اُجالا - Ujala

اُجالا - Ujala

Share

Fostering intellectual discourse on Pakistan’s سیاست, justice & activism through collective struggle.

01/08/2025

The Great Hedge of India—a 3,700 km-long colonial barrier built by the British to enforce a brutal salt tax—stands as a stark symbol of capitalist exploitation and imperialist control, where a basic human necessity was commodified to extract wealth from the subjugated masses.This living wall of thorns and armed checkpoints criminalized self-reliance, forcing Indians to pay for what nature freely provided, exposing how colonialism weaponized everyday survival to enforce dependency. The hedge’s eventual collapse and Gandhi’s Salt March later embodied proletarian resistance, revealing that all oppressive systems—whether colonial monopolies or modern neoliberal privatization—rely on controlling the essentials of life to maintain power. Its erasure from history mirrors capitalism’s tendency to obscure its own violence, but its legacy lives on as a warning: when food, water, or salt are monopolized, the people must reclaim them—not as commodities, but as collective rights.

31/07/2025

عالمی منظرنامے پر فلسطین: اسلامی دنیا، سوشلزم اور چینی نقطہ نظر سے ایک تاریخی تبدیلی

ایک غیر معمولی اور تاریخی پیش رفت میں، عرب لیگ – جس میں سعودی عرب، قطر اور مصر جیسے اہم ممالک شامل ہیں – نے 7 اکتوبر کے حماس کے حملوں کی عوامی سطح پر مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ یہ عسکریت پسند گروپ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ پر اپنی حکمرانی ختم کرے۔ اقوام متحدہ کی ایک کانفرنس میں یورپی یونین اور 17 دیگر اقوام کے ساتھ مشترکہ طور پر دستخط شدہ یہ بے مثال اعلان، حماس پر زور دیتا ہے کہ وہ غزہ کا کنٹرول فلسطینی اتھارٹی کو منتقل کر دے – جسے دو ریاستی حل کی طرف بڑھنے کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اس دستاویز میں غزہ اور مغربی کنارے کو فلسطینی اتھارٹی کے تحت متحد کرنے، غزہ کی تعمیر نو اور بالآخر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت بھی کی گئی ہے۔ یہ جرات مندانہ تبدیلی امن اور فلسطینی طرز حکمرانی میں اصلاحات کے لیے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا اشارہ ہے، جبکہ مستقبل میں عرب اسرائیل تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بھی دروازے کھول رہی ہے۔ اسلامی دنیا میں اس پر ملے جلے رد عمل ہیں؛ کچھ اسے استحکام اور فلسطینی ریاست کی طرف عملی قدم سمجھتے ہیں جبکہ کچھ اسے مزاحمت سے غداری قرار دے سکتے ہیں۔ سوشلسٹ نقطہ نظر سے، حماس کی مذمت کو تنازعات میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ایک طرف مظلوموں کے حق خود ارادیت کی حمایت ہے تو دوسری طرف مؤثر حکمرانی اور ایک جامع حل کی ضرورت۔ چین، جو مستقل طور پر دو ریاستی حل کا حامی رہا ہے، اس اعلان کو کشیدگی میں کمی اور خطے میں استحکام کے لیے ایک مثبت قدم سمجھے گا۔ یہ واقعی ایک اہم لمحہ ہے، جو پیچیدہ اور متنوع عالمی نقطہ نظر کو ظاہر کرتا ہے، اور ایک ایسے منصفانہ حل کی طرف نئے راستے کھولتا ہے جس کی راہ ابھی طویل اور چیلنجوں سے بھری ہے۔

31/07/2025

9 مئی کے مقدمات: فیصل آباد عدالت کا فیصلہ اور سماجی انصاف پر گہرے سوالات

آج فیصل آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات سے متعلق مقدمات میں اپنے فیصلے سنا دیے ہیں۔ عدالت نے مجموعی طور پر 167 ملزمان کو مختلف سزائیں دی ہیں، جن میں کئی ہائی پروفائل سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں۔ سزا پانے والوں میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز، پی ٹی آئی کی سینئر رہنما زرتاج گل، اور رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا نمایاں ہیں، جن سب کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

