PSO BMC

PSO BMC

Share

Pashtoonkhwa Students Organization, BMC
❤️🤍❤️

04/06/2026

پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے زیرِ اہتمام ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی چوتھی برسی 21 جون 2026ء کو ضلع قلعہ سیف اللہ میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی۔ جلسے سے پارٹی کے چیئرمین و ممبر قومی اسمبلی محترم خوشحال خان کاکڑ اور مرکزی قائدین خطاب کریں گے اور ملی شہید کی قومی، جمہوری اور سیاسی جدوجہد کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔"
PSO BMC PKNAP Doctors Forum PSO Pashtunkhwa Students Organization Sami Ullah

04/06/2026

بولان میڈیکل کالج میں کالج لائبریری تک طالبات کی رسائی کو 3 بجے کے بعد محدود کرنے کا فیصلہ نہ صرف طالبات کی تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کرتا ہے بلکہ ان کے بنیادی تعلیمی حق پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ کالج میں بڑی تعداد میں ایسی طالبات موجود ہیں جو ہاسٹل میں مقیم نہیں بلکہ شہر کے مختلف علاقوں سے آ کر اپنی تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ یہ طالبات کلاسز کے بعد اپنی تیاری، مطالعہ، ریسرچ اور امتحانات کی تیاری کے لیے کالج لائبریری پر انحصار کرتی ہیں۔ اس لیے اس وقت کے بعد داخلے پر پابندی ان کو ایک اہم علمی ماحول سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔

دنیا بھر کی جامعات اور پاکستان کے معتبر تعلیمی اداروں میں لائبریریوں کو طلبہ و طالبات کے لیے زیادہ سے زیادہ قابلِ رسائی بنایا جاتا ہے تاکہ تعلیمی معیار بہتر ہو اور طلبہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں بروئے کار لا سکیں۔ اس کے برعکس بولان میڈیکل کالج میں اس نوعیت کی پابندیاں ایک غیر معمولی اور تشویشناک مثال پیدا کرتی ہیں، جہاں سیکیورٹی کے نام پر تعلیمی سہولیات محدود کی جا رہی ہیں۔ اگر یہی طرزِ عمل جاری رہا تو خدشہ ہے کہ کالج لائبریری کا مؤثر استعمال بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد علم تک رسائی کو آسان بنانا اور تعلیمی ماحول کو فروغ دینا ہوتا ہے، نہ کہ اس پر غیر ضروری پابندیاں عائد کرنا۔ سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات یقینی بنائے جا سکتے ہیں، مگر ان کی آڑ میں تعلیمی مواقع کو محدود کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انتظامیہ سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس فیصلے پر فوری نظرِ ثانی کرے اور طالبات کو کالج لائبریری اور دیگر تعلیمی سہولیات تک مکمل رسائی فراہم کرے۔

مزید یہ کہ اگر کسی فرد کی جانب سے کوئی مسئلہ یا غلط رو سامنے آتا ہے تو اس کے لیے ایک واضح، منظم اور مؤثر طریقہ کار موجود ہونا چاہیے۔ چند افراد کے عمل کی بنیاد پر تمام طلبہ کو اجتماعی طور پر سزا دینا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ تعلیمی ماحول اور طلبہ کے اعتماد کو بھی متاثر کرتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ صرف ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے بھی پورے ہوں اور تعلیمی ماحول بھی برقرار رہے۔
PSO BMC PKNAP Doctors Forum PSO Pashtunkhwa Students Organization

Photos from PSO BMC 's post 02/06/2026

مذمتی بیان

02 جون 2026 کو یونیورسٹی آف ملاکنڈ کے چیف پروکٹر کی جانب سے خیبر خان یوسفزئی اور عمر احمد کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹس کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ جامعات علم، تحقیق، سیاسی شعور اور اظہارِ رائے کے مراکز ہوتے ہیں، جہاں طلبہ کی سیاسی و جمہوری سرگرمیوں کو تادیبی کارروائیوں کے ذریعے محدود کرنا قابلِ افسوس اور غیر جمہوری عمل ہے۔

