*آج ہر شخص کی عمر 2022 ہے*
کیا آپ جانتے ہیں کہ آج پوری دنیا ایک ہی عمر کی ہے! آج ایک بہت ہی خاص دن ہے اور ہر ہزار سال (1,000) سال بعد صرف ایک موقع ہے۔
آپ کی عمر + آپ کا سال پیدائش، ہر شخص = 2022 ہے۔
یہ اتنا عجیب ہے کہ ماہرین بھی اس کی وضاحت نہیں کر سکتے! آپ اسے معلوم کریں اور دیکھیں کہ آیا یہ 2022 ہے۔ اس کا ایک ہزار سالہ انتظار ہے!
مثال:
میری عمر 32 سال ہے۔
میں 1990 میں پیدا ہوا۔
تو 32+1990= 2022
اس سال کے دوران آپ کی عمر کا استعمال کریں۔
مثال:
میں 1990 میں پیدا ہوا اور میری عمر 32👍 سال ہے۔
1990 +32=2022
بہت دلچسپ. براہ کرم اسے آزمائیں۔
🧐🧐🧐🧐🧐🧐🧐🧐🧐🧐🧐🧐🧐🧐🧐🧐🧐🧐
EVERY Things Possible
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from EVERY Things Possible, Social service, Misriyal, Rawalpindi.
All category likes Photography , Technical , Electrical , News , Entertainment , Mechanical , Information of technology , Smart Phones , Smart Watches , CPU , LCD , Daily Updates , Toys For Children's , Motor Cars , Motor Bikes , Temperature , Rains
08/03/2022
8 ball pool id sale
08/03/2022
ایسے ظالم قیامت میں الله کو کیا جواب دیں گے۔
08/03/2022
قیامت سے پہلے قیامت ۔ افسوس در افسوس
03/03/2022
شادیاں نہ ہونا کتنا بڑا ایشو اور غور طلب مسئلہ ھے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ جس وقت آپ یہ پوسٹ پڑھ رہے ہیں ٹھیک اسی وقت پاکستان کے ہر چوتھے گھر میں ایک لڑکی تیس سال کی ہو چکی ہے شادی کے انتظار میں اور ان کے بالوں میں سفیدی آ لگی ہے
جن کی تعداد لگ بھگ پچاس لاکھ بنتی ہے
ایک اوسط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایک کروڑ لڑکیاں شادی کی منتظر ہیں
اسی معاشرے کا ایک فرد ہونے کے ناطے ہمیں یہ مسئلہ اپنی طرف کھینچ رہا ہے
پچھلے تین چار ماہ سے ہم اس پہ ریسرچ کر رہے تھے کہ شادیوں کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے اور اس رکاوٹ کو کیسے دور کیا جا سکتا ھے؟
اس ضمن میں ہم نے کافی لوگوں سے بات کی ان کی رائے لی
پھر ان تمام آراء کی گروپ بندی کی ہم نے چھوٹی چھوٹی پرچیاں بنائیں اور پھر ان کا آپس میں ربط تلاش کیا ہماری اس تحقیق اور سروے کے مطابق شادیوں کے ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹیں چار چیزیں ہیں
جو نیچھے تفصیل سے لکھی گئی ہیں
*1: جہیز یا ولور*
سب سے بڑی رکاوٹ جہیز یا ولور ہے والدین کو اکثر اوقات رشتہ تو مل جاتا ہے مگر جہیز یا ولور کے لئے پیسے نہیں ہوتے جہیز کا مطلب ہے کہ لڑکی کے والدین کو اتنا ذلیل کرنا کہ پھر وہ پوری زندگی قرض ہی ادا کرتے رہیں جبکہ ولور کا مطلب ہے کہ بیٹی کے شوہر کو نکاح سے پہلے مقروض کر کے اپنی بیٹی کو کسی مقروض کے گھر بھیج دیا جائے اس مسئلے نے تقریباً تمام غریب اور متوسط درجے کے لوگوں کو نشانہ بنایا ھوا ھے۔
جس کی وجہ سے تقریباً 28 لاکھ شادیاں نہیں ھوئی یا نہیں ہو رہیں
*2: ذات پات*
