Balochistan High Court Bar Association 21-2022. Official

Balochistan High Court Bar Association 21-2022. Official

Share

Balochistan High Court Bar Association

05/08/2023

Congratulations to the newly enrolled advocates of the High Court and Lower Court, with the hope that the young legal fraternity of Balochistan will continue to stand firm in the field of advocacy and serve the general public. As well as they have to be honest with their own cases and clients.

20/12/2022

بلوچستان بار باڈیز پاکستان بار کونسل بلوچستان بار کونسل بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسیشن ہائیکورٹ بار ایسوسیشن سبی ہائیکورٹ بار ایسوسیشن تربت کے جاری مشترکہ بیان میں کہا کہ سبی تربت خضدار اور لورالائی بینچ کو ریگولر کرنے کیلئے اپنا جدوجہد جاری رکھیں گے چیف جسٹس آف پاکستان اور پارلیمنٹ کمیٹی کے یقین دہانی کی وجہ سے بینچز کو ریگولر کرنے کا مکمل عدالتی کارروائی بجائے ٹوکن ہڑتال جاری رہے گا 21 تا 23 دسمبر کو روزانہ 11 بجے سے 12 بجے تک ہڑتال کی جائے گی

20/12/2022

کیسسز میں تاخیر وکلاء کے ہڑتال کی وجہ سے نہیں بلکہ جحجز خود ذمہ دار ہیں جوڈیشری میں اقرباء پروری عروج پر ہے وکلاء اور عوام کے ساتھ جوڈیشری کا رویہ غیر مناسب اور نہ قابل برداشت ہے باشعور وکلاء اپنے حقوق کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے سبی تربت خضدار اور لورالائی بینچ کو ریگولر کرنے تاخیر سے عوام اور وکلاء کے مسائل بڑھ رہے ہیں ان خیالات کا اظہار ممبر پاکستان بار کونسل منیر احمد خان کاکڑ نے ہائیکورٹ بار روم میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا تفضیلات کے مطابق سابق صدر ہائیکورٹ بار عبدالمجید خان کاکڑ نے بلوچستان ہائیکورٹ بار کے نومنتخب عہدیداروں کے اعزاز میں پارٹی دی گئی تقریب سے بلوچستان ہائیکورٹ بار کے نومنتخب صدر افضل حریفال جنرل سیکریٹری شاہ رسول کاکڑ سابق صدر عبدالمجید خان کاکڑ و دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ممبر پاکستان بار کونسل منیر احمد خان کاکڑ نے کہا کہ گزشتہ دنوں چیف جسٹس بلوچستان کے اس خطاب کے جواب میں کہا کہ چیف جسٹس بلوچستان نے اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری وکلاء پر عائد کیا اور کہا کہ وکلاء ہڑتال کی وجہ سے انصاف میں تاخیر کی جاتی ہے لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں منیر احمد خان کاکڑ نے کہا کہ جوڈیشری کے اندر اقرباء پروری لاقانونیت عروج پر ہے جحجز کا رویہ وکلاء کے ساتھ ناروا ہے وکیل اپنے حقوق کیلئے ہڑتال کرتے ہیں اب جحجز نے ہڑتال کرنا شروع کردی ہے بیان میں کہا کہ ہم حقوق سے دست بردار نہیں ہوگے بلکہ اپنی حقوق کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ہڑتال ایک معمولی عمل ہے اس سے زیادہ قربانی دینی پڑی تو گریز نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ سبی تربت خضدار اور لورالائی بینچ کو ریگولر کرنے کیلئے اپنا جدوجہد جاری رکھیں گے

