Sadat TV

Sadat TV

Share

Male

25/05/2025

مشہور بات ہے کہ ایران میں جاڑے کے موسم میں جب بھیڑیوں کو شکار نہیں ملتا اور برف کی وجہ سے خوراک کی قِلّت پیدا ہو جاتی ہے تو بھیڑیے ایک دائرے میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو گُھورنا شروع کردیتے ہیں۔۔

جیسے ہی کوئی بھیڑیا بُھوک سے نِڈھال ہو کر گِرتا ہے تو باقی سب مِل کر اُس پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور اُس کو کھا جاتے ہیں، اِس عمل کو فارسی میں ’’گُرگِ آشتی‘‘ کہتے ہیں۔۔۔۔
اِس عمل کا گہرائی سے تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ رُجحان بھیڑیوں کے ساتھ ساتھ کافی حد تک ہو بہو انسانوں میں بھی پایا جاتا ہے۔۔۔۔

ہم انسان بھی ان بھیڑیوں کی طرح ہیں، جو کمزور نظر آۓ اسی پر اپنی دھاک بٹھاتے ہیں۔۔۔ جو جتنا حالات کا ستایا ہوتا ہے اتنا ہی مزید اس کے ساتھ شدت پسندانہ رویہ اپناتے ہیں۔۔۔
جو مالی طور پر کمزور ہوتا ہے اسی کے ساتھ فراڈ اور دھوکہ دہی کرکے اس کی رہی سہی زندگی کو بھی جہنم بنا دیتے ہیں۔۔۔

ہم کمزور کا سہارا بننے کے بجاۓ، الٹا مزید اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔۔۔ جو جتنا کمزور ہوتا ہے اتنا ہی اس کے لئے زندگی دشوار بنا دیتے ہیں۔۔۔۔

لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ☝️❤.✌❤Follow




کے بارے میں دس نامعلوم حقائق

1. بانی اور تاریخ: BMW، Bayerische Motoren Werke AG، 1916 میں میونخ، جرمنی میں قائم کیا گیا تھا، ابتدائی طور پر ہوائی جہاز کے انجن تیار کرتے تھے. کمپنی نے 1920 کی دہائی میں موٹر سائیکل کی پیداوار میں منتقل کیا اور آخر کار 1930 کی دہائی میں آٹوموبائل میں منتقل ہوا۔

2. آئکونک لوگو: بی ایم ڈبلیو لوگو ، جسے اکثر "راؤنڈل" کہا جاتا ہے ، ایک سیاہ رنگ پر مشتمل ہوتا ہے جس میں چار کواڈرنٹس نیلے اور سفید ہوتے ہیں۔ یہ ہوا بازی میں کمپنی کی ابتدا کی نمائندگی کرتا ہے ، جس میں نیلے اور سفید ایک واضح نیلے آسمان کے خلاف گھومنے والے پروپیلر کی علامت ہے۔

3. ٹیکنالوجی میں جدت: بی ایم ڈبلیو آٹوموٹو ٹیکنالوجی میں اپنی بدعات کے لئے مشہور ہے۔ اس نے 2013 میں دنیا کی پہلی الیکٹرک کار، بی ایم ڈبلیو آئی 3 متعارف کرائی تھی، اور جدید ڈرائیونگ امدادی نظام (ADAS) اور ہائبرڈ پاورٹرینز تیار کرنے میں رہنما رہا ہے۔

4. کارکردگی اور موٹرسپورٹ ورثہ: BMW موٹرسپورٹ میں ایک مضبوط ورثہ ہے، خاص طور پر ٹورنگ کار اور فارمولا 1 را
5. ゚
👆👆👆 ゚viralシfypシ゚viralシalシ #😭💔😭💔😭 HighLight

02/05/2025

سارے جنگوں کا ٹھیکہ پختونوں نے لیا ہے کیا شیر افضل مروت 🔥
HighLight

28/04/2025

آجکل گرمی کا موسم ہے اور تربوز کا سیزن 🍉
تربوز کو ڈھول کی طرح بجا کر چیک کرنا چھوڑیں اور
`تربوز چیک کرنے کے چند طریقے سیکھیں۔

`پہلا طریقہ:-`
تربوز گہرا سبز ہو اور ایک طرف سے پیلا ہو.
`دوسرا طریقہ:-`
تربوز کی ڈنڈی سے چیک کریں اگر ڈنڈی والی جگہ سبز ہو تو تربوز کچہ ہے اور ڈنڈی والی جگہ تھوڑی کالی اور پیلی ہو تو تربوز پکا ہے.
`تیسرا طریقہ:-`
تربوز کو اپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے دبائیں اگر تربوز سخت ہو تو تربوز کچہ ہے اور آگر تھوڑا دب جانے تو پکا ہے.
`چوتھا طریقہ:`
تربوز کا وزن کریں اگر سائز میں بڑا ہو اور وزن میں کم ہو تو تربوز سو فیصد کچہ ہے اگر تربوز چھوٹا ہو اور بھاری ہو تو پکا تربوز ہے.
`پانچواں طریقہ،`
تربوز کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑیں ایک اوپر اور ایک نیچے رکھیں اب اوپر ہاتھ سے تربوز کو بجائیں اور نیچے والے میں ہلکی جُنبش محسوس کریں تو تربوز پکا ہے.
جب تربوزچیک کرکےگھرلےآئیں فریج میں رکھیں جب فل ٹھنڈا ہو جائے تو مجھے دعوت دیں کھانے کا طریقہ ان شاءاللہ موقع پر بتاؤں گا۔ 🍉

Sadat TV
Comments
HighLight

01/04/2025

صبح اور رات کے کھانے کے بعد بہترین چائے لہسن 🧄 اور ہلدی اور پیاز 🧅 اور ادرک 🫚 اور دارچینی اور امرود کی پتی

26/03/2025

سور کیوں پیدا کیا گیا
ہر مسلمان کے لئے یہ پڑھنا بہت ضروری ہے

یورپ سمیت تقریبا تمام امریکی ممالک میں گوشت کے لئے بنیادی انتخاب سور ہے۔ اس جانور کو پالنے کے لئے ان ممالک میں بہت سے فارم ہیں۔ صرف فرانس میں ، پگ فارمز کا حصہ 42،000 سے زیادہ ہے۔
کسی بھی جانور کے مقابلے میں سور میں زیادہ مقدار میں FAT ہوتی ہے۔ لیکن یورپی و امریکی اس مہلک چربی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس چربی کو ٹھکانے لگانا ان ممالک کے محکمہ خوراک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس چربی کو ختم کرنا محکمہ خوراک کا بہت بڑا سردرد تھا۔
اسے ختم کرنے کے لیئے باضابطہ طور پر اسے جلایا گیا، لگ بھگ 60 سال بعد انہوں نے پھر اس کے استعمال کے بارے میں سوچا تاکہ پیسے بھی کمائے جا سکیں۔ صابن بنانے میں اس کا تجربہ کامیاب رہا۔
شروع میں سور کی چربی سے بنی مصنوعات پر contents کی تفصیل میں pig fat واضح طور پر لیبل پر درج کیا جاتا تھا۔
چونکہ ان کی مصنوعات کے بڑے خرہدار مسلمان ممالک ہیں اور ان ممالک کی طرف سے ان مصنوعات پر پابندی عائد کر دی گئی، جس سے ان کو تجارتی خسارہ ہوا۔ 1857 میں اس وقت رائفل کی یورپ میں بنی گولیوں کو برصغیر میں سمندر کے راستے پہنچایا گیا۔ سمندر کی نمی کی وجہ سے اس میں موجود گن پاؤڈر خراب ہوگیا اور گولیاں ضایع ہو گئیں۔
اس کے بعد وہ سور کی چربی کی پرت گولیاں پر لگانے لگے۔ گولیوں کو استعمال کرنے سے پہلے دانتوں سے اس چربی کی پرت کو نوچنا پڑتا تھا۔ جب یہ بات پھیل گئی کہ ان گولیوں میں سور کی چربی کا استعمال ہوا ہے تو فوجیوں نے جن میں زیادہ تر مسلمان اور کچھ سبزی خور ہندو تھے نے لڑنے سے انکار کردیا ، جو آخر کار خانہ جنگی کا باعث بنا۔ یورپی باشندوں نے ان *حقائق کو پہچان لیا اور PIG FAT لکھنے کے بجائےانہوں نے FIM لکھنا شروع کر دیا
P
1970کے بعد سے یورپ میں رہنے والے تمام لوگ حقیقت کو جانتے ہیں کہ جب ان کمپنیوں سے مسلمان ممالک نے پوچھا کہ یہ کیا ان اشیا کی تیاری میں جانوروں کی چربی استعمال کی گئی ھے اور اگر ھے تو کون سی ہے...؟تو انہیں بتایا گیا کہ ان میں گائے اور بھیڑ کی چربی ہے۔ یہاں پھر ایک اور سوال اٹھایا گیا ، کہ اگر یہ گائے یا بھیڑ کی چربی ہے تو پھر بھی یہ مسلمانوں کے لئے حرام ہے، کیونکہ ان جانوروں کو اسلامی حلال طریقے سے ذبح نہیں کیا گیا تھا۔
اس طرح ان پر دوبارہ پابندی عائد کردی گئی۔ اب ان کثیر القومی کمپنیوں کو ایک بار پھر کا نقصان کاسامنا کرنا پڑا۔۔۔!
آخر کار انہوں نے کوڈڈ زبان استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ، تاکہ صرف ان کے اپنےمحکمہ فوڈ کی ایڈمنسٹریشن کو ہی پتہ چل سکے کہ وہ کیااستعمال کر رہے ہیں اور عام آدمی اندھیرے میں ہی رہے۔ اس طرح انہوں نے ای کوڈز کا آغاز کیا۔ یوں اجکل یہ E-INGREDIENTS کی شکل میں کثیر القومی کمپنیوں کی مصنوعات پر لیبل کے اوپر لکھی جاتی ہیں،

ان مصنوعات میں
دانتوں کی پیسٹ، ببل گم، چاکلیٹ، ہر قسم کی سوئٹس ، بسکٹ،کارن فلاکس،ٹافیاں
کینڈیڈ فوڈز ملٹی وٹامنز اور بہت سی ادویات شامل ہیں چونکہ یہ سارا سامان تمام مسلمان ممالک میں اندھا دھند استعمال کیا جارہا ہے۔
سور کے اجزاء کے استعمال سے ہمارے معاشرے میں بے شرمی، بے رحمی اور جنسی استحصال کے رحجان میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ھے۔
لہذا تمام مسلمانوں اور سور کے گوشت سے اجتناب کرنے والوں سے درخواست ھے کہ وہ روزانہ استعمال ہونے والے ITEMS کی خریداری کرتے وقت ان کے content کی فہرست کو لازمی چیک کرلیا کریں اور ای کوڈز کی مندرجہ ذیل فہرست کے ساتھ ملائیں۔ اگر نیچے دیئے گئے اجزاء میں سے کوئی بھی پایا جاتا ہو تو پھر اس سے یقینی طور پر بچیں،کیونکہ اس میں سور کی چربی کسی نہ کسی حالت میں شامل ہے۔
E100 ، E110 ، E120 ، E140 ، E141 ، E153 ، E210 ، E213 ، E214 ، E216 ، E234 ، E252 ، E270 ، E280 ، E325 ، E326 ، E 327 ، E334 ، E335 ، E336 ، E337 ، E422 ، E41 ، E431 ، E432 ، E433 ، E434 ، E435 ، E436 ، E440 ، E470 ، E471 ، E472 ، E473 ، E474 ، E475 ، E476 ، E477 ، E478 ، E481 ، E482 ، E483 ، E491 ، E492 ، E493 ، E494 ، E549 ، E542 E572 ، E621 ، E631 ، E635 ، E905

ڈاکٹر ایم امجد خان
میڈیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، ریاستہائے متحدہ امریکہ

👈براہ کرم اس وقت تک شیئر کرتے رہیں جب تک کہ وہ بلائنس آف مسملز ورلڈ وائڈ پر نہ آجائیں

یاد رھے کہ شیئرنگ صدقة جاريه میں گردانی جا سکتی ھے

اگرچہ پاکستان میں اس کو پیدا کرکے ان کے ملک میں فروخت کیا جاے تو کاروبار کا بہت بڑھے ذریعہ ھے مگر یہ حرام ھے لہذا دور رہے جسے عید عرب کے ساتھ لیلہ قدر اپنی مرضی کی اور فتوی اپنی مرضی کا مولوی کے لیے جائز ھے پاۓ تک قربانی کے کھا جاتے ھے اور تو اور حج میں بھی لوٹتے ھے دو روپے کی چیزیں دوسو میں ھے ان کے پاس ایسے لوگوں کو چاھے انگریز کو لوٹے ایسے کام کریں مسلمانوں سے دور رہے جب کھانا حرام ھے جس اج ھر کوئی کررہا ھے تو پھر یہ کام سارے مولوی جائز کردیں گے ہاہاہاہاہاہاہاہا
Sadat TV
Comments
Lateefon ki Dunya