یہ وہ ناسور ہے جس نے کسی طبقے کو نہیں چھوڑا امیر اور غریب جاھل اور پڑھے لکھے حتی کہ دیندار طبقہ سب اس حمام میں ننگے ہیں
یہ دوسری بڑی بیماری ہے جس نے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا ہے اس ذات پات کی وجہ سے روزانہ ایک ہزار سے زیادہ رشتے رد کئے جاتے ہیں
یعنی اگر صرف ذات پات کا مسئلہ ہی حل ہو جائے تو 20 لاکھ شادیاں کچھ دنوں میں ہو جائیں
*3: بزدلی لالچ آئیڈیل*
یوں تو تقریباً ہر مسئلے کی وجہ ہی بزدلی ہوتی ہے اور یہ وسیع موضوع بھی ہے مگر ہم یہاں خاص طور پر بزدلی کو ایک بہت بڑا ناسور سمجھتے ہیں
کچھ والدین اپنی بیٹیوں کی شادی اس لئے نہیں کرتے کیونکہ وہ سوچتے ہیں یہ پڑھے پھر جاب کرے اور پھر شادی ہو جائے تاکہ ان کی زندگی بہتر گزرے مگر پڑھنے جاب دیکھنے اور پھر سال دو سال ان کے پیسے کھانے کے بعد لڑکی کو کہا جاتا ہے کہ اب خود رشتہ دیکھ لے
جبکہ وہ بیچاری 35 سال عمر کراس کر چکی ہوتی ہے بزدل صرف والدین نہیں ہوتے بچیاں بھی ہوتی ہیں مجھے کئی سو لوگوں نے یہ رائے بھی دی کہ ان کو وہ ہیرو یا آئیڈیل نہیں ملتا جو ان کو چاہیے پھر وہ ایک دن ویلنٹائن کے انتظار میں صرف ویلن کو گلے لگا لیتی ہیں
کچھ لڑکیاں لاڈلی بنی ہوتی ہیں تو وہ شادی اس لئے نہیں کرتیں کیونکہ ان کو ڈر ہوتا ہے یہ مزے وہاں نہیں ملے لگے بزدلی سے شادی نہ ہونے کا سب سے بڑا مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب لڑکی یا لڑکے کو عشق ہو جائے اور گھر والے نہ مانے پھر بھی ایک نمایاں تعداد شادی کرنے میں شرم محسوس کرتی ہے
*4: دوسری شادیاں*
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ خوف سا ہے کہ دوسری شادی پتہ نہیں کتنا بڑا ظلم ہے
ایک تو ہماری زبانوں میں دوسری بیوی کا نام اتنا خوفناک ہے سوتن بن وغیرہ
جس سے لوگ ڈر جاتے ہیں
انڈین کلچر رسومات فلمیں ڈرامے اور سوپ سیریلز نے پاکستانی لوگوں کی زندگیاں خراب کر دی ہیں
دوسری شادی کو ایک معاشرتی ناسور بنا کر رکھ دیا گیا ہے عورت ہی عورت کی دشمن ہے جبکہ مرد اگر انصاف کر بھی سکتا ہو تو دوسری شادی کا نام نہیں لے سکتا
*حل:* 👇
ہمیں چاہیے کہ ایک بھرپور تحریک چلائیں
شادی ھالوں دھوم دھام والی شادیوں جہیز ولور سجاوٹ پہ بے پناہ اخراجات نمود و نمائش قیمتی اور انتہائی مہنگے ڈریس اور ذات پات کا مکمل بائیکاٹ کریں
لڑکی والوں کے گھر کھانے پہ مکمل پابندی لگا دی جاۓ
نکاح انتہائی سادہ اور مسجد میں کیا جاۓ
مروجہ ناجاٸز مہندی مایوں اور دیگر خرافات پہ سخت پابندی اور سزائیں ہوں
شادی کے جملہ اخراجات دلہے کی ایک تنخواہ یا ماھانہ آمدنی سے زیادہ نہ ہوں
نکاح کی دستاویزات اور مراحل بہت آسان ہوں
بارات بینڈ باجہ پہ پابندی ہو
نکاح پہ صرف دلہے کے گھر والے ھی آئیں
شادی کا بڑا فنکشن صرف اور صرف ولیمہ ہو
وہ بھی دلہا کی استطاعت کے مطابق
جبکہ حکومت کو چاہیے کہ ایک قانون بنائے جس کی رو سے کسی لڑکی یا لڑکے کو تب تک یونیورسٹی میں داخلہ نہ ملے جب تک وہ نکاح نامہ ساتھ نہ لائے
