Asif Iqbal Daudzai

Asif Iqbal Daudzai

Share

Ex-Information Minister & Deputy Secretary General Jamiat Ulama e Islam Khyber Pakhtunkhwa Pakistan

06/04/2026
30/10/2024

جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی سپریم کورٹ بار انتخابات میں نومنتخب صدر کو مبارکباد

میاں رؤف عطاء کو صدر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔مولانا فضل الرحمان

وکلاء کی جمہوریت اور آئین کے لئے قربانیاں قابل قدر ہیں ۔مولانا فضل الرحمان

میاں رؤف عطاء جے یو آئی کے دیرینہ رہنما ہیں ۔مولانا فضل الرحمان

امید ہے وہ آئین اور جمہوریت کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے ۔مولانا فضل الرحمان صاحب

سپریم کورٹ بار پاکستان کے نومنتخب صدررؤف عطاء ایڈوکیٹ کوئٹہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ سیاسی حوالے سے جمعیت علماء اسلام سے دیرینہ وابستگی ہے۔
2002ء میں آپ پی بی ون کوئٹہ سےجمعیت کے کوٹہ سے ایم ایم اے کے امیدوار تھے۔ آپ کی اہلیہ محترمہ شاہدہ رؤف جمعیت علماء اسلام کی ایم پی اے رہی ہیں۔

واضح رہے کہ 2013 میں جمعیت علماء اسلام کے کامران مرتضی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ بار کے (16ویں ) صدر منتخب ہوئے تھے۔

28/10/2024

اے مومنو کیا آپ اس کانفرنس میں شرکت کے لئے تیار ہو؟
اور کہاں سے؟

27/10/2024

افغان کرکټ ټيم ته په
ايشیا کرکټ کپ
کښي بریا مبارک شه

27/10/2024

مظلوم فلسطینی و لبنانی معصوم مسلمانوں سے اظہار یکجہتی اور امریکہ کے پٹھو غاصب اسرائیل کے خلاف سر زمین پشاور پر جمعیت علماء اسلام خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام 8 دسمبر 2024 بروز اتوار ایک عظیم الشان تاریخ ساز
“اسرائیل مردہ باد کانفرنس”
کا انعقاد ہورہا ہے
تمام زی شعور مسلمانوں کو اس میں شرکت کی دعوت ہے۔
آصف اقبال داؤدزئی
صوبائی رہنماء و سابق وزیر
جمعیت علماء اسلام خیبرپختونخوا

22/10/2024

سودی نظام کے خلاف ترمیم ، مایوسی پھیلاتے عناصر اور بندہ مومن کا رویہ
۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر محمد ابوبکر صدیق
انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد
۔۔۔۔۔۔۔۔
ۚ وَ عَسٰۤی اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّ ہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ۚ وَ عَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیۡئًا وَّ ہُوَ شَرٌّ لَّکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۱۶﴾ البقرہ

اور ممکن ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ (حقیقتاً) تمہارے لئے بہتر ہو، اور (یہ بھی) ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ (حقیقتاً) تمہارے لئے بری ہو اور اللہ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتےo
۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ آیت ایک ایسے ہی موقع پر نازل ہوئی تھی کہ مسلمان تذبذب میں مبتلا تھے کہ یہ جو امر درپیش ہوا ہے کیا اس میں خیر بھی ہے یا کہ نہیں یا یہ ہمارے لیے کوئی نئی مصیبت ہے۔ ایسے ماحول میں اللہ کی جانب سے پیغام آیا کہ خیر کی توقع اور امید رکھو اور اللہ پر توکل کرو کیونکہ وہ بہتر جانتا ہے ۔