20/12/2022

President Balochistan High court bar association ASC Afzal Harifal

22/11/2022

پاکستان بار کونسل بلوچستان بار کونسل بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسیشن ہائیکورٹ بار ایسوسیشن سبی ہائیکورٹ بار ایسوسیشن کیچ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ سرکٹ بینچ سبی تربت خضدار اور لورالائی کو ریگولرائیز کرانے کیلئے اپنا جدوجہد جاری رہے گا بیان میں کہا کہ جب تک ان بینچز کو ریگولر نہیں کیا جائے احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا بیان میں کہا کہ بلوچستان کے سرکٹ بینچز کو ریگولر کرنے کیلئے تمام بار کونسلز پنجاب بار کونسل خیبر پختون خواہ بار کونسل سندھ بار کونسل اسلام آباد بار کونسل اور پاکستان بار کونسل کا ہم مشکور ہیں جنہوں نے سبی تربت خضدار اور لورالائی بینچ کو ریگولر کرنے کیلئے اپنے اپنے صوبے میں ہڑتال کیا قرار دادیں پاس کیں بیان میں کہا کہ اپنے مطالبات کے حق میں بلوچستان وکلاء تنظیموں بلوچستان بار کونسل کے زیر اہتمام تین دن تک 23 ۔ 24 اور 25 نومبر کو بلوچستان بھر میں عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے بیان میں مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس بلوچستان فوری طور پر ان بینچز کو ریگولر کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے مشترکہ اجلاس میں اہم فیصلے کئے جائیں گے

18/11/2022

ممبر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسیشن کے سینئر نائب صدر واجہ ظہور بلوچ ہائیکورٹ بار کے لائبریری سیکریٹری عبدالعزیز اچکزئی بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسیشن کے امیدوار برائے جرنل سیکرٹری محبوب محمدحسنی نائب صدر جہانگیر کاکڑ و وکلاء رہنماؤں نے پریس کلب کے باہر فزیوٹھراپسٹ کے تادم مرگ بھوک ہڑتال میں بیٹھے نمائندوں سے ملاقات کی اور بلوچستان وکلاء تنظیموں نے فزیوٹھراپسٹ ایسوسیشن کے تادم مرگ بھوک ہڑتال کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت فزیوٹھراپسٹ کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے وزیراعلی بلوچستان کی جانب سے ان کے جائز مطالبات کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی لیکن تاحال وزیراعلی بلوچستان ان کے مطالبات تسلیم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے جس کی وجہ سے گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصہ سے فزیوٹھراپسٹ تادم مرگ بھوک ہڑتال میں بیٹھے ہوئے ہیں جن کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے صوبائی حکومت کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے فزیوٹھراپسٹ تادم مرگ بھوک ہڑتال میں ہیں اگر کسی بھی فزیوٹھراپسٹ کو نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی بیان میں مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر تادم مرگ بھوک ہڑتال میں بیٹھے فزیوٹھراپسٹ کے جائز مطالبات کو تسلیم کرے

18/11/2022

ممبر پاکستان بار کونسل منیر احمد خان کاکڑ نے اپنے ایک بیان میں بسیمہ ڈسٹرکٹ واشک کے کورٹ بلڈنگ انکی تعمیرات اور عدالت کے فعال کرانے اور کل ہونے والے چیف جسٹس بلوچستان کیجانب سے ان کی افتتاح کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں جوڈیشری کی انفرااسٹریکچر عوام کو انصاف کی فراہمی مدد ملے گی انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں عدالت قائم ہونا چاہئے تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف ملے بیان میں اس امر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عرصہ دراز سے قائم ہائیکورٹ سرکٹ بینچز کو ریگولر کرنے کیلئے وکلاء عوام کے جائز مطالبات کو نظر انداز کیا جارہا جو کہ قابل مذمت ہے ہائیکورٹ سرکٹ بینچز کو ریگولر کرنے کیلیے وکلاء عوام سراپہ احتجاج ہیں سرکٹ بینچ کو ریگولر کرنے کیلئے آئینی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا جارہا ہے بیان میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 198 ضمن 3 کے تحت سرکٹ بینچ کو ریگولر کرنا چیف جسٹس کی آئینی ذمہ داری ہے لیکن بدقسمتی سے چیف جسٹس آف بلوچستان اپنی آئینی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا نہیں کررہے ہیں بیان میں مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس بلوچستان فوری طور پر سبی تربت خضدار اور لورالائی بینچ کو ریگولر کرنے کیلئے اپنا آئینی ذمہ داری ادا کرے

