کہاں ہو تم چلے آؤ محبت کا تقاضہ ہے
غم دنیا سے گھبرا کر تمہیں دل نے پکارا ہے
تمہاری بے رخی اک دن ہماری جان لے لے گی
قسم تم کو ذرا سوچو کہ دستور وفا کیا ہے
نہ جانے کس لیے دنیا کی نظریں پھر گئیں ہم سے
تمہیں دیکھا تمہیں چاہا قصور اس کے سوا کیا ہے
نہ ہے فریاد ہونٹوں پر نہ آنکھوں میں کوئی آنسو
زمانے سے ملا جو غم اسے گیتوں میں گایا ہے
بہزاد لکھنوی
I Love Poetry
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from I Love Poetry, Islamabad, punjab.
ہم کیوں یہ کہیں کوئی ہمارا نہیں ہوتا
موجوں کے لئے کوئی کنارا نہیں ہوتا
دل ٹوٹ بھی جائے تو محبت نہیں مٹتی
اس راہ میں لٹ کر بھی خسارا نہیں ہوتا
سرمایۂ شب ہوتے ہیں یوں تو سبھی تارے
ہر تارہ مگر صبح کا تارا نہیں ہوتا
اشکوں سے کہیں مٹتا ہے احساس تلون
پانی میں جو گھل جائے وہ پارا نہیں ہوتا
سونے کی ترازو میں مرا درد نہ تولو
امداد سے غیرت کا گزارا نہیں ہوتا
تم بھی تو مظفر کی کسی بات پہ بولو
شاعر کا ہی لفظوں پہ اجارا نہیں ہوتا
مظفر وارثی
ترے خیال ترے خواب تیرے نام کے ساتھ
بنی ہے خاک مری کتنے اہتمام کے ساتھ
بہت سے پھول تھے اور سارے اچھے رنگوں کے
صبا نے بھیجے تھے جو کل ترے پیام کے ساتھ
نظر ٹھہرتی نہ تھی اس پہ اور خود پر بھی
میں آئینے میں تھی کل ایک لالہ فام کے ساتھ
ترے خیال سے روشن ہے سر زمین سخن
کہ جیسے زینت شب ہو مہ تمام کے ساتھ
پھر آ گئی ہے مرے در پہ کیا وہی دنیا
میں کر کے آئی تھی رخصت جسے سلام کے ساتھ
سنا ہے پھول جھڑے تھے جہاں ترے لب سے
وہاں بہار اترتی ہے روز شام کے ساتھ
خوشی کے واسطے کب کوئی دن مقرر تھا
مگر یہ دل میں رکی ہے ترے خرام کے ساتھ
نرجس افروز زیدی
چلی اب گل کے ہاتھوں سے لٹا کر کارواں اپنا
نہ چھوڑا ہائے بلبل نے چمن میں کچھ نشاں اپنا
یہ حسرت رہ گئی کیا کیا مزے سے زندگی کرتے
اگر ہوتا چمن اپنا گل اپنا باغباں اپنا
الم سے یاں تلک روئیں کہ آخر ہو گئیں رسوا
ڈوبایا ہائے آنکھوں نے مژہ کا خانداں اپنا
رقیباں کی نہ کچھ تقصیر ثابت ہے نہ خوباں کی
مجھے ناحق ستاتا ہے یہ عشق بدگماں اپنا
مرا جی جلتا ہے اس بلبل بیکس کی غربت پر
کہ جن نے آسرے پر گل کے چھوڑا آشیاں اپنا
جو تو نے کی سو دشمن بھی نہیں دشمن سے کرتا ہے
غلط تھا جانتے تھے تجھ کو جو ہم مہرباں اپنا
کوئی آزردہ کرتا ہے سجن اپنے کو ہے ظالم
کہ دولت خواہ اپنا مظہر اپنا جان جاں اپنا
مرزا مظہر
"غالب" نظر کے سامنے حسن و جمال تها!!!
"محسن" وہ بشر خود میں سراپا کمال تها!!!
ہم نے "فراز" ایسا کوئ دیکها نہیں تها!!!
ایسا لگا "وصی" کہ وہ گدڑی میں لعل تها!!!
اب "میر" کیا بیان کریں اسکی نزاکت!!!
ہم "فیض" اسے چهو نہ سکے یہ ملال تها!!!
اسکو "قمر" جو دیکها تو حیران رہ گۓ!!!
اے "داغ" تیری غزل تها وہ بیمثال تها!!!
"اقبال" تیری شاعری ہے جیسے باکمال!!!