دوسری جانب، ایک حساس ادارے پر حملے کے مقدمے میں، 185 ملزمان میں سے 108 کو سزا ملی جبکہ 77 افراد کو بری کر دیا گیا۔ بری ہونے والوں کی فہرست میں فواد چوہدری، زین قریشی، خیال کاسٹرو، فیض اللّٰہ کموکا، رانا اسد محمود خان، بلال اشرف بسرا، ہارون رشید، عمارہ رشید، صاحبزادہ حسن رضا اور کامران ورک جیسے اہم نام شامل ہیں۔

سماجی انصاف کے حامی اس فیصلے کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بنیادی طور پر ریاست کی جانب سے موجودہ طاقتور طبقات اور ان کے اداروں کے مفادات کے تحفظ کی عکاسی کرتا ہے۔ 9 مئی کے واقعات کو ریاستی طاقت کے خلاف ایک بڑا چیلنج سمجھا گیا، اور اس کے نتیجے میں آنے والا سخت ردعمل حکمران اشرافیہ کے کنٹرول اور سلامتی کو برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ فیصلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جب ریاستی اداروں کو خطرہ محسوس ہوتا ہے، تو وہ اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرتے ہیں؛ فوجی تنصیبات پر حملوں کو 'ریڈ لائن' کے طور پر پیش کیا گیا، جو ریاستی جبر کو جائز ٹھہرانے کے لیے استعمال ہوا۔

یہاں ایک اہم سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا قانون کا اطلاق معاشرے کے تمام طبقات پر یکساں ہو رہا ہے؟ اگرچہ عدالتی نظام غیر جانبداری کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن حقیقت میں طاقتور اور کمزور کے لیے اس کے اطلاق میں فرق ہو سکتا ہے۔ 9 مئی کے واقعات میں سزا پانے والوں میں زیادہ تر وہ افراد شامل تھے جو معاشی طور پر زیادہ مضبوط نہیں تھے یا نچلے اور درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ دوسری طرف، ان افراد کی بریت پر بھی سوال اٹھتا ہے جن کا تعلق بااثر یا حکمران طبقے سے تھا، یا جنہیں سیاسی طور پر اہم سمجھا جاتا تھا۔ سماجی انصاف کے حامی پوچھتے ہیں کہ کیا ان کی بریت کا تعلق ان کی سماجی حیثیت یا اثر و رسوخ سے تو نہیں تھا؟ ان کے نزدیک، حقیقی انصاف تبھی ممکن ہے جب قانون کے سامنے کوئی امیر، غریب، طاقتور یا کمزور نہ ہو۔

ہمارے نقطہ نظر سے، میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ میڈیا اکثر حکمران بیانیے کو فروغ دیتا ہے، اور 9 مئی کے واقعات کے بعد میڈیا نے ریاستی اداروں پر حملوں کی شدید مذمت کی، انہیں "ملک دشمن" قرار دیا۔ اس سے عوامی رائے کو ایک خاص سمت میں موڑا گیا تاکہ سخت عدالتی فیصلوں کو عوام میں قابل قبول بنایا جا سکے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا میڈیا نے واقعات کے تمام پہلوؤں کو غیر جانبدارانہ طریقے سے پیش کیا، یا اس کا مقصد صرف حکمران اداروں کی حمایت کرنا تھا؟

بالآخر، 9 مئی کے مقدمات کا یہ فیصلہ صرف قانونی عمل نہیں بلکہ ریاست کے طاقت کے استعمال، سماجی طبقات کے درمیان فرق، اور عوامی بے چینی سے نمٹنے کے طریقے کی ایک عکاسی ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ کس طرح ریاست اپنے استحکام اور موجودہ نظام کو برقرار رکھنے کے لیے عدالتی نظام کو استعمال کر سکتی ہے۔ یہ عوام کے درمیان موجودہ نظام کے بارے میں مایوسی اور ناراضگی کے وسیع تر مسائل کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔

31/07/2025

9 مئی کے مقدمات: فیصل آباد عدالت کا فیصلہ اور سماجی انصاف پر گہرے سوالات

آج فیصل آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات سے متعلق مقدمات میں اپنے فیصلے سنا دیے ہیں۔ عدالت نے مجموعی طور پر 167 ملزمان کو مختلف سزائیں دی ہیں، جن میں کئی ہائی پروفائل سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں۔ سزا پانے والوں میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز، پی ٹی آئی کی سینئر رہنما زرتاج گل، اور رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا نمایاں ہیں، جن سب کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

