Khyber Pakhtunkhwa Commission on the Status of Women

Khyber Pakhtunkhwa Commission on the Status of Women

Share

Khyber Pakhtunkhwa Commission on the Status of Women

The first ever Provincial level Commission on women in Pakistan having an advisory role towards government regarding its policies, programmes, projects, other measures and to review existing provincial laws to achieve gender equality and women development.

01/06/2026

پریس ریلیز/یکم جون 2026

*گھریلو تشدد ایکٹ کے تحت ضلعی تحفظ کمیٹیوں کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے، خیبر پختونخوا وویمن کمیشن*

خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں نے گھریلو تشدد ایکٹ 2021 کے تحت ضلعی تحفظ کمیٹیوں (ڈسٹرکٹ پروٹیکشن کمیٹیز) کے قیام اور نوٹیفکیشن کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ گھریلو تشدد سے متاثرہ افراد کو بروقت معاونت اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

کمیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس نے اس سلسلے میں سیکریٹری محکمہ سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اور وویمن ایمپاورمنٹ کو ارسال کردہ مراسلے میں کہا ہے کہ گھریلو تشدد کے واقعات کی روک تھام اور متاثرین کی مؤثر معاونت کے لیے ضلعی تحفظ کمیٹیوں کا فعال کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

مراسلے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ حالیہ عرصے کے دوران گھریلو تشدد کے رپورٹ ہونے والے واقعات کے پیش نظر ایسے ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے جو متاثرہ خواتین اور دیگر متاثرین کو تحفظ، رہنمائی اور ضروری خدمات کی فراہمی یقینی بنا سکے۔

کمیشن کے مطابق ضلعی تحفظ کمیٹیاں مختلف متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانے، قانون پر مؤثر عملدرآمد اور متاثرین تک سہولیات کی بروقت رسائی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں نے صوبائی حکومت سے درخواست کی ہے کہ ضلعی تحفظ کمیٹیوں کے نوٹیفکیشن اور ان کی فعالیت کے عمل کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے تاکہ گھریلو تشدد سے متاثرہ افراد کو بروقت تحفظ اور معاونت کی فراہمی مزید مؤثر بنائی جا سکے۔

کمیشن نے اس سلسلے میں حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون، رابطہ کاری اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔

31/05/2026

متھرا گھریلو تشدد واقعہ

متھرا میں تین بچوں کی ماں کے قتل پر چیئرپرسن خیبرپختونخوا وویمن کمیشن ڈاکٹر سمیرا شمس کی شدید مذمت

مقتولہ کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار

خواتین کے تحفظ اور گھریلو تشدد کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھیں گے، ڈاکٹر سمیرا شمس

خواتین کے تحفظ کے لیے سخت قوانین اور ان پر مؤثر عملدرآمد ناگزیر ہے، چیئرپرسن

بدقسمتی سے گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے، جس کے تدارک کے لیے اجتماعی اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے, ڈاکٹر سمیرا شمس
۔

27/05/2026

May this Eid-ul-Adha inspire us with the true spirit of sacrifice, compassion, and unity.
May Allah accept our sacrifices, bless our homes with peace and happiness, and guide us towards kindness and harmony.

22/05/2026

خیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی جانب سے “16 دن کی سرگرمیاں” مہم کے تحت خواتین اور بچیوں کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے پیغام کو اجاگر کرنے کے لیے ایک پروقار شارٹ فلم مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔

اس تخلیقی اور بامقصد مقابلے میں نوجوان طلبہ و طالبات نے فلم، ڈاکیومنٹری اور آرٹسٹک انداز کے ذریعے خواتین کے تحفظ، شعور اور بااختیاری کے حوالے سے اپنے خیالات نہایت خوبصورتی سے پیش کیے۔ شرکاء کی تخلیقی صلاحیتوں اور مثبت سوچ نے تقریب کو مزید یادگار بنا دیا۔

مقابلے میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ میں نقد کیش انعامات تقسیم کیے گئے، جبکہ تمام شرکاء میں خیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی جانب سے تعریفی اسناد بھی تقسیم کی گئیں، تاکہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور تخلیقی صلاحیتوں کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

