Maray dard ko ar hawa na dy
لب شراب کے بوکھے ہم دیدار کے بوکھے
آنسو گال کے بوکھے ہم یار کے بوکھے
ع د
DHA Rawalpindi
اب تو وعدے کرکے بھی مکر جاتے ھے
خود غرضی کی لت پڑی ھے جہاں فائدہ آدھر جاتے ھے
ٹھیک ھے دو گھڑی خوشی مل جاۓ گی لیکن
جو حق پہ کھڑے ھوجاۓ وہ نکھر جاتے ھے
شام ھو یا صبح محبت کرتے ھے بہرحال
کبھی کبھار تیرے غم میں بیچ راستے میں ٹھہرجاتے ھے
زخم دیا ھے اتنا دل پہ مجھ کو تو نے کہ
تمھارے غم سے اپنے ساۓ سے بھی ڈر جاتے ھے
روز ٹوٹتے ھے روز خود کو جڑتے ھے لیکن
بےوفائ سے ھم جیسے لوگ سدا بکھر جاتے ھے
حساس ھے بہت صرف محبت ہی جانتے ھے مگر
نفرتوں سے جیتے جی ھم مر جاتے ھے
جو لب کُشا ہوں تو ہنگامۂ بہار ہوں
اگر خاموش رہوں تو سکوت صحرا ہوں🥀
آپ جانتے ہیں؟
"قلب الابیض "کا مطلب۔۔؟؟
اس کا مطلب ہے؛ "سفید دل" 🤍
جانتے ہیں ، ایسا کیوں؟
کیونکہ یہ ہر قسم کی گندگی ، منافقت اور برائی سے پاک ہوتا ہے۔
اس میں صرف اچھائی ، دوسروں کیلئے احساس اور خلوص پنہاں ہوتا ہے ، جس میں کوئی کھوٹ نہیں ، صرف کھرا پن ہوتا ہے۔
اسلئے یہ سفید روشنی کی طرح جگمگانے لگتا ہے۔
اور۔۔۔۔ جانتے ہیں؟
جب انسان کا دل "قلب الابیض" بن جائے نا تو اسے زمانے کے ڈھکوسلوں کی کوئی پرواہ نہیں رہتی ، کوئی بھی غم اور پریشانی اسے ہرا نہیں سکتی۔
کیونکہ اسکے دل میں نور داخل ہو چکا ہوتا ہے ، جو اسے مضبوط کر دیتا ہے ، بہت مضبوط۔۔۔
اسلئے آپ بھی اپنے دل کو" قلب الابیض" کی مانند بنا لیں۔۔۔ تاکہ کوئی آپ توڑ نہ سکے۔
_بھید دِل میں ڈھانپیے, راز کو چُھپائیے
ساتھ تو نِبھا نہیں ! قول تو نبھائیے !
عِشق کی زمین میں خواب بو چُکے, سو اب
جان و دل کو چِھڑکیے ، اور جُنوں اُگائیے
آبرُو کی فِکر میں, وحشتوں کے ذِکر میں
چند نام بُھول کر واقعہ بتائیے !!!
اِس دیار سے سَبھی اہلِ درد اُٹھ گئے
نظم جب ہُوا کرے, خُود کو ہی سُنائیے
تُہمتیں مَلامتیں میرے دَر پہ ڈال کر
آپ رنگ اوڑھیے ، آپ گُنگُنائیے
ہم اسیرِ خواب تھے, ہم اسیرِ خواب ہیں
خوُش گُماں نِگہ کو کیوں نیند سے جگائیے
ایک پُرسَکوت شہر ، رات کا اخیر پہر !!
دردِ رفتگاں کی لہر -اَب بھی جیتے جائیے؟!
سیماب ظفر
Poetry
Nayab Shari
Nayab Shair
Click here to claim your Sponsored Listing.