حکومت کو یہ بھی چاہیے کہ جہیز ولور اور لڑکیوں کی شادی سے پہلے جابز پر مکمل پابندی لگائے
جاب صرف شادی شدہ خواتین کو دی جائے
یا ایسی خواتین کے لئے جابز کی رعایت کردی جائے جن کا کوئی اور زریعہ معاش نہ جیسے بعض خاندانوں کی کفالت خواتین خود کرتی ہیں جن کے والد یا بھائی وغیرہ نہیں ہوتے یا روزگار سے معذور ہوتے ہیں
سوسائٹی یہ بھی کر سکتی ہے کہ مشترکہ شادیوں کو ترویج دی جاۓ جہاں صرف ایک سادہ ڈش اور زیادہ سے زیادہ شادیاں ہوں
دوسری شادی کا رواج عام کیا جاۓ
جن مردوں کی مالی اور اسبابی استطاعت میسر ہے ان کی بیویاں اپنا ظرف بڑا کریں
اللّٰہ اجر دینے والا ھے
جس محلے یا یونین کونسل میں کوئی بیوہ یا مطلقہ عورت موجود ہو وہاں کا چیئرمین اس کی دوسری شادی کے لئے معاونت کا ذمہ دار ہو
انڈین میڈیا کی جہالت اور بھارتی رسومات ختم کرنے کے لئے اسلامی تعلیمات خانگی نظام اور شادی کے اصل طریقہ کار کی مناسب تشہیر کی جائے
*یاد رکھیں...*
جلدی شادیوں کا نہ ہونے سے زنا بڑھ رہا ہے
نسوانیت ختم ہو رہی ہے
مردانگی ضائع ہو رہی ہے
بے راہ روی عام ہو رہی ہے
معاشرتی ناہمواریاں پیدا ہو رہی ہیں
چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ساتھ ریپ اور قتل و غارت ہو رہی ہے
اغلام بازی اور امرد پرستی یعنی (خوبصورت لڑکوں سے دوستی) کی نحوست بڑھ رہی ہے
اگر اب بھی کچھ نہ سوچا گیا تو آنے والا وقت مزید تباہی و بربادی کے ساتھ ہمارا منتظر ہے
اور سب سے بڑھ کر ہم سب نے اس کا جواب دینا ہے اللّٰہ کے ہاں
ضروری نہیں کہ تمام باتوں سے آپ اتفاق کریں
فوج کھا گئی، فوج مار گئی، فوج لوٹ گئی، اتنا اسلحہ جمع کرنے کی کیا ضرورت تھی، ایٹم بم کی کیا ضرورت تھی، ہم نے اتنے میزائل، ٹینک، جنگی جہاز کیا کرنے ہیں، اتنی فوج کس لیے پال رہے ہیں، عوام کے پاس کھانے کو نہیں ہم دفاع پر خرچ کرتے جا رہے ہیں وغیرہ، ہسپتال نہیں ہم دفاع پہ خرچ کر رہے ہیں، سڑکیں نہیں ہم دفاع پر خرچ کر رہے ہیں اس فضول کے خرچے سے بہتر تھا ہم کتنا کچھ کر لیتے وغیرہ وغیرہ.
یہ بکواس ہمارے ملک کے لبرلز، سیاسی جماعتیں انکے آئی ٹی سیلز، پٹواری، جماعتی و جمعیتی، لفافوں اور ٹوکروں کی زبان پہ اکثر جاری رہتی ہے جو دراصل ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا اور اسکرپٹ ہے پاکستان کا کل 13 سے 14% دفاعی بجٹ پہ سب اکٹھے ہو کر عوام کو اکساتے ہیں مگر تعلیم، صحت، ترقیاتی منصوبوں، ہسپتالوں، روزگار کا مختص 80 سے 85% بجٹ جو ان سیاہ دانوں کے پاس ہوتا ہے اس پہ کوئی سوال نہیں...
جب سوویت یونین کے ٹکڑے ہوئے تو یوکرائن الگ ہو گیا اس وقت یوکرائن کے پاس دنیا میں سب سے ذیادہ ایٹمی ہتھیار موجود تھے یوں کہیں کہ یوکرائن اپنے وقت کی طاقتور ترین ایٹمی طاقت تھی، بعد میں مغربی طاقتوں کی باتوں میں آ کر انکی سیکیورٹی گارنٹی پر یوکرائن نے نہایت جاہلانہ فیصلہ کرتے ہوئے ایٹمی ہتھیار واپس روس کے حوالے کر دیئے کہ ہماری حفاظت امریکہ و اتحادی کریں گے جیسا کہ انکا دعویٰ تھا.