چیئرپرسن خیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن ڈاکٹر سمیرا شمس نے اپنے خطاب میں کہا کہ خواتین کے خلاف ڈیجیٹل تشدد صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی وقار اور بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے، اور ایسے پروگرام نوجوانوں کو شعور، اعتماد اور اظہارِ رائے کے بہتر مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سمیرا شمس نے مزید کہا کہ KPCSW خواتین کے تحفظ، مساوی مواقع اور بااختیار معاشرے کے قیام کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا۔

سیکرٹری ویمن کمیشن شازیہ عطا نے اس موقع پر کہا کہ نوجوانوں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ نئی نسل خواتین کے حقوق، احترام اور محفوظ ڈیجیٹل ماحول کے قیام کے لیے سنجیدہ اور پُرعزم ہے۔

مقابلے کے ججز نے بھی اپنی ذمہ داریاں انتہائی دیانتداری اور پیشہ ورانہ مہارت انداز میں انجام دیتے ہوئے شفاف نتائج مرتب کیے، جسے شرکاء اور حاضرین نے بھرپور سراہا۔

تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء، معزز ججز، مہمانوں اور منتظمین کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا، جبکہ اس یادگار اور کامیاب ایونٹ کی مناسبت سے شرکاء اور معزز مہمانوں کے ہمراہ ایک پروقار گروپ فوٹو بھی لی گئی۔








Photos from Khyber Pakhtunkhwa Commission on the Status of Women's post 21/05/2026

کے پی ایل ڈبلیو ایم فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا پہلا اجلاس ڈائریکٹریٹ آف سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ میں منعقد ہوا

کے پی ایل ڈبلیو ایم فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا پہلا اجلاس معزز رکنِ قومی اسمبلی مولانا نسیم علی شاہ کی زیرِ صدارت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں بورڈ ممبران، سینئر حکام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران فاؤنڈیشن کے وژن، مستقبل کی حکمتِ عملی، تنظیمی ڈھانچے، فلاحی منصوبوں اور عوامی خدمت سے متعلق مختلف اہم امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شرکاء نے فاؤنڈیشن کی فعالیت کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے اپنی قیمتی آراء اور تجاویز پیش کیں۔

اس موقع پر مولانا نسیم علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ معاشرے کی ترقی اور عوامی خدمت کے لیے فلاحی اداروں کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کے پی ایل ڈبلیو ایم فاؤنڈیشن کو ایک مضبوط، فعال اور بااعتماد ادارہ بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ عوامی مسائل کے حل اور سماجی فلاح کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔

چیئرپرسن خیبر پختونخوا وومن کمیشن ڈاکٹر سمیرا شمس نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاؤنڈیشن خواتین کی ترقی، نوجوانوں کی مثبت رہنمائی، سماجی بہبود اور عوامی فلاح کے لیے عملی اور پائیدار اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت، میرٹ اور خدمتِ خلق کے اصولوں کو بنیاد بنا کر فاؤنڈیشن کو ایک مثالی ادارہ بنایا جائے گا۔

ڈاکٹر سمیرا شمس نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وژن، فلاحی ریاست اور ریاستِ مدینہ کے تصور کے تحت حکومتِ خیبرپختونخوا عوامی فلاح و بہبود کے لیے متعدد مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان تمام عوامی فلاحی منصوبوں اور حکومتی اقدامات کی سوشل میڈیا پر مؤثر اور مثبت انداز میں تشہیر نہایت ضروری ہے تاکہ عوام تک درست معلومات پہنچ سکیں اور عوامی آگاہی میں اضافہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ جدید دور میں سوشل میڈیا عوام اور اداروں کے درمیان ایک مضبوط رابطے کا ذریعہ بن چکا ہے، اس لیے فاؤنڈیشن کو بھی اپنی سرگرمیوں، کامیابیوں اور عوامی خدمت کے منصوبوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ہوگا تاکہ معاشرے میں مثبت سوچ اور اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔

اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے کے پی ایل ڈبلیو ایم فاؤنڈیشن کی کامیابی، استحکام اور فلاحی مشن کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

13/05/2026

خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں، صوبائی اوور سائٹ اینڈ ایڈوائزری کمیٹی برائے تعلیمِ نسواں، بلو وینز اور ملالہ فنڈ کے اشتراک سے بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی پری بجٹ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

