BSO UOB sub-campus pashin unit

BSO UOB sub-campus pashin unit The Baloch Students Organization (BSO) Pashin Campus is a student organisation and political Org.

26/08/2026

22 سال سے کالج آف ٹیکنالوجی کوئٹہ میں بی ٹیک کلاسز کے عدم اجراء کے خلاف بی ایس او کی جانب سے عدالتی کاروائی اہم مرحلے میں داخل ۔
بی ایس او کے جانب سےکیس کی پیروی ایڈووکیٹ عمران بلوچ کررہے ہے ۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سریاب روڈ کوئٹہ میں گزشتہ 22 سال سے بی ٹیک تعلیمی سرگرمیوں اور کلاسز کی معطلی کے معاملے پر بلوچستان ہائی کورٹ کی جانب سے متعلقہ حکام کو جامع رپورٹ پیش کرنے اور کالج کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کی ہدایت کو اہم پیش رفت قرار دیتی ہے۔

گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سریاب روڈ میں تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز میں مسلسل تاخیر کے خلاف بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے پہلے ہی اس مسئلے کو عدالت کے سامنے اٹھایا تھا۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب سے دائر کی گئی آئینی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پولی ٹیکنک کالج میں بی ایس ٹیک سمیت تعلیمی پروگرامز اور کلاسز کا فوری آغاز کیا جائے اور طلبہ کے قیمتی وقت کو مزید ضائع ہونے سے بچایا جائے۔

اس قانونی جدوجہد میں ایڈووکیٹ چیئرمین عمران بلوچ نے بطور وکیل کیس کی پیروی کرتے ہوئے طلبہ کے تعلیمی مسئلے کو مؤثر انداز میں عدالت کے سامنے پیش کیا۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سمجھتی ہے کہ طلبہ کے مسائل کو محض احتجاج یا بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں قانونی اور آئینی فورمز پر اٹھانا بھی جدوجہد کا ایک اہم حصہ ہے۔

آج بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم میں یہ امر ریکارڈ پر آنا کہ گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سریاب روڈ کوئٹہ میں گزشتہ 22 برس سے بی ٹیک کلاسز معطل ہیں، اس بات کی واضح عکاسی ہے کہ طلبہ کی جانب سے اٹھایا جانے والا یہ مسئلہ محض ایک معمولی انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ایک سنگین تعلیمی بحران ہے۔

عدالت کی جانب سے سیکرٹری کالجز، ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور کالج کے پرنسپل کی ذاتی حاضری، گزشتہ 22 سالہ تعطل کی وجوہات، موجودہ تعلیمی و انتظامی صورتحال، عملے، طلبہ کے داخلوں، انفراسٹرکچر، آلات اور کلاسز کی بحالی کے لیے واضح ٹائم لائن طلب کرنا اس معاملے کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے۔

بی ایس او کا مؤقف ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو معیاری فنی اور تکنیکی تعلیم سے محروم رکھنا ان کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی ہے۔ عوامی وسائل سے قائم کیے گئے تعلیمی اداروں کو برسوں تک غیر فعال رکھنا نہ صرف طلبہ کے مستقبل کو متاثر کرتا

26/08/2026

تراتانی کے پہاڑوں سے اٹھنے والی آواز آج بھی زندہ ہے، نواب اکبر بگٹی کی شہادت بلوچستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ بی ایس او

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے نواب اکبر خان بگٹی کی 20ویں برسی کے موقع پر انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 26 اگست 2006 کو تراتانی کے پہاڑوں میں نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت بلوچستان کی تاریخ کا ایک سیاہ اور المناک باب ہے۔ دو دہائیاں گزرنے کے باوجود ان کی شہادت، اس واقعے کی شفاف تحقیقات اور ان کے جسدِ خاکی سے متعلق سوالات آج بھی بلوچستان کے عوام کے سامنے جواب طلب ہیں۔

مرکزی ترجمان نے کہا کہ نواب اکبر خان بگٹی نے اپنی سیاسی زندگی میں بلوچستان کے عوام کے سیاسی، جمہوری، آئینی اور معاشی حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ ان کی شہادت نے بلوچستان کے سیاسی بحران کو مزید گہرا کیا اور آج بھی ان کا نام بلوچستان کے سیاسی شعور اور تاریخ میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی رہنما کو طاقت کے ذریعے خاموش کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے عوام کے حقوق کی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے دو دہائیاں بعد بھی بلوچستان کے بنیادی سیاسی سوالات اپنی جگہ موجود ہیں، جو اس امر کا ثبوت ہیں کہ طاقت کسی سیاسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔

بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے حوالے سے آج بھی شفاف تحقیقات، حقائق سامنے لانے اور ذمہ داران کا تعین کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ان کے جسدِ خاکی اور آخری رسومات سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا بھی جواب دیا جانا چاہیے تاکہ تاریخ کے اس باب پر موجود ابہام ختم ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو اپنے وسائل پر اختیار، سیاسی نمائندگی، انصاف، انسانی حقوق اور باوقار زندگی کا حق حاصل ہے۔ ریاست کو طاقت کے بجائے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور بامعنی سیاسی مکالمے کا آغاز کرنا ہوگا۔

مرکزی ترجمان نے کہا کہ بی ایس او نواب اکبر خان بگٹی کو ان کی 20ویں برسی پر سلامِ عقیدت اور خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ ان کی جدوجہد اور شہادت بلوچستان کی سیاسی تاریخ کا حصہ ہیں اور ان کے نام سے وابستہ سوالات کو محض خاموشی کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔

تراتانی کے پہاڑ آج بھی بلوچستان کی تاریخ کے گواہ ہیں، بی ایس او مطالبہ کرتی ہے کہ نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت سے متعلق تمام حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں اور ان کے جسدِ خاکی و آخری رسومات سے متعلق موجود سوالات کا بھی واضح جواب دیا جائے۔

Address

UOB Sub Campus Pashin, Balochistan
Quetta
8300

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BSO UOB sub-campus pashin unit posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share