Minority Affairs Department, KP

Minority Affairs Department, KP

Share

Working for the welfare of Minorities.

02/06/2026
Photos from Auqaf, Hajj & Religious Affairs Department KP's post 02/06/2026
25/05/2026

Corrigendum

20/05/2026

خیبر پختونخوا کے محکمہ اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور کے ایڈیشنل سیکرٹری حبیب خان آفریدی، سینٹرل انصاف اقلیتی ونگ کے صدر لال چند ملہی، سیکرٹری جنرل حبقوق گل، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے اقلیتی امور کے فوکل پرسن وزیر زادہ کیلاشی، دیگر سرکاری افسران اور مختلف اقلیتی برادریوں کے نمائندوں نے وادی رُمبور میں کیلاش برادری کے مذہبی تہوار چلم جوشی‘‘ میں شرکت کی۔
وفد نے اس موقع پر کیلاش برادری کو تہوار کی مبارکباد پیش کی اور ان میں ضروری اشیائے ضرورت تقسیم کیں۔ تقسیم کی جانے والی اشیاء میں تین سو چھوٹی کرسیاں، چار سیٹ بڑے برتن (کروکری)، قبرستان سے متعلق سامان اور ایک جنریٹر شامل تھا،
اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری اوقاف، مذہبی و اقلیتی امور حبیب خان آفریدی نے شرکاء کو کیلاش برادری کے لیے منظور شدہ مختلف ترقیاتی منصوبوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا صوبے کی تمام اقلیتی برادریوں کی فلاح و بہبود، مذہبی آزادی اور سماجی تحفظ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیلاش تہواروں کے لیے زمین کی خریداری کی مد میں ایک کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے انچاس لاکھ روپے کیلاش گرام تہوار گاہ جبکہ گیارہ لاکھ روپے مہادیو میں ملحقہ زمین کی خریداری کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیوہ خواتین، یتیم بچوں اور خصوصی افراد کے لیے جلد مالی امداد کا اجراء کیا جائے گا، جبکہ اقلیتی طلبہ و طالبات کے لیے چار کروڑ روپے مالیت کے وظائف بھی فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے منظور کردہ پانچ سو لیپ ٹاپس کی اسکیم کو اقلیتی نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے تعلیم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کو فروغ ملے گا۔
وفد نے جیستک ہان بالن گورو کا دورہ بھی کیا، جسے محکمہ اوقاف و اقلیتی امور نے حال ہی میں بیس لاکھ روپے کی لاگت سے بحال کیا ہے۔
اس موقع پر حکومت خیبر پختونخوا کے اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ صوبے میں آباد تمام اقلیتی برادریوں کے مذہبی اور ثقافتی تہوار، بشمول کرسمس، ایسٹر، دیوالی، ہولی، بیساکھی، نوروز، چیلم جوشٹ، اُچاﺅ، پُھول اور دیگر مذہبی و ثقافتی تقریبات، سرکاری سرپرستی میں بھرپور انداز سے منائی جائیں گی۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ان تقریبات کا بنیادی مقصد بین المذاہب ہم آہنگی، بھائی چارے، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہے تاکہ پاکستان کے تمام شہری، بلا تفریق مذہب و عقیدہ، خود کو برابر، محفوظ اور باعزت محسوس کریں۔ مقررین نے کہا کہ آئینِ پاکستان تمام شہریوں کو یکساں حقوق فراہم کرتا ہے اور حکومت خیبر پختونخوا ایک ایسے معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں ہے جہاں تمام مذاہب اور ثقافتوں کو عزت، تحفظ اور مساوی مواقع حاصل ہوں۔

13/05/2026

Chilam Joshi Festival 2026

11/05/2026

پادری شہزاد مراد بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور باہمی احترام کے فروغ کے حوالے سے اظہارِ خیال کر رہے ہیں۔

03/05/2026

محکمہ اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور خیبر پختونخوا نے دہشتگردی کے باعث متاثرہ اقلیتی برادری کے افراد میں مالی امداد کی چیکس تقسیم کے لیے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا
• اس تقریب میں 11 بیوہ خواتین، 24 یتیم بچوں اور 2 مستقل معذوری کا شکار ہونے والے افراد میں بالترتیب 20 لاکھ، 10 لاکھ اور 10 لاکھ روپے فی کس کے چیک تقسیم کیے گئے۔
•یہ اقدام وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات کے تحت صوبائی کابینہ کی منظوری سے عمل میں لایا گیا۔
• تقریب کی مہمان خصوصی صوبائی وزیر بلدیات و اعلی تعلیم مینا خان افریدی تھے