ہمارے معاشرے میں بہت سے صحافی حضرات کا کام مایوسی پھیلانا اور اپنے پیروکاروں کی تعداد بڑھانا بن چکا ہے، تاکہ وہ بھی اسی مایوسی کی گہرائیوں میں جا گریں۔ ان حضرات کو ہر مثبت کام میں کوئی نہ کوئی شک کی گنجائش نظر آتی ہے۔ حسد اور دکھاوے کے مارے ہوئے یہ افراد ہمیشہ تنقید اور مخالفت پر کمر بستہ رہتے ہیں۔

چند روز پہلے یہی صحافی احباب تھے جو عشاء کے بعد ٹی وی اور سوشل میڈیا پر ’’ایک خاص سیاسی مذہبی جماعت ‘‘کو مبارکباد دینے اور خوشامد کرنے کے لیے بڑھ چڑھ کر میدان میں تھے، بینرز لگائے اور آسمان زمین کے قلابے ملا رہے تھے۔ لیکن آج ان کی ٹون بالکل بدل چکی ہے۔
میں کہتا ہوں کہ سودی نظام تو پہلے بھی چل رہا تھا اور آئین کی وہ شق پہلے بھی موجود تھی اور وہ شق ہمیشہ حکومتوں کو فرار کا بہانہ فراہم کرتی تھی کہ تاریخ مقرر نہیں تھی اور وہ لیت و لعل سے کام لیتے ہوئے ’’بس کریں بس کل کریں گے‘‘ کہہ کر عوام کو دھوکہ دیتے تھے۔

مگر اللہ کے فضل سے اب ایک تاریخی قدم اٹھایا گیا، چاہے یہ آئین کے باب ۲ میں ہی شامل ہوا ہو، لیکن شامل تو ہوا۔ اگر یہ قدم نہ اٹھایا جاتا تو بتائیے آپ اور ہم کر بھی کیا سکتے تھے؟
حالیہ ترمیم کے بعد کم از کم سودی نظام کے خلاف کچھ پیش رفت تو ہوئی ہے۔ کیا خبر کہ آنے والی نسلوں کو اللہ مزید ہمت عطا فرمائے اور وہ یہاں سے آگے بڑھ کر خیر کے مزید کام سرانجام دیں۔اہل کفر اور فساق کی اپنی سازشیں اور چالیں ہوتی ہیں لیکن اللہ کی تدبیر ہی غالب اور کار آفریں رہتی ہے۔ اگر سودی نظام کے خاتمے کی شق کو باب نمبر ۲ میں رکھنا اُن کی خفیہ سازش ہو تو عین ممکن ہے کہ مستقبل میں تدبیر الہی اُن کی یہی چال اُن پر الٹ دے اور کوئی ایسی ترمیم آجائے جس کی بنیاد یہی ترمیم بن جائے یا کسی اور انداز میں کامیابی ہو جائے۔
توحید و رسالت ﷺ کے علم بردار کبھی بھی مایوس نہیں ہوا کرتے ۔
بس ایک منزل ہے بوالہوس کے ہزار رستے ہیں۔
اہل دل کے
یہی تو ہے فرق مجھ میں اس میں گزر گیا میں ٹھہر گیا وہ

نظام ہمیشہ تدریجاً بنتے اور ختم ہوتے ہیں ۔ اللہ کے فضل سے ہم مسلمان ہیں اور پُرامید ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ خیر کا کردار ادا کرتے ہوئے رب سے ملاقات کی خواہش دلوں میں جگائے اپنے اپنے مناصب پر خیر کی کاوش جاری رکھیں۔ اگر آئین کی یہ ترمیم مجموعی طور پر کسی کے نزدیک ایک شَر ہے تو اِس میں سود کے خلاف اٹھایا گیا قدم خیر کا پہلو ہے۔ اس شر کو ہم روک نہیں سکتے تھے اور سود کے علاوہ باقی ترامیم تو پہلے بھی انہی طاقتور افراد کے ذاتی مفادات کے تحت تھیں اور عوام کو کبھی اُن کا فائدہ نہ ہوا تھا، نہ ہوگا۔
اگر یہ ترمیم نہ ہوتی اور بقیہ ترامیم ہوتیں تو بتائیے آپ کو اور ہمیں کیا فائدہ اور خوشی ہوتی ؟

لیکن اس ترمیم سے ایک تو حوصلہ ہوا کہ ہم قومی سطح پر اور آئین کی سطح پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف اعلان جنگ سے واپس کی راہ پر جانے لگے ہیں۔ کیا ایک بندہ مومن کے لیے یہ کوئی چھوٹی خوشخبری ہے! حیرت ہے۔

مغربی ابلیسیت کے جمہوری نظام میں جہاں کچھ اسلامی احکام کا ہلکا سا تڑکا لگایا گیا ہے، ایسے میں سود کے خلاف یہ پیش قدمی بھی غنیمت ہے۔سودی نظام کے حامی و دلدادہ اکنامکس والے پروفیسرز جن کی ساری زندگی سود کھانے، پڑھنے ، پڑھانے میں گزری کہ سود کی کالک اُن کے دلوں تک کو مردہ اور سیاہ کرچکی ہے ، دو دنوں سے اُن کے قلوب کی سیاہی چہروں پر عیاں ہونا شروع ہوگئی ہے کہ پہلے وفاقی شرعی عدالت کا فیصلے پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان 2028 کی تاریخ دے رکھی تھی اور بینکاری نظام تیزی سے اسلامی ہونے کی جانب گامزن تھا اور اب اوپر سے وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ آئین پاکستان کا حصہ بن گیا ہے اور 2028 کی تاریخ دے دی گئی ہے۔ اس فیصلے سے تو ’’اکنامکس کے کسریٰ کے آتش کدے بجھا دیے ہیں ‘‘ یا ’’قیصران ِ اکنامکس کے محلات کی دیواروں میں دراڑ ڈال دی ہے‘‘۔ سود اور اس سودی اکنامکس کے ’’اسٹیک ہولڈرز‘‘ نوحہ کناں ہیں اور اپنے اندرونی ماتم کو چھپانے کے لیے شور ڈال رکھا ہے کہ ’’اس نئی ترمیم سے کچھ نہیں ہوگا، آپ ایویں خوش نہ ہوں ‘‘۔

لیکن نور توحید ہمیشہ ابلیسی جہالت کی شب تیرہ کو تار تار کرتا رہا ہے اور اب بھی کرے گا۔ سود کے خلاف یہ ترمیمی کلاز ’’نور توحید ‘‘ ہے اور ہم پر امید ہیں کہ یہ نور کی کرن سودی نظام کی تاریکی کو ختم کرے گی اور ہمارے علمائے عظام کی مخلصانہ کاوشیں رنگ لائیں گیں۔
اس لیے احباب پُر امید رہیں اور اپنے اپنے مناصب پر خیر کی کاوش جاری رکھیں ۔

پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

اللہ تعالی ہمیں اتحاد و اتفاق نصیب فرمائے اور نظام مصطفی ﷺ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم الامین ﷺ

21/10/2024

چھبیسویں آئینی ترمیم میں سود خاتمہ ، مدارس رجسٹریش اور وفاقی شرعی عدالت بارے قوانین پاس کروانے پر حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب نے میرے میرے قائد حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب کی کن الفاظ میں تحسین کی۔
خود ملاحظہ کریں۔

21/10/2024

آج مرحوم سید شمس الرحمن شمسی کا یوم وفات ہے۔
وہ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب دامت برکاتہم کے معتمد خاص اور جمعیت علماء اسلام کے ایک بہت ہی بڑے اثاثہ تھے۔
اپنے دین ، قوم اور جماعت کے لئے انکی بے پناہ قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
تمام دوست احباب سے گزارش ہے کہ ان کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔
اللہ تعالٰی انکی مغفرت فرمائے۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Jatti Bala Daudzai
Peshawar
25000