11/10/2026
**اسلام آباد میں طالبہ لائبہ کی مبینہ خودکشی کا واقعہ افسوسناک ہے، تعلیمی فراڈ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، ناصرہ عبادت**
جماعت اسلامی سے وابستہ سابقہ میٹروپالیٹن ڈسٹرکٹ ممبر پشاور، چیئرپرسن پختونخوا قومی جرگہ اور چیئرپرسن ہیومن رائٹس موومنٹ خیبرپختونخوا ناصرہ عبادت نے اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ کی مبینہ خودکشی کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بیرونِ ملک تعلیم کے نام پر مبینہ فراڈ کرنے والے عناصر کے خلاف شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
ناصرہ عبادت نے کہا کہ دستیاب اطلاعات کے مطابق لائبہ نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے بیرونِ ملک جانے کا خواب دیکھا تھا، تاہم امریکی یونیورسٹی میں داخلے کے نام پر مبینہ طور پر بھاری رقم وصول کی گئی اور بعد ازاں داخلے سے متعلق دستاویزات جعلی ہونے کا انکشاف ہوا۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف ایک طالبہ کے مستقبل بلکہ ایک غریب خاندان کی برسوں کی محنت اور امیدوں کے ساتھ سنگین زیادتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک والد اپنی اولاد کے روشن مستقبل کے لیے اپنی جمع پونجی، جائیداد اور دیگر وسائل قربان کرتا ہے۔ ایسے خاندانوں کو بیرونِ ملک تعلیم کے نام پر دھوکا دینے والے عناصر کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔ متعلقہ ادارے مبینہ ایجنٹ اور اس کے نیٹ ورک کی تحقیقات کریں، مالی لین دین کا ریکارڈ حاصل کریں اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کریں۔
ناصرہ عبادت نے کہا کہ لائبہ سے منسوب آخری پیغام، جس میں اس نے اپنے والد کو فراڈ کے بارے میں نہ بتانے کی درخواست کی، انتہائی تکلیف دہ ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا سامنا کرنے والے افراد کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے اور انہیں بروقت جذباتی، نفسیاتی اور خاندانی مدد فراہم کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے حکومت، وفاقی تحقیقاتی اداروں اور متعلقہ تعلیمی حکام سے مطالبہ کیا کہ بیرونِ ملک داخلوں کے نام پر کام کرنے والے کنسلٹنٹس اور ایجنٹس کی جانچ پڑتال کا مؤثر نظام بنایا جائے، طلبہ اور والدین کو داخلوں کی تصدیق کے لیے مستند ذرائع فراہم کیے جائیں اور تعلیمی فراڈ کی شکایات پر فوری کارروائی کی جائے۔
ناصرہ عبادت نے متاثرہ خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لائبہ کے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہییں تاکہ حقائق سامنے آئیں اور اگر کسی نے دھوکا دہی کی ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی طالب علم کے خواب، محنت اور مستقبل سے کھیلنے والوں کا احتساب ضروری ہے تاکہ دوسرے خاندان ایسے سانحات سے محفوظ رہ سکیں۔