خصوصاً خیبر خان یوسفزئی پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ایک فعال سیاسی، نظریاتی اور تنظیمی کارکن ہیں۔ ایسے شوکاز نوٹس نہ تو انہیں اپنی قومی و جمہوری سیاست سے دور کر سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں خوفزدہ کر سکتے ہیں۔ سیاسی شعور، قومی حقوق اور جمہوری جدوجہد کے راستے کو انتظامی دباؤ اور دھمکیوں سے نہیں روکا جا سکتا۔

پی ایس او بی ایم سی ( BMC) اس اقدام کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ طلبہ پر کسی فرد، گروہ یا بیرونی دباؤ کے تحت انتظامی کارروائیاں نہ کی جائیں۔ جامعات میں طلبہ کے جمہوری، سیاسی اور آئینی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے اور انہیں آزادانہ اظہارِ رائے اور مثبت سیاسی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

مطالبہ کیا جاتا ہے کہ مذکورہ شوکاز نوٹس فوری طور پر واپس لیا جائے اور طلبہ کے جمہوری و آئینی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے۔
پشتونخواں سٹوڈنٹس آرگنائزیشن بی ایم سی ( BMC )

PSO BMC PKNAP Doctors Forum
Sami Ullah

16/05/2026
16/05/2026

**پریس ریلیز**

**پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، بولان میڈیکل کالج کوئٹہ**

بولان میڈیکل کالج کوئٹہ کی جانب سے عمر کتاب گھر، بروری روڈ، کوئٹہ کے حوالے سے طلبہ کی جانب سے (PSO) پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سامنے آنے والی شکایات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔

طلبہ کے مطابق بولان میڈیکل کالج کے قریب واقع بعض کتابی مراکز، خصوصاً عمر کتاب گھر، کئی سالوں سے پریکٹیکل کاپیوں اور میڈیکل کتابوں کے نام پر طلبہ سے غیر ضروری اور بھاری رقوم وصول کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پریکٹیکل کاپیوں کی قیمتیں 1000 سے 2000 روپے تک جبکہ مکمل پریکٹیکل سیٹس کی قیمت 6000 سے 7000 روپے تک وصول کی جا رہی ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اکثر انہیں انفرادی کاپیوں کے بجائے مکمل سیٹ خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جس سے ان پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔

پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اس امر پر بھی تشویش رکھتی ہے کہ تعلیمی ماحول میں کسی بھی قسم کی اجارہ داری یا غیر شفاف طریقہ کار طلبہ کے مفادات کے خلاف ہے۔ طلبہ کو یہ حق حاصل ہے کہ انہیں تعلیمی مواد مناسب قیمت اور آسان رسائی کے ساتھ میسر ہو، نہ کہ انہیں محدود ذرائع اور مہنگے پیکیجز تک مجبور کیا جائے

**:تنظیم مطالبہ کرتی ہے کہ**

* پریکٹیکل کاپیاں اور ضروری تعلیمی مواد مارکیٹ میں مناسب قیمت پر عام دستیاب کیے جائیں۔
* طلبہ کو کسی مخصوص دکان یا پیکیج تک محدود نہ کیا جائے۔
* کالج انتظامیہ لائبریری اور فوٹو کاپی سہولیات کو مزید بہتر بنائے تاکہ طلبہ پر غیر ضروری مالی دباؤ کم ہو۔
* اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی سامنے آئے تو فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔

پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ہمیشہ طلبہ کے حقوق، تعلیمی شفافیت اور انصاف کے اصولوں کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اور اعلیٰ حکام سے اپیل کرتی ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے کر طلبہ کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔

**ترجمان**
**پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن**
**بولان میڈیکل کالج کوئٹہ**

03/05/2026

بولان میڈیکل کالج کا طلبہ پر دوہرا مالی بوجھ نامنظور! PM&DC رجسٹریشن فیس کے نام پر ایک اور ناانصافی قبول نہیں

بولان میڈیکل کالج انتظامیہ کی جانب سے حالیہ نوٹیفکیشن نے طلبہ اور والدین میں شدید تشویش اور غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ اکیڈمک سیشن 2021-22 اور 2022-23 کے طلبہ سے PM&DC رجسٹریشن فیس داخلے کے وقت ہی باقاعدہ طور پر وصول کی جا چکی تھی، جس کی باقاعدہ رسیدیں آج بھی طلبہ کے پاس موجود ہیں۔