دوسری جانب، ایک حساس ادارے پر حملے کے مقدمے میں، 185 ملزمان میں سے 108 کو سزا ملی جبکہ 77 افراد کو بری کر دیا گیا۔ بری ہونے والوں کی فہرست میں فواد چوہدری، زین قریشی، خیال کاسٹرو، فیض اللّٰہ کموکا، رانا اسد محمود خان، بلال اشرف بسرا، ہارون رشید، عمارہ رشید، صاحبزادہ حسن رضا اور کامران ورک جیسے اہم نام شامل ہیں۔

سماجی انصاف کے حامی اس فیصلے کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بنیادی طور پر ریاست کی جانب سے موجودہ طاقتور طبقات اور ان کے اداروں کے مفادات کے تحفظ کی عکاسی کرتا ہے۔ 9 مئی کے واقعات کو ریاستی طاقت کے خلاف ایک بڑا چیلنج سمجھا گیا، اور اس کے نتیجے میں آنے والا سخت ردعمل حکمران اشرافیہ کے کنٹرول اور سلامتی کو برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ فیصلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جب ریاستی اداروں کو خطرہ محسوس ہوتا ہے، تو وہ اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرتے ہیں؛ فوجی تنصیبات پر حملوں کو 'ریڈ لائن' کے طور پر پیش کیا گیا، جو ریاستی جبر کو جائز ٹھہرانے کے لیے استعمال ہوا۔

یہاں ایک اہم سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا قانون کا اطلاق معاشرے کے تمام طبقات پر یکساں ہو رہا ہے؟ اگرچہ عدالتی نظام غیر جانبداری کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن حقیقت میں طاقتور اور کمزور کے لیے اس کے اطلاق میں فرق ہو سکتا ہے۔ 9 مئی کے واقعات میں سزا پانے والوں میں زیادہ تر وہ افراد شامل تھے جو معاشی طور پر زیادہ مضبوط نہیں تھے یا نچلے اور درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ دوسری طرف، ان افراد کی بریت پر بھی سوال اٹھتا ہے جن کا تعلق بااثر یا حکمران طبقے سے تھا، یا جنہیں سیاسی طور پر اہم سمجھا جاتا تھا۔ سماجی انصاف کے حامی پوچھتے ہیں کہ کیا ان کی بریت کا تعلق ان کی سماجی حیثیت یا اثر و رسوخ سے تو نہیں تھا؟ ان کے نزدیک، حقیقی انصاف تبھی ممکن ہے جب قانون کے سامنے کوئی امیر، غریب، طاقتور یا کمزور نہ ہو۔

ہمارے نقطہ نظر سے، میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ میڈیا اکثر حکمران بیانیے کو فروغ دیتا ہے، اور 9 مئی کے واقعات کے بعد میڈیا نے ریاستی اداروں پر حملوں کی شدید مذمت کی، انہیں "ملک دشمن" قرار دیا۔ اس سے عوامی رائے کو ایک خاص سمت میں موڑا گیا تاکہ سخت عدالتی فیصلوں کو عوام میں قابل قبول بنایا جا سکے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا میڈیا نے واقعات کے تمام پہلوؤں کو غیر جانبدارانہ طریقے سے پیش کیا، یا اس کا مقصد صرف حکمران اداروں کی حمایت کرنا تھا؟

بالآخر، 9 مئی کے مقدمات کا یہ فیصلہ صرف قانونی عمل نہیں بلکہ ریاست کے طاقت کے استعمال، سماجی طبقات کے درمیان فرق، اور عوامی بے چینی سے نمٹنے کے طریقے کی ایک عکاسی ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ کس طرح ریاست اپنے استحکام اور موجودہ نظام کو برقرار رکھنے کے لیے عدالتی نظام کو استعمال کر سکتی ہے۔ یہ عوام کے درمیان موجودہ نظام کے بارے میں مایوسی اور ناراضگی کے وسیع تر مسائل کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔

#9مئی #پاکستان

31/07/2025

یہ اخبار کی سرخی، جو "شوگر مافیا" کی جانب سے "3000 ارب" روپے کمانے کا واویلا کر رہی ہے، سرمایہ داری کے بے لگام نظام پر ایک گہرا عوامی فلاح پر مبنی تنقیدی وار ہے۔ یہ واضح طور پر دکھاتی ہے کہ کس طرح چینی جیسی ایک بنیادی اور روزمرہ کی ضرورت کی شے، چند افراد کے لیے بے پناہ نجی منافع کمانے کا ذریعہ بن جاتی ہے، بجائے اس کے کہ اسے اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے منظم کیا جائے۔ "شوگر مافیا" کے ہاتھوں اس قدر دولت کا ارتکاز ایک ایسے نظام کی موروثی عدم مساوات کو اجاگر کرتا ہے جو عوامی بہبود پر نجی مفادات کو ترجیح دیتا ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کے لیے آسمان چھوتی قیمتیں اور ایک چھوٹی سی اشرافیہ کے لیے بے تحاشا منافع ہوتا ہے، یوں منڈی کی طاقتوں کی استحصال پر مبنی نوعیت کو بے نقاب کرتا ہے جب انہیں مساوی تقسیم اور معاشرتی ذمہ داری کے اصولوں سے بے لگام چھوڑ دیا جاتا ہے۔

29/07/2025

تاریخی تجزیہ: 1947 سے 1956 تک کا آئینی سفر اور محنت کش طبقے کی محرومی

پاکستان کے قیام کے بعد کا پہلا عشرہ محض آئینی پیچیدگیوں کا نہیں بلکہ طبقاتی بالادستی، فوجی و سول اشرافیہ کے گٹھ جوڑ، اور محنت کش عوام کے منظم استحصال کا دور تھا۔ 1947 سے 1956 تک کا آئینی سفر اس حقیقت کا گواہ ہے کہ ریاست نے آئینی ڈھانچے کو محنت کش طبقے کی فلاح کے بجائے حکمران طبقات کے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کیا۔

1935کا ہندوستان ایکٹ: نوآبادیاتی ورثے کا تسلسل
قیام پاکستان کے بعد 1935 کا ایکٹ بطور عبوری آئین اپنایا گیا۔ اس ایکٹ نے گورنر جنرل کو وسیع اختیارات دیے، جو کسی بادشاہ کے اختیارات سے کم نہ تھے۔ عوامی نمائندگی صرف ایک مخصوص، تعلیم یافتہ یا جاگیردار طبقے تک محدود تھی۔ ووٹ کا حق 10 سے 15 فیصد آبادی تک محدود رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آئینی عمل میں عام محنت کش، کسان یا مزدور کو شریک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

قراردادِ مقاصد (1949): نظریاتی لفاظی، عملی تضادات
قراردادِ مقاصد کو ایک انقلابی اور اسلامی آئینی بنیاد کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن اس کا اطلاق محض اشرافیہ کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ تھا۔ سودی نظام جاری رہا، جس نے محنت کش طبقے کو معاشی غلامی سے آزاد کرنے کے بجائے انہیں مزید مقروض کیا۔ عدالتی نظام نے انگریزوں کے نوآبادیاتی قوانین کو جاری رکھا، جو جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے مفادات کی نگہبانی کرتے رہے۔

اقلیتوں اور پسے ہوئے طبقات کا استحصال
قراردادِ مقاصد میں اقلیتوں کو مساوی حقوق کی یقین دہانی دی گئی، مگر یہ دعوے صرف کاغذ پر رہے۔ عملاً، نہ صرف مذہبی اقلیتوں بلکہ سماجی اقلیتوں جیسے ہاری، کسان، مزدور اور خواتین کو بھی ریاستی فیصلہ سازی کے عمل سے دور رکھا گیا۔ محنت کش طبقہ آئین سازی کے عمل میں مکمل طور پر غیر موجود تھا۔

1956 کا آئین: جمہوریت کا فریب، طبقاتی اجارہ داری کا دوام
جب 1956 میں پہلا آئین نافذ ہوا، تو اسے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا گیا۔ مگر اس آئین کے پیچھے وہی جاگیردار، نوکر شاہی اور فوجی مفادات کارفرما تھے، جنہوں نے مشرقی پاکستان کے عوام اور دیگر پسے ہوئے طبقات کو برابر کا شہری تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ آئین میں محنت کش طبقے کے لیے نہ کوئی معاشی تحفظ کی ضمانت دی گئی، نہ زمین کی منصفانہ تقسیم، اور نہ ہی لیبر یونینز کو آئینی تحفظ حاصل ہوا۔