اس اہم تقریب میں اراکینِ پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلی کے ممبران، مختلف سرکاری محکموں کے نمائندگان، ماہرینِ تعلیم، میڈیا، قانونی شعبے سے وابستہ افراد، مذہبی رہنما، سول سوسائٹی اور طالبات سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

چیئرپرسن خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں، ڈاکٹر سمیرا شمس نے اپنے خطاب میں کہا:
“بچیوں کی تعلیم صرف ایک بنیادی حق نہیں بلکہ ایک مضبوط، بااختیار اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ موجودہ صوبائی حکومت نے بچیوں کی تعلیم کے فروغ، تعلیمی سہولیات کی بہتری اور طالبات کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے قابلِ قدر اقدامات کیے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔تاہم اس شعبے میں مزید مؤثر اور پائیدار سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔”

انہوں نے مزید کہا:“ صوبائی حکومت کی مؤثر پالیسیوں اور مسلسل کاوشوں کے باعث خیبر پختونخوا میں گرلز ایجوکیشن کے شعبے میں مزید پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم اس عمل کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور شراکت داروں کے درمیان باہمی تعاون ناگزیر ہے، تاکہ ہر بچی کو معیاری اور محفوظ تعلیم تک مساوی رسائی حاصل ہو سکے۔”

سیکرٹری خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں، شازیہ عطاء نے اس موقع پر کہا:
“بچیوں کی تعلیم میں سرمایہ کاری دراصل ایک محفوظ، خوشحال اور بااختیار مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں صوبے میں لڑکیوں کی تعلیم، تحفظ اور بااختیار بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مشترکہ کاوشیں جاری رکھے گا۔”

خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں کی صوبائی اوور سائٹ اینڈ ایڈوائزری کمیٹی برائے تعلیمِ نسواں اور “رائز اینڈ شائن گرلز ایجوکیشن لیڈرشپ نیٹ ورک” کے اراکین نے مالی سال 2026-2027 کے لیے صنفی حساس تعلیمی بجٹ سازی سے متعلق سفارشاتی دستاویزات محکمۂ تعلیم کے حوالے کیں، تاکہ بچیوں کی ثانوی تعلیم تک رسائی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

تقریب کے دوران تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اس بات پر بھرپور اتفاقِ رائے پایا گیا کہ تعلیمی ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور مالی سال 2026-2027 کو خیبر پختونخوا میں “بچیوں کی تعلیم کی بحالی کا سال” قرار دیا جائے۔




Photos from Khyber Pakhtunkhwa Commission on the Status of Women's post 11/05/2026

چیئر پرسن خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں، ڈاکٹر سمیرا شمس نے آج ایڈیشنل آئی جی خیبر پختونخوا محمد علی باباخیل سے اُن کے دفتر میں ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران خواتین کے تحفظ، بااختیاری، اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ اقدامات اور مؤثر حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

ڈاکٹر سمیرا شمس نے خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں (KPCSW) کی جانب سے مرتب کردہ *ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی بک* پیش کی، جو خواتین کے حقوق کے تحفظ، مساوی مواقع کی فراہمی اور بااختیار معاشرے کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت اور سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

اس موقع پر خواتین کی فلاح و بہبود، سماجی ترقی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے KPCSW کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹر سمیرا شمس کو تعریفی شیلڈ بھی پیش کی گئی۔

Photos from Khyber Pakhtunkhwa Commission on the Status of Women's post 08/05/2026

رائٹ بیسڈ کمیونٹی اسٹیبلائزیشن پراجیکٹ کا وفد خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں (KPCSW) کے دفتر آمد

سیکرٹری خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں شازیہ عطاء سے رائٹ بیسڈ کمیونٹی اسٹیبلائزیشن پراجیکٹ کے وفد کی اہم ملاقات KPCSW کے دفتر میں منعقد ہوئی۔

اس موقع پر وفد نے CSP Khyber-II Project کی سہ ماہی پیش رفت، نمایاں کامیابیوں اور ضلع خیبر میں جامع اور پائیدار کمیونٹی استحکام کے لیے جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس میں کمیونٹی استحکام کے عمل میں خواتین کی مؤثر شمولیت اور صنفی حساس حکمتِ عملیوں کی اہمیت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ضلع خیبر میں مجوزہ “Gender Desk” کے قیام کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا، جس کا مقصد خواتین کی آواز، ضروریات اور مسائل کو مقامی ترقیاتی اور استحکامی عمل میں مؤثر انداز میں شامل کرنا ہے۔

