نواز شریف کا ببر شیر میاں جاوید لطیف
Nazaar Abbasi PML.N
Pakistan Muslim League Nawaz Social Media Page Pakistan Muslim League Nawaz party activities and latest news
13/08/2021
عمران خان جھاز میں جارھے تھے ساتھ بیٹھے وزیروں سے کہا اگر میں 5 ھزار کانوٹ پھینکوں تو ایک بندے کا بھلا ھوجائیگا ساتھ بیٹھے فواد چوھدری نے کہا خان صاحب ھزار کے 5 نوٹ پھینکیں 5 بندوں کا بھلا ھوجائیگا مراد سعید کو لگا فوادچوھدری نمبر لےگیا وہ بولا خان صاحب 5 سو کے 10 نوٹ پھینکیں 10 بندوں کا بھلا ھوجائیگا زرتاجگل بولیں خان صاحب سو روپیہ کے 50 نوٹ پھینکیں 50 بندوں کا بھلا ھوجائیگا اتنے میں پیچھے کھڑے صفائی والے نے کہا خان صاحب کو ھی نیچھے پھینک دو 22 کروڑ لوگوں کا بھلا ھوجائیگا😂
رکن قومی اسمبلی مسلم لیگ ن احسن اقبال صاحب 🤗🙈🙈🙈🙈
ببوبرال پی ٹی آئی کے سپوٹروں کی آسان الفاظ میں تعریف کرتے ہوے🤣🙈
مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس شروع
اجلاس میں صدر پاکستان مسلم لیگ ن محمد شہباز شریف
قائد پاکستان مسلم لیگ ن محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے شریک
جاوید چوہدری
میں نے ڈرائیور سے پوچھا ’’
آپ کتنے وزراء اعظم کے ساتھ ڈیوٹی کر چکے ہیں‘‘ اس نے سرکھجایا اور بولا ’’ میں سات وزیراعظموں کا ڈرائیور رہ چکا ہوں‘ میں نے تین درجن سے زائد عالمی لیڈروں کو بھی ائیرپورٹ سے ایوان صدر‘ وزیراعظم ہاؤس اور وہاں سے واپس ائیرپورٹ پہنچایا‘‘ میں نے اس سے پوچھا’’کیا آپ نے محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے ساتھ بھی کام کیا‘‘ اس نے مسکرا کر جواب دیا ’’ دونوں کے ساتھ دونوں ادوار میں کام کیا‘‘میں نے اس سے پوچھا ’’بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف میں کیا فرق تھا‘‘ وہ مسکرایا اور اس نے دونوں کی شخصیت کا تجزیہ شروع کر دیا‘ ہم لوگ پوری دنیا سے چھپ سکتے ہیں‘ ہم خود کو اپنے دوستوں اور دشمنوں تک سے چھپا سکتے ہیںاور ہم دنیا کو جعلی اور نقلی مسکراہٹ سے بھی بہلا سکتے ہیں مگر ہم خود کو اپنے ڈرائیوروں سے نہیں چھپا سکتے‘ ہم لوگوں سے ہاتھ ملاتے ہیں‘ ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان پر مسکراہٹیں نچھاور کرتے ہیں مگر ہم جوں ہی اپنی گاڑی میں بیٹھتے ہیں‘ ہم مسکراہٹوں‘ شکریئے اور بائی بائی کے ماسک اتار کر سائیڈ پر رکھ دیتے ہیں اور ہمارا اصل چہرہ پوری طرح ننگا ہو جاتا ہے‘ہمارا اصل سامنے آ جاتا ہے اور اس اصل کا پہلا گواہ ہمارا ڈرائیور ہوتا ہےآپ دنیا بھر کے ڈرائیوروں کی عادتیں نوٹ کیجیے‘ آپ کو ان میں تین چیزیں مشترک ملیں گی‘آپ جوں ہی گاڑی میں بیٹھیں گے ‘ ڈرائیور بیک مرر سے آپ کے چہرے کو غور سے دیکھیں گے‘ یہ اس وقت آپ کے چہرے کا ننگا پن دیکھ رہے ہوں گے‘ یہ آپ کا اصل روپ دیکھ رہے ہوتے ہیں‘ دو‘ یہ جب بھی کسی جگہ رکتے ہیں‘یہ گاڑی سے اتر کر دوسرے ڈرائیور کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور یہ دونوں چند لمحوں میں آپس میں اپنی معلومات کا تبادلہ کر لیتے ہیں‘ یہ اس سفر کے دوران اپنے صاحب کے بارے میں جو محسوس کرتے ہیں‘ یہ نہایت ایمانداری سے وہ سب کچھ اپنے ڈرائیور بھائی کو بتا دیتے ہیں اور وہ یہ معلومات شام تک پورے شہر تک پہنچا دیتا ہے اور تین‘ڈرائیوروں کی ججمنٹ بہت تیز ہوتی ہے‘ آپ پوری دنیا کو دھوکہ دے سکتے ہیں مگر آپ اپنے ڈرائیور کو دھوکہ نہیں دے سکتے کیونکہ یہ چہرے پڑھنے کا ماہر ہوتا ہے‘ یہ دھوکے باز‘ جھوٹے‘ فریبی اور اچھے‘نیک اور ایماندار شخص کو فوراً پہچان جاتا ہے لہٰذا آپ اگر کسی شخص کے بارے میں اصل اور مکمل معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس کے ڈرائیور کو اعتماد میں لینا چاہیے اور وہ آپ کو جو معلومات دے گا وہ سو فیصد سالڈ ہوں گی۔