02/05/2026

محکمہ اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کے باعث متاثرہ اقلیتی برادری کے افراد میں مالی امداد کی چیکس تقسیم کئے۔ اس تقریب میں 11 بیوہ خواتین، 24 یتیم بچوں اور 2 معذور افراد میں بالترتیب 20 لاکھ، 10 لاکھ اور 10 لاکھ روپے فی کس کے چیک تقسیم کیے گئے۔

Photos from Minority Affairs Department, KP's post 02/05/2026

محکمہ اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کے باعث متاثرہ اقلیتی برادری کے افراد میں مالی امداد کی چیکس تقسیم کے لیے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں 11 بیوہ خواتین، 24 یتیم بچوں اور 2 مستقل معذوری کا شکار ہونے والے افراد میں بالترتیب 20 لاکھ، 10 لاکھ اور 10 لاکھ روپے فی کس کے چیک تقسیم کیے گئے۔
یہ اقدام وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایات کے تحت صوبائی کابینہ کی منظوری سے عمل میں لایا گیا۔ تقریب کی مہمان خصوصی محترم مینا خان افریدی، صوبائی وزیر برائے لوکل گورنمنٹ الیکشن اینڈ رورل ڈویلیپمنٹ اور محکمہ اعلیٰ تعلیم تھے۔ اس موقع پر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے معزز ممبران صوبائی اسمبلی، سرکاری حکام، اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
چیکس کی تقسیم سے قبل ایڈیشنل سیکرٹری اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور جناب حبیب خان نے صوبائی وزیر محترم مینا خان افریدی اور دیگر شرکاء کو ایک جامع پریزنٹیشن پیش کی۔ اس پریزنٹیشن میں درج ذیل اہم امور کا احاطہ کیا گیا
• ادارہ جاتی اور ریگولیٹری فریم ورک
• ترقیاتی اقدامات بشمول 61 ملین روپے کا اسکالرشپ پروجیکٹ برائے اقلیتی طلبہ
• اقلیتی طلبہ کے لیے قومی آؤٹ ریچ پروگرام
• 32 ملین روپے کا ویلفیئر پیکیج برائے اقلیتی برادری
• مائنارٹیز اینڈومنٹ فنڈ (200 ملین سے بڑھا کر 400 ملین)
• عبادت گاہوں کے لیے آلات کی فراہمی
• اقلیتی قبرستانوں کے لیے زمین کی خریداری (50 ملین روپے کا منصوبہ)
• عبادت گاہوں اور رہائشی کالونیوں کی بحالی (513 ملین روپے، 109 اجزاء پر مشتمل)
• 2025-26 کے لیے ADP اسکیمز (جاری و نئی)
• اوقاف املاک کی بنیادی شماریات اور بجٹ
• محکمہ اوقاف کی کارکردگی، مسائل اور سفارشات
صوبائی وزیر محترم مینا خان افریدی نے اپنے خطاب میں حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اقلیتی برادری پاکستان کے برابر اور باعزت شہری ہیں جن کی جان و مال کا تحفظ، متاثرہ علاقوں کی بحالی اور انہیں معاشی و سماجی طور پر خودمختار بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ اقلیتی نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں اور معیاری پیشہ ورانہ تربیت سے آراستہ کیا جائے اور انہیں کاروباری معاونت فراہم کر کے خود روزگار کے قابل بنایا جائے تاکہ وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جناب محمد سہیل افریدی کی ہدایات کی روشنی میں اقلیتی برادری کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور ان کے مؤثر تحفظ و بااختیاری کے لیے مائنارٹی ڈائریکٹریٹ کے قیام کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جس کے لیے ضروری اقدامات جلد مکمل کیے جائیں گے۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ حکومت خیبر پختونخوا اقلیتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور انہیں اسلام اور آئین پاکستان کے تحت مکمل مساوی حقوق حاصل ہیں، جہاں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، عبادت گاہ قائم کرنے اور قانون کے سامنے برابری کی ضمانت دی گئی ہے جبکہ کسی بھی قسم کے مذہبی، نسلی یا صنفی امتیاز کی سختی سے ممانعت ہے اور اقلیتوں کے قانونی و ثقافتی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان ہر قسم کے امتیاز کو مسترد کرتے ہوئے اقلیتوں کو سیاست، تعلیم، ملازمت اور عبادت سمیت ہر شعبے میں مساوی مواقع فراہم کرتا ہے، اور اسی تناظر میں پاکستان تحریک انصاف ریاست مدینہ کو ایک مثالی ماڈل کے طور پر دیکھتی ہے جہاں نبی کریم ﷺ کی قائم کردہ فلاحی ریاست میں ہر مذہب، رنگ اور نسل کے افراد کو برابر کا شہری تسلیم کیا گیا اور انہیں مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ سیاسی و معاشی نظام میں بھی شریک کیا گیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تحریک انصاف کا وژن ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں تمام شہری، بلا امتیاز مذہب و مسلک، ترقی کے ثمرات میں برابر کے شریک ہوں، اور اسی وژن کے تحت اقلیتی برادری کے لیے انڈومنٹ فنڈ کو دوگنا کر کے 200 ملین سے 400 ملین تک بڑھایا گیا ہے جبکہ 500 لیپ ٹاپس کی فراہمی کے لیے 11 کروڑ 50 لاکھ روپے کی منظوری بھی دی گئی ہے، تاکہ اقلیتی نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے انہیں بااختیار بنایا جا سکے۔

