01/10/2026
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی سے عوام کو جو توقعات وابستہ تھیں، خصوصاً ان کے اپنے ضلع خیبر کے حوالے سے، وہ توقعات تاحال اس انداز میں پوری ہوتی نظر نہیں آ رہیں جس کی عوام کو امید تھی۔ ضلع خیبر کے عوام نے برسوں سے دہشت گردی، بدامنی، نقل مکانی، معاشی مشکلات اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کیا ہے، اس لیے اس خطے کو محض اعلانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
ملک سید غاجان آفریدی نے کہا کہ تیراہ کے متاثرین کا مسئلہ سب سے زیادہ فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ ہزاروں خاندان اپنے گھروں، زمینوں اور کاروبار سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان کی باعزت واپسی، مکمل بحالی، معاوضوں کی ادائیگی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مستقل آبادکاری کے لیے واضح اور قابلِ عمل لائحہ عمل سامنے آنا چاہیے۔ صوبائی حکومت نے تیراہ متاثرین کے لیے مالی اقدامات کے اعلانات کیے ہیں، مگر اصل کامیابی تب ہوگی جب متاثرین کو عملی طور پر ریلیف ملے۔
انہوں نے کہا کہ کارخانوں سے خیبر تک ٹرانسپورٹ اور سڑکوں کا نظام ضلع خیبر کی معاشی زندگی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ عوام کو روزانہ سفر، کاروبار اور روزگار کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔ اس پورے روٹ کو جدید، محفوظ اور بہتر بنانے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ خیبر کے عوام کو پشاور سے مؤثر اور تیز سفری سہولت میسر آسکے۔
ملک سید غاجان آفریدی نے مزید کہا کہ میٹرو بس یا جدید پبلک ٹرانسپورٹ کا دائرہ ضلع خیبر تک بڑھانے پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ پشاور کے شہریوں کے لیے بڑے منصوبے ضرور بننے چاہئیں، لیکن سابق قبائلی اضلاع کے عوام کو بھی ترقی کے ثمرات اور جدید سفری سہولیات میں برابر کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے ریگی للمہ کے زمینی تنازعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ حساس نوعیت کا ہے اور اسے طاقت یا محض سیاسی بیانات کے ذریعے نہیں بلکہ مقامی قبائلی مشران، متاثرہ خاندانوں اور تمام متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لے کر قانونی اور منصفانہ طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے بھی اس معاملے کو مشاورت سے حل کرنے کی بات سامنے آ چکی ہے، اب عوام عملی پیش رفت دیکھنا چاہتے ہیں۔
ملک سید غاجان آفریدی نے کہا کہ ضلع خیبر کو روزگار، تعلیم، صحت، سڑکوں، بجلی، پانی، صنعت اور امن و امان کے حوالے سے ایک خصوصی ترقیاتی پیکیج کی ضرورت ہے۔ یہاں کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دیے جائیں، صنعتی زونز کو فعال کیا جائے، تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں اور صحت کے مراکز کو جدید سہولیات فراہم کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا تعلق خود ضلع خیبر سے ہے، اس لیے خیبر کے عوام کی نظریں ان پر زیادہ ہیں۔ عوام شخصیت سے نہیں، کارکردگی سے مطمئن ہوتے ہیں۔ اگر ضلع خیبر کے بنیادی مسائل حل کرنے کے لیے ٹائم لائن کے ساتھ عملی منصوبہ دیا جائے تو عوام اس کا خیرمقدم کریں گے۔
ملک سید غاجان آفریدی نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ضلع خیبر کے لیے خصوصی اجلاس بلائیں، تیراہ متاثرین کی بحالی، ریگی للمہ تنازع، کارخانوں سے خیبر تک سفری سہولیات، سڑکوں، صحت، تعلیم اور روزگار کے مسائل پر پیش رفت رپورٹ عوام کے سامنے رکھیں۔