یہ رقم طلبہ نے براہِ راست کالج کے سرکاری اکاؤنٹ میں جمع کروائی تھی۔ اب اگر ماضی میں کسی قسم کی مالی بے ضابطگی، بدعنوانی یا کرپشن کے ذریعے یہ رقم خرد برد کی گئی ہے، تو اس کی سزا طلبہ کو دینا سراسر ظلم، ناانصافی اور اختیارات کا ناجائز استعمال ہے۔

طلبہ کسی بھی صورت دوبارہ PM&DC رجسٹریشن فیس ادا نہیں کریں گے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اپنی اندرونی بدعنوانیوں، غفلت اور مالی بے ضابطگیوں کا بوجھ معصوم طلبہ پر منتقل کرنے کے بجائے خود اس کا جواب دے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:

* اس معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔
* National Accountability Bureau، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور دیگر متعلقہ ادارے اس سنگین معاملے کا نوٹس لیں۔
* ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
* طلبہ کو فوری طور پر اضافی فیس کے اس غیر قانونی مطالبے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔

یہ بات یاد رکھی جائے کہ کرپشن کا ازالہ طلبہ سے دوبارہ رقم وصول کرکے نہیں کیا جا سکتا۔ جو رقم پہلے ہی طلبہ سے وصول کی جا چکی ہے، اس کی ذمہ داری ادارے اور متعلقہ حکام پر عائد ہوتی ہے۔

طلبہ اپنے آئینی، قانونی اور تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری راستہ اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ اگر اس غیر منصفانہ فیصلے کو فوری واپس نہ لیا گیا تو بھرپور احتجاج کیا جائے گا، اور تمام متعلقہ فورمز سے رجوع کیا جائے گا۔

28/04/2026

بولان میڈیکل کالج کے طلبہ امتحانی شیڈول، پرنسپل کے انتظامی دھمکیوں اور ہراسانی کے خلاف سراپا احتجاج۔

کوئٹہ: بولان میڈیکل کالج کے سیکنڈائر کے طلبہ گزشتہ دو روز سے امتحانات کے غیر منصفانہ شیڈول، ماڈیولر نظام کی ناقص عملداری اور انتظامیہ کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ کالج انتظامیہ نے بغیر کسی باقاعدہ سالانہ تعلیمی کیلنڈر کے ماڈیولر نظام نافذ کیا اور اچانک عید الاضحی سے قبل تحریری جبکہ عید کے فوراً بعد زبانی امتحانات کا اعلان کر دیا، جس سے طلبہ شدید ذہنی دباؤ، بے چینی اور اضطراب کا شکار ہو گئے ہیں۔

طلبہ کے مطابق انہوں نے متعدد بار پرنسپل اور دیگر متعلقہ حکام سے درخواست کی کہ امتحانات بولان میڈیکل کالج کے طلبہ امتحانی شیڈول، پرنسپل کے انتظامی دھمکیوں اور ہراسانی کے خلاف سراپا احتجاج۔

کوئٹہ: بولان میڈیکل کالج کے سیکنڈائر کے طلبہ گزشتہ دو روز سے امتحانات کے غیر منصفانہ شیڈول، ماڈیولر نظام کی ناقص عملداری اور انتظامیہ کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ کالج انتظامیہ نے بغیر کسی باقاعدہ سالانہ تعلیمی کیلنڈر کے ماڈیولر نظام نافذ کیا اور اچانک عید الاضحی سے قبل تحریری جبکہ عید کے فوراً بعد زبانی امتحانات کا اعلان کر دیا، جس سے طلبہ شدید ذہنی دباؤ، بے چینی اور اضطراب کا شکار ہو گئے ہیں۔

طلبہ کے مطابق انہوں نے متعدد بار پرنسپل اور دیگر متعلقہ حکام سے درخواست کی کہ امتحانات عیدالفطر کے بعد منعقد کیے جائیں تاکہ وہ مکمل یکسوئی کے ساتھ تیاری کر سکیں اور عید کی خوشیاں اپنے اہل خانہ کے ساتھ منا سکیں۔ تاہم، آج پرنسپل سے ملاقات کے دوران طلبہ کو نہایت افسوسناک، دھمکی آمیز اور غیر مناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں ایف آئی آر درج کرنے، مختلف قسم کی پابندیاں عائد کرنے، داخلے منسوخ کرنے، امتحانات میں ناکام قرار دینے اور سالانہ نظام میں منتقل کرنے جیسی سنگین دھمکیاں دی گئیں۔