مجھے چند سال قبل وزیراعظم ہاؤس کے ایک ڈرائیور سے ملاقات کا موقع ملا‘ یہ کسی کام کے سلسلے میں میرے پاس آیا تھا‘ میں نے اسے پاس بٹھا لیا اور اس کے موجودہ اور سابق صاحبوں کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا‘ وہ آہستہ آہستہ بتاتا چلا گیا اور میں حیران ہوتا گیا‘میں نے اس سے محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے بارے میں خصوصی طور سے پوچھا‘ اس کا کہنا تھا محترمہ بے نظیر بھٹو بہت ڈھاڈی(سخت) خاتون تھیں‘ لوگ ان سے بہت ڈرتے تھے‘ وہ درجنوں لوگوں کی موجودگی میں اپنے اسٹاف کو جھڑک دیتی تھیں‘ انھوں نے ایک بار اپنے پرنسپل سیکریٹری کو ایک قمیض دی اور میچنگ دوپٹے خریدنے کا حکم دے دیا‘ وہ بے چارہ اس معاملے میں کورا تھا‘وہ دو تین دوپٹے خرید لایا مگر محترمہ کو پسند نہ آئے چنانچہ انھوں نے گاڑی میں میرے سامنے انھیں جھاڑ پلا دی‘ وہ ائیر پورٹ جاتے ہوئے راستے میں گاڑی رکوا کر ناپسندیدہ افسروں کو نیچے بھی اتار دیتی تھیں جب کہ میاں نواز شریف ان کے برعکس ایک نرم طبع انسان تھے ‘غصہ پی جاتے تھے‘میں نے میاں نواز شریف سے متعلق کوئی دلچسپ واقعہ سننے کی درخواست کیاس نے ہنس کر بتایا‘ یہ 1992ء کا واقعہ ہے‘ سعید مہدی صاحب اس وقت راولپنڈی ڈویژن کے کمشنر تھے اور میاں نواز شریف وزیر اعظم اور محترمہ بے نظیر بھٹو اپوزیشن لیڈر تھیں‘ بی بی ان دنوں میاں نواز شریف کے خلاف راولپنڈی اور اسلام آباد میں جلوس نکالتی تھیں‘یہ لانگ مارچ بھی کر دیتی تھیں‘میاں صاحب ان جلوسوں سے بہت تنگ تھے‘ محترمہ نے ایک دن راولپنڈی میں جلوس نکالنے کا اعلان کر دیا‘ میاں نواز شریف نے سعید مہدی کو حکم دیا ’’ آپ بی بی کو روکیں گے‘‘ سعید مہدی نے پوری کوشش کی مگر بی بی انتظامیہ کو چکمہ دے کر راولپنڈی پہنچ گئیں‘انٹرنیشنل میڈیا بھی وہاں آ گیا اور اس نے بی بی کو بے تحاشا کوریج دی‘ میاں صاحب سعید مہدی صاحب سے ناراض ہو گئے‘ مہدی صاحب انھیں مل کر اپنی پوزیشن واضح کرنا چاہتے تھے مگر میاں صاحب ان سے ملاقات کے لیے راضی نہیں ہو رہے تھے‘میاں صاحب کے سیکریٹری مہدی صاحب کے بارے میں سافٹ کارنر رکھتے تھے‘یہ روز سعید مہدی کا نام وزیراعظم کے ملاقاتیوں کی فہرست میں ڈال دیتے تھے لیکن میاں صاحب ان کا نام کاٹ دیتے تھے‘ سیکریٹری صاحب نے آخر میں میری مدد لی‘ انھوں نے مجھ سے کہا ‘میاں صاحب آج وزیراعظم ہاؤس سے ائیر پورٹ جائیں گے‘ تم نے مہدی صاحب کو گاڑی میں بٹھا لینا ہےسیکریٹری صاحب کو یقین تھا میاں نواز شریف مہدی صاحب کو کم از کم گاڑی سے نہیں اتاریں گے‘پروگرام کے مطابق میاں صاحب گاڑی میں بیٹھے اور دوسرا دروازہ کھول کر سعید مہدی بھی اندر بیٹھ گئے‘ اگلی سیٹ پر سیکریٹری صاحب بیٹھ گئے‘ ہم پرائم منسٹر ہاؤس سے باہر نکل آئے‘ پروٹوکول کے مطابق وزیراعظم اور صدر 24 منٹ میں ائیر پورٹ پہنچتے ہیں اور انھیں وقت پر پہنچانا میری ذمے داری ہوتی ہے‘سعید مہدی صاحب نے گفتگو شروع کر دی‘ میاں نواز شریف نے دوسری طرف منہ پھیر لیا مگر مہدی صاحب بولتے رہے‘ میاں نواز شریف کی عادت ہے یہ جب غصے میں آتے ہیں تو ان کے کان سرخ ہو جاتے ہیں‘ میں بیک مرر