Historical & Informative Collection

Historical & Informative Collection

Share

Historical and informative articles forum

31/10/2021

The admin of Historical & Informative Collection
has passed away

26/10/2021

حضرت خالد بن ولیدؓ
کے انتقال کی خبر جب مدینہ منورہ پہنچی تو ہر گھر میں کہرام مچ گیا ۔
جب حضرت خالد بن ولیدؓ کو قبر میں اتارا جارہا تھا تو لوگوں نے یہ دیکھا کہ آپؓ کا گھوڑا ’’اشجر‘‘ جس پر بیٹھ کے آپ نے تمام جنگیں لڑیں ، وہ بھی آنسو بہارہا تھا ۔
حضرت خالد بن ولیدؓ کے ترکے میں صرف ہتھیار ، تلواریں ، خنجر اور نیزے تھے ۔
ان ہتھیاروں کے علاوہ ایک غلام تھا جو ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتا تھا ،،اللہﷻ کی یہ تلوار جس نے دو عظیم سلطنتوں (روم اور ایران) کے چراغ بجھائے ۔
وفات کے وقت ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا ، آپؓ نے جو کچھ بھی کمایا، وہ اللہﷻ کی راہ میں خرچ کردیا۔
ساری زندگی میدان جنگ میں گزار دی ۔
صحابہؓ نے گواہی دی کہ ان کی موجودگی میں ہم نے شام اور عراق میں کوئی بھی جمعہ ایسا نہیں پڑھا جس سے پہلے ہم ایک شہر فتح نہ کرچکے ہوں یعنی ہر دو جمعوں کے درمیانی دنوں میں ایک شہر ضرور فتح ہوتا تھا۔
بڑے بڑے جلیل القدر صحابہؓ نے حضورؐ سے حضرت خالدؓ کے روحانی تعلق کی گواہی دی ۔

خالد بن ولیدؓ کا پیغام مسلم امت کے نام :

موت لکھی نہ ہو تو موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے ۔جب موت مقدر ہو تو زندگی دوڑتی ہوئی موت سے لپٹ جاتی ہے ، زندگی سے زیادہ کوئی نہیں جی سکتا اور
موت سے پہلے کوئی مر نہیں سکتا ،،
دنیا کے بزدل کو میرا یہ پیغام پہنچا دو کہ اگر میدانِ جہاد میں موت لکھی ہوتی تو اس خالد بن ولیدؓ کو موت بستر پر نہ آتی۔

اس پیغام کو اس دور میں ہر مسلمان کو ضرور پڑھانا چاہیے، اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے قول کو وقتآ فوقتآ دہراتے رہنا چاہیے۔

10/07/2021

شیرعلی خان مجاہد ککے زئی
نے 1872ء کےدوران کالا پانی میں چهری کے وارکرکے وائس رائے ہند گورنر جنرل لارڈ میو (جس کے نام پر لاہور کا میو ہسپتال مشہور ہے) گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قتل کرکے تاج برطانیہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس عظیم مسلمان پختون ہیرو کو 11مارچ 1872ء کو سر عام پهانسی پر لٹکا دیا گیا۔
غازی شیر علی خان مجاہد ککے زئی کو پھانسی کی سزا سناتے ہوئے جج نے کہا تھا کہ ہم ایسا کام کریں گے دنیا تجھے بھول جائے گی لیکن لارڈ میو کو نہیں بھولے گی اس لیے اس کے نام کا ہسپتال بنا دیا.ائے ہم آپ کو اپنے اس غیرت مند پختون غازی شیر علی خان رحمتہ اللہ علیہ کی تصویر دیکھاتے ہیں اور اس مرد مجاہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں . انگریزوں اورگستاخانہ رسول صل اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم غازی شیر علی خان رحمتہ اللہ علیہ کو بھولے نہیں ہے

05/07/2021

گوادر کی فاتح پاکستان کی ایک گم نام ھیرو
اور محسنہ جس کو شاید ہی بیس کروڑ ھجوم میں سے کوئی جانتا ھو
ایک بار ضرور پڑھئے ..
گوادر کے متعلق اہم ترین معلومات ایک مادر مہربان
آج کون کون جانتا ہے
کہ پاکستان کیلئے لازوال محبت و ایثار کا جذبہ رکھنے والی ایک عظیم خاتون نے اپنی مدمقابل چار عالمی طاقتوں سے ایک قانونی جنگ لڑ کر 15 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر مشتمل گوادر جیسی اہم ترین کوسٹل اسٹیٹ پاکستان میں ضم کروائی تھی.
دو بلوچی الفاظ گوات بمعنی کھلی ہوا اور در بمعنی دروازہ کا مرکب جو عرف عام میں گوادر کہلاتا ہے
یہ 1956 تک عالمی استعمار کے اس ناجائز قبضے میں تھا
جس کی داستان احسان فراموشی اور عیاری کا ایک نادر نمونہ ہے.
گوادر اسٹیٹ اٹھارہویں صدی کے خان آف قلات، میر نصیر نوری بلوچ کی ملکیت تھی.
لیکن اس علاقے پر اپنا تسلط قائم رکھنا خان صاحب کیلئے کافی مشکل ثابت ہو رہا تھا.
جس کی وجہ گچکی قبائل کی شورشیں تھیں
کیونکہ ماضی میں وہ بھی
اس علاقے کے حکمران رہ چکے تھے اور اسے واپس حاصل کرنا چاہتے تھے.
خان صاحب نے اس کا حل یہ نکالا
کہ ایک معاہدے کے تحت اس علاقے کا کنٹرول ہی گچکی قوم کے ہاتھ میں دے دیا تاکہ اس علاقے میں امن قائم رہے
معاہدے کے تحت یہ طے پایا
کہ یہ علاقہ خان آف قلات کی جاگیر میں ہی شامل رہے گا اور اس کا آدھا ریوینیو بھی خان صاحب کو دیا جائے گا لیکن اس کا انتظام سارا گچکی قبائل کے ہاتھ میں رہے گا
یہ معاہدہ 1783 تک قائم رہا.
1783 میں عمان کا حکمران اپنے بھائی سے شکست کھا کر دربدر ہوا تو اس نے خان آف قلات سے جائے پناہ کی درخواست کی
اس کی درخواست قبول کرتے ہوئے ایک نئے معاہدے کے تحت 2400 مربع میل پر پھیلا ہوا یہ اینکلیو سلطان آف عمان کو سونپ دیا گیا.
اس نئے معاہدے کی رو سے یہ طے پایا تھا کہ گوادر حسب دستور خان آف قلات کی جاگیر میں ہی شامل رہے گا اور اس کا کنٹرول بھی حسب سابق گچکی سرداروں کے پاس ہی رہے گا البتہ ریوینیو کا وہ آدھا حصہ جو خان صاحب کو جاتا ہے
وہ اب خیر سگالی کے طور پر سلطان آف عمان کو دیا جائے گا
تاکہ وہ اپنی گزر اوقات باآسانی کر سکے تاہم جب سلطان کو اس جائے پناہ کی ضرورت نہ رہے تو اس کے تمام حقوق بھی حسب سابق خان آف قلات کے پاس واپس چلے جائیں گے.
قریباً پندرہ سال بعد عمان پر دوبارہ فتح پانے کے بعد سلطان اپنے پایۂ تخت واپس لوٹ گیا
لیکن گوادر کو حسب معمول اس نے اپنے ہاتھ میں ہی رکھا
خان صاحب شائد اس دوران فوت ہو گئے تھے یا مروتاً قبضہ نہیں مانگا بہرحال تقریباً دس سال بعد جب سلطان کی وفات بھی ہوگئی تو خان صاحب کے ورثاء نے گوادر کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا.
حکومت عمان کے انکار پر انہوں نے بزور قوت قبضہ کرلیا
جسے سلطان کی سپاہ نے آکر چھڑا لیا اگلے بیس سال میں یہ چشمک جب زیادہ بڑھ گئی تو اس قضیے کو نمٹانے کیلئے برٹش کالونیل ایڈمنسٹریشن نے ثالثی کے بہانے مداخلت کی
لیکن انصاف کرنے کی بجائے اس وقت کے سلطان آف عمان سے اپنے لئے کچھ مراعات لیکر قلات خاندان کا دعویٰ یہ کہہ کر عارضی طور مسترد کر دیا
کہ بعض دیگر گواہیاں بھی ان کے سامنے آرہی ہیں جن کے مطابق یہ علاقہ عرصہ دراز سے سلطنت آف عمان کی جاگیر ہے بہرحال حتمی فیصلہ کسی کے حق میں بھی نہیں کیا.
اس خدمت کے عوض برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ نے سلطنت عمان سے یہ ایگریمنٹ کیا
کہ حتمی فیصلے تک گوادر کا انتظام برطانیہ کے پاس رہے گا اور حسب سابق عمان کو گوادر کا آدھا ریونیو ادا کیا جائے گا اور اپنی افواج گوادر میں داخل کر دیں یوں تقریباً سوا سو سال تک برطانیہ اس علاقے پر قابض رہا.