اس موقع پر سیکرٹری اوقاف، جناب عطا الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبائی حکومت اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے ایک جامع حکمت عملی کے تحت مختلف منصوبوں پر عمل پیرا ہے، جن میں مالی امداد و گرانٹس کی فراہمی، طلبہ کے لیے اسکالرشپس، اقلیتی رہائشی کالونیوں کی بحالی و ترقی، عبادت گاہوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، صاف پانی اور صفائی کے منصوبے، اور نوجوانوں کے لیے جدید ڈیجیٹل و ووکیشنل ٹریننگ پروگرامز شامل ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر پروگرام کے تھیم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب کا بنیادی مقصد شمولیت (Inclusivity)، مذہبی رواداری اور عدم تشدد کے فروغ کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ ہم سب پاکستانی ہیں اور اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب شہریت برابر ہے تو حقوق بھی برابر ہیں، تاہم اقلیتی برادری اپنی اہمیت اور مثبت کردار کے باعث ریاست اور معاشرے کے لیے ایک خصوصی حیثیت رکھتی ہے، اسی لیے حکومت انہیں اضافی سہولتیں اور مواقع فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ وہ مزید بااختیار ہو کر قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں

Photos from Minority Affairs Department, KP's post 02/05/2026

محکمہ اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کے باعث متاثرہ اقلیتی برادری کے افراد میں مالی امداد کی تقسیم کے لیے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں 11 بیوہ خواتین، 24 یتیم بچوں اور 2 مستقل معذوری کا شکار ہونے والے افراد میں بالترتیب 20 لاکھ، 10 لاکھ اور 10 لاکھ روپے فی کس کے چیک تقسیم کیے گئے۔
یہ اقدام وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایات کے تحت صوبائی کابینہ کی منظوری سے عمل میں لایا گیا۔ تقریب کی مہمان خصوصی محترم مینا خان افریدی، صوبائی وزیر برائے لوکل گورنمنٹ الیکشن اینڈ رورل ڈویلیپمنٹ اور محکمہ اعلیٰ تعلیم تھے۔ اس موقع پر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے معزز ممبران صوبائی اسمبلی، سرکاری حکام، اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
چیکس کی تقسیم سے قبل ایڈیشنل سیکرٹری اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور جناب حبیب خان نے صوبائی وزیر محترم مینا خان افریدی اور دیگر شرکاء کو ایک جامع پریزنٹیشن پیش کی۔ اس پریزنٹیشن میں درج ذیل اہم امور کا احاطہ کیا گیا
• ادارہ جاتی اور ریگولیٹری فریم ورک
• ترقیاتی اقدامات بشمول 61 ملین روپے کا اسکالرشپ پروجیکٹ برائے اقلیتی طلبہ
• اقلیتی طلبہ کے لیے قومی آؤٹ ریچ پروگرام
• 32 ملین روپے کا ویلفیئر پیکیج برائے اقلیتی برادری
• مائنارٹیز اینڈومنٹ فنڈ (200 ملین سے بڑھا کر 400 ملین)
• عبادت گاہوں کے لیے آلات کی فراہمی
• اقلیتی قبرستانوں کے لیے زمین کی خریداری (50 ملین روپے کا منصوبہ)
• عبادت گاہوں اور رہائشی کالونیوں کی بحالی (513 ملین روپے، 109 اجزاء پر مشتمل)
• 2025-26 کے لیے ADP اسکیمز (جاری و نئی)
• اوقاف املاک کی بنیادی شماریات اور بجٹ
• محکمہ اوقاف کی کارکردگی، مسائل اور سفارشات