فوجی مداخلت اور جاگیردارانہ نظام کی سرپرستی
اس دور میں فوجی بیوروکریسی اور جاگیردار طبقہ ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے رہے۔ آئین کو محض دکھاوے کے لیے استعمال کیا گیا تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کو "جمہوری ریاست" کے طور پر پیش کیا جا سکے، لیکن اندرونِ ملک یہ نظام محنت کش عوام کے لیے ایک جابرانہ ڈھانچہ تھا، جس میں ان کی کوئی آواز نہ تھی۔ کسانوں کی زمین پر جاگیرداروں کا قبضہ برقرار رہا، فیکٹری مزدور کم از کم اجرت سے بھی محروم رہے، اور تعلیم و صحت جیسے بنیادی حقوق ایک خواب بن کر رہ گئے۔

نتیجہ: آئینی ڈھانچے میں محنت کش طبقے کی عدم موجودگی
1947 سے 1956 کا پورا آئینی سفر اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ ریاست نے آئین کو طاقتور طبقے کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ آئینی دستاویزات میں محنت کش طبقے کا کوئی حقیقی حوالہ، نمائندگی یا تحفظ موجود نہ تھا۔ یہ سفر ایک استحصالی نظام کی تعمیر کا آغاز تھا، جس کے اثرات آج بھی پاکستان کی معیشت، سیاست اور سماجی ساخت میں واضح نظر آتے ہیں۔

اگر ہم آئین کو محض کاغذ پر لکھی دستاویز کے بجائے عوامی فلاح کا آلہ سمجھیں، تو 1947 سے 1956 تک کا آئینی سفر دراصل ایک شکست خوردہ عہد کی داستان ہے۔ ایک ایسا عہد جس میں محنت کش عوام نے صرف قربانیاں دیں، مگر ان کے خون پسینے کی قیمت طاقتور طبقات نے اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے وصول کی۔

China's Belt and Road Initiative: A New Silk Road? | Overview 26/07/2025

چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) - نیا شاہراہِ ریشم جو دنیا کو بدل دے گا!

چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) 21ویں صدی کا سب سے بڑا انفراسٹرکچر اور اقتصادی منصوبہ ہے، جس کا مقصد ایشیا، یورپ، افریقہ اور دیگر خطوں کو تجارتی راستوں کے ذریعے جوڑنا ہے۔ اسے "نیا شاہراہِ ریشم" بھی کہا جاتا ہے، جو عالمی تجارت اور جیوپولیٹکس کو نئی شکل دے سکتا ہے۔

🔍اس ویڈیو میں جانیے:
✅ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) کیا ہے؟
✅ اہم منصوبے، بشمول چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC)
✅ معاشی و جیوپولیٹیکل فوائد
✅ تنقیدات اور چیلنجز
✅ ترقی پذیر ممالک پر اثرات

💡 اگر آپ عالمی معاملات، معاشیات یا انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو یہ ویڈیو آپ کے لیے ہے!

👍 پسند آئے تو شیئر کریں اور چینل کو سبسکرائب کریں!

#جیوپولیٹکس

📢 فیس بک پر ہمارے ساتھ جوڑیں: اُجالا - Ujala

مزید ویڈیوز کے لیے سبسکرائب کریں: youtube.com/

China's Belt and Road Initiative: A New Silk Road? | Overview China's Belt and Road Initiative (BRI) is one of the most ambitious infrastructure and economic projects of the 21st century, aiming to connect Asia, Europe,...

Photos from ‎اُجالا - Ujala‎'s post 25/07/2025

اجالا چینل کی پہلی ویڈیو میں "The Islamic Enlightenment: The Modern Struggle Between Faith and Reason" کتاب پر گہرا اور دلچسپ تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔
علم اور روشنی کی اس تلاش میں ہمارے ساتھ جڑیں!

ویڈیو:
https://youtu.be/w0ML5Xzz3_A



25/07/2025

اُجالا چینل کو YouTube پر سبسکرائب کریں اور روشنی کی جدوجہد میں شامل ہوں!

22/07/2025

ڈرتے ہیں کاروباری ملاں
ایک نہتی لڑکی سے

Want your business to be the top-listed Government Service in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

Satellite Town
Rawalpindi