے دل پرندوں کی طرح نرم و نازک ہوں اور خوش قسمتی سے تقدس بھی ایسی ہی تھی۔
•••••
وہ جس وقت اپنے گروہ میں واپس آیا شام کا اندھیرا چھا چکا تھا۔ وہ گروہ میں ادھر اُدھر بے مقصد گھومتا رہا۔ بار بار آنکھوں کے سامنے وہی اُداس چہرہ آجاتا۔ وہ خود کو مصروف ظاہر کرتا ہوا مختلف کاموں میں لگا ہوا تھا کہ اچانک کسی نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔ یسین نے مڑ کر دیکھا تو اس کا سب سے قریبی دوست حرمان مسکراتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
" اُلجھے ہوئے لگ رہے ہیں۔؟"
" ایسی کوئی بات نہیں میرے دوست۔" یسین نے بھی مسکرا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
" دل تو نہیں مانتا میرا۔" حرمان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ " پھر بھی آپ بتانا نہیں چاہتے تو میں اصرار نہیں کروں گا۔"
" میرے دوست کبھی کبھی ہم وقتی کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں شاید میں بھی ہو رہا ہوں۔۔ خیر ماسون کی کوئی خبر ملی۔؟" اس نے بات گھماتے ہوئے گفتگو کو دوسرا رخ دے دیا۔
" ابھی تک تو کوئی خبر نہیں ملی۔"
" اللہ بہتر تدبیر فرمانے والا ہے۔" یسین نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا تو حرمان بھی " بیشک۔" کہہ کر خاموش ہو گیا۔
•••••
رات کے کھانے پر وہ لوگ اکھٹے ہوئے تو سلیمہ کے چہرے پر پہلے سے ہی غصّے کی جھلک تھی۔ جب وہ لوگ کھانا کھا چکے تو سلیمہ نے سب کو روک لیا۔
" مجھے کچھ بات کرنی ہے۔"
" بولو۔" فہد نے کہا۔ سلیمہ نے پہلے اسے دیکھا پھر امانت صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگی۔
" بابا یہ اکیلے جنگل میں چلی جاتی ہے اگر کچھ ہوگا تو نام میرے اوپر نہ آئے, میں پہلے ہی بتا کر بری الذمہ ہونا چاہتی ہوں۔"
" میں کسی کی غلام نہیں ہوں جو ہر ایک کے سامنے جواب دوں۔" تقدس نے کہا۔
" ایک منٹ۔۔" فہد بیچ میں بول پڑا۔ " تُجھے کیا ہو رہا ہے کوئی مرے جئے, کسی کے ساتھ کچھ بھی ہو تُجھے کیا۔؟ دوسروں کے معاملے میں مت پڑ۔" وہ بظاھر سلیمہ کو کہہ رہا تھا لیکن تقدس بچی نہ تھی جو ان لفظوں میں چھپے طعنے نہ سمجھ پاتی۔ فہد کو سلیمہ نے تقدس سے اس قدر بدظن کر رکھا تھا کہ وہ اس کا نام بھی نہیں لیتا تھا۔
" لڑو نہیں۔" امانت صاحب جو اب تک خاموش تھے فہد کی بات پوری ہوتے ہی گویا ہوئے۔ " تم لوگوں کو تقدس سے سوال جواب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں, اور تقدس تم مجھے بتا کر جاؤ گی جہاں بھی جانا ہو اگر میں کبھی گھر میں نہیں رہا تو تم کمرے میں رہو گی۔" اُنہوں نے اپنے تئیں بات ہی ختم کردی اور اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلے گئے۔ سلیمہ بھی فہد کے کندھے پر سر رکھے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی لیکن جاتے جاتے وہ تقدس پر ایک طنزیہ مسکراہٹ ڈالنا نہ بھولی۔ تقدس خاموش کھڑی تھی۔ سب کے جانے کے بعد اس کی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر زمین پر گرے اور وہیں جذب ہونے لگے۔ اس نے ہال کی لائٹس بند کیں اور پھر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
•••••
جاری ہے,
کیسا رہا نیا ناول۔؟ کمنٹ کر کے اپنی قیمتی رائے کا اظہار کریں,
جزاک اللّہ,
نیکسٹ ایپی جلد ہی 🌺
Aijaz Rao
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Okara