جس دن یوکرائن نے یہ جاہلانہ فیصلہ کیا اس دن سے یوکرائن نے اپنی سالمیت خطرے میں ڈال دی اور سب کچھ ہونے کے باوجود بھی گزشتہ روز روس کے سامنے ایک ہی دن میں یوکرائنی فوج اپنی تباہی کروا کر اپنا ملک تقریباً دے ہی بیٹھی ہے اور یوکرائنی بحریہ/ بری فوج و فضائیہ پوری طرح بکھر کر رہ گئی ہے.
بیشک انہوں نے ہسپتال بنائے، سکول، کالجز بنائے، جدید کارخانے غرض بڑی ترقی کی، اپنے دفاع پہ خرچ تو کیا لیکن اپنا دفاع کرنا بھول گئے اب وہی ہسپتال انکے زخمیوں سے بھرے ہیں، وہی سکول روسی حملوں سے بچنے کے لیے پناہ گاہیں ہیں، اور وہی کارخانہ راکھ کا ڈھیر بن گئے ہیں اور جنہوں نے سیکیورٹی گارنٹی دی تھی وہ کنارے پہ ٹھہر کر تماشہ دیکھ رہے ہیں.
یہی گارنٹیاں مغرب پاکستان کو بھی دیتا رہا ہے کہ آپ ہم سے 100 ارب ڈالر لے لیں، قرضے معاف کروا لیں، ہم سے کاروبار لے لیں وغیرہ وغیرہ لیکر ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائیں ہم آپکی حفاظت کر لیں گے جب آپکو ضرورت پڑی، امریکہ جیسا شیطان اپنا پورا ٹبر ٹولہ لیکر افغانستان میں یہی کرنے آیا تھا کہ یا تو خود حملہ کریں یا بھارت کو شے دیں کہ وہ کسی طرح پاکستان میں جنگ میں کود پڑے جیسا یوکرائن میں کیا گیا.
جب کچھ نہ بن پایا، نہ امریکہ و نیٹو کی جرات ہوئی کہ وہ پاکستان پر حملہ کر سکیں نہ ہی بھارت ہمت کرسکا تو اسی مغرب و بھارت نے پاکستان کی دفاعی تیاری کے حوالے سے کھربوں روپے کی پروپگنڈہ مہمات چلائیں، حالانکہ فوج نے اپنے مختص بجٹ میں رہتے ہوئے تمام دفاعی ضرورتیں کم خرچ اور بہترین انداز میں پوری کیں.
فوج کے اپنے بجٹ میں رہتے اپنے سکول، ہسپتال سب کچھ بہترین بنایا ہے لیکن 80% بجٹ کھانے والے ہمارے سیاہ دان اور انکے ذہنی غلام فوج کو برا بھلا کہتے ہیں، ملکی دفاع پہ سوال اٹھاتے ہیں، دفاعی ضروریات پہ پروپگنڈہ کرتے ہیں مگر ان لٹیروں سے نہیں پوچھتے کہ 12 سے 14% والی فوج نے سب کچھ بہترین کر لیا مگر 80 سے 85% بجٹ رکھنے والی جماعتوں نے ملک کے ساتھ کیا کیا؟
ہمارا مسلہ فوج نہیں ہے ہمارا مسلہ وہ بربادی ہے جو سیاسی جماعتوں نے اپنی کرپشن اور ملک دشمنی میں کی، فوج انکے ہاتھ نہیں اتی، فوج اپنے ادارے کو بہتر سے بہترین کر رہی ہے اور سیاہ دان 70 سال سے ملک کو لوٹ کھسوٹ رہے ہیں اس لوٹنے کھسوٹنے کا جواب نہیں ہے، ملک کو پسماندہ رکھا گیا، کھربوں کے بجٹ کے باوجود بھی عوام کو صحت، تعلیم، روزگار جیسی بنیادی ضروریات سے محروم رکھا گیا اور اسی پہ پردہ ڈالنے کے لیے فوج پہ بہتان بازی کا سہارا لیا جاتا ہے حالانکہ فوج نے کبھی سیویلین حکومتوں کو سکول، کالجز، ہسپتال بنانے سے نہیں روکا.
27/02/2022
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Website
Address
Misriyal
Rawalpindi