میں دیکھ رہا تھا‘میاں صاحب کے دونوں کان سرخ تھے‘ میں ڈر گیا‘سیکریٹری صاحب کا رنگ بھی فق تھا مگر سعید مہدی مسلسل بول رہے تھے‘ اس دوران میاں نواز شریف کی برداشت جواب دے گئی‘ وہ مہدی صاحب کی طرف مڑے اور انھوں نے غصے سے کہا ’’ مہدی صاحب آپ کو میرے احسانات یاد نہیں آئے‘میں نے آپ کو کہاں سے اٹھایا اور کہاں پہنچا دیا‘‘ میاں صاحب اس کے بعد اپنے وہ تمام احسانات دہرانے لگے جو انھوں نے مہدی صاحب پر کیے تھے‘ مہدی صاحب چپ چاپ سنتے رہےوزیراعظم جب تھک گئے تو مہدی صاحب نے ان کی طرف دیکھا اور میاں صاحب سے مخاطب ہوئے ’’ میاں صاحب یاد رکھیں مجھ پر یہ تمام مہربانیاں میرے اللہ نے کی ہیں‘ آپ صرف وسیلہ تھے‘ میں وسیلا بننے پر آپ کا صرف شکریہ ادا کر سکتا ہوں مگر میرا شکر صرف میرے اللہ کی امانت ہے‘‘یہ سن کر میاں نواز شریف نے چند لمحوں کے لیے منہ پھیر لیا ‘ وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگے‘ پھر انھوں نے اچانک میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور حکم دیا’’ گاڑی روک دو ‘‘ ہم لوگ اس وقت فیض آباد کے قریب پہنچ چکے تھے‘ فیض آباد کا پل ابھی نہیں بنا تھا اور راول ڈیم چوک سے لے کر فیض آباد تک ویرانہ ہوتا تھا‘میں نے گھبرا کر سیکریٹری صاحب کی طرف دیکھا‘ وہ بھی انتہائی پریشان تھے‘ ہم پروٹوکول کے ضابطوں کے مطابق وزیراعظم کی گاڑی راستے میں نہیں روک سکتے تھے چنانچہ میں گاڑی چلاتا رہا‘ میاں صاحب نے مجھے دوسری بار سخت لہجے میں حکم دیا’’ گاڑی روکو‘‘ میں نے سعید مہدی کی طرف دیکھا‘ان کے چہرے پر سکون اور اعتماد تھا‘ وہ ذہنی طور پر ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے‘ میں نے گاڑی روک دی‘ ہمارے رکتے ہی پروٹوکول اور سیکیورٹی کی تمام گاڑیاں رک گئیں‘ کمانڈوز نے نیچے کود کر پوزیشن سنبھال لی میاں صاحب گاڑی سے اترے اور سڑک سے نیچے اتر گئے‘ سامنے جھاڑیاں تھیں‘ وہ جھاڑیوں میں چلے گئے‘ ہم خوف اور پریشانی کے عالم میں انھیں دیکھنے لگے‘وہ جھاڑیوں میں کیکر کے ایک درخت کے قریب رکے‘ کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور نماز شروع کر دی‘ وہ ننگی زمین پر رکوع بھی کر رہے تھے اور سجدے بھی اور ہم لوگ انھیں بلندی سے دیکھ رہے تھے‘ ہم میں سے کسی میں نیچے اترنے کی ہمت نہیں تھی‘ وزیراعظم نے دو نفل پڑھے‘ دعا کی اور واپس آ گئے‘ان کے کپڑے اور جوتے گندے ہو چکے تھے‘ہمارا قافلہ چل پڑا‘ گاڑی میں مکمل خاموشی تھی‘ سیکریٹری صاحب نے ذرا سی ہمت کی اور گیلے ٹشوز کا ڈبہ ان کی طرف بڑھا دیا‘ میاں صاحب نے ایک ٹشو اٹھایا اور سعید مہدی سے مخاطب ہوئے ’’ مہدی صاحب میں معافی چاہتا ہوں‘ میں غصے میں بڑا بول بول گیا تھا‘آپ کی بات درست تھی ہم انسان کسی کو کچھ نہیں دے سکتے‘ ہم صرف وسیلہ بنتے ہیں‘ مجھے محسوس ہوا میں تکبر میں آ گیا ہوں چنانچہ میں نے فوراً توبہ کے دو نفل ادا کیے‘ آپ بھی مجھے معاف کر دیں‘‘۔یہ سن کر سعید مہدی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ انھوں نے ٹشو اٹھا کر آنکھوں پر رکھ لیا‘ میاں صاحب ائیر پورٹ پر اترے‘ جہاز پر بیٹھے اور لاہور روانہ ہو گئے لیکن یہ واقعہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میرے ذہن میں نقش ہو گیا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Rawalpindi
46000
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Saturday | 09:00 - 17:00 |
| Sunday | 09:00 - 17:00 |
