Pani Hy Zindagi

Pani Hy Zindagi

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pani Hy Zindagi, Nature Preserve, Peshawar.

یہ صفحہ پانی کے تحفظ اور درخت لگانے سے متعلق عوامی آگاہی کے لیے بنایا گیا ہے۔
💧 پانی بچائیں
🌱 درخت لگائیں
🇵🇰 پاکستان کا مستقبل محفوظ بنائیں
A public awareness page dedicated to water conservation and tree plantation for a sustainable Pakistan

18/03/2026

اگر حکومت اور حکومتی ادارے ہمارے شھروں کو سرسبز نہیں بنا رہے ہیں تو پھر کیوں نہیں کمیونٹی لیول پر ہی ملکر اپنے اپنے شھروں کو درختوں سے آراستہ بناتے ہیں اور اپنے اپنے شھروں کو ہرابھرا اور خوبصورت بناتے ہیں۔۔۔ کیا آپ اس تجویز پر عمل کرینگے؟؟؟

05/02/2026

آخر کار قدرت نے فیصلہ کر دیا 😔
جنوبی افریقہ کے دارالحکومت کیپ ٹاؤن کو دنیا کا پہلا خشک سالی زدہ شہر قرار دے دیا گیا!

زیر زمین پانی بھی ختم ہو گیا ان کی حکومت نے 14 اپریل 2023 کے بعد پانی فراہم کرنے میں ناکامی کا اعلان کر دیا ہے۔ دنیا کا المناک سفر شروع ہو چکا ہے!

ایسا وقت ہم پر بھی آسکتا ہے!

پانی کا استعمال کفایت سے کریں۔

پانی کا ضیاع بند کریں۔

اس حقیقت کو مت بھولیں کہ دنیا کا صرف %2.7 پانی پینے کے قابل ہے!
اپنے علاقے میں لوگوں کو آگاہ کریں!
تمام قریبی ڈیم کم پڑ چکے ہیں اور زیر زمین پانی کی سطح بتدریج کم ہو رہی ہے۔

- روزانہ کار، صحن اور گھر کے باہر والے حصے دھونے سے بچیں؛

کپڑوں کی دھلائی کے دوران پانی کے نل کو مسلسل چلانا بند کریں۔

گھر میں لیک ہونے والے نل اور فلش ٹینکیوں کی مرمت کروائیں

درخت لگائیں! ماحول کی حفاظت کریں

آئیں مل کر اس خوفناک آنے والے بحران کا مقابلہ کریں!

درخت لگائیں! 🌳
ماحول کو بچائیں! 🌴

آئیں ایک سماجی تحریک شروع کریں۔
💚🌳🇵🇰

21/01/2026

لاہور ہائی کورٹ نے درختوں کی کٹائی پر پابندی عائد کر رکھی ہے لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ پاکستان کی بڑی جامعات میں سے ایک پنجاب یونیورسٹی، شیخ زید اسلامک سینٹر میں درختوں کی بے دریغ کٹائی جاری ہے اور پوچھنے والا کوئی نہیں ہے!

شجر دوست کمیونٹی کی جانب سے ایک درخواست شئیر کی گئی ہے جس کے مطابق کچھ عرصہ قبل جب آندھی اور بارشوں کے باعث شیخ زید اسلامک سینٹر کی غربی بیرونی دیوار گری تو اس کی وجہ سے 7 درخت متاثر ہوئے۔ یونیورسٹی کی انجینئرنگ برانچ نے دیوار سے متصل 48 درخت کاٹے جانے کی تجویز دی۔

یوں 17 جنوری 2026 کو ٹھیکیدار نے درخت کاٹنا شروع کیے اور ہفتہ و اتوار کو یہ کام زور و شور سے جاری رہا چونکہ یونیورسٹی کی چھٹی تھی تو درخت با آسانی کاٹ کر باہر لے جائے گئے۔

شجر دوست کمیونٹی کی درخواست میں بتایا گیا ہے کہ درختوں کی کٹائی سے متعلق پرنٹ میڈیا یا یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر کسی قسم کا ٹینڈر مشتہر نہیں کیا گیا جو کہ غیر قانونی عمل ہے۔ درخواست میں بتایا گیا ہے کہ آکشن کمیٹی کے علم میں لائے بغیر درختوں کی کٹائی کا ٹھیکہ محض ساڑھے پانچ لاکھ روپے میں دیا گیا جس میں اب تک 60 کے قریب درخت کاٹے جا چکے ہیں۔