قیام پاکستان کے بعد اس وقت کے خان آف قلات نے جب اپنی جاگیر پاکستان میں ضم کر دی تو پاکستان نے اسٹیک ہولڈرز سے گوادر کا معاملہ اٹھایا مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی
پھر جب ایک امریکی سروے کمپنی نے بتایا کہ گوادر کی بندرگاہ بڑے جہازوں کے لنگر انداز ہونے کیلئے بہت آئیڈیل ہے
علاوہ ازیں اس بندرگاہ سے سالانہ لاکھوں ٹن ایکسپورٹ ایبل سمندری خوراک بھی حاصل کی جا سکتی ہے جس میں 35 اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں.
اس بات کی بھنک جن ایران کو پڑی تو انہوں نے اسے چاہ بہار کیساتھ ملانے کا فیصلہ کر لیا
ایران میں ان دنوں شاہ ایران کا طوطی بولتا تھا اور سی۔آئی۔اے
اس کی پشت پناہ تھی جو صدر نکسن کے ذریعے برطانیہ پر مسلسل دباؤ ڈالنے لگی کہ گوادر کو شاہ ایران کے حوالے کر دیا جائے
1956 میں ملک فیروز خان نون نے جب وزارت خارجہ سنبھالی تو ہر قیمت پر گوادر کو واگزار کرانے کا عہد کیا اور باریک بینی سے تمام تاریخی حقائق و کاغذات کا جائزہ لیکر یہ مشن محترمہ کو سونپ دیا.
ان نازک حالات میں یہ پیکرِ اخلاص خاتون ایک چیمپئین کی طرح سامنے آئیں اور برطانیہ میں پاکستان کی لابنگ شروع کی
انہوں نے بھرپور ہوم ورک کرکے یہ کیس برطانیہ کے سامنے رکھا
تاکہ ہاؤس آف لارڈز سے منظوری لیکر گوادر کا قبضہ واپس لیا جائے کیونکہ قلات خاندان کی جاگیر اب پاکستان کی ملکیت تھی
لہذا ان کی جاگیر کے اس حصے کی وراثت پر بھی اب پاکستان کا حق تسلیم ہونا چاہئے نیز یہ کہ پاکستان وہ تمام جاگیریں منسوخ کر چکا ہے جو ریوینیو شئیرنگ یا معاوضے کی بنیاد پر حکومت برطانیہ نے بانٹیں تھیں
نیز یہ کہ اگر ہم اپنے قانون سے گوادر کی جاگیر منسوخ کرکے فوج کشی سے واگزار کرا لیں تو کامن ویلتھ کا ممبر ہونے کی وجہ سے برطانیہ ہمارے اوپر حملہ بھی نہیں کر سکتا
محترمہ نے دو سال پر محیط یہ جنگ تلوار کی بجائے محض قلم دلائل، اور گفت و شنید سے جیتی جس میں برطانیہ کے وزیراعظم میکملن جو ملک صاحب کے دوست تھے انہوں نے کلیدی رول ادا کیا
عمان کے سلطان سعید بن تیمور نے حامی تو بھر لی مگر سودے بازی کا عندیہ دیا.
ملک صاحب جب وزیراعظم بنے تو انہوں نے گوادر کے معاملے میں “ابھی نہیں یا کبھی نہیں” کا نعرہ لگایا
چھ ماہ کے اعصاب شکن مزاکرات کے بعد عمان نے تین ملین ڈالر کے عوض گوادر کا قبضہ پاکستان کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی
اس رقم کا بڑا حصہ پرنس کریم آغا خان نے بطور ڈونیشن دیا اور باقی رقم حکومت پاکستان نے ادا کی بعض جگہ یہ ہے کہ ساری رقم ہی ہز ہائینیس پرنس کریم آغا خان نے ہی ادا کی تھی.
اس سلسلے میں ملک صاحب اپنی خود نوشت سوانح حیات “چشم دید” میں لکھتے ہیں
کہ جہاں ملک کی حفاظت اور وقار کا مسئلہ درپیش ہو وہاں قیمت نہیں دیکھی جاتی
ویسے بھی یہ رقم گوادر کی آمدنی سے محض چند سال میں ریکوور ہو جائے گی
آج جب برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر اکرام اللہ نے گوادر منتقلی کی دستخط شدہ دستاویز میرے حوالے کی
تو اس وقت مجھے جو خوشی ہوئی آپ اس کا اندازہ نہیں کرسکتے
اس لئے کہ گوادر جب تک ایک غیر ملک کے ہاتھ میں تھا
تب مجھے یوں محسوس ہوتا تھا گویا ہم ایک ایسے مکان میں رہتے ہیں جس کا عقبی کمرہ کسی اجنبی کے تصرف میں ہے
اور یہ اجنبی کسی وقت بھی اسے ایک پاکستان دشمن کے ہاتھ فروخت کر سکتا ہے اور وہ دشمن بھی اس سودے کے عوض بڑی سے بڑی رقم ادا کر سکتا ہے