25/03/2025

🤍❤️🤍





#فوٹوگرافی کی تاریخ 🤍🥀✍️
دو اہم اصولوں کی دریافت سے شروع ہوا: پہلا کیمرہ غیر معمولی تصویری پروجیکشن، دوسرا دریافت کہ کچھ مادہ روشنی کی نمائش سے واضح طور پر تبدیل ہوتے ہیں[2]۔ ایسی کوئی نوادرات یا وضاحتیں نہیں ہیں جو اٹھارویں صدی سے پہلے ہلکے حساس مواد کے ساتھ تصاویر لینے کی کسی بھی کوشش کی نشاندہی کرتی ہیں۔
لی گراس 1826 یا 1827 میں ونڈو کا نظارہ ، خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سب سے جلد زندہ بچ جانے والی کیمرہ تصویر ہے۔ [1] اصل (بائیں) اور رنگین ریورینٹڈ اضافہ (دائیں).
1717 کے آس پاس ، جوہان ہینرچ شولز نے بوتل پر کٹ آؤٹ حروف کی تصاویر کھینچنے کے لئے ہلکی حساس سلوری کا استعمال کیا۔ تاہم، انہوں نے ان نتائج کو مستقل کرنے کی کوشش نہیں کی. 1800 کے قریب ، تھامس ویڈگووڈ نے پہلی قابل اعتماد دستاویزی بنائی ، حالانکہ کیمرہ کی تصاویر کو مستقل شکل میں کیپچر کرنے کی ناکام کوشش کی۔ ان کے تجربات میں تفصیلی فوٹوگرام تیار کیے گئے، لیکن ویڈگووڈ اور ان کے ساتھی ہمفری ڈیوی نے ان تصاویر کو ٹھیک کرنے کا کوئی طریقہ نہیں پایا۔
1826 میں ، نیکفور نیپس نے پہلی بار ایک تصویر کو ٹھیک کرنے میں کامیاب کیا جسے کیمرے سے محفوظ کیا گیا تھا ، لیکن کیمرے میں کم از کم آٹھ گھنٹے یا اس سے بھی کئی دن کی نمائش درکار تھی اور ابتدائی نتائج بہت خام تھے۔ نیپس کے ساتھی لوئس ڈاگوری نے ڈاگوریوٹائپ کے عمل کو تیار کرنے کے لئے جاری رکھا ، پہلا عوامی طور پر اعلان کردہ اور تجارتی طور پر قابل عمل فوٹو گرافی کا عمل۔ ڈاگیریوٹائپ کو کیمرے میں صرف منٹ کی نمائش کی ضرورت تھی، اور واضح، باریک تفصیلی نتائج سامنے آئے۔ 2 اگست 1839 کو ڈگوری نے پیرس کے چیمبر آف پیرس میں اس عمل کی تفصیلات کا مظاہرہ کیا۔ 19 اگست کو پیلس آف انسٹیٹیوٹ میں اکیڈمی آف سائنسز اور اکیڈمی آف فائن آرٹس کے اجلاس میں تکنیکی تفصیلات منظر عام پر آئیں۔ (عوام کو ایجادات کے حقوق دینے کے لئے ، ڈاگوری اور نیپسے کو زندگی بھر کے لئے فراخ دلی سے نوازا گیا۔) )[3][4][5] جب عوام کے سامنے دھات پر مبنی ڈگوریریوٹائپ عمل کا باضابطہ مظاہرہ کیا گیا تو ، ولیم ہینری فاکس ٹیلبوٹ کے ذریعہ ایجاد کردہ کاغذ پر مبنی منفی اور نمک پرنٹ کے عمل کا مقابلہ پہلے ہی لندن میں مظاہرہ کیا گیا تھا (لیکن کم تشہیر کے ساتھ). [5] بعد کی بدعات نے فوٹو گرافی کو آسان اور زیادہ ورسٹائل بنا دیا۔ نئے مواد نے مطلوبہ کیمرے کی نمائش کا وقت منٹ سے سیکنڈ تک کم کر دیا، اور آخر کار ایک سیکنڈ کے ایک چھوٹے سے حصے میں آگیا؛ نیا فوٹو گرافی میڈیا زیادہ اقتصادی، حساس یا آسان تھا۔ 1850 کی دہائی سے ، اس کی شیشے پر مبنی فوٹو گرافی کی پلیٹوں کے ساتھ مل کر ، ڈاگوریوٹائپ سے مشہور اعلی معیار کو کلوٹائپ سے مشہور متعدد پرنٹ اختیارات کے ساتھ ملایا گیا تھا اور عام طور پر کئی دہائیوں تک استعمال کیا جاتا تھا۔ رول فلمیں شوقینوں کی طرف سے آرام دہ اور پرسکون استعمال کو مقبول. بیسویں صدی کے وسط میں ، پیش رفت نے شوقینوں کے لئے قدرتی رنگ کے ساتھ ساتھ سیاہ اور سفید میں تصاویر لینا ممکن بنایا۔
1990 کی دہائی میں کمپیوٹر پر مبنی الیکٹرانک ڈیجیٹل کیمروں کے تجارتی تعارف نے جلد ہی فوٹو گرافی میں انقلاب برپا کردیا۔ اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے دوران ، روایتی فلم پر مبنی فوٹو کیمیکل طریقوں کو تیزی سے پسماندہ کیا گیا کیونکہ نئی ٹیکنالوجی کے عملی فوائد کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا اور درمیانی قیمت والے ڈیجیٹل کیمروں کی تصویری معیار کو مسلسل بہتر بنایا گیا۔ خاص طور پر چونکہ کیمرے اسمارٹ فونز پر ایک معیاری خصوصیت بن گئے ہیں ، اس لئے تصاویر لینا (اور فوری طور پر آن لائن شائع کرنا) دنیا بھر میں روزمرہ کا ایک عام مشق بن گیا ہے۔
!