درخواست کے مطابق ان میں آم اور جامن کے درخت بھی شامل ہیں۔ شجر دوست کمیونٹی نے اس غیر قانونی عمل پر شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کرنے کی درخواست کی ہے۔

ادیب یوسفزئی

20/01/2026

Ethiopia has emerged as a global leader in large-scale environmental restoration through its Green Legacy Initiative. The program has planted billions of trees annually, aiming to combat deforestation, restore degraded land, and improve climate resilience across the region. The scale of the effort demonstrates how coordinated national action can begin reversing decades of environmental damage.

20/01/2026

خیبر پختون خواہ والوں نے جنگلات ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے

17/01/2026

گلوبل وارمنگ پر باتیں ٹھنڈے كمروں كے بجاے قدرتی ماحول میں كی جاءیں تو بہتر ہے

اگر گلوبل وارمنگ واقعی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے تو اس پر گفتگو بھی قدرتی ماحول کے قریب رہ کر ہونی چاہیے۔ کھلے میدان، پارکس، درختوں کے سائے، یا کسی سبز علاقے میں بیٹھ کر جب ہم گرمی، حبس، دھوپ اور آلودگی کو خود محسوس کریں گے تو بات محض الفاظ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ احساس میں بدل جائے گی
#

10/01/2026

ہزاروں درختوں کی کٹائی
عوام خاموش تماشائی

10/01/2026

‎صرف اسلام آباد نہیں پورے مُلک کو جان بوجھ کر ریگستان بنایا جا رہا ہے ۔ پچھلے ایک مہینے میں صرف آزاد کشمیر میں 130 جگہ جنگلات کو آگ لگائی گئی اور ہر جگہ سے درختوں کا خاتمہ کیا جارہا ہے ۔ جب تک ماسٹر پلان نہیں بنتے اور ہر سول سوسائٹی کے طبقے کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا تو تیار رہیں ایک قیامت کے لئیے قیامت سے پہلے ۔۔ ماحولیاتی تبدیلی کا جِن ویسے ہی بے قابو ہے اور اوپر سے جو آس اُمید اِن پودوں سے تھی وہ بھی دم توڑ رہی ہے ۔ اگر آبادی پہ کنٹرول نہیں ہوتا تو ہجرت لیکن کہاں ؟؟؟؟

10/01/2026

‎ہمارا المیہ یہ ہے کہ 90 فیصد لوگوں کو ماحول کا پتہ ہی نہیں اور اُن کی سپورٹ سے یہ سب کُچھ ہوتا ہے اور باقی کے دس فیصد لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہیں

08/01/2026

سندھ سالڈ ویسٹ والے کراچی کے ساحلوں کو کوڑا دان بنا رہے ہیں جس سے ناصرف انسانی بلکہ آبی تہذیب کی بھی تباہی پکی ہے

07/01/2026

بحیرہ ارل قدیم زمانے سے قازقستان اور ازبکستان کے درمیان پھیلا ہوا تھا۔ اس کا رقبہ تقریباً 68,000 مربع کلومیٹر تک پہنچ جاتا تھا، یعنی آدھا پنجاب جتنا۔ یہ دنیا کا چوتھا بڑا اندرونی سمندر تھا۔ اس میں پانی دراصل دو بڑی ندیوں — آمودریا اور سیردریا — سے آتا تھا۔ صدیوں تک انہی دریاؤں نے اس سمندر کو زندہ رکھا، مچھلیوں کے ذخائر کو بڑھایا اور ساحلوں پر آباد بستیوں کو روزگار دیا۔

انیسویں اور بیسویں صدی کے وسط تک یہاں ایک مضبوط ماہی گیر معیشت موجود تھی۔ صرف ازبک اور قازق قصبوں میں سالانہ لاکھوں ٹن مچھلی پکڑی جاتی، فیکٹریاں چلتی تھیں، اور ہزاروں خاندان اسی پر زندہ رہتے تھے۔ بعض علاقوں میں گرم پانی کے چشمے بھی تھے جنہیں علاج اور آرام کے لیے استعمال کیا جاتا، اگرچہ سیاحت کبھی زیادہ فروغ نہ پا سکی۔

المیہ دراصل سوویت دور میں شروع ہوا۔ 1960 کی دہائی میں سوویت منصوبہ سازوں نے وسطی ایشیا کو “روئی کا سونا” بنانے کا فیصلہ کیا۔ آمودریا اور سیردریا کے پانی کو بڑے نہری نظاموں کے ذریعے کپاس، گندم اور دیگر فصلوں کے لیے موڑ دیا گیا۔ نظریہ یہ تھا کہ صحرا میں زراعت کو وسعت دی جائے — مگر اس کے نتیجے میں آرال سمندر کا فطری توازن ٹوٹ گیا۔ پانی سمندر تک پہنچنے کے بجائے کھیتوں میں ضائع ہونے لگا، لاکھوں ایکڑ پر زراعت تو بڑھی مگر سمندر سکڑنا شروع ہو گیا۔

1970 کی دہائی میں سطح نمایاں طور پر کم ہوئی۔ 1980 تک سمندر کا رقبہ تقریباً آدھا رہ گیا۔ 1990 کے بعد تو صورتحال تیزی سے بگڑی — پانی پیچھے ہٹتا گیا، ساحلی شہر دریا کے کنارے سے سینکڑوں کلومیٹر اندر رہ گئے، اور آخرکار سمندر مختلف حصّوں میں بٹ کر “چھوٹے آرال” اور “بڑے آرال” کے بے جان تالابوں میں بدل گیا۔

جہاں کبھی پانی تھا، وہاں نمک آلود صحراء پھیل گئی۔ ریت اور نمک کے طوفان اٹھنے لگے جن میں کھادوں اور کیمیائی زہروں کے ذرات شامل تھے، جو برسوں تک زمین پر گرتے رہے۔ اس کے نتیجے میں:

زرعی زمینیں بگڑ گئیں

پینے کے پانی کے ذخائر آلودہ ہوئے

سانس اور دل کے امراض بڑھے

ماہی گیری اور مقامی صنعتیں ختم ہو گئیں

کُنڑاز، موئناک اور دیگر ساحلی قصبے کھنڈرات میں بدل گئے۔ بندرگاہیں ریت میں دفن ہو گئیں۔ آج وہاں زنگ آلود جہاز کھڑے ہیں — جیسے کسی وقت کے خواب کی قبریں ہوں۔

ماہرین کے مطابق آرال کے خشک ہونے سے خطّے کا موسم بھی بدل گیا۔ گرمیوں میں درجہ حرارت زیادہ ہو گیا، سردیاں سخت ہو گئیں، اور بارشوں کا نظام متاثر ہوا۔ یوں ماحول، معیشت اور انسانی صحت — سب پر کاری ضرب لگی۔

گزشتہ برسوں میں قازقستان نے “نارتھ آرال” کو بچانے کے لیے ڈیم اور نہری اصلاحات کی کوششیں کیں، جس سے اُس حصے میں کچھ بہتری آئی۔ پانی کی سطح کچھ بڑھی، اور محدود پیمانے پر مچھلیاں واپس آئیں۔ مگر مجموعی طور پر اصل سمندر کا زیادہ تر حصہ اب ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔

آرال سمندر کی کہانی ہمارے لیے ایک جیتی جاگتی تنبیہ ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ جب ترقی اور معاشی منصوبہ بندی ماحول کی حدود کو نظر انداز کر دے تو اس کی قیمت نسلیں ادا کرتی ہیں۔ پانی — جو زندگی ہے — اگر غلط استعمال اور بے تدبیری کا شکار ہو جائے تو شہروں، معیشتوں اور تہذیبوں کو ویران کر دیتا ہے۔

آج آرال کی ریت میں کھڑے زنگ آلود جہاز ہمیں خاموشی سے یہی سکھاتے ہیں کہ فطرت کو چیلنج کرنے سے پہلے اس کے اصولوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ بصورتِ دیگر — سمندر ریت میں بدل جاتے ہیں، اور یادیں صحرا کی دھول میں گم ہو جاتی ہیں.

Want your business to be the top-listed Government Service in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Peshawar
2500