طلبہ نے واضح کیا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں طلبہ کے ساتھ ایسا دھمکی آمیز اور ہراساں کن رویہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اپنے آئینی، جمہوری اور تعلیمی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے طلبہ کو ایف آئی آر، انتظامی کارروائی اور دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے دبانے کی کوشش نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ یہ تعلیمی اقدار اور ادارہ جاتی وقار کے بھی منافی ہے۔ طلبہ کا مزید کہنا ہے کہ انتظامیہ مختلف حربوں کے ذریعے نہ صرف انہیں ہراساں کر رہی ہے بلکہ اپنی انتظامی نااہلی، بدعنوانی اور دیگر سنگین مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔

طلبہ نے الزام عائد کیا کہ Pakistan Medical and Dental Council کے قواعد و ضوابط کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے وائس چانسلر اور نگرانِ امتحانات نے ان کے جائز تحفظات کو مسلسل نظرانداز کیا ہے۔ موجودہ انتظامیہ کا طرزِ عمل نہ صرف تعلیمی روایات بلکہ طلبہ کے بنیادی حقوق اور ایک عظیم درسگاہ کے وقار کے بھی سراسر منافی ہے۔

احتجاج کرنے والے طلبہ کا واضح اور واحد مطالبہ ہے کہ بولان میڈیکل کالج کے دوسرے سال کے تمام امتحانات عید الاضحی کے بعد منعقد کیے جائیں تاکہ طلبہ ذہنی سکون، بہتر تیاری اور مکمل یکسوئی کے ساتھ اپنے امتحانات دے سکیں۔ طلبہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری کالج انتظامیہ اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ کے بعد منعقد کیے جائیں تاکہ وہ مکمل یکسوئی کے ساتھ تیاری کر سکیں اور عید کی خوشیاں اپنے اہل خانہ کے ساتھ منا سکیں۔ تاہم، آج پرنسپل سے ملاقات کے دوران طلبہ کو نہایت افسوسناک، دھمکی آمیز اور غیر مناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں ایف آئی آر درج کرنے، مختلف قسم کی پابندیاں عائد کرنے، داخلے منسوخ کرنے، امتحانات میں ناکام قرار دینے اور سالانہ نظام میں منتقل کرنے جیسی سنگین دھمکیاں دی گئیں۔

طلبہ نے واضح کیا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں طلبہ کے ساتھ ایسا دھمکی آمیز اور ہراساں کن رویہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اپنے آئینی، جمہوری اور تعلیمی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے طلبہ کو ایف آئی آر، انتظامی کارروائی اور دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے دبانے کی کوشش نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ یہ تعلیمی اقدار اور ادارہ جاتی وقار کے بھی منافی ہے۔ طلبہ کا مزید کہنا ہے کہ انتظامیہ مختلف حربوں کے ذریعے نہ صرف انہیں ہراساں کر رہی ہے بلکہ اپنی انتظامی نااہلی، بدعنوانی اور دیگر سنگین مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔

طلبہ نے الزام عائد کیا کہ Pakistan Medical and Dental Council کے قواعد و ضوابط کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے وائس چانسلر اور نگرانِ امتحانات نے ان کے جائز تحفظات کو مسلسل نظرانداز کیا ہے۔ موجودہ انتظامیہ کا طرزِ عمل نہ صرف تعلیمی روایات بلکہ طلبہ کے بنیادی حقوق اور ایک عظیم درسگاہ کے وقار کے بھی سراسر منافی ہے۔

احتجاج کرنے والے طلبہ کا واضح اور واحد مطالبہ ہے کہ بولان میڈیکل کالج کے دوسرے سال کے تمام امتحانات عید الاضحی کے بعد منعقد کیے جائیں

27/04/2026

نن د BMC د دوهم کال محصلینو د امتحان د ځنډ په اړه احتجاج وکړ، چې پکې د PSO، PSF، BSAC او BSO ټول ملګري هم شامل وو. د PMDC د اصولو له مخې، هر ټولګي ته د امتحان لپاره ۴۰ ورځې تیاري ورکول کېږي، خو د دوهم کال محصلینو ته یوازې ۱۵ ورځې ورکړل شوې دي، چې دا ډېر ناعادلانه ده. بله مهمه خبره دا ده چې تیوري او وایوا باید په یو وخت کې وي، نه دا چې تیوري د اختر نه مخکې او وایوا وروسته واخیستل شي. دا کار د محصلینو لپاره ډېر تکلیف جوړوي. پکار ده چې انتظامیه په دې اړه غور وکړي.

