Farhan Khan۔۔۔۔۔poetry zone

Farhan Khan۔۔۔۔۔poetry zone

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Farhan Khan۔۔۔۔۔poetry zone, Library, Islamabad, Rawalpindi.

12/03/2021
15/04/2020

ایک وقت ہوتا ہے کے انسان اپنے من پسند انسان کے ساتھ خوشیوں کی بلندیوں پر ہوتا ہے جس کی کوئی حد نہیں ہوتی ۔ان خوشیوں کو انسان نہیں تول سکتا ۔ہر ٹائم اس کے بارے میں خیال آنا ۔اس کے ساتھ بات کرتے کرتے رات گزار دینا ۔اس کے بات کرنے کا انتظار کرنا اس سے جڑی ہر چیز کو خود سے منسوب کر لینا ۔اور وقت ایسا دھچکا دیتا ہے کے یہ ساری چیزیں بکھر جاتی ہے ۔ہر خواب ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے ۔پھر ہم اس کا انتظار کرتے ہیں ۔چپ سی لگ جاتی ہے اس کو وہ قہقے لگانا بھول جاتے ہیں ۔ہر خوشی اس کو زہر لگتی اسے تنہائی ایسی راس آجاتی یا یوں کہو کہ تنہائی اس کے روح کو چھو جاتی ہے ۔گپت اندھیرا اسے آنسوں بہانے میں ساتھ دیتا ہے ۔روشنی سے دل کانپ سا جاتا اس کی سوچ ایک اندھیری کمرے تک محدود ہوجاتی ہے جس میں وہ چراغ جلا کر اس کا انتظار کرے چراغ کی لو کو وہ دیکھے ۔اس دئے کے جلنے میں اپنی جلن ،اپنی تڑپ اپنی اذیت دیکھے ۔یہ سمجھ کے دور کہیں امید کی کرن دل میں نمودار ہو کہ اس دئے کی طرح جل کر یا ختم ہوجانا ایک دن یا وہ واپس آ کے میری ہر اذیت ہر زخم کو بھر دے جیسے دئے کو بھجا کر اس کو ختم ہونے سے بچا لیتا ہے ۔۔۔یہ کرب جو سننے میں چونکا دیتا ہے میری جان میں اس کرب سے گزر رہی اسی امید کے ساتھ کے ایک دن تم آ کر میرے ہر زخم کے مرہم کی وجہ بنو گے تم ۔میری آنکھوں کے آنسوں صاف کر کے مجھے احساس دلاؤ گے اپنے پن کا ۔ہے تو مشکل لیکن یہ پاگل لڑکی تمہارا انتظار کر رہی ہے ۔۔

02/04/2020

شانوں پہ کس کے اشک بہایا کریں گی آپ
روٹھے گا کون کس کو منایا کریں گی آپ
جونؔ

10/02/2020

ہر سوچ ترے سوگ میں ہو جائے گا صحرا
ہر خواب ترے ہجر میں جل جائے گا آخر

03/02/2020

خون ہی تھوکیں گے ہم جانم، جانم جاناں، جانم جاں
یعنی تمہیں آزاد کریں گے، جانے کیا کچھ ٹھیری ہے

جب تعمیر خواب نہ ہو گی، آنکھوں کی دل بستی میں
خود کو بے بنیاد کریں گے، جانے کیا کچھ ٹھیری ہے

جون ایلیا

02/02/2020

بے سبب ہیں تری باتیں اے دل
کچھ بھی سنتی نہیں راتیں اے دل

کس طرح خود کو بچا پاؤ گے
ان گنت دکھ کی ہیں گھاتیں اے دل

درد کے زمرے میں ہی آتی ہیں
تیری جیتیں ہیں یا ماتیں اے دل

تم کو اشکوں کی قطاریں بھی لگیں
چاند تاروں کی براتیں اے دل

ہم بھی رہتے ہیں اسی صحرا میں
روز ہوں گی ملاقاتیں اے دل

فرحت عباس شاہ
(کتاب: روز ہوں گی ملاقاتیں اے دل)

30/01/2020

بے قراری سی بے قراری ہے
وصل ہے اور فراق طاری ہے ​

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے ​

بن تمہارے کبھی نہیں آئی
کیا مری نیند بھی تمھاری ہے ​

اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میں
رات دن تیری انتطاری ہے ​

ایک مہک سمت دل سے آئی تھی
میں یہ سمجھا تری سواری ہے​

خوش رہے تو کہ زندگی اپنی
عمر بھر کی امید واری ہے​

جون ایلیا

Want your business to be the top-listed Government Service in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Islamabad
Rawalpindi
92