یوں دو سال کی بھر پور جنگ کے بعد 8 ستمبر 1958 کو گوادر کا 2400 مربع میل یا 15 لاکھ ایکٹر سے زائد رقبہ پاکستان کی ملکیت میں شامل ہو گیا.
سن 2002 میں جنرل مشرف نے گوادر پورٹ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا جو مختلف مراحل سے گزرتا ہوا اب سی۔پیک کی شکل اختیار کر چکا ہے اور بلاشبہ پاکستان کیلئے ایک روشن مستقبل کی نوید ہے.
آج ہر کوئی گوادر پورٹ اور سی۔پیک کا کریڈٹ تو لینا چاہتا ہے
مگر اس عظیم محسن پاکستان کا نام کوئی نہیں جانتا
جس نے دنیا کے چار طاقتور اسٹیک ہولڈرز، برطانوی پارلیمنٹ، سی۔آئی۔اے، ایران اور عمان سے چومکھی جنگ لڑ کے کھویا ہوا گوادر واپس پاکستان کی جھولی میں ڈال دیا
مطالعہ پاکستان سے چڑنے والے لوگ پاکستان کے خلاف پیش گوئیاں کرنیوالے بابوں کو صرف اسی لئے پروموٹ کرتے ہیں
کہ تعمیر پاکستان کو اپنا ایمان بنا کر انمٹ نقوش چھوڑ جانے والی تحریک پاکستان کی ان بیمثال ہستیوں سے نئی نسل کہیں متاثر نہ ہونے لگے
یہ وہ خوفناک مطالعہ پاکستان ہے جس سے کچھ لوگوں کو پسینے آجاتے ہیں
ایک اور اعلیٰ ظرفی دیکھئے کہ اس ملک میں جہاں ایک نلکا لگا کر بھی اس کا ڈھول پوری قوم کے آگے پیٹا جاتا ہے
وہاں ان اعلیٰ ظرف ہستیوں نے اپنی اس بیمثال کامیابی کا ملک گیر جشن محض اسلئے نہیں منایا کہ سلطان آف عمان کی عزت نفس مجروح نہ ہو
یہی وجہ ہے کہ قوم آج اس نابغہ روزگار کپل کو جانتے ہیں نہ ان کے اس عظیم کارنامے سے واقف ہیں
گوادر فتح کرنیوالی ملک و قوم کی یہ محسن محترمہ وقارالنساء نون ہیں جو پاکستان کے ساتویں وزیراعظم ملک فیروخان نون کی دوسری بیوی ہیں
جن کی اس عظیم کاوش کا اعتراف نہ کرنا احسان فراموشی اور انہیں قوم سے متعارف نہ کرانا ایک بے حسی کے سوا کچھ نہیں
محترمہ کا سابقہ نام وکٹوریہ ریکھی تھا
آسٹریا میں پیدا ہوئیں
تعلیم و تربیت برطانیہ میں ہوئی ملک فیروز خان نون جب برطانیہ میں حکومت ہند کے ہائی کمشنر تھے تب ان سے ملاقات ہوئی
ملک صاحب کی دعوت پر حلقہ بگوش اسلام ہو کر بمبئی میں ان کیساتھ شادی کی
اور اپنا نام وکٹوریہ سے وقارالنساء نون رکھ لیا
پیار سے انہیں وکی نون بھی کہا جاتا ہے
محترمہ نے تحریک پاکستان کو اجاگر کرنے کیلئے خواتین کے کئی دستے مرتب کئے اور سول نافرمانی کی تحریک میں انگریز کی خضر حیات کابینہ کیخلاف احتجاجی مظاہرے اور جلوس منظم کرنے کی پاداش میں تین بار گرفتار بھی ہوئیں
قیام پاکستان کے بعد انہوں نے لْٹے پٹے مہاجرین کی دیکھ بھال کیلئے بڑا متحرک کردار ادا کیا
خواتین ویلفئیر کی اولین تنظیم اپوا کی بانی ممبران میں بھی آپ شامل ہیں
وقارالنساء گرلز کالج راولپنڈی اور وقارالنساء اسکول ڈھاکہ کی بنیاد بھی انہوں نے رکھی
ہلال احمر کیلئے گرانقدر خدمات انجام دیں
ضیاء الحق کے دور میں
بطور منسٹر ٹورازم کے فروغ کیلئے دنیا بھر کو پاکستان کی طرف بخوبی راغب کیا
پاکستان ٹؤرازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن انہی کی ایک نشانی ہے
پاکستان کی محبت میں ان کا جذبہ بڑھاپے میں بھی سرد نہ پڑا
برطانیہ میں مقیم ان کی بے اولاد بہن کی جائیداد جب انہیں منتقل ہوئی تو اس فنڈ سے انہوں نے “وکی نون ایجوکیشن فاؤنڈیشن” قائم کیا جو آج بھی سماجی خدمات کا چراغ جلائے ہوئے ہے
محترمہ کی وصیت کے مطابق اس فنڈ کا ایک حصہ ان نادار مگر ذہین طلبہ کو آکسفورڈ جیسے اداروں سے تعلیم دلوانے پر خرچ ہوتا ہے
جو واپس آکر اس مملکت کی خدمت کرنے پر راضی ہوں
محترمہ وقارالنساء نون طویل علالت کے بعد 16 جنوری سن 2000ء میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں
ایک عمرہ کرنے کے بعد انہوں نے وصیت کی تھی کہ مجھے غیر سمجھ کے چھوڑ نہ دینا
بلکہ میری تدفین بھی ایک کلمہ گو مسلمان کی طرح انجام دینا
محترمہ کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی ان کی حقیقی اولاد وہ پاکستانی ہیں جو حب الوطنی میں ان کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں
محترمہ کو گوادر فتح کرنے پر 1959 میں سرکار کا سب سے بڑا سول اعزاز نشان امتیاز عطا کیا گیا
مگر ان کا اصل انعام وہ عزت و احترام ہے جو ہم بطور قوم انہیں دے سکتے ہیں
آور بیکنز اور نوائے وقت کے ایک مضمون کے مطابق محترمہ وقارالنساء نون کے سوا کوئی پرائم منسٹر، کوئی صدر، کوئی جرنیل، کوئی وزیر، مشیر، سفیر ایسا نہیں جو گوادر فتح کرنے کا یہ عظیم کریڈٹ لے سکے
سابق وفاقی سکریٹری اطلاعات رشید چودھری صاحب کہتے ہیں
وہ “مادر مہربان” تھیں
جو ہمارے ساتھ سگی ماں سے بھی بڑھ کر پیار کرتی تھیں
انہوں نے گوادر ہمیں دلوایا
وہ گوادر جو آج ساری دنیا میں مرکزِ نگاہ ہے

"آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے" ..

30/06/2021

برٹش انڈین آرمی کے میجر جنرل ہیکٹر پینٹ کی بیٹی شیلا آئرن پینٹ ، ایک برطانوی خاتون جنہوں نے لکھنو یونیورسٹی سے گریجویٹ کیا۔
ان کی والدہ برہمن فیملی سے تھیں جنہوں نے کرسچن مذہب اختیار کیا تھا۔
انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور ٹیچر گوکھلے میموریل اسکول کلکتہ سے کیا۔
1931 میں ماسٹرز کرنے کے بعد وہ اندر پرستھا کالج دہلی میں بطور اکنامک پروفیسر تعینات ھوئیں.
آپ جانتے ہیں یہ پاکستانی تاریخ کی کون سی مشہور ترین شخصیت تھیں ؟
شیلہ آئرن پینٹ نے 1932 میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم محترم لیاقت علی خان کے ساتھ شادی کی.
مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے اپنا نام بیگم رعنا لیاقت علی رکھ لیا.
یوں تو وہ بہت ہی عمدہ اخلاق اور اعلیٰ کردار کی کی مالک تھیں.
لیکن ایک ایسا سچ جو بہت کم لوگوں کو شاید معلوم ہو وہ یہ کہ جب وہ پاکستان کی سفیر بن کر ہالینڈ گئیں
تو ہالینڈ کی ملکہ ان کی بہت گہری دوست بن گئیں.
ان دونوں کی شامیں اکثر شطرنج کھیلتے ہوئے گزرتیں.
ایک دن ہالینڈ کی ملکہ نے ان سے کہا کہ اگر آج کی بازی تم جیت گئی تو میں اپنا ذاتی شاہی قلعہ تمہارے نام کر دوں گی.
بیگم صاحبہ نے اس کی اس بات کو منظور کر لیا اور کچھ دیر بعد بیگم رعنا لیاقت علی شطرنج کی بازی جیت گئیں.
ملکہ نے وعدے کے مطابق شاہی قلعہ ان کے نام کر دیا۔
ماضی کے اس سچے واقعے کا ایک حیرت انگیز اور خوشگوار پہلو یہ ہے کہ بطور سفیر ان کی وہاں ملازمت ختم ہوئی تو اپنے اس ذاتی قلعے کو انہوں نے پاکستانی سفارت خانے کو ہدیہ کر دیا.
آج بھی پاکستانی سفارتخانہ اسی شاہی قلعے میں واقع ہے۔
میں نے جب یہ پورا واقعہ پڑھا تو بیگم صاحبہ کے کردار کا موازنہ عصر حاضر کے مشہور و معروف سیاستدانوں سے کیا تو یہ بونے تو مجھے کسی قطار میں کھڑے نظر نہیں آئے
الله تعالٰی نے ماضی میں اس ملک کو ایسے زرخیز لوگ دیئے تھے لیکن افسوس کہ آج پاکستانیوں نے ان کی قدر نہیں کی.

26/06/2021

فیلڈ مارشل برنارڈ منٹگمری

برطانوی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل برنارڈ منٹگمری نے ریٹائرمنٹ کے بعد برطانوی وزیراعظم سے ملاقات میں درخواست کی کہ میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں، ریٹائرمنٹ کے بعد سوائے پنشن کے کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے۔ کرائے کے مکان میں رہتا ہوں، بار بار مکان کی تبدیلی میرے لئے بہت تکلیف دہ ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ مجھے ایک مکان اور تھوڑی سی زرعی زمین الاٹ کر دیں تاکہ میں زندگی کے باقی ایام پرسکون طریقے سے گزار سکوں۔

وزیراعظم نے تحمل سے ساری بات سنی اور پھر جواب دیا۔
مسٹر منٹگمری یقینا آپ ہمارے قومی ہیرو ہیں۔ عالمی جنگ میں آپ نے تاج برطانیہ کے لئے شاندار خدمات دی ہیں جس کی ساری قوم معترف ہے لیکن جنرل صاحب آپ کو اس قومی خدمت ہر ماہ معقول معاوضہ دیا جاتا رہا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ حکومت نے کسی مہینے آپ کو تنخواہ ادا نہ کی ہو یا پھر کبھی آپ کی تنخواہ لیٹ ہو گئی ہو۔ اور اب جبکہ آپ ریٹائرڈ ہو چکے ہیں، اور ریاست کے لئے کوئی خدمت سرانجام نہیں دے رہے اس کے باوجود برطانوی حکومت اپنے عوام کے ٹیکسوں کی رقم سے آپ کو رٹائرمنٹ فنڈ کے علاؤہ ہر ماہ معقول پنشن دے رہی ہے۔

مسٹر منٹگمری بطور وزیراعظم میں عوام کے حقوق کا محافظ ہوں اور ملکی آئين کے مطابق عوام کے ٹیکسوں کے پیسے کو اپنے لئے یا کسی دوسرے کے لئے خرچ کرنے کا مجھے کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ میں آپ سے معذرت خواہ ہوں۔

منٹگمری سابق آرمی چیف تھا، فیلڈ مارشل بھی تھا۔ برطانوی حکومت کو کئی جنگیں جیت کر دے چکا تھا۔ بقول شخصے منٹگمری جاگتا تھا تو اس کی قوم سکون سے سوتی تھی۔ اس کے باوجود انکار سن کر اس نے غصہ نہیں کیا۔

اس نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا، ساتھ بیٹھ کر کافی پی اور ان سے ہاتھ ملا کر اپنے کرائے کے مکان کی طرف چلا گیا۔

13/06/2021

فقیر کالا خان مری بلوچ صوفی تھے.
انگریزوں نے 1870 میں جب بلوچستان پر حملہ کیا تو فقیر کالا خان نے تسبیح چھوڑ کر بندوق اُٹھائی۔ پھر مزاحمت کی تاریخ رقم کر ڈالی۔ موجودہ بلوچستان کے ضلع کوہلو کی تحصیل کاہان کی ایک پہاڑی پر کالا خان مری نے اپنے چند ساتھیوں سمیت انگریزوں کی راہ کی دیوار بن گئے۔ چار سال تک اُنہوں نے انگریزی فوج کو آگے نہیں جانے دیا۔

انگریزوں نے انکے سر کی بھاری قیمت مقرر کی۔ لائٹ بمبئی گرینڈ ئیرز کے کئی ہزار سپاہیوں اور پونا اٹلری کی ہلکی توپوں کے ساتھ کالا خان مری کے مورچے کا محاصرہ کر لیا۔ معرکہ کئی مہینے چلتا رہا۔ برطانوی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق اُن کے سو سے زیادہ سپاہی مارے گئے۔ کئی روز کی لڑائی کے بعد انگریزی فوج پہاڑی پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئی۔ وہاں چند لاشیں اور بھوک سے نڈھال تین افراد اُس کے ہاتھ آئے جو کالا خان مری بلوچ، جلمب خان بلوچ اور رحیم علی بلوچ تھے۔ اگلیے کالا خان مری بلوچ پر 80 انگریزی سپاہیوں کو ہلاک کرنے کا مقدمہ چلایا گیا۔ ایسا ہی مقدمہ دیگر دو افراد پر چلایا گیا اور فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی۔

