06/06/2026
ڈاکٹر ماہ نور کے ساتھ پیش آنے والا افسوسناک واقعہ نہ صرف ایک فرد پر حملہ ہے بلکہ پوری انسانیت، اخلاقیات اور اسلامی تعلیمات پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ کسی انسان کے چہرے پر تیزاب پھینکنا انتہائی ظالمانہ اور غیر انسانی عمل ہے، جس کی کسی بھی مہذب معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں۔
اسلام نے انسان کی عزت، جان اور وقار کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے چہرے پر مارنے سے منع فرمایا، کیونکہ چہرہ انسان کی شناخت اور عزت کا مرکز ہے۔ جب ایک عام تھپڑ سے منع کیا گیا ہے تو پھر کسی کے چہرے کو تیزاب سے جلا دینا کس قدر سنگین جرم ہوگا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
نبی کریم ﷺ نے جنگ جیسے سخت حالات میں بھی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو نقصان پہنچانے سے منع فرمایا۔ یہ اسلام کی رحمت، عدل اور انسان دوستی کی روشن مثال ہے۔ افسوس کہ آج بعض لوگ ذاتی دشمنی، انتقام یا نفرت میں اتنے اندھے ہو جاتے ہیں کہ انسانی اقدار کو پامال کر دیتے ہیں۔
ڈاکٹرز اور طبی عملہ دن رات انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے۔ اس واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی شخص ایسی درندگی کا سوچ بھی نہ سکے۔
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر ماہ نور کو مکمل صحت اور صبر عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے کو ظلم، نفرت اور تشدد سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

05/06/2026
02/06/2026
01/06/2026
01/06/2026
26/05/2026