Thoughts of BACHA KHAN

Thoughts of BACHA KHAN

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Thoughts of BACHA KHAN, Peshawar.

26/04/2024
26/04/2024

Bacha khan Baba

21/12/2020

نن بامپوخئ کلى کښي دريم سټډى سرکل ده واخد الله صدر صيب په صدارت کښي وشو ملګرو پکښي ډير تعداد کښي شرکت وکو .
ده پروګرم مشر ميلمه ډاکټر جهان ﺯيب بونيرى او رشيد الله منيجر صيب وو . ډاکټر صيب ده باچاخان بابا په ﺫندګئ ډيره رڼا واچوله . ډيره مننه مشره 💓

12/12/2019

خه نو خله بنده ساتم خه نو بغاوت نه کووم.
خه د خپل سر د قاتلانو نه نفرت نه کووم.

که داسى حال وى دا نظام دى خدايى په سيند لاهو کړى.
چى د خپل قام او قبيلى په سر غيرت نه کووم.

په باچاخان کښى به خو بى وه زه يي ځکه ستايم.
ګنى بى ځايه زه د يو سړى صفت نه کووم.

اعظم بو نيرى .

Photos from Thoughts of BACHA KHAN's post 28/09/2019

Successors of "servants of God" khudai hidmatgar

15/04/2019

خدائی خدمتگاری کا آغاز

دسمبر 1929 لاهور میں کانگرس کا جلسہ تها. لاهور چونکہ صوبہ سرحد (پختونخواه) کے قریب ہے اسلئے اس جلسے میں ہمارے صوبے سے بہت جوان گئے تهے. میں نے اور امیرممتازخان نے بهی جانے کا ارادہ کیا، امیر ممتازخان ہمارے آزاد سکول کے هیڈماسٹر تهے. ہم کانگرس میں نہیں تهے ہم خلافت میں تهے صرف جلسہ دیکهنے کے لئے گئے تهے. وہاں میں نے صوبے سے گئے هوئے جوانوں کو جمع کیا اور ہم کانگرس کے پنڈال میں جگہ جگہ گهومے. ہم نے جب جوان رضاکار لڑکیوں کا قومی جذبہ دیکها تو اس سے ہم بہت زیادہ متاثرهوئے. اس جلسے نے ہمارے پشتون نوجوانوں میں قوم اور وطن کی خدمت کا احساس پیدا کردیا تها. جلسہ ختم ہوا، ہم واپس آئے اور ہم نے اتمانزئی میں ایک بڑے جلسے کا اہتمام کیا جلسے میں تقریر کے لئے اٹها اور لوگوں کو مخاطب ہوا کہ آپ لوگ غلفت کی نیند سو رہے ہیں دیکهو هندووں کے مرد تو چهوڑو انکی عورتوں نے کمر کس لی ہے اور ملک کی آزادی میں اپنے مردوں کے شانہ بشانہ کهڑی ہیں اور جدوجهد کررہی ہیں. آپ لوگ ذرا طلوع سورج کی طرف دیکھ لیں ایک سیلاب آرہا ہے اور سیلاب ہمیشہ سوئے ہوئے قوموں کو ڈبو کر لے جاتی ہے. بیدار ہو جاؤ حالات کو دیکهو اور سمجهو کیا ہو رہاہے.؟
انگریز کہتے ہیں کہ هندوستان کو ہم نے بزور شمشیر فتح کیاہے۔ اس کے مالک ہم ہیں اور یہاں کا سارا کچھ ہماراہے. هندو انگریزوں کو کہتے ہیں کہ ہمارے ملک پر آپ لوگوں نے قبضہ کیا ہے۔ اب ہم سمجھ گئے ہیں اور متفق ہوگئے ہیں، ابهی ہم اپنا ملک لےکر رہینگے اور یہاں حکومت ہم کرینگے۔

