New Jobs and Knowledge Zone

New Jobs and Knowledge Zone

Share

We provide new jobs updates on daily based and Knowledge for test preparations. Follow us for updates

06/01/2026

ٹی ٹی اور اے ٹی پوسٹ کے لئے بی ایڈ اور ایم ایڈ پروفیسنل ڈگری میں شمار ہوتا ہے اور اس کے مارکس کاونٹ ہوتے ہیں۔ ایڈورٹائزمنٹ کے مارکس ڈسٹریبیوشن بالکل واضح ہیں۔
دوسری بات یہ کہ ایم اے اسلامیات ، ایم اے عربی یا ان کے مقابلے میں مدارس سے شہادت العالمیہ اکیڈمک ڈگریاں ہیں۔ شہادت العالمیہ پروفیشنل ڈگری نہیں ہے۔ ایچ ای سی کے رولز بھی ایم اے اسلامیات۔ ایم اے عربی اور شہادت العالمیہ اکیڈمک ڈگری میں شمار کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر کسی عالم دین دے شہادت العالمیہ کی سند کسی بھی مدارس کے بورڈ دے پاس کی ہو اور وہ ایکویلیمسی کے لئے ایچ ای سی کو اپلائی کرتے ہیں تو ایچ ای سئ انہیں شہادت العالمیہ کے نتیجے میں ایم اے اسلامیات اور ایم اے عربی کی ایکویویلینسی دیتے ہیں۔
اور ٹی ٹی ، اے ٹی میں بی ایڈ اور ایم ایڈ پروفیشنل ڈگریاں کاونٹ ہوتے ہیں۔ پہلے بھی جتنی بھرتیاں ہوئی ہیں تو ان میں بھی بی ایڈ اور ایم ایڈ پروفیشنل ڈگریاں شمار ہوئی ہیں اور ان کے نمبرز بھی مل چکے ہیں۔
#عطاءالرحمن
صدر ینگ ٹیچرز ایسوسی ایشن صوبہ خیبر پختونخواہ

23/04/2025

بہادر شاہ ظفر کے سارے شہزادوں کے سر قلم کر کے اس کے سامنے کیوں پیش کئیے گئے ؟

قبر کیلئے زمین کی جگہ کیوں نہ ملی ؟

آج بھی اسکی نسل کے بچے کھچے لوگ بھیک مانگتے پھرتے ہیں :

کیوں؟؟

پڑھیں اور اپنی نسل کو بھی بتائیں

تباہی 1 دن میں نہیں آ جاتی

صبح تاخیر سے بیدار ہو نے والے افراد درج ذیل تحریر کو غور سے پڑھیں:

زمانہ 1850ء کے لگ بھگ کا ہے مقام دلی ہے

وقت صبح کے ساڑھے تین بجے کا ہے سول لائن میں بگل بج اٹھا ہے

پچاس سالہ کپتان رابرٹ اور اٹھارہ سالہ لیفٹیننٹ ہینری دونوں ڈرل کیلئے جاگ گئے ہیں

دو گھنٹے بعد طلوع آفتاب کے وقت انگریز سویلین بھی بیدار ہو کر ورزش کر رہے ہیں

انگریز عورتیں گھوڑ سواری کو نکل گئی ہیں سات بجے انگریز مجسٹریٹ دفتروں میں اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے ہیں

ایسٹ انڈیا کمپنی کے سفیر سر تھامس مٹکاف دوپہر تک کام کا اکثر حصہ ختم کر چکا ہے

کوتوالی اور شاہی دربار کے خطوں کا جواب دیا جا چکا ہے

بہادر شاہ ظفر کے تازہ ترین حالات کا تجزیہ آگرہ اور کلکتہ بھیج دیا گیا ہے

دن کے ایک بجےسر مٹکاف بگھی پر سوار ہو کر وقفہ کرنے کیلئے گھر کی طرف چل پڑا ہے

یہ ہے وہ وقت جب لال قلعہ کے شاہی محل میں ''صبح'' کی چہل پہل شروع ہو رہی ہے۔

ظل الہی کے محل میں صبح صادق کے وقت مشاعرہ ختم ہوا تھا جس کے بعد ظلِ الٰہی اور عمائدین خواب گاہوں کو گئے تھے۔

