جان اُنکی بھَلا کون بَچائے۔
جِنکے دُشمَن طَبیب ھوتے ھیں۔
AJRAK Group Bajaur
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from AJRAK Group Bajaur, Political organisation, .
26/06/2019
15/01/2019
میری ذندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
میں اسی لئے مسلمان....... میں اسی لئے نمازی
ملنگ و درویش اور مستقبل PK 101 کا لوکل MPA محمد رحمان صاحب سابقہ عنایت قلعہ یونین کونسل Pti صدر اور معروف سماجی شخصیت ہیں, ایک باکردار اور خوف خدا رکھنے والے ایک درد مند انسان ہیں,2013 اور 2018 کے الیکشن میں این۔اے 44 سے اپنے امیدوار اور موجودہ MNA گلداد خان کو بھر پور اسپورٹ کیا تھا۔
آپ ایک غریب و خاکسار اور ایک محنت کش انسان ہیں, لوئر مڈل کلاس فیملی سے تعلق ہے, مخلوق خدا کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف عمل رہتے ہیں, آپ کی ماضی کی کارکردگی اور سماجی خدمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے باجوڑ کے غیور عوام نے مزکورہ حلقےکیلۓ اپلائ کرنے پر مجبور کیا۔
اگر پارلیمانی بورڈ نے ٹکٹ دے دیا۔تو جانی اور مالی اپنے ٹیم کیساتھ زبرداست اسپورٹ کا اعلان کرتا ھوں۔نہ ملنے پر نامزاد امیدوار کو اسپورٹ کرونگا۔
ہم اپنا نظریہ رکھتے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب اپنا نظریہ پاس رکھو۔
06/10/2018
چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار صاحب سے غریب مزدوروں کا ہمدردانہ اپیل۔
درخواست براۓ پورٹ قاسم ڈاک ورکرز پر 1974ء کے ایکٹ کا اطلاق۔
جناب عالی۔!………گزارش ہے کہ ڈاک ورکرز پورٹ قاسم بندرگاہ معرض وجود میں آنے کے دن سے یہاں کام کر رہے ہیں۔
اور ان مزدوروں کے ان گنت محنت و قربانیوں کے بدولت آج یہ بندرگاہ کامیابی کے بام عروج پر پہنچی ہیں۔
َََٖٗٗٗڈاک ورکرز (ریکولیشن آف ایمپلائیمنٹ) ایکٹ 1974 کے شق (1)ذیلی شق (2) میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ اس ایکٹ کا اطلاق پورے پاکستان پر ھو گا۔
جسٹس صاحب پورٹ قاسم ڈاک ورکرز پاکستان کے سب سے پرانے ورکرز ہے۔
پورٹ قاسم اٹھارٹی کی جانب سے ورکروں کے قانونی اورجائز حقوق سلب کرنا اور اتھارٹی کے ہٹ دھرمی کے خلاف تاریخ ساز ``دھرنا`` مسلسل 10 دنوں سے جاری ہے۔
جسٹس صاحب جاتے جاتے ان غریبوں پر بھی ایک احسان کر دے۔پلیز سر سوموٹو ایکشن لے۔۔۔
عین نوازش ھو گی۔
تمام ڈاک ورکرز آگے فارواڈ کریں۔تاکہ جسٹس صاحب تک پہنچ جاۓ۔
آپکا دعاگو۔۔۔۔۔۔۔نظیر خان باجوڑی۔
ﺍﯾﮏ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ
ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ
ﮐﮧ
ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ! ﻣﯿﺮﺍ
ﺑﺎﭖ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﺎ ﻧﯿﮩﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ
ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﻝ ﺧﺮﭺ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﮯ
ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ
ﺑﻼﻭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﭖ ﮐﻮ
ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﻮ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ
ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ
ﺭﻧﺠﯿﺪﮦ ﮬﻮﮮ
ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ
ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﻠﮯ
ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻋﺮﺏ ﮐﯽ ﮔﮭﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻋﺮﯼ
ﺗﮭﯽ
ﺗﻮ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺠﮫ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺍ
ﮐﮯ ﺟﮭﻮﻧﮑﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ
ﺍﺩﮬﺮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﺳﮯ
ﭘﮩﻠﮯ
ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮﺍﺋﻞ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ
ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮬﻮﮮ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﮐﮧ
ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻧﮧ ﻭ ﺗﻌﺎﻟﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ
ﮐﺎ ﮐﯿﺲ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺌﯿﮯ ﮔﺎ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ
ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺳﻨﯿﮟ ﺟﻮ ﻭﮦ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻮﮮ ﺁ ﺭﮨﮯ
ﮬﯿﮟ
ﺟﺐ ﻭﮦ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﮮ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ
ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﮐﮧ
ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﻦ ﺳﻨﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﭘﮩﻠﮯ
ﻭﮦ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺳﻨﺎﺋﯿﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮬﻮﮮ
ﺁﺋﮯ ﮬﯿﮟ
ﻭﮦ ﻣﺨﻠﺺ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺗﮭﮯ
ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﮯ
ﮐﮧ
ﺟﻮ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﺩﺍ
ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﮯ
ﺁﭖ ﮐﮧ ﺭﺏ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺳﻦ ﻟﺌﯿﮯ
ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ
ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺗﮭﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ
ﺍﻥ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﻧﮯ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﮯ
(ﻣﯿﮟ ﺍﭖ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ )
ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ! ﺟﺲ ﺩﻥ ﺗﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮬﻮﺍ
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﻤﺒﺨﺘﯽ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺗﺒﮭﯽ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ
ﮬﻮﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ
ﺗﻮ ﺭﻭﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، ﮨﻢ ﺳﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ
ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﮨﻢ ﮐﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﮯ
ﺗﮭﮯ
ﺗﻮ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻟﯿﺌﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻃﺒﯿﺐ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ،
ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺩﻡ ﺩﺭﻭﺩ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ
ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ
ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﻣﺮ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ
ﮐﮩﯿﮟ ﻣﺮ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ
ﺣﻼﻧﮑﮧ ﻣﻮﺕ ﺍﻟﮓ ﭼﯿﺰ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ
ﺍﻟﮓ ﭼﯿﺰ ﮬﮯ
ﭘﮭﺮ ﺗﺠﮭﮯ ﮔﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﻣﯿﮟ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ
ﮐﮧ
ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﭼﮭﺎﻭﮞ ﻣﻞ ﺟﺎﮮ
ﭨﮭﻨﮉ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﺘﮭﺮ
ﺗﻮﮌﮮ
ﺗﻐﺎﺭﯾﺎﮞ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮔﺮﻣﺎﺉ
ﻣﻞ ﺟﺎﮮ
ﺟﻮ ﮐﻤﺎﯾﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﯿﺌﮯ
ﺟﻮ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﯿﺌﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ
ﻣﯿﺮﯼ ﮨﮉﯾﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﺧﺘﮧ ﮨﻮ ﮔﯿﺌﮟ
ﭘﮭﺮ
ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺧﺰﺍﮞ ﻧﮯ ﮈﯾﺮﮮ ﺩﺍﻝ ﻟﺌﮯ
ﺗﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮩﺎﺭ ﺁﮔﺌﯽ
ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮏ ﮔﯿﺎ
ﺗﻮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻣﯿﺪ ﮬﻮﺉ
ﮐﮧ ﺍﺏ ﺗﻮ ﮨﺮﺍ ﺑﮭﺮﺍ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ
ﭼﻞ
ﺍﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ
ﭼﮭﺎﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﮔﺰﺍﺭﻭﮞ ﮔﺎ
ﻣﮕﺮ
ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺁﺗﮯ ﮬﯽ
ﺗﯿﺮﮮ ﺗﯿﻮﺭ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﮔﺌﯿﮟ
ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﯿﻨﮧ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﺮ
ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﮯ
ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺉ ﻧﻮﮐﺮ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ
ﺍﯾﺴﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻟﺘﺎ
ﭘﮭﺮ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ 30 ﺳﺎﻟﮧ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﻮ ﺟﮭﭩﻼ
ﺩﯾﺎ
ﮐﮧ
ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺍ ﺑﺎﭖ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﻮﮐﺮ ﮬﻮﮞ
ﻧﻮﮐﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺉ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﺭﻭﭨﯽ
ﺩﮮ ﮨﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﮯ
ﺗﻮ ﻧﻮﮐﺮ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﻭﭨﯽ ﺩﮮ
ﺩﯾﺎ ﮐﺮ
ﯾﮧ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺍﻟﻠﮧ
ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺮ ﭘﮍ ﮔﺌﯽ
ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﺗﻨﺎ ﺭﻭﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ
ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﻣﺒﺎﺭﮎ
ﺗﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ
ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ
ﺟﮕﮧ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﮯ
ﺍﻭﺭ
ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ
ﺁﺋﻨﺪﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺖ ﺁﻧﺎ
ﺍﻭﺭ ﺳﻦ ﻟﻮ
ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﮨﮯ۔۔
په قبر کی دمړی دخرابیدو مراحل:
په مړی باندی چی کله د 24 نه تر 36 ساعتونو پوری وخت تیر شی په خیټه کی دنامه شاه اوخوا شنه داغونه پیدا کیږی او دسترګو نه اوبه روانی شی،
د دوه ورځو نه تر پنځه ورځو پوری په پوزه او خوله کی زګونه پیدا شی او خیټه وپړسیږی او په ټول بدن کی شین والی خور شی، او دڅرمن دلاندی ګازی خلایا پیدا شی، اومخ هم پړسوب پیدا کړی چی دسترګاټی او ژبه بهر راوځی او بدن یو بد بوی پیدا کړی.
د پنځو نه تر لسو ورځی پوری دڅرمن شین والی په تور والی بدل شی او څرم ورو ورو دمینځه ځی او نوکان او ویختان هم وغورڅیږی، او په بدن کی چنجی پیدا شی خصوصا په پوزه او خوله کی او تناسلی اندام کی تر دی چی چنجی په ټول بدن کی عام شی او دبدن نه غوښه دیوی ورځی نه بلی ته په کمیدو وی تر دی چی په شپږو میاشتو کی دبدن ټوله غوښه ویلی شی او تش دهډوکی هیکل پاتی شی،
بیا د وخت په تیریدو سره هډوکی هم خاوری کیږی خو صرف یو هډوکی چی هغه ته په احادیثو کی د )عجب الذنب( نوم ویل شوی او پښتو کی ورته لکلمی وای چی دملا دهډوکی لاندی خصه کی وی دغه هډوکی نه خاوری کیږی، او دقیامت په ورځ به انسان الله تعالی بیرته د دغی هډوکی نه جوړ کړی
