13/11/2024
اقبال احمد کی کتاب "Confronting Empire"
میں لکھا ہے کہ جب اشتراکی روس نے افغانستان میں مداخلت کی تو سرمایہ دار امریکہ نے دو طریقوں سے اس اس موقعے سے استفادہ کرنے کا سوچا:
1. جس طرح امریکہ نے طاقت کے نشے میں اشتراکی ویت نام کو ایک آسان ہدف سمجھ کر حملہ کیا تھا اور نتیجے میں 57٫000 اموات، 2,30,000 زخمیوں، تقریباً 220 بلین ڈالرز اور ہزاروں امریکی جہازوں کا ڈھیر لگوا کر شرم ناک اور تاریخی شکست کھائی تھی، بلکل اسی طرح امریکہ نے اپنے دشمن سوویت یونین کو افغانستان میں الجھانا چاہا۔
2. انہیں مسلم دنیا میں سوویت یونین اور اشتراکیت کے خلاف انتہا پسند مزاحمت کا بیج بونے کا موقع مل گیا۔
لہٰذا امریکہ نے تمام اسلامی ممالک، بشمول الجیریا، سوڈان، سعودی عرب، مصر اور اردن سے رضاکاروں کی بھرتی، ان کی اشتراکیت مخالف ذہن سازی اور کہیں بھی پائے جانے پر اشتراکیوں کو قتل کرنے کی ٹریننگ کے سلسلے میں تندہی سے کام لیا۔ اور تو اور، فلسطین، جہاں اس وقت اسرائیل
"حما س" کو الفتح نامی یاسر عرفات کی تنظیم
Palestine Liberation Organization (PLO)
کے ایک فرقے کے خلاف سپورٹ کر رہا تھا، سے بھی جنگجو افغانستان پہنچنے لگے۔ ان جنگجوؤں کو بتایا گیا کہ روس کے خلاف لڑنا بڑی نیکی اور جہاد ہے اور یوں بین الاقوامی پین اسلامک دہشت گردی کا آغاز ہوا۔
اقبال احمد لکھتے ہیں کہ جہاد کا بطور ایک "منصفانہ تحریک" (just struggle) کا تصور دسویں صدی کے بعد مسلمانوں میں وجود کھو چکا تھا حتیٰ کہ امریکہ نے افغانستان میں روس کے خلاف اپنے جہاد کے لیے اسے دوبارہ بحال کردیا۔
امریکہ نے ہمارے زمانے کے "اسامہ بن لا د نوں" کی تخلیق پر بیلینوں ڈالرز صرف کیے ہیں۔ جب روس افغانستان سے نکل گیا، تب بھی امریکہ کی طرف سے اسامہ کی حمایت جاری رہی لیکن جب سوویت یونین کا انہدام ہوا تو امریکہ کو مزید ان (کرائے کے) جنگجوؤں کی ضرورت نہیں رہی۔ لہٰذا اس نے نہ صرف امداد روک دی بلکہ پاکستان اور سعودی عرب کی حکومتوں پر اپنے سابقہ اتحادی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے بھی زور ڈالنا شروع کردیا۔
اقبال احمد الجزائر، فلسطین، اسرائیل، روس اور دیگر جنگ زدہ ممالک کے طویل دورے کرتے تھے، وہاں کے مزاحمت کار رہنماؤں کے ساتھ ملتے تھے (فرانز فینن کے ساتھ مل کر فرانس کے خلاف مزاحمت کی اور یاسر عرفات تو ان کی ملاقاتوں کے باقاعدہ نوٹس لیتا تھا، ان کے مشوروں پر عمل کرنے کا وعدہ کرتا تھا، یہ البتہ اس کی حماقت تھی کہ ہمیشہ وعدہ خلافی کرکے بھاری نقصان خود بھی اٹھاتا اور فلسطینی شہریوں کی تباہی کا بھی سبب بنتا۔) اسی طرح افغانستان جاکر بھی حالات کا براہ راست مشاہدہ کیا اور حکمت یار جیسے لوگوں سے کئی بار ملاقات کی۔
قندھار میں قیام کے دوران انہوں نے دیکھا کہ ایک بارہ سالہ لڑکے، جس کا ٹنڈ کروایا گیا تھا اور گلے میں رسی ڈالی گئی تھی، کو ڈھول بجاتے ہوئے گلیوں میں گھسیٹا جارہا ہے۔ جب انہوں نے لوگوں سے اس کی وجہ پوچھی تو جواب ملا کہ اسے ٹینس کھیلتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے حالانکہ اس کھیل پر پابندی ہے، کیونکہ جب لڑکے اسے کھیلتے ہیں تو مردوں کے جنسی ہیجان کا سبب بنتے ہیں!!!