15/11/2022

لورالائی، سبی، خضدار اور تربت سرکٹ بینچز کی غیر فعالی کے خلاف لورالائی اور ژوب ڈویژن کے تمام اضلاع میں 16 اور 17 نومبر بروز بدھ اور جمعرات بطور احتجاج مکمل ہڑتال اور عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
قائم مقام صدر لورالائی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن گلزار کاکڑ
قائم مقام صدر لورالائی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سبی ،تربت،لورالائی اور خضدار ہائی کورٹ کے سرکٹ بینچز کو مستقل بنیادوں پر فعال کیاجائے تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر آئینی حقوق حاصل ہوں سندھ ،پنجاب اور خیبرپشتونخوا میں سرکٹ بینچز فعال ہے لیکن بلوچستان میں عوام کو کیوں اپنے حقوق سے محروم رکھاجارہاہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا۔ سبی سرکٹ بینچ 49سال، تربت بینچ12سال جبکہ لورالائی اور خضدار بینچز 5سالوں سے بناہے لیکن اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی یہ بینچز ریگولر بنیادوں پر فعال نہیں ہے جو انتہائی افسوسناک ہے ،انہوں نے کہاکہ پنجاب ،سندھ اور خیبرپشتونخوا میں بنائے گئے تمام سرکٹ بینچز فعال اور عوام کو ان کی دہلیز پر آئینی حق انصاف کی فراہمی یقینی بنا رہی ہے لیکن بدقسمتی سے بلوچستان وہ واحدصوبہ ہے جہاں کوئی بینچ 40سال پرانا تو کوئی 10سال پرانا بنایاگیاہے لیکن اس کے باوجود سالوں گزر گئے لیکن یہ بینچز فعال نہیں ہے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تمام ہتھکنڈے بلوچستان کی عوام کو انصاف کے حصول سے محروم رکھناہے ،انصاف کے منصب پربیٹھے مصنف کا فرض ہے کہ وہ اپنے منصب کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان لوگوں کیلئے انصاف کا حصول ممکن اور آسان بنائیں ،آئین پاکستان میں بلوچستان کی عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں سرکٹ بینچز کو فعال کرکے وہاں سے انصاف حاصل کرے لیکن بدقسمتی سے سبی ،تربت، لورالائی اور خضدار کے بینچز مستقل نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کا رخ کرناپڑتاہے جہاں نہ صرف سائلین کی مشکلات بڑھ جاتی ہے بلکہ دوسرے اضلاع کے وکلاء برادری بھی ایک طرح سے اپنے تجربے اور آئینی حق سے محروم رہتے ہیں۔
سریاب اور کچلاک میں نئے جوڈیشل کمپلیکسز قائم کئے جارہے ہیں جس کی لاگت ایک ارب روپے بن رہی ہے بدقسمتی ہے 25کلومیٹر کے دائرے میں تین عدالتیں قبول لیکن سینکڑوں کلومیٹردور لوگوں کیلئے عدالت قبول نہیں جو آئین پاکستان کے تحت عوام کے حقوق کی حق تلفی ہے ۔وکلاء تنظیمیں اپنے وکلاء اور عوام کے ساتھ جاری ظلم کے خلاف ہرممکن آواز بلند کرے گی ۔

Photos from Balochistan High Court Bar Association 21-2022. Official's post 12/11/2022

