04/06/2026
*انّا للّٰہ و انّا الیہ راجعون*
بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل و سابق رکن اسمبلی نے پارٹی کے مرکزی رہنما سردار نصیر احمد موسیانی کے گھر پر فورسز کے چھاپے اور چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کے واقعے پر شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سردار نصیر احمد موسیانی کے فرزند و بلوچستان نیشنل پارٹی ضلع خضدار کے سینئر نائب صدر سردار زادہ خلیل احمد موسیانی کی فورسز کے ہاتھوں شہادت اور دیگر ساتھیوں کی گرفتاری انتہائی افسوسناک ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سردار زادہ خلیل احمد موسیانی کی شہادت بلوچستان نیشنل پارٹی اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے، سردار نصیر احمد موسیانی و ان کا خاندان ایک پرامن سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ خاندان قانون و آئین کے مطابق جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے سیاسی سفر اور جدوجہد سے ہر ذی شعور باخبر ہے۔- سردار نصیر احمد موسیانی ہمیشہ پرامن سیاست اور جدوجہد پر یقین رکھنے والوں میں سے ہیں
ملک نصیر احمد شاہوانی نے اس پورے عمل کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات آئین و قانون پر یقین رکھنے والے سیاسی و سماجی کارکنوں اور پرامن سیاست پر یقین رکھنے والوں میں بے چینی اور مایوسی کا سبب بن سکتے ہیں۔
بیان کے آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی پر کوئی الزام عائد ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کیا جائے، نہ کہ اس طرح بے دردی سے شہید کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ سے شہید کے بلند درجات اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا ہے، اور تمام گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
03/06/2026
قاہد بلوچستان و بلوچستان نیشنل پارٹی کے نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ضلع خضدار کے علاقے میں سردار نصیر احمد موسیانی کے گھر پر کارروائی کے دوران گھر کے تقدس کو پامال کیا گیا اور ان کے بیٹوں سمیت متعدد قریبی رشتہ داروں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ حراست میں لیے جانے والوں میں سردارزادہ میر خلیل احمد موسیانی بھی شامل تھے، جو بلوچستان نیشنل پارٹی خضدار کے سینئر نائب صدر اور سردار نصیر احمد موسیانی کے صاحبزادے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کو زخمی حالت میں سکیورٹی فورسز اپنے ساتھ لے گئیں، تاہم بعد میں اہلِ خانہ کو ان کی میت وصول کرنے کی اطلاع دی گئی۔
03/06/2026
#خضدار
#زہری میں بی این پی کے سینیئر نائب صدر میر خلیل احمد موسیانی #شہید ہوگئے۔
02/06/2026
بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین آغا حسن بلوچ میر اخترحسین لانگو کا پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ #زہری میں پارٹی رہنما کے گھر پر چھاپے اور گرفتاری کے خلاف اہم پریس کانفرنس
رہنماوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوے کہا کہ فورسز کی جانب سے پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق ناظم خضدار کے گھر پر چھاپے اور ان کی اور ان کے بیٹے میر زہری خان، میر خلیل احمد کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پارٹی قیادت کو بلوچستان میں جاری ظلم کے خلاف آواز اٹھانے سے روکنے کے لیے کٹھ پتلی حکومت کا شرمناک اقدام قرار دیا