انہوں نے ایک ایسے شخص کو بھی روتے دیکھا جس کا ریڈیو چھینا گیا تھا کیوں کہ وہ اس پر موسیقی سن رہا تھا!
اقبال احمد کہتے ہیں کہ جو لوگ موسیقی اور کھیل پر پابندی لگاتے ہیں، وہ ایرانی اسلامی حکومت سے بھی پچاس نوری سال پیچھے ہیں۔
اقبال احمد کی یہ کتاب فقط ایک سو ستر صفحات پر مشتمل ان کے انٹرویوز کا ایسا مجموعہ ہے جس میں انتہائی متنوع موضوعات پر ایک ایسے شخص کے نہایت فکر انگیز نقطۂ ہائے نظر موجود ہیں جن کو نوم چومسکی اور ایڈورڈ سعید جیسے پائے کے لوگ بھی اپنا گرو سمجھتے رہے ہیں۔ ایڈورڈ سعید نے اپنی کتاب
"Culture and Imperialism"
بھی ان کے نام منسوب کی ہے جبکہ اس کتاب
"Confronting Empire"
کا پیش لفظ بھی انہوں نے ہی لکھا ہے۔ سیاست میں دلچسپی لینے والے اس کتاب کو خود پر فرض سمجھ کر پڑھ لیں اور جان لیں کہ ایک حقیقی پبلک انٹیلیکچول کیسا ہوتا ہے!
آپ کو ان کی کئی پیش گوئیاں درست ہوتی نظر آئیں گی، جیسے روس کا دوبارہ منظم ہونا اور یوکرین میں امریکی مداخلت کے خلاف بھرپور کارروائی کرنا۔
انڈیا کے بہار میں پیدا ہونے والے، بعد میں لاہور ہجرت کرنے، اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ منتقل ہونے، پھر وہیں آباد ہوکر امریکہ کی یونیورسٹیوں میں پڑھانے، بین الاقوامی اخبارات میں عالمی سیاست پر لکھنے، جنگی محاذوں کا دورہ کرنے، ہنٹنگٹن اور کسنجر جیسے امریکہ نواز دانشوروں کی اصل وقعت دکھانے، بلکہ کسنجر کے اغوا کے جھوٹے کیس میں جیل جانے، اور ریٹائرمنٹ کے بعد مابعد نوآبادیاتی ریاستوں کے لیے بطور نمونہ ابن خلدون کے نام پر "خلدونیہ" یونیورسٹی بنانے کا خواب لے کر دوبارہ پاکستان ہجرت کرنے والے اس شخصیت نے پوری دنیا اور خاص طور پر پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک عمدہ مثال پیش کی ہے۔
آپ میں سے بہت سارے کہیں گے کہ اگر اقبال احمد اتنے بڑے نام ہیں تو اپنے ہاں ان کا تذکرہ کیوں نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں وہ لوگ پسند ہیں جو ہمارے قصیدے پڑھیں اور ہمارے دشمنوں کو آئینہ دکھائیں، لیکن اقبال احمد سب کو آئینہ دکھاتے ہیں۔ ریاست کو نہ ان کی کشمیر پالیسی پسند ہے، نہ ایٹم بم اور اسلحے کی دوڑ پر تنقید، نہ افغان پالیسی، نہ جرنیلوں کی مذمت اور نہ کرپٹ سیاست دانوں کی خود غرضیوں کو آشکار کرنا۔ اس لیے ان کا تذکرہ کم ہی ہوتا ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اقبال احمد تحریر کے مقابلے میں کہیں بڑھ کر تقریر اور تدبیر کے قائل تھے۔ اس لیے لکھا اتنا زیادہ نہیں ہے۔
آپ یوٹیوب پر ان کی کچھ تقاریر دیکھ اور سن سکتے ہیں۔
آخر میں ایک واقعہ:
جب انٹرویور نے پوچھا کہ ابھی آپ نوجوان تھے، آپ نہایت مختلف پس منظر سے تعلق رکھتے تھے لیکن پھر بھی آپ (پیچیدہ سیاسی موضوعات) پر امریکی سامعین سے مخاطب ہوتے رہیں۔ کبھی آپ نے اپنے اعتماد اور کھرے پن کے حوالے سے ہچکچایٹ محسوس نہیں کی، تو اقبال احمد نے جواب دیا کہ کبھی بھی نہیں۔ انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ
"ایک بار امریکہ کی ایجنسی FBI کے لوگ میرے پاس آگئے اور اپنے کارڈ دکھا کر پوچھا کہ کیا آپ امریکہ کے شہری ہیں؟ میں نے کہا، نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ امریکہ کا مہمان ہوتے ہوئے آپ کو امریکی حکومت پر تنقید کرنے سے باز رہنا چاہیے؟
اس پر میں نے کہا کہ مجھے آپ کی بات سمجھ آگئی لیکن آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ اگر چہ میں ایک شہری نہیں ہوں لیکن ٹیکس ادا کرتا ہوں۔ مجھے لگا کہ یہ امریکی جمہوریت کا ایک بنیادی اصول ہے کہ (حکومتی سطح پر) نمائندگی کے بغیر کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا۔ اس (ویت نام کی) جنگ کے حوالے سے میرے مؤقف کی نمائندگی نہیں کی جاتی رہی ہے جبکہ عین اسی وقت میرے لوگوں، ایشیائی لوگوں، پر بم برسائے جارہے ہیں۔
اس دلیل پر وہ ایجنٹس بڑے متاثر ہوئے اور شرما گئے۔"
اقبال احمد بجا کہتے ہیں کہ اس واقعے سے انہیں امریکہ کی لبرل روایات اور اپنی خطابت اور ہتھکنڈوں کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ ورنہ اگر یہ پاکستان ہوتا اور پاکستانی ایجنٹس، تو عین ممکن تھا کہ ہڈیاں توڑ کر کہتے، "چل بے، کہاں کی نمائندگی، کیسی نمائندگی۔ تم ہوتے کون ہو!"
10/11/2024
نکولو مکیاویلی کی کتاب دی پرنس ، (The Prince by Niccolo Machiavelli) نکولو مکیاولی، اٹلی کے شہر فلورنس میں 1469 میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک مشہور فلسفی، سیاستدان اور تاریخ دان تھے۔ ان کی سب سے معروف تصنیف "دی پرنس" (Il Principe) ہے جو کہ 1513 میں لکھی گئی تھی مگر ان کی موت کے بعد 1532 میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب سیاست اور حکمرانی کے اصولوں پر مبنی ہے اور آج بھی اس کی اہمیت برقرار ہے۔
کتاب کا موضوع:
"دی پرنس" بنیادی طور پر ایک نصیحت نامہ ہے جو حکمرانوں کو سیاسی طاقت کے حصول اور اس کے برقرار رکھنے کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ مکیاولی نے اس کتاب میں مختلف حکمرانوں کی مثالیں دیتے ہوئے ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا تجزیہ کیا ہے۔
*اہم موضوعاتِ*
*1. سیاسی طاقت اور حکمرانی* :
مکیاولی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایک حکمران کو کس طرح سیاسی طاقت حاصل کرنی چاہئے اور اسے کس طرح برقرار رکھنا چاہئے۔ انہوں نے مختلف طریقوں کا ذکر کیا ہے جن میں جنگ، دھوکہ دہی، طاقت کا استعمال اور عوام کی حمایت شامل ہیں۔
*2. مقصد کے جواز* :
مکیاولی کی مشہور قول "مقصد وسائل کو جواز بخشتا ہے" (The ends justify the means) اس کتاب کا ایک مرکزی خیال ہے۔ ان کے مطابق، اگر ایک حکمران کا مقصد اچھا ہو تو اسے اپنے مقصد کے حصول کے لئے کسی بھی طریقے کا استعمال کرنا چاہئے، چاہے وہ طریقے غیر اخلاقی ہی کیوں نہ ہوں۔
*3. انسانی فطرت:*
مکیاولی نے انسانی فطرت کے بارے میں ایک حقیقت پسندانہ نظریہ پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق، انسان بنیادی طور پر خود غرض اور موقع پرست ہوتے ہیں۔ ایک حکمران کو ہمیشہ انسانوں کی فطرت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئے۔
*4. قسمت اور تدبیر* :
مکیاولی نے قسمت (Fortuna) اور تدبیر (Virtù) کے تعلق پر بھی بحث کی ہے۔ ان کے مطابق، قسمت اور تدبیر دونوں ہی اہم ہیں مگر ایک حکمران کو ہمیشہ اپنی تدبیر پر انحصار کرنا چاہئے اور قسمت کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
*کتاب کی اہمیت اور تنقید:*
"دی پرنس" کو اس کی حقیقت پسندانہ اور غیر جذباتی انداز کی وجہ سے بہت سراہا گیا ہے۔ یہ کتاب سیاسیات کی دنیا میں ایک انقلابی حیثیت رکھتی ہے اور اسے اکثر "جدید سیاسیات کی بنیاد" کہا جاتا ہے۔
تاہم، اس کتاب کو اس کے غیر اخلاقی مشوروں کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔ کئی لوگوں نے مکیاولی کو بے رحم اور خود غرض سیاستدان کے طور پر پیش کیا ہے۔
"دی پرنس" ایک انتہائی اہم اور متاثر کن کتاب ہے جو آج بھی سیاسیات کے طلباء اور عملی سیاستدانوں کے لئے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ مکیاولی کے خیالات اور نظریات پر بحث و مباحثہ آج بھی جاری ہے اور یہ کتاب ہمیشہ ایک موضوع بحث رہے گی۔
یقیناً، "دی پرنس" (The Prince) نیکولو میکیاولی کا ایک مشہور سیاسی فلسفہ کا شاہکار ہے۔ اس کتاب میں بہت سے اہم اقتباسات ہیں جو سیاسی حکمت عملی اور حکمرانی کے بارے میں میکیاولی کی فکر کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہاں کچھ اہم اقتباسات درج ہیں:
1. "The ends justify the means."
- "مقاصد وسائل کو جائز قرار دیتے ہیں۔"
2. "It is better to be feared than loved, if you cannot be both."
- "یہ بہتر ہے کہ آپ سے محبت کرنے کے بجائے آپ سے خوف کیا جائے، اگر آپ دونوں نہیں کر سکتے۔"
3. "The first method for estimating the intelligence of a ruler is to look at the men he has around him."
- "کسی حکمران کی ذہانت کا اندازہ لگانے کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ اس کے آس پاس کے لوگوں کو دیکھا جائے۔"
4. "The lion cannot protect himself from traps, and the fox cannot defend himself from wolves. One must therefore be a fox to recognize traps, and a lion to frighten wolves."
- "شیر خود کو جالوں سے نہیں بچا سکتا، اور لومڑی خود کو بھیڑیوں سے نہیں بچا سکتی۔ اس لیے انسان کو جالوں کو پہچاننے کے لیے لومڑی بننا پڑتا ہے، اور بھیڑیوں کو ڈرانے کے لیے شیر۔"
5. "The promise given was a necessity of the past: the word broken is a necessity of the present."
- "جو وعدہ کیا گیا وہ ماضی کی ضرورت تھی: جو وعدہ توڑا گیا وہ حال کی ضرورت ہے۔"
6. "A prince never lacks legitimate reasons to break his promise."
- "ایک شہزادے کے پاس کبھی بھی اپنے وعدے توڑنے کے جائز وجوہات کی کمی نہیں ہوتی۔"
7. "It is not titles that honor men, but men that honor titles."
- "یہ عہدے نہیں ہیں جو مردوں کو عزت دیتے ہیں، بلکہ مرد وہ ہیں جو عہدوں کو عزت دیتے ہیں۔"
8. "Everyone sees what you appear to be, few experience what you really are."
- "ہر کوئی دیکھتا ہے کہ آپ کیا نظر آتے ہیں، چند لوگ جانتے ہیں کہ آپ حقیقت میں کیا ہیں۔"
9. "The wise man does at once what the fool does finally."
- "عقلمند وہ فوراً کر لیتا ہے جو بے وقوف آخر میں کرتا ہے۔"
10. "He who wishes to be obeyed must know how to command."
- "جو حکم ماننے کا خواہشمند ہے، اسے حکم دینا آنا چاہیے۔"
یہ اقتباسات "دی پرنس" کے مرکزی خیالات کو بیان کرتے ہیں، جس میں میکیاولی نے سیاسی حکمت عملی، قیادت، اور انسانی فطرت کے بارے میں اپنی نظریات پیش کیں ہیں۔
پیشکش تاریخ ادب اور مذہب
17/09/2024
1st semester Fall 2024, BS Political Science admissions are open at Govt Superior Science College Peshawar affiliated with University of Peshawar. Apply online
https://youtu.be/42sduhRXG7A?si=eCTFGBOK42RV0IZR
04/06/2024
انتہائی اہم نوٹس برائے بی ایس سٹوڈنٹس....
14/06/2022
POlitical Science / I.R Terms
- An orientation that characterizes the thinking of a group or nation
- an integrated set of attitudes and beliefs
- the principle of complete and unrestricted power in government
- a political theory favoring the abolition of governments
- a political theory favoring unlimited authority by a single individual
, moderatism - a political philosophy of avoiding the extremes of left and right by taking a moderate position or course of action
- a political theory that the people should own the means of production
- a political theory favoring collectivism in a classless society
, conservativism - a political or theological orientation advocating the preservation of the best in society and opposing radical changes
- a political orientation favoring political or racial segregation
- advocacy of a system of government according to constitutional principles
- the political orientation of those who favor government by the people or by their elected representatives
democracy - the belief in a gradual transition from capitalism to socialism by democratic means
- the political theory that if one nation comes under communist control then neighboring nations will also come under communist control
- the attitude that society should be governed by an elite group of individuals
Extremism - any political theory favoring immoderate uncompromising policies
- a political theory advocating an authoritarian hierarchical government (as opposed to democracy or liberalism)
- the idea of a federal organization of more or less self-governing units
- a political orientation that advocates imperial interests
- the ideology of the political left; belief in or support of the tenets of the political left
- a political orientation that favors social progress by reform and by changing laws rather than by revolution
- the belief that rulers should be chosen for their superior abilities and not because of their wealth or birth
- an ideological belief in freedom of thought and speech
- a belief in and advocacy of monarchy as a political system
- an ideological position that holds Black culture to be independent and valid on its own terms; an affirmation of the African cultural heritage
- the political philosophy of the Orleanists
- the political orientation of those who favor progress toward better conditions in government and society
- the political orientation of those who favor revolutionary change in government and society
- the political orientation of reactionaries
- the political orientation of those who hold that a republic is the best form of government
- the ideology of the political right; belief in or support of the tenets of the political right
- a political theory advocating state ownership of industry
- the belief in government by divine guidance
- the political orientation of a Utopian who believes in impossibly idealistic of social perfection.