تینوں مجا)&ہدوں کو 1891 میں پھانسی دے دی گئی۔ سزائے موت سنائے جانے کے وقت اُن کی یہ تصویر اتاری گئی۔ جو آج بھی برٹش میوزیم کا حصہ ہے۔ پھانسی دیے جانے کی کلکتہ جو رپورٹ ارسال کی گئی اُس میں لکھا تھا کہ فقیر کالا خان مری بلوچ کی سزائے موت پر عملدرامد کر دیا گیا۔
’’اس شخص جیسا ماہر نشانہ باز نہ پہلے پیدا ہوا ہوا، نہ آئیندہ کبھی پیدا ہو سکے گا۔‘

Photos from Historical & Informative Collection's post 26/04/2021

Sher Shah Suri Mosque, Bhera

شیر شاہ سوری نے برصغیر میں بیشمار قلعے، مساجد اور سرائے تعمیر کروائے۔ وہ ہندوستان کا پہلا حکمران تھا جس نے عوامی فلاح میں بہت زیادہ دلچسپی لی۔ انہی میں سے بھیرہ کی یہ شیر شاہ سوری مسجد ہے۔ یہ قلعہ روہتاس میں تعمیر کی گئی مسجد سے مختلف ہے۔ اس مسجد کی تعمیر میں چھوٹی اینٹیں استعمال کی گئیں۔ مسجد کی بنیادیں اصل ہیں اور اس کے تین گنبد ہیں۔
اس مسجد کے ساتھ لائبریری بھی ہے جہاں 300 نوادرات ہیں۔ یہ مسجد دہلی، آگرہ اور لاہور کی شاہی مسجد کی طرح نہایت خوبصورت ہے۔ یہ مسجد تین دری ہے اور اس میں کونے کے کمرے موجود ہیں۔ مسجد میں فرش کا کام اور بارہ فٹ گہرا حوض بعد میں تعمیر ہوا۔ سکھوں کے دور میں یہ مسجد اصطبل کے طور پر بھی استعمال ہوئی۔
اس مسجد کو اصل حالت میں رکھنے کے لئے بھیرہ کے بگوی خاندان کی کافی خدمات ہیں۔ جبکہ پنجاب آركيالوجی ڈیپارٹمنٹ نے یہاں مسجد کے داخلی طرف کاشی کاری اور فریسکو کا کام کروایا ہے۔
یہاں کا عملہ انتہائی تعاون کرتا ہے۔ اگر آپ کا بھیرہ چکر لگے تو اس مسجد ضرور جائیں .

25/04/2021

عباسیہ حکومت کے آخری دور میں ایک وقت وہ آیا جب مسلمانوں کے دارالخلافہ بغداد میں ہر دوسرے دن کسی نہ کسی دینی مسئلہ پر مناظرہ ہونے لگا ۔۔

جلد ہی وہ وقت بھی آ گیا جب ایک ساتھ ایک ہی دن بغداد کے الگ الگ چوراہوں پر الگ الگ مناظرے ہو رہے تھے.
پہلا مناظرہ اس بات پر تھا کہ

ایک وقت میں سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں؟

دوسرا مناظرہ اس اہم موضوع پر تھا کہ کوا حلال ہے یا حرام؟

تیسرے مناظرے میں یہ تکرار چل رہی تھی کہ مسواک کا شرعی سائز کتنا ہونا چاہیے؟

ایک گروہ کا کہنا تھا کہ ایک بالشت سے کم نہیں ہونا چاہیے
اور دوسرے گروہ کا یہ ماننا تھا کہ ایک بالشت سے چھوٹی مسواک بھی جائز ھے ۔۔۔

ابھی یہ مناظرے چل رہے تھے کہ
ہلاکو خان کی قیادت میں تاتاری فوج بغداد کی گلیوں میں داخل ہو گئی
اور سب کچھ تہس نہس کر گئی ۔۔۔

مسواک کی حرمت بچانے والے لوگ خود ہی بوٹی بوٹی ہو گئے ۔۔

سوئی کی نوک پر فرشتے گننے والوں کی کھوپڑیوں کے مینار بن گئے ،
جنہیں گننا بھی ممکن نہ تھا۔۔۔

کوے کے گوشت پر بحث کرنے والوں کے مردہ جسم کوے نوچ نوچ کر کھا رہے تھے ۔۔

آج ہلاکو خان کو بغداد تباہ کیئے سینکڑوں برس ہو گئے
مگر قسم لے لیجئے جو مسلمانوں نے تاریخ سے رتی برابر بھی سبق لیا ہو ۔۔۔

آج ہم مسلمان پھر ویسے ہی مناظرے سوشل میڈیا پر یا اپنی محفلوں ، جلسوں اور مسجدوں کے ممبر سے کر رہے ہیں
کہ ڈاڑھی کی لمبائی کتنی ہونی چاہیے
یا پھر پاجاما کی لمبائی ٹخنے سے کتنی نیچے یا کتنی اوپر شرعی اعتبار سے ہونی چاہیئے ۔۔
مردہ سن سکتا ہے یا مردہ نہیں سنتا
امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا جائز ہے کہ نہیں