اس حقیقت کا دستاویزی ثبوت موجود ہے کہ لال قلعہ میں ناشتے کا وقت اور دہلی کے برطانوی حصے میں دوپہر کے لنچ کا وقت ایک ہی تھا۔

دو ہزار سے زائد شہزادوں کا بٹیربازی، مرغ بازی، کبوتر بازی اور مینڈھوں کی لڑائی کا وقت بھی وہی تھا ،،

اب ایک سو سال یا ڈیڑھ سو سال پیچھے چلتے ہیں۔

برطانیہ سے نوجوان انگریز کلکتہ، ہگلی اور مدراس کی بندرگاہوں پر اترتے ہیں، برسات کا موسم ہے مچھر ہیں اور پانی ہے ملیریا سے اوسط دو انگریز روزانہ مرتے ہیں لیکن ایک شخص بھی اس ''مرگ آباد'' سے واپس نہیں جاتا۔

لارڈ کلائیو پہرول گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہتا ہے

اب 2020 میں آتے ہیں۔

پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی رات کا کھانا سات بجے تک کھا لیتے ہیں

آٹھ بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں

بڑے سے بڑا ڈاکٹر چھ بجے صبح ہسپتال میں موجود ہوتا ہے پورے یورپ امریکہ جاپان آسٹریلیا اور سنگاپور میں کوئی دفتر، کارخانہ، ادارہ، ہسپتال ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے آئیں !

آجکل چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکی ہے پوری قوم صبح چھ سے سات بجے ناشتہ اور دوپہر ساڑھے گیارہ بجے لنچ اور شام سات بجے تک ڈنر کر چکی ہوتی ہے

اللہ کی سنت کسی کیلئے نہیں بدلتی اسکا کوئی رشتہ دار نہیں نہ اس نے کسی کو جنا، نہ کسی نے اس کو جنا جو محنت کریگا تو وہ کامیاب ہوگا عیسائی ورکر تھامسن میٹکاف سات بجے دفتر پہنچ جائیگا تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں سے چہرہ صاف کروانے والا، بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہی کیوں نہ ہو' ناکام رہے گا۔

بدر میں فرشتے نصرت کیلئے اتارے گئے تھے لیکن اس سے پہلے مسلمان پانی کے چشموں پر قبضہ کر چکے تھے جو آسان کام نہیں تھا اور خدا کے محبوبؐ رات بھر یا تو پالیسی بناتے رہے یا سجدے میں پڑے رہے تھے !

حیرت ہے ان حاطب اللیل دانش وروں پر جو یہ کہہ کر قوم کو مزید افیون کھلا رہے ہیں کہ پاکستان ستائیسویں رمضان کو بنا تھا کوئی اسکا بال بیکا نہیں کرسکتا کیا سلطنتِ خدا داد پاکستان اللہ کی تھی اور کیا سلطنت خداداد میسور اللہ کی نہیں تھی۔۔(ٹیپو سلطان کی سلطنت )
جس ملک کے ووٹر ذہنی غلام ہوں، پیر غنڈے ہوں مولوی منافق ہوں، ڈاکٹر بے ایمان ہوں، سیاستدان ، اور پولیس ڈاکو ہوں، کچہری بیٹھک ہو ججز بے اعتبار ہوں، لکھاری خوشامدی ہوں، اداکار بھانڈ ہوں، ٹی وی چینل پر مسخرے ہوں، تاجر بے ایمان اور سود خور ہوں، دکاندار چور ہوں، عوام ہے کرام ہوں اور جہاں تین سال کی بچی سے پچاس سال تک کی عورتوں ریپ عام ہو اور مجرموں کو سیاسی دباؤ میں آکر چھوڑ دیا جاۓ۔
اسلام آباد مرکزی حکومت کے دفاتر ہیں یا صوبوں کے دفاتر یا نیم سرکاری ادارے،، ہر جگہ لال قلعہ کی طرز زندگی کا دور دورہ ہے،، کتنے وزیر کتنے سیکرٹری کتنے انجینئر کتنے ڈاکٹر کتنے پولیس افسر کتنے ڈی سی کتنے کلرک آٹھ بجے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں؟