30/01/2021
سقراط جب بچہ تھا، تو روزانہ ایک راستے پر چہل قدمی کے لیے جایا کرتا تھا۔
اس راستے میں ایک کمہار کا گھر تھا، جو مٹی کے برتن بنایا کرتا تھا۔ وہ کمہار کے پاس جا کر بیٹھ جاتا اور اسے غور سے تکتا رہتا ۔ اسے برتن بننے کا عمل دیکھنا بہت اچھا لگتا تھا ۔
ایک دن کمہار نے اس کی محویت دیکھ کر اپنے پاس بلایا اور پوچھا۔
" بیٹا ! تم یہاں سے روز گزرتے ہو اور میرے پاس بیٹھ کر دیکھتے رہتے ہو ۔۔۔۔۔ تم کیا دیکھتے ہو؟"
" میں آپ کو برتن بناتے دیکھتا ہوں اور یہ عمل مجھے بہت اچھا لگتا ہے دیکھنا ۔۔۔۔۔ اس سے میرے ذہن میں چند سوال پیدا ہوئے ہیں ۔۔۔۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں۔ "
سقراط کی بات سن کر کمہار بولا ۔
" یہ تو بہت اچھی ہے ۔۔۔۔۔ تم پوچھو ، جو پوچھنا چاہتے ہو؟"
" آپ جو برتن بناتے ہیں ۔۔۔۔ اس کا خاکہ کہاں بنتا ہے ؟"
" اس کا خاکہ سب سے پہلے میرے ذہن میں بنتا ہے۔۔۔۔۔ "
یہ سن کع سقراط جوش سے بولا ۔
میں سمجھ گیا ۔۔۔۔"
کمہار نے حیرت سے پوچھا ۔
" کیا سمجھے ؟ "
" یہی کہ ہر چیز تخلیق سے پہلے خیال میں بنتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خالق کے خیال میں ہم پہلے بن چکے تھے ، تخلیق بعد میں ہوئے ۔۔۔۔۔ اب میرا اگلا سوال یہ ہے کہ جب آپ برتن بنا رہے ہیں، تو ایسا کیا کرتے ہیں کہ یہ اتنا خوب صورت بنتا ہے ؟ "
" میں اسے محبت سے بناتا ہوں۔ میں جو بھی چیز بناتا ہوں، اسے خلوص سے بناتا ہوں اور اسے بناتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتا ہوں تاکہ کوئی کمی کوتاہی نہ رہ جائے ۔ "
سقراط نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔
" اس کی بھی سمجھ آ گئی، کیوں کہ بنانے والا ہم سے محبت کرتا ہے ، کیوں کہ اس نے ہمیں بنایا جو ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ اگلا سوال یہ ہے کہ آپ اتنے عرصے سے برتن بنا رہے ہیں ، کوئی ایسی خواہش ہے ، جو آپ چاہتے ہیں کہ پوری ہو ۔ "
" ہاں ! ہے ۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ ایسا برتن بناؤں کہ دنیا اش اش کر اٹھے اور پھر ویسا برتن میں کبھی نہ بنا سکوں۔۔۔۔۔" کمہار نے حسرت سے کہا۔
یہ سنتے ہی سقراط اچھل پڑا۔
" واہ ! خالق ہر بار ایسی تخلیق کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ دنیا بے اختیار اش اش کر اٹھے ، کیوں کہ خالق کو پتا ہے کہ میں جو یہ انسان اس دنیا میں بھیج رہا ہوں ، اس جیسا کوئی اور دوبارہ نہیں آئے گا.
16/01/2021
Date sheet BS Political Science Midterm Exam (Fall 2020-21)