قوالی اور مشاعرے کرنا ہمارے مذہبی فرائض میں شامل ہونے لگے ۔۔

فرقے اور مسلک کے ہمارے جھنڈا بردار صرف اور صرف اپنے اپنے فرقوں کو جنت میں لے جانے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔۔

اور دورِ حاضر کا ہلاکو خان ایک ایک کر کے مسلم ملکوں کو نیست و نابود کرتا ہوا آگے بڑھ رہا ھے ۔۔

افغانستان, لیبیا, عراق کے بعد شامی بچوں کی کٹی پھٹی لاشوں کی گنتی کرنے والا کوئی نہیں ھے ،
بے گناہوں کی کھوپڑیوں کے مینار پھر بنائے جا رہے ہیں ۔۔
فلسطین اور کشمیر کی حالتِ زار ایسی ہے کہ
زار و قطار رو کر بھی دل ہلکا نہیں ہوتا ۔۔

آدم علیہ السلام کی نسل کے نوجوانوں, بوڑھے اور بزرگوں کی لاشوں کو کوے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں ۔۔

اور حوا کی بیٹیاں اپنی عصمت چھپانے امت کی چادر کا کونہ تلاش کر رہی ہیں ۔۔

جی ہاں۔۔۔۔۔۔
اور ہم خاموشی سے اپنی باری آنے کا انتظار کر رہے ہیں ،

اگر ہم انہی بے معنیٰ باتوں میں اُلجھے رہے تو دشمن نے یہ نہیں دیکھنا کہ کس کی داڑھی چھوٹی ہے اور کس کا پاجامہ ٹخنوں سے نیچے ہے ،
جنگ میں دشمن کی گولی شیعہ سنی دیوبندی اھلحدیث حیاتی مماتی کا فرق نہیں کرتی...!
خدارا سوچئے ۔۔ اب بھی وقت ہے ایک ہونے کا۔ اتفاق و اتحاد پیدا کرنے کےلیے اپنی رائے قربان کرنے کا ۔

08/04/2021

جہلم کا سںب سے بڑا قبرستان کسی مسلمان نے نہیں وقف کیا تھا۔ لیکن وقف کرنے والے کی زندگی کا خاتمہ مسلمان ہونے پر ہوا تھا۔ محسنٍ اسلام محسنٍ جھلم ٹنڈل رام پرشاد بہت ھی کم افراد نے یہ نام سُنا ھوگا ۔۔یہ واقعہ ھے 1933...کا۔۔۔جناب ٹنڈل رام پرشاد نواب آف دکن جسکی تقریبا” پونے دو مربہ زمین جھلم میں موجود تھی اور انکی زیادہ تر اراضی دکن بھارت میں موجود تھی ۔۔۔انکی ایک رہاٸش جو کہ اس زمانے میں بہت عالیشان رہاٸش گاہ باغ محلہ نزد صرافہ بازارجھلم میں برلبٍ دریاٸے جھلم یہ عمارت ابھی بھی واقع ھے ۔۔۔نواب آف دکن ٹنڈم رام پرشاد ایک انتہاٸی رحم دل اور درویش صفت انسان تھا ۔۔۔گو کہ یہ شخص انتہاٸی امیر کبیر اور نواب خاندان کا اکلوتا وارث تھا جو کہ سونے کا چمچ لیکر پیدا ھوا تھا ۔۔اہل جھلم میں صرف چند افراد ھی جانتے ھونگے ۔۔نواب آف دکن اکثر اوقات اپنی اراضی دیکھنے دکن سے جھلم تشریف لاتے اور ان دنوں بھی وہ جھلم ڈھوک عبداللہ کے نزدیک اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کر رھے تھے کہ کچھ لوگ ایک بوڑھی عورت کا جنازہ لیٸے انکے پاس سے گزرے ۔۔۔نواب آف دکن سمجھے کہ شاید یہ کوٸی بیمار آدمی ھے اور اسے کسی حکیم کے پاس لے کر جا رھے ھیں ۔۔۔تھوڑی دیر گزری تھی کہ وھی باغ محلے کے افراد اسی طرح جنازہ لیکر واپس آ گٸے نواب ٹنڈل رام پرشاد بھی اسی راستہ پر کھڑے اپنی سواری کا انتظار کر رھے تھے ازراہ ھمدردی انہوں نے ان افراد میں سے کسی سے پُوچھا کہ اب اس مریض کا کیا حال ھے ۔۔۔ مرحومہ کے ایک بچے نے رو رو کے ساری داستان سناٸی کے انکے دو تین جاننے والوں نے اپنی زمین میں اسکی والدہ کی قبر بنانے سے صاف انکار کر دیا ھے اور اب ھم اس عورت کی قبر اپنے گھر بنانے کے سوا کوٸی چارہ نہ ھے ۔۔نواب صاب یہ سن کر بہت رنجیدہ ھوٸے اور بیشک اللہ کی رضا و مرضی کے بغیر نہ کوٸی نیکی کر سکتا ھے اور نہ ھی براٸی ۔۔۔چنانچہ اللہ پاک نے ٹنڈل رام پرشاد کے دل میں اس مرحومہ کے لیٸے رحم ڈالا اور نواب صاحب نے مرحومہ کے بچوں کو پاس بلایا اور یکدم حیرت انگیز پیشکش کر دی کہ اگر آپکے مسلمان بھاٸیوں نے میت دفنانے سے انکار کیا ھے تو ۔۔۔آپ پریشان نہ ھوں یہ زمین یہ جاٸیداد ادھر ھی رہ جانی ھے البتہ ھم سب انسانوں نے جلد یا دیر سے ضرور س دنیا سے چلے جانا ھے آپ لوگ میری اس زمین پر جس جگہ چاھتے ہیں اپنی والدہ کو دفن کر دیں ۔۔۔اور آج سے میں اپنی یہ پونے دو مربع زمین مسلمانوں کے قبرستان کیلٸے وقف کرتا ھوں ۔۔۔یہ بات سنتے ھی سب مسلمانوں کی آنکھوں میں تشکر سے آنسو آ گٸے اور مرحومہ کو دفنانے کے بعد فاتحہ خوانی کی گٸی اور ٹنڈل رام پرشاد کے لیٸے بھی خصوصی طور پر بہت سی دعاٸیں مانگی گٸیں چنانچہ یہ دعا بارگاہ الہی میں جلد ھی قبول کر لی گٸی اور چند روز بعد ھی ٹنڈل رام پرشاد نے ایک ولی کامل سید بخاری شاہ صاحب کے ہاتھوں اس شرط پر اسلام قبول کیا کہ میں اپنا نام تبدیل نہی کرونگا چنانچہ اللہ رب العزت نے ٹنڈل رام پرشاد کے لیٸے رشدو ھدایت کے دروازے کھول دیٸے اور نواب صاحب اسلام قبول کرنے کے کچھ عرصہ کے بعد دکن تشریف لے گٸے اور اپنے وکیل کو وصیحت کی کہ میرے مرنے کے بعد مجھے جھلم کے قبرستان میں دفنایا جاٸے ۔چنانچہ چند سال بعد یعنی قیام پاکستان سے 5سال قبل 1942 کو جھلم اور پاکستان کے مسلمانوں کے محسن اس دنیاٸے فانی سے کوچ کر گٸے اور انکی میت دکن سے انکی زاتی گاڑی میں جھلم لاٸی گٸی اور جھلم میں بہت بڑی تعداد میں مسلمانوں نے جنازہ میں شرکت کی اور جھلم کے اس عظیم قبرستان میں سپردٍ خاک کیا گیا آج جھلم کے تقریباً ہر گھر کا کوٸی نہ کوٸی فرد اس قبرستان میں سپردٍ خاک ھے اور آج بھی جھلم کے باسی اس عظیم ٹنڈل رام پرشاد کی محبتوں اور احسان کے قرضدار ھیں۔ہمیں صرف اس آیت پر غور کرنے کی ضرورت ہے
سورۃ آل عمران (مدنی — کل آیات 200)
قُلِ اللّـٰـهُـمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِى الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُۖ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ ۖ بِيَدِكَ الْخَيْـرُ ۖ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (26)
تو کہہ اے اللہ، بادشاہی کے مالک! جسے تو چاہتا ہے سلطنت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے سلطنت چھین لیتا ہے، جسے تو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے تو چاہے ذلیل کرتا ہے، سب خوبی تیرے ہاتھ میں ہے، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
دعا گو ایڈمن ملک عبدالرحمن اعوان

