12/03/2021
Farhan Khan۔۔۔۔۔poetry zone
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Farhan Khan۔۔۔۔۔poetry zone, Library, Islamabad, Rawalpindi.
12/03/2021
15/04/2020
ایک وقت ہوتا ہے کے انسان اپنے من پسند انسان کے ساتھ خوشیوں کی بلندیوں پر ہوتا ہے جس کی کوئی حد نہیں ہوتی ۔ان خوشیوں کو انسان نہیں تول سکتا ۔ہر ٹائم اس کے بارے میں خیال آنا ۔اس کے ساتھ بات کرتے کرتے رات گزار دینا ۔اس کے بات کرنے کا انتظار کرنا اس سے جڑی ہر چیز کو خود سے منسوب کر لینا ۔اور وقت ایسا دھچکا دیتا ہے کے یہ ساری چیزیں بکھر جاتی ہے ۔ہر خواب ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے ۔پھر ہم اس کا انتظار کرتے ہیں ۔چپ سی لگ جاتی ہے اس کو وہ قہقے لگانا بھول جاتے ہیں ۔ہر خوشی اس کو زہر لگتی اسے تنہائی ایسی راس آجاتی یا یوں کہو کہ تنہائی اس کے روح کو چھو جاتی ہے ۔گپت اندھیرا اسے آنسوں بہانے میں ساتھ دیتا ہے ۔روشنی سے دل کانپ سا جاتا اس کی سوچ ایک اندھیری کمرے تک محدود ہوجاتی ہے جس میں وہ چراغ جلا کر اس کا انتظار کرے چراغ کی لو کو وہ دیکھے ۔اس دئے کے جلنے میں اپنی جلن ،اپنی تڑپ اپنی اذیت دیکھے ۔یہ سمجھ کے دور کہیں امید کی کرن دل میں نمودار ہو کہ اس دئے کی طرح جل کر یا ختم ہوجانا ایک دن یا وہ واپس آ کے میری ہر اذیت ہر زخم کو بھر دے جیسے دئے کو بھجا کر اس کو ختم ہونے سے بچا لیتا ہے ۔۔۔یہ کرب جو سننے میں چونکا دیتا ہے میری جان میں اس کرب سے گزر رہی اسی امید کے ساتھ کے ایک دن تم آ کر میرے ہر زخم کے مرہم کی وجہ بنو گے تم ۔میری آنکھوں کے آنسوں صاف کر کے مجھے احساس دلاؤ گے اپنے پن کا ۔ہے تو مشکل لیکن یہ پاگل لڑکی تمہارا انتظار کر رہی ہے ۔۔
02/04/2020
شانوں پہ کس کے اشک بہایا کریں گی آپ
روٹھے گا کون کس کو منایا کریں گی آپ
جونؔ
10/02/2020
ہر سوچ ترے سوگ میں ہو جائے گا صحرا
ہر خواب ترے ہجر میں جل جائے گا آخر
03/02/2020
خون ہی تھوکیں گے ہم جانم، جانم جاناں، جانم جاں
یعنی تمہیں آزاد کریں گے، جانے کیا کچھ ٹھیری ہے
جب تعمیر خواب نہ ہو گی، آنکھوں کی دل بستی میں
خود کو بے بنیاد کریں گے، جانے کیا کچھ ٹھیری ہے
جون ایلیا
02/02/2020
بے سبب ہیں تری باتیں اے دل
کچھ بھی سنتی نہیں راتیں اے دل
کس طرح خود کو بچا پاؤ گے
ان گنت دکھ کی ہیں گھاتیں اے دل
درد کے زمرے میں ہی آتی ہیں
تیری جیتیں ہیں یا ماتیں اے دل
تم کو اشکوں کی قطاریں بھی لگیں
چاند تاروں کی براتیں اے دل
ہم بھی رہتے ہیں اسی صحرا میں
روز ہوں گی ملاقاتیں اے دل
فرحت عباس شاہ
(کتاب: روز ہوں گی ملاقاتیں اے دل)
30/01/2020
بے قراری سی بے قراری ہے
وصل ہے اور فراق طاری ہے
جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے
بن تمہارے کبھی نہیں آئی
کیا مری نیند بھی تمھاری ہے
اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میں
رات دن تیری انتطاری ہے
ایک مہک سمت دل سے آئی تھی
میں یہ سمجھا تری سواری ہے
خوش رہے تو کہ زندگی اپنی
عمر بھر کی امید واری ہے
جون ایلیا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Islamabad
Rawalpindi
92