اس موقع پر بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، مرکزی لیبر سیکریٹری موسیٰ بلوچ، مرکزی سیکرٹری فائنانس اختر حسین لانگو، مرکزی سیکرٹری انسانی حقوق احمد نواز بلوچ، بی ایس او مرکزی سیکرٹری جنرل صمند بلوچ، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین چیئرمین واحد بلوچ، حاجی باسط لہڑی، میر مقبول لہڑی، ثنا بلوچ، ضلع کوئٹہ آرگنائزر حاجی وحید لہڑی، ملک محی الدین لہڑی، ماما غفار لانگو، ڈاکٹر علی احمد قمبرانی سمیت دیگر اراکین موجود۔
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ آج صبح ضلع خضدار کے علاقے بلبل زہری میں آزادی پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان مسلح جھڑپ ہوئی۔ جھڑپ کے بعد، دس سے بارہ گاڑیوں پر مشتمل فورسز بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن، سابق ڈسٹرکٹ ناظم خضدار اور موسیانی قبیلے کے چیف سردار نصیر احمد موسیانی کے گھر پر پہنچیں۔ وہاں سے سردار نصیر احمد موسیانی، ان کے دونوں فرزندان میر زہری خان موسیانی اور میر خلیل احمد موسیانی کے علاوہ کئی دیگر عزیز و اقارب کو اٹھا کر بلبل کراس کے اسکول میں بند کر دیا گیا۔ ساجد ترین
بلوچستان نیشنل پارٹی اپنے قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ہر قسم کے جبر اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف اپنی سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔ بلوچستان کے عوام کے حقوق، عزت اور شناخت کا تحفظ ہماری سیاسی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری سے ہم کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ
بکتر بند گاڑیوں اور دیگر سیکورٹی گاڑیوں کے ساتھ جب سردار نصیراحمد موسیانی کے گھر فورسز پہنچے تو انہوں وہاں سردار نصیراحمد کو کسی میجر نے دھکہ دیا، جسکی وجہ سے وہ گر کر زخمی ہوئے۔ ساجد ترین
اسی دوران میر زہری خان کو زد کوب کیا گیا، جبکہ میر خلیل احمد کو گولی مار کر شدید زخمی کردیا گیا۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ
جب یہ اطلاعات علاقے میں پھیلیں تو خواتین، قبائلی عمائدین اور عوام اسکول کے سامنے احتجاج کے لیے نکلے۔ لیکن جتنے بھی قبائلی عمائدین اور مرد حضرات احتجاج کی غرض سے وہاں پہنچے، انہیں بھی اسی اسکول میں بند کر دیا گیا۔ اس وقت صرف علاقے کی خواتین باہر کھڑی احتجاج کر رہی ہیں۔ ساجد ترین
کٹھ پتلی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے بلوچستان میں نفرت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ
گزشتہ ایک سال سے زہری کے عوام اذیت اور کرفیو کا سامنا کر رہے ہیں، زہری کے عام لوگوں کو اس کام کی سزا دی جاتی ہے جو انہوں نے نہیں کیا۔ ساجد ترین
بی این پی نے ہر موقع پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس مسئلے کا حل طاقت نہیں بلکہ سیاسی مکالمہ، انصاف اور عوامی اعتماد کی بحالی ہے۔ آج کا واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ بدقسمتی سے ابھی تک اس سوچ کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ ساجد ترین
بلوچستان نیشنل پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ سردار نصیر احمد موسیانی، میر زہری خان موسیانی، میر خلیل احمد موسیانی، تمام گرفتار عزیز و اقارب اور احتجاج کرنے گئے تمام قبائلی عمائدین اور شہریوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اگر کسی پر کوئی قانونی الزام ہے تو انہیں آئین اور قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، نہ کہ اسکولوں کو حراستی مراکز میں تبدیل کر کے وہاں بند رکھا جائے۔ ان تمام افراد کے اہل خانہ اور قانونی نمائندوں کو فوری رسائی دی جائے۔ بلبل زہری میں ہیلی کاپٹر شیلنگ اور فائرنگ کے واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائے۔ اسکول اور اسپتال کو فوری طور پر خالی کیا جائے کیونکہ یہ عوامی ضرورت کے مقامات ہیں۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ
ہم بلوچستان کے عوام، ملک کی تمام جمہوریت پسند سیاسی قوتوں، وکلاء برادری، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس صورتحال پر اپنی آواز بلند کریں۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ
بلوچستان نیشنل پارٹی واضح کرنا چاہتی ہے کہ سردار نصیر احمد موسیانی کوئی غیر معروف یا متنازع شخصیت نہیں ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ جمہوری اور آئینی راستہ اختیار کیا، انتخابات میں حصہ لیا اور اپنے عوام کی نمائندگی سیاسی پلیٹ فارم سے کی۔ ان کے خلاف اس طرح کا اقدام نہ صرف ان کی ذات کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ بلوچستان میں جمہوری سیاست کے وجود پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ
بی این پی 4 جون جمعرات کو صوبہ بھر میں تمام پریس کلبوں کے سامنے احتجاج کا اعلان کرتی ہیں اور پارٹی آئندہ کے فیصلے کے لیے کل ایک میٹنگ کرے گی۔
بی این پی کے سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈوکیٹ اور دیگر کی کوئٹہ میں پریس کانفرنس
31/05/2026
#وڈھ
#بلوچستان کوئی آسمانی تحفے کے طور پر نہیں ملا، یہ خطہ بلوچوں کی وراثت، تاریخی جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ ہے،
اصل آسمانی تحفہ تو وہ ہے جو کہ تاریخی شکست کے باوجود کو کی صورت میں ملا
کے ایم پی اے نے کہاہے کہ محمود خان اچکزئی نے اپنے حالیہ بیان میں بلوچستان کی تاریخ کو جس انداز میں تحفہ یا غیر سنجیدہ جملے کے طور پر پیش کیا گیا، وہ نہ صرف تاریخی حقائق سے عدم واقفیت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ایک پورے خطے کی سیاسی جدوجہد کو کم تر دکھانے کے مترادف ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بلوچستان کوئی عطیہ نہیں تھا اور نہ ہی کسی مرکز یا ریاست نے اسے کسی پر احسان کے طور پر دیا۔ بلوچستان ایک تاریخی، سیاسی اور انتظامی حقیقت کے طور پر صدیوں سے موجود رہا ہے، جہاں قلات، مکران، خاران اور لسبیلہ جیسے خطے اپنے اپنے ادوار میں داخلی نظم و نسق کے ساتھ موجود تھے۔ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ ان خطوں میں ریاستی و قبائلی نظام موجود تھا، جس کی بنیاد مقامی اختیار اور روایتی حکمرانی پر تھی۔ بعد کے سیاسی ادوار میں یہ خطے مختلف انتظامی تبدیلیوں سے گزرے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بلوچستان کسی اچانک آسمانی تحفے کا نتیجہ تھا۔ میرجہانزیب مینگل نے کہاکہ آسمانی تحفہ تو وہ تھا کہ تاریخی شکست کھانے کے بعد اور ایک سیٹ پر بھی محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر بنا اور اب ان آسمانی خلائی مخلوق کی ایماءپر اشتعال انگیزی پر بیان دے کر حق احسان ادا کر رہا ہے تاکہ بلوچوں اور پشتونوں کو دست گریبان کر کے خلائی مخلوق کا دیرینہ خواب پورا کرے۔ محمود اچکزئی کو معلوم ہونا چاہیے کہ بلوچ عوام نے اپنی زمین، اپنی شناخت اور اپنے سیاسی وجود کے لیے طویل تاریخی جدوجہد کی ہے، اور یہ جدوجہد کسی ایک دور یا کسی ایک فیصلے کی مرہون منت نہیں بلکہ ایک مسلسل تاریخی عمل ہے۔ یہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بلوچستان کی تاریخ صرف ایک قوم یا ایک بیانیے تک محدود نہیں رہی۔ یہاں بلوچ، پشتون اور دیگر اقوام صدیوں سے آباد ہیں، اور ان کے درمیان تعلقات کبھی اتحاد، کبھی اختلاف مگر ہمیشہ جغرافیائی و سماجی حقیقت کے طور پر موجود رہے ہیں، لہٰذا اس خطے کی تاریخ کو سطحی جملوں یا سیاسی طنز کے ذریعے بیان کرنا نہ تو علمی دیانت ہے اور نہ ہی سیاسی بصیرت ہے۔