Photos from Historical & Informative Collection's post 01/04/2021

بنگلہ راۓ بہادر تلوک چند، لیہ۔
راۓ بہادر تلوک چند کا شمار لیہ کے امیر کبیر ہندوؤں میں تھا۔ آپ کا خاندان احسان پور تحصیل کوٹ ادو کا رہائشی تھا لیکن عمر کے آخری حصے میں راۓ صاحب لیہ مقیم ہو گۓ۔ سکھ دور میں آپکے خاندان کا کوٹ سلطان، احسان پور، لیہ، دائرہ دین پناہ اور کوٹ ادو میں کافی اثر و رسوخ تھا۔ آپکے دادا لیکھو رام کو گورنر سانگھڑ نے دیوان کا عہدہ دیا۔ تلوک چند نے نائب تحصیلدار سے لے کر ڈپٹی کمشنر تک 36 برس مختلف عہدوں پر سرکاری ملازمت کی۔ آپ کلاس 1 اعزازی مجسٹریٹ کے عہدہ پر بھی فائز رہے۔ لیہ میں آپ نے ایک وسیع و عریض بنگلہ تعمیر کرایا۔ تقسیم کے وقت آپکا خاندان انڈیا شفٹ ہو گیا۔ آپکا بنگلہ قیام پاکستان کے بعد سرکاری تحویل میں آگیا اور کچھ عرصہ بعد یہاں سکول قائم کر دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ اس بنگلے میں اتنے خزانے دفن تھے کہ 1980 کی دہائ تک یہاں سے سونے کی دیگیں برآمد ہوتی رہی ہیں۔ آجکل راۓ بہادر تلوک چند آی۔ایس۔او۔ کا بنگلہ گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائ سکول لیہ کے نام سے جانا جاتا ہے جو کہ لیہ - چوبارہ روڈ پر صدر بازار کے قریب واقع ہے۔

Photos from Historical & Informative Collection's post 22/03/2021

Power Station by Sir Ganga Ram.
It is situated on Canal Lower Bari Doab at Renala Khurd, Punjab, Pakistan. Sir Ganga Ram (1851–1927), a civil engineer and leading philanthropist of his time, established Renala Hydral Power Station in 1925, Pakistan's (Indian subcontinent's) first hydropower station. Sir Ganga Ram, engineer and philanthropist, born in 1851 in Mangtanwala, a small village of Punjab province in British India, now in Punjab, Pakistan, was leading philanthropist and agriculturist of his time and established the Renala hydropower station in Renala Khurd, Punjab, in 1925.

Want your business to be the top-listed Government Service in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Rawalpindi