02/09/2026
سپریم کورٹ آف پاکستان کے بعد اب اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی واضح حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کا سلسلہ ختم کرنے اور اڈیالہ جیل انتظامیہ کو ان کے بنیادی و قانونی حقوق مکمل طور پر یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے عمران خان سے اہلِ خانہ کی ملاقاتیں، ان کے بیٹوں سے ٹیلی فون پر گفتگو، روزانہ اخبارات اور کتابوں تک رسائی، اور مناسب و ضروری طبی سہولیات فراہم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ واضح عدالتی حکم کے باوجود منگل کے روز عمران خان کی بہنوں کو ان سے ہفتہ وار خاندانی ملاقات تک کی اجازت نہیں دی گئی۔
یہ محض ایک حکم کی خلاف ورزی نہیں، بلکہ عدلیہ کے اختیار اور قانون کی حکمرانی کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے۔
اب پوری قوم کی نظریں جسٹس سومرو پر ہیں:
کیا وہ عدالت کے واضح حکم کی اس کھلی خلاف ورزی پر خاموش رہیں گے؟
یا پھر کے تحت توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کریں گے؟
اگر عدالتی احکامات پر بھی عملدرآمد نہ ہو تو پھر قانون کی حکمرانی اور انصاف کے دعوے کس بنیاد پر کیے جائیں؟
اب فیصلہ صرف ایک ملاقات کا نہیں، عدلیہ کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا ہے۔