Newly enrolled supreme court lawyers

12/11/2022

پاکستان بار کونسل کے ممبر منیر احمد خان کاکڑ اور پروفیشنل پینل کی کاوشوں سے بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بہت بڑی تعداد میں بلوچستان کے سینئر وکلا کے سپریم کورٹ کی لائسنس کی انٹرویوں منعقد کرائی۔ اور جس میں گوادر، تربت، لسبیلہ، خاران، پنجگور، مستونگ ، خضدار، ژوب، لورالائی، قلعہ سیف اللہ اور کوئٹہ سے سینئر وکلا سپریم کورٹ کیلئے انرولڈ ہوئے اور لائسنس حاصل کی۔ پروفیشنل پینل کے اکابرین نے ہمیشہ سے وکلا کے آئینی حقوق اور مسائل پر صفہ اول کا کردار ادا کیا ہے اور آج ایک بہت بڑی تاریخ رقم کردی جسٹس قاضی فائز عیسی کو خصوصی طور پر بلوچستان کے سینئر وکلا کے انٹرویوں کے لئے مدوح کیا اور تین دن متواتر انٹرویو ھوے جس میں بلوچستان سے 50 وکلاء سپریم کورٹ کے لیے انرولڈ ھوے جو کہ اس سے پہلے بلوچستان کے وکلاء کبھی بھی اتنی بڑی تعداد میں مستفید نہیں ہوئے تھے۔ اس بابت بلوچستان کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے نئے انرولڈ وکلا مبارکباد دیتے ہیں
10-11-2022
Shabir Ahmad, Inayatullah Marghzani, Rajesh Nath, Faiz Ahmed, Muhammad Ali, Mirwais Khan, Asmatullah, Habib ullah Gul, Abdul Musawir, Surat Khan, Ms Shakar Bibi, Muhammad Ibrahim, Muhammad Ali, Mazhar Ali, Mir Ahmad Ali and Akbar Shah,

11-11-2022 (9-30 a.m.)
Naveed Ahmad Qambrani, Syed Muhammad Zahid, Fiaz Ullah, Jadain Dashti, Khalil-ur-Rehman, Nisar Ahmad, Syed Kamal Hussain, Muhammad Iqbal Khan Nasar, Muhammad Ishaq Nasar, Zahoor Hasan Jamote, Mallag Assa Dashti, Arbab Fayyaz, Sheikh Azam Khan and Muhammad Sadiq.
11-11-2022 (2.30) p.m.

12-11-2022 (9.30 a.m.)
Ilahi Bakhsh, Mehboob Alam, Changaiz Baloch, Muhammad Sajid Tareen, Farzand Ali and Zahoor Ahmad Baloch.

Jehangir Shah, Habib Ullah, Masood Ahmad, Muhammad Zakria, Muhammad Younis, Naimat Ullah, Asmat Ullah, Nasrat Ullah, Muhammad Omer Dogar, Mukesh Nath, Muhammad Ali Rakshani, Shahid Javed, Muhammad Ashraf and Wali Muhammad.

Photos from Balochistan High Court Bar Association 21-2022. Official's post 12/11/2022

Provisions of active law sites for the district bar associations of balochistan under the jurisdiction of balochistan high court bar association

Photos from Balochistan High Court Bar Association 21-2022. Official's post 09/11/2022

وکلاء کی حقیقی نماٸندگی کا حق اور کردار کون ادا کرتا ھے بلوچستان سے موجودہ پاکستان بار کونسل کے ممبر کی کاوشوں سے جنہوں نے سپریم کورٹ کے لاٸسنس کے لیے روز اول سے پنچاب اور اسلام اباد میں وکلاء تیس کیسز کے لسٹ پر انرولڈ ھوتے تھے جبک بلوچستان کے وکلاء سے 100 کیسز کے لسٹ مانگتے تھے اور ایک ھی وقت اور ایک ھی ادارے میں وکلاء کی انرولمنٹ کے لیے مختلف طریقہ راٸج تھا اور اس بابت موجودہ ممبر پاکستان بارکونسل نے اس طریقہ کار پر اعتراض کرتے ھوے بلوچستان کے وکلاء کے لیے بھی وھی پروسیجر اپنانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا اور اج اس کے کاوشوں کی بدولت بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے لاٸسنس کے انرولمنٹ کے لیے 69 وکلاء کی انٹرویوز تین دن متواتر ھونگے جو اج تک کبھی بھی نہیں ھوے تھے بلکہ ھم یہ کہنے میں حق بجانب ھونگے کہ کردار اور عمل خود بولتا ھے یاد رھے بلوچستان سے پہلے بھی مایہ ناز وکلاء لیڈرز پاکستان بار کونسل کے ممبر بنے تھے جو وکلاء کے اصل ایشوز کے بجاٸے اپنے ذاتی مفادات کو مقدس اور ترجیح دیتے تھے

Want your business to be the top-listed Government Service in Quetta?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

High Court Building, Zarghoon Road Quetta
Quetta

Opening Hours

Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00