کیا اس قوم کو تباہ وبرباد ہونے سے دنیا کی کوئی قوم بچا سکتی ہے جس میں کسی کو تو اس لئے مسند پر نہیں بٹھایا جاسکتا کہ وہ دوپہر سے پہلے اٹھتا ہی نہیں، اور کوئی اس پر فخر کرتا ہے کہ وہ دوپہر کو اٹھتا ہے لیکن سہ پہر تک ریموٹ کنٹرول کھلونوں سے دل بہلاتا ہے، جبکہ کچھ کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ دوپہر کے تین بجے اٹھتے ہیں،،

کیا اس معاشرے کی اخلاقی پستی کی کوئی حد باقی ہے.

*جو بھی کام آپ دوپہر کو زوال کے وقت شروع کریں گے وہ زوال ہی کی طرف جائے گا. کبھی بھی اس میں برکت اور ترقی نہیں ہو گی*.

اور یہ مت سوچا کریں کے میں صبح صبح اٹھ کر کام پر جاؤں گا تو اس وقت لوگ سو رہے ہونگے میرے پاس گاہک کدھر سے آئے گا. گاہک اور رزق اللہ رب العزت بھیجتے ہے.

وطن عزیز کی بقاء اور اپنی ترقی کی خاطر اس پبلک ویلفئر میسج کو اپنے حلقہ احباب کے گروپس میں ضرور پھیلائیں اور اس میسج سے سبق ضرور اُٹھانا چاہیے۔۔۔۔شکریا

15/04/2025

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں اساتذہ کی بھرتی
دوسرا مرحلہ: پیپر بیسڈ اسکریننگ ٹیسٹ [ متوقع Tentative شیڈول ]
ٹیسٹ 26 اور 27 اپریل 2025 کو منعقد ہوں گے
رولنمبر 20 اپریل کو ایٹا کی ویب سائٹ سے ڈائون لوڈ کریں
نوٹ: موسم کی خرابی یا کسی بھی دیگر ناگزیر وجوہات کی بنا پر شیڈول میں ردو بدل ہو سکتا ہے

14/04/2025

اساتذہ بھرتی
اگر آپ سے امتحانی مرکز منتخب کرتے وقت غلطی ہوئی ہے
یا آپ اپنا امتحانی مرکز تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو www.etea.edu.pk
وزٹ کریں ا اور آپ اپنی پروفائل میں لاگ اِن کریں اور Desired Test City میں جا کر اپنا شہر تبدیل کریں۔یاد رکھیں یہ سہولت صرف 16 اپریل تک رہے گی۔
تاریخ گزر جانے کے بعد منتخب شدہ امتحانی مرکز تبدیل نہیں ہو سکے گا۔

11/04/2025
30/03/2025

‏صبغت اللہ شاہ جی کو میں کئی سالوں سے ذاتی طور پر جانتا ہوں، ایک انتہائی زیرک،پرامن اور بالغ نظر کارکن اور پرامن جدوجہد پر یقین رکھنے والے قائد ہیں۔ان کی اغوا اور جبری گمشدگی کی مذمت کرتاہوں۔پاکستان کے حکمرانوں کو عقل کب آئے گی؟؟؟ماہرنگ بلوچ، سمی دیں بلوچ کے بعد اب بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سینئر رہنما صبغت اللہ شاہ جی کوگرفتار کرکے نا معلوم جگہ پہ منتقل کر دیا گیا۔ کیا ریاست کے پاس ہر مسلے کا حل صرف جبری گمشدگی ہے؟؟
صبغت اللہ شاہ جی کو فوری بازیاب کیا جائے۔
تمام جبری گمشدگان کو بازیاب کرو۔

29/03/2025

ہوائی فائرنگ جرم ہے!

Want your business to be the top-listed Government Service in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Peshawar