ملاقات کے دوران Gender Desk اور خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں کے درمیان مضبوط ادارہ جاتی روابط اور باہمی تعاون کے فروغ پر بھی زور دیا گیا، تاکہ خواتین کے حقوق کے تحفظ، مؤثر رابطہ کاری اور صنفی حساس پروگرامنگ کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔

سیکرٹری KPCSW شازیہ عطاء نے اس شراکت داری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کمیشن کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے خواتین کی بامعنی شمولیت، تحفظ اور بااختیار بنانے کے لیے مشترکہ اور پائیدار اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔

ملاقات کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ خواتین کی امن سازی، ترقیاتی عمل اور کمیونٹی استحکام میں فعال شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ادارہ جاتی روابط اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

04/05/2026

CALL FOR REGISTRATION

Engagement of NGOs for CSOs Advisory Forum

About KPCSW

The Khyber Pakhtunkhwa Commission on the Status of Women (KPCSW) is a statutory body mandated to:
• Review laws, policies, and institutional mechanisms affecting women
• Advise the Government on measures to promote gender equality
• Safeguard and strengthen women’s wellbeing across the province

KPCSW is inviting applications from NGOs/INGOs to constitute a CSOs Advisory Forum, comprising representatives from civil society organizations.



Functions & Objectives of the Forum

The CSOs Advisory Forum will:
• Promote collaboration, coordination, and consultation between KPCSW and CSOs
• Support efforts to advance women’s rights and empowerment in KP
• Assist KPCSW in identifying key issues and challenges faced by women
• Provide recommendations and policy input
• Advise on policies, programs, and strategies related to women’s empowerment
• Support KPCSW in:
• Research and studies
• Assessments of women’s issues
• Identifying opportunities for joint initiatives and resource mobilization



Eligibility Criteria (Implied + Expanded)

Organizations should:
• Be registered NGOs/INGOs
• Have minimum 2 years of experience in:
• Women empowerment
• Gender-related work
• Have a track record of relevant interventions/projects
• Be able to contribute to policy dialogue, research, or advocacy



Required Documents (MANDATORY)

Applicants must submit:
1. Organizational Profile
• Clearly showing at least 2 years of experience in women/gender-related work
2. Registration Documents
• For NGOs:
• Registration with relevant provincial/federal authority
• Social Welfare Department / SECP / other applicable body
• For INGOs:
• Registration/MoU with:
• Economic Affairs Division (EAD), Islamabad
• Ministry of Interior, Islamabad
3. Financial Document
• Account Statement of the last one year



Submission Details

📅 Extended Deadline: 10th May, 2026

📌 Applications must be submitted to:

Secretary
Khyber Pakhtunkhwa Commission on the Status of Women
House No. 78-E-III, Rehman Baba Road
University Town, Peshawar

📞 Phone: 091-9216097, 9216107
📠 Fax: 091-5852931



Additional Practical Requirements (Not explicitly written but necessary for submission)

To avoid rejection or delays, organizations should also ensure:

1. Cover Letter
• Expression of interest
• Brief justification of suitability
• Signed by authorized representative

2. Experience Evidence
• List of relevant projects (women/gender)
• Donor/partner details (if any)
• Geographic coverage

3. Organizational Capacity
• Team structure (especially gender-focused staff)
• Technical expertise (policy, research, advocacy, GBV, etc.)

4. Governance & Compliance
• Valid registration status (not expired)
• Tax registration (if applicable)
• Clean audit/financial credibility

5. Representation
• Nominate a focal person for engagement with KPCSW



What KPCSW is Likely Looking For (Strategic Insight)

Strong applicants will demonstrate:
• Alignment with women empowerment and gender equality mandate
• Ability to contribute to policy-level discussions (not just implementation)
• Experience in:
• GBV
• Legal reform
• Economic empowerment
• Community mobilization
• Willingness for regular engagement and coordination

Want your business to be the top-listed Government Service in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

H. No 78/E Rehman Baba Road University Town Peshawar
Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 09:00 - 05:00
Tuesday 09:00 - 05:00
Wednesday 09:00 - 05:00
Thursday 09:00 - 05:00
Friday 09:00 - 05:00