14/10/2025
صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمدخان کا مسلم کانفرنس کے93 ویں یوم تاسیس کے موقع پر خصوصی پیغام
راولپنڈی:13/ اکتوبر2025
آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کی تریانوے(93ویں) سالگرہ کی تقریبات آزاد کشمیر، پاکستان میں مقیم مہاجرین جموں وکشمیرکے علاوہ دنیا بھر میں منعقد کی جائیں۔ 15,16,17اکتوبر1932کو سرینگر کی پتھر مسجد میں ریاست جموں وکشمیر کے مسلمانوں نے ایک تاریخ ساز اجتماع میں ریاستی مسلمانوں کی اولین سیاسی جماعت مسلم کانفرنس کی بنیاد رکھی تھی۔ مسلم کانفرنس کا قیام ریاست کی سیاسی تاریخ کا اہم ترین واقعہ اور ایک بیداری کا ثبوت تھا جس میں مسلمانان ریاست جموں وکشمیر نے کسی علاقائی، گروہی، لسانی یا نسلی تعصب کو حائل نہیں ہونے دیا اورمکمل اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیریوں کی آزادی اور اُن کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے ایک عملی جدو جہد کا آغاز کیا۔مسلم کانفرنس کی تریانوے سالہ تحریکی و سیاسی جدوجہد اس امر کی غماز ہے کہ کشمیریوں نے ہندوستان کا غلبہ پہلے کبھی تسلیم کیا تھا اور نہ ہی وہ آئندہ کے لئے اپنی جدو جہد ترک کرنے کے لئے تیا ر ہیں۔ریاست جموں و کشمیر جغرافیائی، معاشرتی، دفاعی، تاریخی اور اقتصادی طور پر پاکستان کا طبعی حصہ ہے۔ جسے انگریز ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہندوستان کو دینا چاہتا تھا۔ مسلم کانفرنس کے کارکنان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تحریک الحاق پاکستان کو مضبوط کریں،ہندوستان کے جبری قبضے کو کسی صورت تسلیم نہ کریں بلکہ اس کے خلاف جدوجہد کرتے رہیں۔ کشمیری عوام ریاست جموں و کشمیر کی مکمل آزادی اور پاکستان سے الحاق کے علاوہ کوئی آپشن ماننے کے لئے تیار نہیں۔
آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے صدرسابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد خان نے ان خیالات کا اظہار جماعت کے تریانوے(93 ویں) یوم تاسیس کے موقع پر جاری اپنے ایک خصوصی پیغام میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ آزادکشمیر، مہاجرین مقیم پاکستان اور بیرون ممالک میں مقیم کشمیری جماعت کے ایام تاسیس کے موقع پر اپنی اپنی سطح پر اجتماعات کا انعقاد کریں اوراس عہد کی تجدید کریں کہ وہ اُن عظیم مقاصد اور نصب العین کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے جن کی بنیاد پر آج سے تریانوے سال قبل مسلم کانفرنس کا قیام عمل میں آیا تھا۔ سردار عتیق احمد خان نے جماعتی کارکنوں کے نام اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ سرینگر کی پتھر مسجد میں ہمارے اسلاف نے مسلم کانفرنس کی بنیاد رکھی جس کا مقصد مسلمانان جموں وکشمیر کی خدا کے دین کے ساتھ وابستگی کو مضبوط بناکر اپنے حقوق کے حصول کی جدو جہد کا آغاز کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم اپنے اُن اکابرین / شرکاء / منتظمین/ مقررین اور کارکنان کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے تاریخی اور تاسیسی اجتماع میں کشمیری مسلمانوں کے لئے واضح منزل کا تعین کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس نے اپنے قیام سے لیکر آج تک ریاست کے دینی / نظریاتی اور سیاسی تشخص کو قائم رکھنے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کی ہیں۔ ریاست کے دینی تشخص کے خلاف اندرون اور بیرون بہت بڑے بڑے طوفان آتے رہے لیکن مسلم کانفرنس کو یہ طوفان اپنے راستے سے نہیں ہٹاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس نے اپنے قیام کے بعد رئیس الا حرار قائد ملت چوہدری غلام عباسؒ کی قیادت میں 19جولائی 1947کو قرارداد الحاق پاکستان کی شکل میں کشمیریوں کیلئے ایک واضح نصب العین کا تعین کیا اور پھر 1970کی دہائی میں مجاہد اول سردارمحمد عبد القیوم خان نے ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کا نعرہ دیکر قوم کی فکری و نظریاتی رہنمائی کی جو آج بھی ہمارا ورثہ ہے جسے مسلم کانفرنس اپنی چوتھی نسل میں کامیابی کے ساتھ منتقل کرنے کیلئے اپنا تاریخی کردار ادا کر رہی ہے۔سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ مسلم کانفرنس اپنے قیام سے آج تک تسلسل کے ساتھ آزادی اور تکمیل پاکستان کی جدو جہد میں مصروف ہے۔ ہم للہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ قائد اعظم نے قیام پاکستان سے پہلے اپنے دورہ سرینگر میں مجوزہ پاکستان کا جو پرچم مسلم کانفرنس کے ذریعے جموں وکشمیر کے عوام کو تھمایا تھا وہ آج بھی ریاست جموں وکشمیر کے کونے کونے میں سرفراز و سربلند ہے۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج ملک پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔پاکستان کی اندرونی اور بیرونی صورت حال میں ہر آنے والے دن کے ساتھ مسائل اور مصائب کا اضافہ ہو رہا ہے، آزاد کشمیر میں ایک منظم سازش کے تحت عوام کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کر کے غیرریاستی قوتوں کو مسلط کیا گیا جس سے نہ صرف تحریک آزادی کشمیر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا بلکہ آزاد کشمیر کے اندرونی معاملات کو بھی خراب کر کے بے یقینی اور افراتفری کا موحول پیدا کیا گیا اور ایک منظم پروگرام کے تحت مسلم کانفرنس کودیوار سے لگانے کی مذموم کوشش کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس امر پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ کے فضل و کرم سے مسلم کانفرنس آج بھی ریاست جموں وکشمیر کی سب سے بڑی نظریاتی سیاسی قوت ہے جو تقسیم کشمیر کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور عزم اور قوت رکھتی ہے۔
انہوں نے آزادکشمیر، مہاجرین مقیم پاکستان اور بیرون ممالک میں مقیم مسلم کانفرنس کے عہدے داروں اور کارکنان سے کہا کہ وہ مسلم کانفرنس کی تریانوے(93ویں) سالگرہ کی تقریبات بھرپور طریقہ سے منعقد کریں، جماعت کی مضبوطی اور استحکام کیلئے خصوصی طور پر دعاؤں کا اہتمام کریں اور اس عہد کی تجدید کریں کہ جماعت کی بنیاد رکھتے وقت جن مقاصد کا تعین کیا گیا تھا ان کے حصول تک جدو جہد جاری رکھی جائے گی۔ تحریک آزادی کشمیر کے اپنے منطقی انجام تک پہنچنے تک یہ تحریک جاری رہے گی۔

11/10/2025
06/10/2025
04/10/2025