آپ لوگ کو معلوم ہوگا یا نہیں لیکن میں آج آپ لوگوں کو بتارہا ہوں کہ انگریزوں اور هندووں کا جهگڑا اس بات پر ہے کہ هندو اپنی حکومت چاهتے ہیں اور انگریز اپنی حکومت چاهتے ہیں. لیکن مسلمان اسی طرح غفلت کی نیند سو رہے ہیں .اے میرے پشتون بهائیوں! آپ لوگ کیا کرینگے. دونوں کے لئے دعا کروگے اور غلامی کی زندگی کو ترجیح دوگے یا آزادی اور امن کو. اے پشتون بهائیوں! اگر اپنے آپکو اس ملک کا مالک سمجتهے ہو تو اٹھ کر اس ملک کو آزاد کرکے اپنا بنالو.
جلسہ ختم ہوا میری تقریر کا لوگوں پر اثر ہوا. رات کو ہمارے گاوں کے محمد اکبر خان، سرفرازخان، حجاب گل اور چند جوان میرے پاس آئے اور کہا کہ باچاخان آپ سے ایک مشورہ کرنا ہے۔ انہوں نے میرے ساتھ ایک جماعت بنانے کا مشورہ کیا. میں نے کہا کہ مجهے پتہ ہے کہ میری تقریر کا آپ لوگوں پر اثر ہوا ہے لیکن یہ کوئی معمولی بات نہیں یہ بہت کانٹے دار اور تکلیف دہ راستہ ہے، اچهی طرح غور اور فکر کرنے کے بعد آجاؤ۔ وہ رخصت ہوئے اور اگلے دن پهر آئے میں نے کہا آپ تاریخ پڑھ لے جو بهی الله کے مخلوق کی خدمت کیلئے نکلا ہے اس پر تکلیفیں اور مصیبتیں آئی ہیں۔ آپ لوگ تیسری بار اس پر غور و فکر کرلے. اگلی رات پهر آئے اور کہا کہ ہم نے اچهی طرح سوچ بچهار کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ ہم قوم و ملک کی خدمت میں ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ پهر ہم بیٹھ گئے کہ اس جماعت کانام کیا ہونا چاہیئے۔ کئ نام پیش ہوئے لیکن پسند نہیں ہوئے. رات کو میں سوچ رہا تها کہ پشتونوں میں مخلوق کی خدمت کا جذبہ نہیں۔ ایسا نام ہونا چاہیئے جس سے پشتونوں میں الله کی رضا کیلئے مخلوق کی خدمت کا جذبہ پیدا ہوجائے۔ اگلے روز وہ آئے میں نے "خدائی خدمتگار" کا نام پیش کیا۔ ان سب کو پسند آیا اسی نام پر دعا خیر ہوئی. ہمارے دلوں میں ایک اطمینان پیدا ہوا. پشتون خدائی خدمت اس خدمت کو کہتے جو بغیر کسی اجرت اور طمع کے ہو. کیونکہ الله تعالی کو خدمت کی ضرورت نہیں بلکہ الله تعالی کے مخلوق کی خدمت الله تعالی کی خدمت ہے.

اقتباس
میری زندگی اور جدوجہد
خان عبدالغفار خان

14/04/2019

باتیں ہمارے باچاخان کی (حصہ نمبر 56 قوم کی آباد کاری)
جس قوم میں ایسے لوگ جو خدمت کو عبادت سمجھتے ہوں باقی نہ رہیں وہ دنیا میں کبھی ترقی نہیں کرسکتی
اور جس قوم میں خدمت خلق کی قدر اور قیمت نہ ہو
وہ کبھی آباد نہیں ہو سکے گی۔۔
(دہ باچاخان لیکونہ حصہ دوم ص 28)

