19/04/2026
بلوچستان میں مغرب کے بعد لوگ گھروں سے نکل نہیں سکتے،ایم پی اے علی مدد جتک کا اعتراف
امن و امان کی صورتحال واقعی بہت خراب ہے، ایم پی اے علی مدد جتک کا میڈیا سے گفتگو
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from City of Quetta News, Political Party, Quetta paksitan, Quetta.
سٹی اف کوئٹہ نیوز ـــــ
ـــــ City of Quetta News
اہم خبریں اہم باتیں
#CityOfQuettaNews #Quetta #Balochistan #Pakistan
https://www.facebook.com/share/14SU2fyKB3B/
19/04/2026
بلوچستان میں مغرب کے بعد لوگ گھروں سے نکل نہیں سکتے،ایم پی اے علی مدد جتک کا اعتراف
امن و امان کی صورتحال واقعی بہت خراب ہے، ایم پی اے علی مدد جتک کا میڈیا سے گفتگو
19/04/2026
کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن، خصوصاً بلاک 3 کے مکین گزشتہ آٹھ ماہ سے پانی کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جو کہ نہایت افسوسناک اور ناقابلِ برداشت صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ یہ مسئلہ اب محض غفلت نہیں بلکہ متعلقہ اداروں کی سنگین نااہلی اور عوام کے ساتھ کھلی زیادتی کا ثبوت ہے، جس کے باعث عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
سیٹلائٹ ٹاؤن کے عوام، بالخصوص متوسط اور غریب طبقہ، مہنگے ٹینکرز کے ذریعے پانی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ متعدد بار سیکرٹری پی ایچ ای ڈی اور واسا حکام سے رابطوں کے باوجود مسئلے کا حل نہ ہونا ادارہ جاتی بے حسی کی انتہا ہے۔
مزید برآں، دشت ہارڈ راک اسکیم ایک سنگین مثال ہے جہاں گزشتہ 15 سال کے دوران اربوں روپے خرچ کیے گئے، متعدد ٹیوب ویلز نصب کیے گئے، مگر اس کے باوجود نہ تو ان ٹیوب ویلز کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی گئیں اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا کہ کتنے ٹیوب ویلز فعال ہیں اور کتنے غیر فعال۔ یہ صورتحال بدانتظامی، شفافیت کے فقدان اور ممکنہ بدعنوانی کی نشاندہی کرتی ہے۔
سیٹلائٹ ٹاؤن کے عوام واضح مطالبہ کرتے ہیں کہ دشت کے تمام ٹیوب ویلز کی مکمل تفصیلات—بشمول تعداد، فعالیت، پیداوار (discharge) اور موجودہ حیثیت—فوری طور پر عوام کے سامنے پیش کی جائیں اور اس منصوبے کو عملی طور پر فعال بنایا جائے۔ بصورت دیگر، اس معاملے کو عدالتِ عالیہ میں لے جایا جائے گا اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
سیٹلائٹ ٹاؤن کے عوام سیکرٹری پی ایچ ای ڈی اور واسا حکام کو واضح اور حتمی وارننگ دیتے ہیں کہ پانی کی فراہمی فوری طور پر بحال کی جائے۔ مزید تاخیر کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگی۔ بصورت دیگر، ایک بھرپور احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا، جس میں سڑکوں کی بندش سمیت ہر آئینی اور جمہوری راستہ اختیار کیا جائے گا۔
یہ بھی واضح کیا جاتا ہے کہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کی مکمل ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی
19/04/2026
ایم پی اے آغا عمراحمدزئی نے حزب اللہ ساسولی کے لواحقین کے لیے 40 ہزار روپے اور ایک کلاس فور کی نوکری کا اعلان کیا۔
لواحقین کو آغا عمراحمدزئی سے یہ توقع تھی کہ وہ قاتلوں کی گرفتاری اور انہیں سزا دلوانے کے حوالے سے کوئی واضح بات کریں گے اور عملی اقدامات کا یقین دلائیں گے مگر انہوں نے کہا کہ "میرے بس میں اس سے زیادہ کچھ نہیں، میں صرف 40 ہزار روپے دے سکتا ہوں اور ایک کلاس فور کی نوکری فراہم کر سکتا ہوں۔"