آج BMC کے دوسرے سال کے طلبہ 2nd year نے امتحان کو late کرنے کے حوالے سے احتجاج کیا، جس میں PSO، PSF، BSAC اور BSO کے تمام ساتھی بھی شامل تھے۔ PMDC کے اصولوں کے مطابق ہر کلاس کو امتحان کی تیاری کے لیے 40 دن دیے جاتے ہیں، لیکن دوسرے سال کے طلبہ کو صرف 15 دن دیے گئے ہیں، جو کہ بہت ناانصافی ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ تھیوری اور وائوا ایک ہی وقت میں ہونے چاہئیں، نہ کہ تھیوری عید سے پہلے اور وائوا بعد میں لیا جائے۔ اس سے طلبہ کو بہت زیادہ مشکل ہوتی ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ اس مسئلے پر غور کرے۔

26/04/2026


پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے صوبائی پریس ریلیز میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ چار دن گزرنے کے باوجود صوبائی سینئر معاون سیکرٹری ایمل ساروان کا نام تاحال 3MPO سے واپس نہیں لیا گیا۔ ژوب میں ایمل ساروان کے گھر پر پولیس کے چھاپے اور انہیں 3MPO کے تحت نظر بند کرنے کے اقدام کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ یہ کارروائی نہ صرف چادر اور چار دیواری کے تقدس کی کھلی پامالی ہے بلکہ بنیادی شہری و آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔ ایک پُرامن سیاسی و طلبہ رہنما کے خلاف اس نوعیت کا رویہ ریاستی اختیارات کے غلط استعمال کی واضح مثال ہے۔ پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ایک خالص، عوامی اور نظریاتی طلبہ تنظیم ہے جو سرزمینِ پشتونخوا کی نمائندہ آواز کے طور پر ہمیشہ اپنے عوام کے حقوق، تعلیم اور شعور کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی۔ ایمل ساروان، جو تنظیم کے صوبائی سینئر معاون سیکرٹری ہیں، ان کی یہ تنظیمی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم، عوامی مسائل اور ترقی سے متعلق امور کو اجاگر کریں۔ ان کا “قصور” صرف یہ ہے کہ انہوں نے ژوب میں تعلیمی مسائل، بنیادی ڈھانچے کی کمی، لرننگ انڈیکیٹرز کی زبوں حالی اور معیاری تعلیم تک رسائی کے فقدان کو نمایاں کیا۔ انہیں 3MPO کے تحت نشانہ بنانا دراصل سچ بولنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش ہے، جو ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ ہم ڈپٹی کمشنر ژوب کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ وہ اپنی توجہ اصل مسائل پر مرکوز کریں۔ ژوب میں منشیات کی کھلے عام فروخت، جرائم پیشہ عناصر کی آزادانہ نقل و حرکت، اور اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز کے باوجود بنیادی انسانی سہولیات کا فقدان ایک سنگین حقیقت ہے۔ انتظامیہ کا کام ان مسائل کا حل ہے، نہ کہ سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنا اور طلبہ کی آواز دبانا۔ پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن واضح کرتی ہے کہ وہ ہر قسم کی سامراجی اور نوآبادیاتی سوچ کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور ایسے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوگی۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایمل ساروان کے خلاف کارروائی فوری طور پر واپس لی جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کا احتساب کیا جائے۔ اگر فوری طور پر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اس جابرانہ قانون کے خلاف ملک بھر میں ایک بھرپور احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوگی۔ پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اپنے کارکنوں کے ساتھ کھڑی ہے اور اپنے عوام، اپنی سرزمین اور

اپنے مستقبل کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔

Photos from PKNAP Doctors Forum's post 25/04/2026
Want your business to be the top-listed Government Service in Quetta?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

BMC
Quetta