صوبائی وزیر محترم مینا خان افریدی نے اپنے خطاب میں حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اقلیتی برادری پاکستان کے برابر اور باعزت شہری ہیں جن کی جان و مال کا تحفظ، متاثرہ علاقوں کی بحالی اور انہیں معاشی و سماجی طور پر خودمختار بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ اقلیتی نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں اور معیاری پیشہ ورانہ تربیت سے آراستہ کیا جائے اور انہیں کاروباری معاونت فراہم کر کے خود روزگار کے قابل بنایا جائے تاکہ وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جناب محمد سہیل افریدی کی ہدایات کی روشنی میں اقلیتی برادری کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور ان کے مؤثر تحفظ و بااختیاری کے لیے مائنارٹی ڈائریکٹریٹ کے قیام کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جس کے لیے ضروری اقدامات جلد مکمل کیے جائیں گے۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ حکومت خیبر پختونخوا اقلیتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور انہیں اسلام اور آئین پاکستان کے تحت مکمل مساوی حقوق حاصل ہیں، جہاں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، عبادت گاہ قائم کرنے اور قانون کے سامنے برابری کی ضمانت دی گئی ہے جبکہ کسی بھی قسم کے مذہبی، نسلی یا صنفی امتیاز کی سختی سے ممانعت ہے اور اقلیتوں کے قانونی و ثقافتی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان ہر قسم کے امتیاز کو مسترد کرتے ہوئے اقلیتوں کو سیاست، تعلیم، ملازمت اور عبادت سمیت ہر شعبے میں مساوی مواقع فراہم کرتا ہے، اور اسی تناظر میں پاکستان تحریک انصاف ریاست مدینہ کو ایک مثالی ماڈل کے طور پر دیکھتی ہے جہاں نبی کریم ﷺ کی قائم کردہ فلاحی ریاست میں ہر مذہب، رنگ اور نسل کے افراد کو برابر کا شہری تسلیم کیا گیا اور انہیں مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ سیاسی و معاشی نظام میں بھی شریک کیا گیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تحریک انصاف کا وژن ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں تمام شہری، بلا امتیاز مذہب و مسلک، ترقی کے ثمرات میں برابر کے شریک ہوں، اور اسی وژن کے تحت اقلیتی برادری کے لیے انڈومنٹ فنڈ کو دوگنا کر کے 200 ملین سے 400 ملین تک بڑھایا گیا ہے جبکہ 500 لیپ ٹاپس کی فراہمی کے لیے 11 کروڑ 50 لاکھ روپے کی منظوری بھی دی گئی ہے، تاکہ اقلیتی نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے انہیں بااختیار بنایا جا سکے۔

اس موقع پر سیکرٹری اوقاف، جناب عطا الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبائی حکومت اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے ایک جامع حکمت عملی کے تحت مختلف منصوبوں پر عمل پیرا ہے، جن میں مالی امداد و گرانٹس کی فراہمی، طلبہ کے لیے اسکالرشپس، اقلیتی رہائشی کالونیوں کی بحالی و ترقی، عبادت گاہوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، صاف پانی اور صفائی کے منصوبے، اور نوجوانوں کے لیے جدید ڈیجیٹل و ووکیشنل ٹریننگ پروگرامز شامل ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر پروگرام کے تھیم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب کا بنیادی مقصد شمولیت (Inclusivity)، مذہبی رواداری اور عدم تشدد کے فروغ کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ ہم سب پاکستانی ہیں اور اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب شہریت برابر ہے تو حقوق بھی برابر ہیں، تاہم اقلیتی برادری اپنی اہمیت اور مثبت کردار کے باعث ریاست اور معاشرے کے لیے ایک خصوصی حیثیت رکھتی ہے، اسی لیے حکومت انہیں اضافی سہولتیں اور مواقع فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ وہ مزید بااختیار ہو کر قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں

Want your business to be the top-listed Government Service in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Eidgah Charsadda Road Peshawar
Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 09:00 - 05:00