Photos from Thoughts of BACHA KHAN's post 29/03/2019

کل ڈاکٹر منیر صاحب نے جو باچا خان بابا کے بارے میں غلط الفاظ استعمال کئے تھے اور پختون طلباء کو غیر مسلم کہا تھا اس کے جواب آج پختون سٹونٹس فیڈریشن کے طالبعلموں نے ڈاکٹر منیر صاحب کیلئے پھول لے کے گئے اور ساتھ باچا خان بابا کے تصاویر اور اس کے اقوال کو پوسٹرز پر لکھ کر عدم تشدد کا عملی ثبوت دیا. پھر بھی ڈاکٹر منیر صاحب طلباء کے ساتھ نہیں ملے.
ڈاکٹر طاہر خلیلی صاحب, ڈاکٹر خافظ بشیر صاحب اور سٹوڈنٹس ایڈوائزر ڈاکٹر طارق جاوید کا شکریہ جنہوں نے طلباء کے اس طرح پرامن اختجاج کو سراہا اور یقین دلایا کہ آئندہ اس طرح کے واقعات نہیں ہونگے
Via Adil Salar

27/03/2019

پشتونوں کا پشتون .....................
جیل خانوں میں میں نے اپنی قوم کے حالات پر اچهی طرح غور و فکر کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ کوئ قوم اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کئے بغیر ترقی نہیں کر سکتی.اور نہ ہی اس قوم میں علوم و فنون پیدا هو سکتے هیں.میں نے ارادہ کیا کہ ضرور اپنی قوم کو سمجهانے،دنیا کے حالات سے باخبر رهنے اوراپنی زبان پشتو کی طرف ان کا ذهن مائل کرنے کیلئے ایک رسالہ جاری کرونگا اور یہ کوشش کرونگا کہ پشتونوں کیلئے تعلیم کا انتظام ان کی مادری زبان میں هو.
حقیقت یہ هے کہ اسوقت پشتو زبان میں کچهہ بهی نہیں تها اور نہ پشتو کسی کو یاد تهی.اور پشتون قوم اتنی بےعلم،اور نادان تهی کہ اسکو اپنی زبان بہت حقیر لگتی اب بهی بہت پشتون کہتے هیں کہ پشتو بہت مشکل زبان هے .مشکل تو اس لئے هے کہ آپ نے پڑهی نہیں هے.
انگریزی،اردو،عربی، پرائ زبانوں میں تعلیم حاصل کرنا انکو مشکل نہیں لگتا.
علم کے میدان میں جس قوم کے پاس اپنی زبان کی کوئ حیثیت نہیں هوتی وہ قوم اپنی حیثیت کهو دیتی هے.اور جو قوم اپنی زبان کو چهوڑ دیتی هے وہ قوم نیست و نابود هو جاتی هے.
میں نے 1927 کے اواخر میں رسالہ جاری کرنے کیلئے حکومت کو درخواست دیدی.
اجازت نامہ ملنے کے بعد 1928 میں میں نے پشتون کے نام سے پہلا پشتو رسالہ اتمانزئ سے جاری کیا.افسوس اس بات کی کہ پشتون اتنی بڑی قوم اور ملک کے مالک جنکو الله تعالی نے ہر نعمت اور دولت سے نوازہ هے.انکی اپنی زبان میں نہ کوئ اخبار تها اور نہ کوئ رسالہ تها.پشتون پہلا رسالہ تها جو پشتونوں کے ملک میں جاری هوا.
افغانستان میں بهی اس رسالے کو لوگ بہت شوق سے پڑهتے تهے .عبدالهادی نے مجهے بتایا کہ غازی امان الله خان پشتون رسالے کو بہت شوق سے پڑهتے تهے اس پر پشتون رسالے کا ایسا اثر هوا کہ ایک دن اسنے مجهے کہا کہ ہم بهی ایک رسالہ پشتو زبان میں جاری کرینگے.
ہم نے بهی ایک رسالہ جاری کرنے کا انتظام کیا اور اس رسالے کا نام بهی پشتون رکهہ لیا.لیکن غازی امان الله خان نے کہا کہ نہیں پشتونوں کا یہی ایک پشتون ہوگا . تو هم نے اپنے رسالے کا نام پشتون کی آواز رکهہ لیا

Want your business to be the top-listed Government Service in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Culinary Team

Attire

Telephone

Address

Peshawar