15/01/2022
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خیبر عمران خان کا تھانہ لنڈی کوتل و طورخم بارڈر کا دورہ
تھانہ لنڈی کوتل کے ایس ایچ اوز نے پرتباک استقبال کرتے ہوئے تحائف پیش کیئے ڈی پی او نے تھانے کے مختلف حصوں کا جائزہ لیا محرر سٹاف کو ضروری ہدایات جاری کئے تھانے کا تمام ریکارڈ کو تسلی بخش قرار دیا، عوام کے ساتھ نرمی اور خندا پیشانی سے پیش آنے کی ہدایات سمیت تھانہ محرر کی کرکاردگی کو سراہا۔
مچنی پوسٹ پرطورخم میں موجود محکموں نادرا آفس، این ایل سی ٹرمینل، کسٹم کمپاؤنڈ اور دیگر جگہوں کے بارے جامعہ بریفننگ دی گئی۔
باڈر پر آنے جانے والے افراد پر کھڑی نظر رکھے۔علاقے کی امن و امان اور عوام کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اول اولین ترجیح ہے۔
ڈی پی او خیبر عمران خان
25/09/2021
پشاور : رواں سال کے دوران 1854 پولیس اہلکاروں کو سزائیں دی گئیں ہیں
فرائض میں غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں کے لئے پشاور پولیس میں کوئی جگہ نہیں، پولیس اہلکار خود کو حقیقی معنوں میں عوام کا خادم سمجھتے ہوئے فرائض منصبی انجام دیں، محکمہ پولیس میں خود احتسابی کا عمل جاری ہے جس کا مقصد شہریوں کو بہترین سروسز کی فراہمی کو یقینی بنانا اور پولیس اہلکاروں کی کارکردگی کو جانچنا ہے، خود احتسابی اور سزا و جزا پر عمل پیرا ہو کر رواں سال کے دوران جہاں پولیس افسران و اہلکاروں کو نقد انعامات اور توصیفی اسناد سے نوازا گیا ہے وہیں فرائض میں غفلت اور اختیارات سے تجاوز سمیت عوامی شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے 1854 پولیس اہلکاروں کو مختلف سزائیں دی گئیں ہیں، سخت ترین نظام کے تحت کانسٹیبل سے لے کر انسپکٹر تک کے اہلکاروں کو سزائیں ملی ہیں جن میں سے 61 اہلکاروں کو نوکری سے فارغ، تین کو جبری ریٹائرڈ جبکہ متعدد کو تنزلی اور رینک توڑنے کی سزا دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کپیٹل سٹی پولیس پشاور میں رواں سال کے دوران فرائض میں غفلت اور لاپرواہی کے مرتکب 1854 پولیس اہلکاروں کوسزائیں دی گئی ہیں جن میں سپاہی سے لے کر انسپکٹر تک کے اہلکار شامل ہیں، سزا پانے والوں میں سے 61 اہلکاروں کو سنگین سزائیں دیتے ہوئے ملازمت سے برخاست کیا گیا ہے جبکہ تین اہلکاروں کو جبری ریٹائرمنٹ پر گھر بھیجنے سمیت متعدد کو تنزلی اور رینک توڑنے کی سزا سنائی گئی ہے
سی سی پی او عباس احسن نے جاری اعداد و شمار کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیادہ تر سزائیں فرائض میں غفلت اور عوامی شکایات سمیت اختیارات سے تجاوز پر دی گئیں ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ غفلت و لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے لئے پشاور پولیس میں کوئی جگہ نہیں ہے، انہوں نے پولیس اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس اہلکار حقیقی معنوں میں خود کو خادم سمجھتے ہوئے عوام کو بہترین سروسز کی فراہمی کو یقینی بنائیں، انہوں نے مزید کہا ہے کہ محکمہ پولیس میں خود احتسابی پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کیا جا رہا ہے جس کا مقصد پولیس اہلکاروں کو شہریوں کا جوابدہ بنا کر ان کے مسائل کا بروقت تدارک کرنا اور ان کو قانونی معاونت کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے تاکہ محکمہ پولیس میں ہونے والے اصلاحات کا ثمر عام عوام تک پہنچ سکے
31/07/2021
"شہداء کے لہو"
پولیس والوں کے کسی سے ذاتی دشمنی نہیں ہوتی اپنے خون اور اپنی جان کا نذرانہ صرف اور صرف اپنے ملک اور اپنی عوام کی حفاظت کے لیے دے رہے ہیں
19/07/2021
تمام مسلم دنیا کو عید کی خوشیاں بہت بہت مبارک ہو
29/06/2021
( ہرلمحہ موت۔۔۔لیکن پرہیز۔۔احتیاط ضروری)
ڈرائیونگ میں موبائل استعمال/ موت کو دعوت دینے کے مترادف/ خدارا مختاط سے ڈرائیونگ کریں/ اور موبائل سے پرہیز کریں، پچھتاوے سے اختیاط ضروری ہے۔
شکریہ