اس بیان پر لواحقین شدید غصے اور ناراضی کا اظہار کرنے لگے۔ حزب اللہ کی والدہ نے کہا کہ "40 ہزار تو کیا اگر پورا ٹرک بھی پیسوں سے بھر کر لایا جائے تو وہ بھی ہمیں قبول نہیں۔"
اس صورتحال کے بعد آغا عمراحمدزئی اپنی سستی ہمدردی اور الفاظ پر شرمندہ ہوئے اور فوراً دعا پڑھ کر وہاں سے روانہ ہو گئے۔
قائد جمعیت نے بلوچستان میں حکومت کی طرف سے جمعیت کو وزیر اعلیٰ شپ دینے کی آفر ٹھکرا دی
18/04/2026
کوئٹہ دشت پولیس کی زبردست کارروائی
گزشتہ رات سبی کوئٹہ دشت روڈ پر مسلح ڈکیتی کی واردات، ملزم نے اسلحہ کے زور پر شہری سے ڈاٹسن گاڑی چھین لی۔
ایس ایس پی مستونگ اللہ بخش بلوچ کی ہدایت اور ڈی ایس پی دشت علی احمد بگٹی کی نگرانی میں فوری ناکہ بندی
ایس ایچ او دشت اختر محمد بنگلزئی اور ٹیم کی بروقت کارروائی
ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار
چھینی گئی ڈاٹسن برآمد
ملزم ہزار خان ولد عطاء اللہ بنگلزئی کے خلاف مقدمہ درج، مزید تفتیش جاری۔
گاڑی مالک نے پولیس ٹیم کو ہار پہنا کر اور مٹھائی کھلا کر خراجِ تحسین پیش کیا
عوام کا مطالبہ بہترین کارکردگی پر پولیس ٹیم کو تعریفی اسناد دی جائیں
#کوئٹہ: ٹرامہ سینٹر کوئٹہ میں پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلی بلوچستان نے اپنے گاؤں کے 30 لوگ لگا دیے، انکشاف
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کی چچی اور رکن بلوچستان اسمبلی میر جہانزیب مینگل کی والدہ انتقال کرگئیں
18/04/2026
کوئٹہ: بجلی کے کھمبوں پر نصب میٹر شہریوں کیلئے خطرہ، آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ
کوئٹہ شہر میں بجلی کے کھمبوں پر نصب میٹرز اور کھلی وائرنگ شہریوں کی جان و مال کیلئے سنگین خطرہ بن گئے ہیں۔ مختلف علاقوں میں بجلی کے میٹرز غیر محفوظ انداز میں کھمبوں پر نصب ہیں، جہاں حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں
شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد مقامات پر میٹرز کے تار ننگے ہیں اور بارش یا نمی کے دوران کرنٹ لگنے کا خدشہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، جبکہ شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگنے کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں، جس سے املاک کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے
علاقہ مکینوں کے مطابق واپڈا حکام میٹرز کو گھروں یا محفوظ مقامات پر نصب کرنے کے بجائے کھمبوں پر لگا رہے ہیں، جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔ بچوں اور راہگیروں کیلئے یہ صورتحال انتہائی خطرناک قرار دی جا رہی ہے
مقامی افراد نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کے میٹرز کی فوری مرمت اور محفوظ تنصیب کو یقینی بنایا جائے، کھلی وائرنگ کو درست کیا جائے اور میٹرز کو کھمبوں کے بجائے محفوظ اور معیاری جگہوں پر منتقل کیا جائے تاکہ ممکنہ حادثات اور آتشزدگی کے واقعات سے بچا جا سکے
ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ بجلی کے کھمبوں کے قریب غیر ضروری طور پر جانے سے گریز کریں، خصوصاً بارش کے دوران احتیاط برتنا نہایت ضروری ہے۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ غفلت کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے