15/05/2026
میری جان مال عزت و آبرو کی ذمہ داری ریاست کی ہے
ریاست ذمہ دار ہے
میں ریاست کو آپ کی وساطت سے اور آپ کی تائید کے ساتھ واضح پیغام دینا چاہتا ہوں
مجھے جو بھی قتل کرے میں اس کا بدلہ نہیں لو گا
میں سٹیٹ کو اپنے قتل کا ذمہ دار سمجھوں گا
اطلاع بھیج دیتے ہیں تھریٹ لیٹر فون کرلیتے ہیں آپ فلانے علاقے میں نہ جائیں یہاں بھی روک رہے تھے
میں نے کہا جاؤں گا۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا کراچی میں وحدت امت کانفرنس سے خطاب
08/05/2026
دنیا کا مضبوط کندھا ۔۔۔
یہ کندھا ہے ہی نہیں۔ بلکہ یہ پہاڑ کا سایہ ھے -جو-----یتیموں کے سروں پر اللہ کا سہارا ھے ❤️🌎💕
07/05/2026
مولانا فضل الرحمٰن کا فکری مؤقف: تکفیر کے فتنہ کے مقابل اعتدال کی صدا
تحریر: محمد امین اسد
مولانا فضل الرحمٰن کی حالیہ تقریر،جو انہوں نے مولانا شیخ ادریسؒ کی تعزیت کے موقع پر کی، محض ایک جذباتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک مکمل فکری مؤقف کی نمائندہ تھی۔ یہ تقریر دراصل اس فکری کشمکش کا اظہار ہے جو ایک عرصے سے دینی حلقوں اور شدت پسند عناصر کے درمیان جاری ہے۔ اس میں جہاں دکھ اور غم کی شدت نمایاں تھی، وہیں ایک واضح فکری لکیر بھی کھینچی گئی جس کے ایک طرف علم، اعتدال اور اجتماعی اجتہاد کی روایت ہے، اور دوسری طرف تکفیر، تشدد اور فکری انارکی کا راستہ۔
مولانا نے جس شدت کے ساتھ یہ سوال اٹھایا کہ “انہیں جرأت کیسے ہوتی ہے کہ وہ اکابر علما کو مر،ت،د کہیں؟” وہ دراصل ایک فرد کا سوال نہیں بلکہ پوری علمی روایت کا احتجاج ہے۔ برصغیر کے وہ علما جنہوں نے اپنی زندگیاں دین کی خدمت، علم کی اشاعت اور امت کی رہنمائی میں صرف کیں، انہیں محض اختلافِ رائے کی بنیاد پر دائرۂ اسلام سے خارج قرار دینا، علم کے ساتھ بھی زیادتی ہے اور دین کے ساتھ بھی۔ اس رویے میں نہ کوئی علمی دیانت ہے اور نہ ہی وہ احتیاط جو شریعت نے تکفیر جیسے سنگین مسئلے میں لازم قرار دی ہے۔
یہاں مولانا کا استدلال ایک اہم اصول کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ تکفیر کا دروازہ کھول دینا دراصل امت کے شیرازے کو بکھیرنے کے مترادف ہے۔ جب ہر شخص اپنی فہم کے مطابق دوسروں کے ایمان کا فیصلہ کرنے لگے تو پھر دین ایک منظم نظام کے بجائے ایک انتشار زدہ میدان بن جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے مولانا نے نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا کہ ایسے الزامات دراصل خود الزام لگانے والے کے فکری دیوالیہ پن کو ظاہر کرتے ہیں۔
تقریر کا دوسرا اہم پہلو وہ اجتماعی موقف ہے جو ملک بھر کے علماء نے اختیار کیا ہے۔ مولانا نے اس حقیقت کو نمایاں کیا کہ پاکستان کے طول و عرض میں پھیلے مدارس اور مختلف مکاتبِ فکر کے علما اس بات پر متفق ہیں کہ ریاست کے اندر مسلح جدوجہد شرعاً ناجائز ہے۔ یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک فقہی اور اجتماعی اجماع کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ عناصر کھڑے ہیں جو بندوق کو دلیل اور خون کو حجت بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔
مولانا نے اپنی گفتگو میں قربانیوں کا ذکر بھی کیا، مگر اس انداز میں نہیں جو محض ہمدردی سمیٹنے کے لیے ہو، بلکہ ایک استدلال کے طور پر۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہ وہی علما ہیں جنہوں نے اپنی جانیں دے کر بھی امن کے راستے کو نہیں چھوڑا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی گروہ خود کو مجاہد کہتا ہے مگر اس کی بندوق کا رخ انہی لوگوں کی طرف ہو جو دین کی خدمت میں عمر گزار چکے ہوں، تو پھر اس کے دعوے کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟
یہاں مولانا کی گفتگو ایک اور اہم رخ اختیار کرتی ہے۔ وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ اسلام کا اصل مزاج سنجیدگی، وقار اور توازن ہے۔ یہ دین جذباتی نعروں یا وقتی اشتعال کا نہیں بلکہ گہرے شعور اور حکمت کا تقاضا کرتا ہے۔ اختلافِ رائے اس کا حصہ ہے، مگر اس اختلاف کو قتل و غارت میں بدل دینا اس کی روح کے منافی ہے۔ اس تناظر میں مولانا کی یہ بات کہ “ہم اپنے ہاتھ کسی مسلمان کے خون سے نہیں رنگیں گے” محض ایک اعلان نہیں بلکہ ایک اصولی عہد ہے۔
مزید برآں، مولانا نے ریاست اور اس کے ذمہ دار اداروں کو بھی مخاطب کیا۔ انہوں نے واضح انداز میں مطالبہ کیا کہ شہدا کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا محض ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور قومی فرض ہے۔ اگر ریاست اس معاملے میں کمزوری دکھاتی ہے تو اس کا اثر صرف ایک واقعے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے اعتماد کو متزلزل کر دیتا ہے۔
تقریر میں ایک پہلو یہ بھی نمایاں تھا کہ مولانا نے اختلاف کو مکالمے کی دعوت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو کسی رائے سے اختلاف ہے تو وہ دلیل کے ساتھ بات کرے، مکالمہ کرے، مگر یہ کون سا طریقہ ہے کہ اختلاف پر کسی کی جان لے لی جائے؟ یہ سوال دراصل ہمارے پورے سماج کے لیے ایک آئینہ ہے جس میں ہم اپنی اجتماعی روش کو دیکھ سکتے ہیں۔
آخر میں مولانا کا پیغام یہی تھا کہ یہ جنگ بندوق کی نہیں بلکہ فکر کی ہے۔ اگر امت کو بچانا ہے تو اسے اپنے علمی ورثے، اپنے اکابر کی روایت اور اپنے اجتماعی شعور سے جڑنا ہوگا۔ انتہا پسندی کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں بلکہ علم، صبر اور حکمت سے کیا جا سکتا ہے۔
یہ تقریر اپنے اندر ایک واضح سمت رکھتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دین کی حفاظت کا راستہ تشدد نہیں بلکہ اعتدال ہے، اور امت کی بقا کا راز اختلاف کو برداشت کرنے اور اسے دلیل کے ذریعے حل کرنے میں پوشیدہ ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جسے اگر سنجیدگی سے لیا جائے تو نہ صرف ہمارے معاشرے کے زخم بھر سکتے ہیں بلکہ ہم ایک زیادہ متوازن اور پرامن مستقبل کی طرف بھی بڑھ سکتے ہیں۔