وہ بهی "جگر" کے لفظوں کا پرکیف جال تها!!!
بلکل تمہارے گیتوں کے جیسا تها وہ "قتیل!!!
یعنی "رضا" یہ سچ ہے کہ وہ لازوال تها!!!
اس کو فرصت ہی نہیں بات کی تمہید سنے
ہم وه پاگل ہیں جو تفصیل میں لگ جاتے ہیں
کاظم حسین کاظم
اس دھوپ کےجنگل میں انا کا ہے عجب رخ
صحرا کے مسافر کو شجر ڈھونڈ رہا ہے
نوید ہاشمی
عشق لایا تھا مجھے گھیر کے اپنی جانب
اس منافق کا گریبان نہیں چھوڑوں گی
کومل جوئیہ
گوشوارہ
کیا حال سنائیں دنیا کا ، کیا بات بتائیں لوگوں کی
دنیا کے ہزاروں موسم ہیں، لاکھوں ہی ادائیں لوگوں کی
کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں ، دنیا کو سنانے کے قابل
کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں ، بس دل میں چھپانے کے قابل
کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں ، اک بار گئے تو آتے نہیں
ہم لاکھ بلانا بھی چاہیں ، پرچھائیں بھی اُن کی پاتے نہیں
کچھ لوگ خیالوں کے اندر جذبوں کی روانی ہوتے ہیں
کچھ لوگ کٹھن لمحوں کی طرح پلکوں پہ گرانی ہوتے ہیں
کچھ لوگ سمندر گہرے ہیں ، کچھ لوگ کنارہ ہوتے ہیں
کچھ ڈوبنے والی جانوں کو تنکے کا سہارا ہوتے ہیں
کچھ لوگ چٹانوں کا سینہ ، کچھ ریت گھروندا چھوٹا سا
کچھ لوگ مثالِ ابر ِرواں ، کچھ اونچے درختوں کا سایا
کچھ لوگ چراغوں کی صورت راہوں میں اجالا کرتے ہیں
کچھ لوگ اندھیرے کی کالک چہروں پہ اُچھالا کرتے ہیں
کچھ لوگ سفر میں ملتے ہیں ، دوگام چلے اور رستے الگ
کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسا ، ہوتے ہی نہیں دھڑکن سے الگ
کیا حال سنائیں اپنا تمہیں ، کیا بات بتائیں جیون کی؟
اک آنکھ ہماری ہنستی ہے ، اک آنکھ میں رُت ہے ساون کی
ہم کس کی کہانی کا حصہ ، ہم کس کی دعا میں شامل ہیں؟
ہے کون جو رستہ تکتا ہے ۔ ہم کس کی وفا کا حاصل ہیں؟
کس کس کا پکڑ کر دامن ہم اپنی ہی نشانی کو پوچھیں؟
ہم کھوئے گئے کن راہوں میں، اس بات کو صاحب جانے دیں
کچھ درد سنبھالے سینے میں ، کچھ خواب لٹائے ہیں ہم نے
اک عمر گنوائی ہے اپنی ، کچھ لوگ کمائے ہیں ہم نے
دل خرچ کیا ہے لوگوں پر ، جاں کھوئی ہے ، غم پا یا ہے
اپنا تو یہی ہے سود و زیاں ، اپنا تو یہی سرمایا ہے
اپنا تو یہی سرمایا ہے
ظہیر احمد
کہاں تلاش کروں اب افق کہانی کا
نظر کے سامنے منظر ہے بے کرانی کا
ندی کے دونوں طرف ساری کشتیاں گم تھیں
بہت ہی تیز تھا اب کے نشہ روانی کا
میں کیوں نہ ڈوبتے منظر کے ساتھ ڈوب ہی جاؤں
یہ شام اور سمندر اداس پانی کا
پرندے پہلی اڑانوں کے بعد لوٹ آئے
لپک اٹھا کوئی احساس رائیگانی کا
میں ڈر رہا ہوں ہوا میں کہیں بکھر ہی جائے
یہ پھول پھول سا لمحہ تری نشانی کا
وہ ہنستے کھیلتے اک لفظ کہہ گیا بانی
مگر مرے لیے دفتر کھلا معانی کا
24/06/2022
اب اس قدر بھی توجہ پذیر کیا ہونا
کوئی بھی شخص اٹھے تیری جستجو کر لے!!
11/11/2021
یہ ان کا ظرف ہے بیٹھے ہیں آستینوں میں
یہ میرا ظرف ہے کہ میں یار یار کہتا ہوں۔۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Culinary Team
Attire
Website
Address
Punjab
50400