20/02/2025

مفید ٹوٹکے
©گلا خراب ہو اور آواز نہ نکل رہی ہوتو کچا امرود جلاکر کھالیں
©پیٹ میں درد ہے پودینے کے پتے چبالیں
©قے نہ رکے ایک چٹکی زیرہ پھانک لیں
©سر میں خشکی ہے سرسوں کے تیل میں دہی یا انڈہ مکس کریں اور لگالیں۔۔۔
©سر میں جوئیں ہیں چنبیلی کا تیل لگائیں
©پاوں میں درد ہے زیتون کا تیل لگائیں
©ناف اترگئ ہے نیم گرم ناریل کا تیل ڈالیں
©چوٹ لگی ہے خون روکنے کے لئے روئی کو ناریل کے تیل میں ڈبو کر لگائیں
©کمزوری محسوس ہورہی ہے دو کجھور دودھ میں پکاکر
©کھائیں اور دودھ پی بھی لیں۔۔۔۔
©عورتوں کو مخصوص ایام میں بے قاعدگی ہے تو دو کجھور کھالیں
©گرمی بہت زیادہ لگتی ہے کھیرا کھائیں
©سردی بہت لگتی ہے دیسی انڈے کھائیں اور چوزے کی یخنی بناکر پیں
©پیشاپ کرنے میں جلن ہوتی ہے کچی لیسی نمک ڈال کر پیں یا خربوزہ و تربوز کھائیں
©کھانے کے بعد بھاری پن محسوس ہوتا ہے لیمن کے قطرے پی لیں
©موٹاپا کم کرنا ہوتو نہار منہ نیم گرم پانی پیں
رنگ گورا کرنا ہے تو ابٹن میں عرق گلاب مکس کرکے چہرے
©پہ لگائیں 20 منٹ بعد چہرہ دھو لیں۔۔۔
©کان میں درد ہے سرسوں کے تیل میں لونگ جلائیں اور اسمیں روئی اوپر سے تر کرکے کان پہ لگالیں
©آنکھوں کی روشنی تیز کرنی ہوتو گاجر کھائیں۔۔۔
©یاداشت کمزور ہے تو بادام و اخروٹ کھائیں۔۔۔۔
©لوز موشن ہوتو کیلے پہ زیرہ لگاکر کھائیں.

24/01/2025

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے گوادر ایئر پورٹ کا آج افتتاح کیا گیا ہے۔ ایئرپورٹ پر پہلی فلائیٹ پی آئی اے کا واٹر کینن سے استقبال کیا گیا ہے۔
نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ چائنہ کی جانب سے 230 ملین ڈالرز کی گرانٹ ملنے پر بنایا گیا ہے۔



03/12/2024

یہ کرنسی کس کس نے استعمال کی ہے کمنٹ ضرور کریں

03/12/2024

سانحہ ڈی چوک اسلام اباد کے بعد فوجی اشیاء سے بائیکاٹ تو بنتا ہے چاہے وہ عسکری بینک ہو یا فوجی سیمنٹ یا پھر ڈی ایچ اے ہو

03/12/2024

کی رہائی میں
اپنا حق ادا کرے یہ آج کا رپورٹ ہے 2024۔12۔2 لینک پر کلک کریں عافیہ کی رہائی میں اپنا کردار ادا کریں👇👇👇
Can you help me out by signing this petition?
https://chng.it/trhKfn4DBs
☝️☝️
https://www.change.org/p/free-dr-aafia-siddiqui-a-call-for-justice-and-clemency?recruiter=1358191363&recruited_by_id=ef4fd3c0-a716-11ef-9682-810c6fe97dc2&utm_source=share_petition&utm_campaign=psf_combo_share_initial&utm_medium=whatsapp&utm_content=washarecopy_490268699_en-GB%3A8

Want your business to be the top-listed Government Service in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Update Street
Peshawar
SADIQSADAT