الله تعالی د موږ د قبر عذاب نه وساتی
13/04/2018
یورپ میں چار مہینے بعد پہلا الٹراساؤنڈ ہوتا ہے اور اگر کوئی جاننا چاہتا ہو تو بچے کی جنس بتا دی جاتی ہے۔
ڈیلیوری کے وقت خاوند عورت کے پاس ہوتا ہے اور کمرے میں ایک یا دو نرسیں ہوتی ہیں۔ کسی قسم کی دوائی نہیں دی جاتی، عورت درد سے چیختی ہے مگر نرس اسے صبر کرنے کا کہتی ہے اور %99 ڈیلیوری نارمل کی جاتی ہے۔ نہ ڈیلیوری سے پہلے دوا دی جاتی ہے نہ بعد میں۔ کسی قسم کا ٹیکہ نہیں لگایا جاتا۔
عورت کو حوصلہ ہوتا ہے کہ اس کا خاوند پاس کھڑا اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہے۔ ڈیلیوری کے بعد بچے کی ناف قینچی سے خاوند سے کٹوائی جاتی ہے اور بچے کو عورت کے جسم سے ڈائریکٹ بغیر کپڑے کے لگایا جاتا ہے تاکہ بچہ ٹمپریچر مینٹین کر لے۔ بچے کو صرف ماں کا دودھ پلانے کو کہا جاتا ہے اور زچہ یا بچہ دونوں کو کسی قسم کی دوائی نہیں دی جاتی سوائے ایک حفاظتی ٹیکے کے جو پیدائش کے فوراً بعد بچے کو لگتا ہے۔ پہلے دن سے ڈیلیوری تک سب مفت ہوتا ہے اور ڈیلیوری کے فوراً بعد بچے کی پرورش کے پیسے ملنے شروع ہو جاتے ہیں۔
پاکستان میں لیڈی ڈاکٹر ڈیلیوری کے لئے آتی ہے اور خاتون کے گھر والوں سے پہلے ہی پوچھ لیتی ہے کہ آپ کی بیٹی کی پہلی پریگنینسی ہے، اس کا کیس کافی خراب Hafiرہا ہے جان جانے کا خطرہ ہے، آپریشن سے ڈیلیوری کرنا پڑے گی۔ %99 ڈاکٹر کوشش کرتی ہے کہ نارمل ڈیلیوری کو آپریشن والی ڈیلیوری میں تبدیل کر دیا جائے۔
ڈیلیوری سے پہلے اور بعد میں کلوگرام کے حساب سے دوائیاں دی جاتی ہیں ڈیلیوری کے وقت خاوند تو دور کی بات خاتون کی ماں یا بہن کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی اور اندر ڈاکٹر اور نرس کیا کرتی ہیں یہ خدا جانتا ہے یا وہ خاتون۔
نارمل ڈیلیوری بیس تیس ہزار میں اور آپریشن والی ڈیلیوری اسی نوے ہزار میں ہو تو ڈاکٹر کا دماغ خراب ہے نارمل کی طرف آئے آخر کو اس کے بھی تو خرچے ہیں بچوں نے اچھے سکول میں جانا ہے نئی گاڑی لینی ہے بڑا گھر بنانا ہے۔ اسلام کیا کہتا ہے انسانیت کیا ہوتی ہے سچ کیا ہوتا ہے بھاڑ میں جائے، صرف پیسہ چاہئیے۔۔
اگر میری کسی بات یا عمل سے کسی بھائی بہن کو تکلیف پہنچی ہو یا اسے کچھ ناگوار گزرا ہو تو نہایت ادب و احترام سے معذرت خواہ ہوں ۔
لیکن!!
آپ سب بھی جانتے ہیں کہ یہ سب سچ ہے۔
18/02/2018
آحمد شاہ کا مئیت کراچی ائیر پورٹ سے 10 بجے اسلام روانا ہوگا ۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں مقیم تمام باجوڑی آج رات 12 بجے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ ضرور پہنچے ۔شکریہ
18/01/2018
Congratulations
سیاسی اختلافات اپنی جگہ۔
آج میں بلاول بھٹو کو سلوٹ👋 پیش کرتا ھوں۔جس نے ایک بے گناہ غریب پختون کو انصاف دلانے میں پہل کی۔
ائ جی سندھ نے تحقیقات کے لئے تین رکنی کمیٹی بنادی۔ پی ٹی ائ ایم پی اے نے سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع کرادی۔ دوستوں اس واقعہ کو چھوڑنا نہیں جب تک یہ قاتل پھانسی کےپھندے تک نا پھنچ جائے۔
18/01/2018
آج ملک کے مختلف شہروں میں نقیب مخسود شہید کیلئے اختجاجی جلوس نکالے جائینگے،جسمیں کراچی پریس کلب کے سامنے 4بجے،اسلام آباد پریس کلب کے سامنے 3بجے، خقنواز پارک ڈی۔آئ۔خان سے 2بجے اور بنوں ڈیگری 1 کالج سے 12 بجے نکالے جائینگے۔ملک کے باقی شہروں میں بھی امید ہے کہ لائحہ عمل طے کی جائیگی۔لہذا تمام محب وطن لوگوں سے اپیل ہے کہ جہاں ہے وہاں احتجاج میں حصہ لیں۔اور نقیب محسود شہید کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے اواز اٹھائے۔اور ساتھ ساتھ پلے کارڈز بنائے، جسمیں خصوصی طور پر جعلی پولیس مقابلےکے ماہر راو انور کے خلاف نعرے درج ہوں۔
