15/04/2026
شیشکٹ، گوجال (ہنزہ) کے ہونہار نوجوان احسام اللہ بیگ نے پاکستان ایئر فورس اکیڈمی اصغر خان، رسالپور سے کامیابی کے ساتھ تربیت مکمل کر کے بطور فلائنگ آفیسر کمیشن حاصل کر لیا ہے
۔ وہ شکر اللہ بیگ کے صاحبزادے ہیں اور انہوں نے 109 اے ڈی (AD) بیچ کا حصہ ہوتے ہوئے یہ اعزاز حاصل کیا۔
ان کی اس شاندار کامیابی پر علاقے بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ اہلِ خانہ، رشتہ داروں اور دوست احباب کی جانب سے مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ احسام اللہ بیگ نے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے علاقے کا نام روشن کیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان ایئر فورس اکیڈمی سے فلائنگ آفیسر کے طور پر کمیشن حاصل کرنا ایک بڑا اعزاز ہوتا ہے جس کے لیے کڑی محنت، نظم و ضبط اور اعلیٰ صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
12/04/2026
لیفٹیننٹ کرنل عابد زمان صاحب کو دلی مبارکباد، جو اس وقت 2 کمانڈو بٹالین (راہبر بٹالین) کے کمانڈنگ آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
سابقہ 7 کمانڈو بٹالین ایس ایس جی
زرار کمپنی
ریڈ اسٹرپ ہولڈر
تمغۂ بسالت کے حامل
آپ 1965 کی جنگ کے غازی، صوبیدار سید شاہ کے پوتے ہیں۔ 🇵🇰
لیفٹیننٹ کرنل عابد زمان نے 2014 کے اے پی ایس پشاور آپریشن میں اپنی بے مثال بہادری سے شہرت حاصل کی، جب انہوں نے بطور کیپٹن 16 دسمبر کو دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن کی قیادت کی اور شدید زخمی ہوئے۔
اسی طرح، اسٹاف کورس کے دوران مڈ ٹرم بریک میں چھٹی پر گھر موجود ہونے کے باوجود، انہوں نے 20 دسمبر 2022 کو بنوں میں یرغمالیوں کی بازیابی کے آپریشن میں اپنی مرضی سے اپنی یونٹ زرار اے ٹی یو (ایس ایس جی) کو جوائن کیا اور کامیاب مشن کے دوران زخمی بھی ہوئے۔
Commandos Few the proud
11/04/2026
دو تصویریں… دو لباس… اور دو الگ پیغامات۔
پچھلے چند گھنٹوں میں مجھے کئی لوگوں کے میسجز موصول ہوئے۔ چونکہ میں پاور، انفلوئنس اور نفسیات جیسے موضوعات کا طالب علم ہوں اور مختلف ممالک میں اس پر گفتگو بھی کر چکا ہوں، اس لیے ایک دلچسپ سوال سامنے آیا۔ ایک بی بی سی سے وابستہ دوست نے پوچھا: جنرل عاصم منیر کی یونیفارم والی تصویر اور سوٹ والی تصویر میں اصل فرق کیا ہے؟ اور ان کے ذریعے کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟
ذرا غور کریں۔
ایک تصویر دن کی ہے۔ اسلام آباد ایئرپورٹ کا منظر۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس طیارے سے اتر رہے ہیں۔ سرخ قالین بچھا ہوا ہے۔ استقبال کے لیے اسحاق ڈار موجود ہیں اور ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی۔ مگر یہاں ایک اہم بات ہے: وہ فوجی وردی میں نہیں بلکہ سویلین سوٹ میں ہیں۔ ٹائی، مسکراہٹ، باڈی لینگویج—سب کچھ ایک ہی بات کہہ رہا ہے:
“میں یہاں بطور سفارت کار آیا ہوں، بات چیت کے لیے، مذاکرات کے لیے۔”
دوسری تصویر رات کی ہے۔ اسی ایئرپورٹ پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف آتے ہیں، ان کے ساتھ وزیر خارجہ بھی ہیں۔ اس بار استقبال کرنے والے فیلڈ مارشل عاصم منیر مکمل فوجی وردی میں ہیں—کیموفلاج، رینک، ٹوپی، سب نمایاں۔
یہ لباس ایک مختلف پیغام دے رہا ہے:
“میں ایک سپاہی ہوں، اور میدان کی حقیقت کو سمجھتا ہوں۔”
یہ فرق محض اتفاق نہیں ہوتا۔
سفارتکاری میں لباس بھی ایک زبان ہوتا ہے۔ ہر رنگ، ہر اسٹائل، ہر انتخاب ایک پیغام دیتا ہے۔ جو لوگ طاقت کی نفسیات کو سمجھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ایسی چیزیں کبھی بھی بے مقصد نہیں ہوتیں۔
تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔
مصطفیٰ کمال اتاترک نے مذاکرات کے دوران حالات کے مطابق لباس بدلا۔ یونانیوں کے سامنے فوجی وردی—ایک فاتح کا تاثر۔ یورپی طاقتوں کے سامنے سوٹ—ایک جدید، مذاکراتی شخصیت۔
اسی طرح Winston Churchill نے جنگ کے دوران خود کو سپاہی کے طور پر پیش کیا، اور امن کے بعد ایک سیاسی رہنما کے طور پر۔
Charles de Gaulle نے بھی یہی حکمت عملی اپنائی—جنگ میں وردی، اقتدار میں سوٹ۔
Anwar Sadat نے اسرائیل کے دورے پر فوجی شناخت دکھائی، مگر مذاکرات میں سویلین انداز اپنایا۔
اب واپس آتے ہیں موجودہ صورتحال پر۔
ایران کا وفد ایک ایسے ملک سے آیا جو جنگ کے دباؤ میں ہے۔ تباہی، حملے، انسانی نقصان—یہ سب حقیقت ہے۔ ایسے میں فوجی وردی میں استقبال ایک علامتی پیغام ہے:
“میں تمہاری کیفیت سمجھتا ہوں، کیونکہ میں بھی ایک سپاہی ہوں۔”
اس کے ساتھ ایک دوسرا پیغام بھی چھپا ہوتا ہے: طاقت کی پہچان۔ جب دو فوجی ذہنیت رکھنے والے لوگ ملتے ہیں تو ایک غیر محسوس اعتماد پیدا ہوتا ہے۔
اس کے برعکس، امریکہ کے ساتھ ملاقات ایک سفارتی ماحول میں ہوتی ہے۔ یہاں سوٹ اور ٹائی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ:
“ہم بات چیت کے ذریعے آگے بڑھنا چاہتے ہیں، نہ کہ میدان جنگ کے ذریعے۔”
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی ہے۔ مغربی دنیا میں پروٹوکول اور جمہوری اقدار کے تحت سویلین انداز کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اسی لیے ایسے مواقع پر لباس کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے۔
یوں سمجھ لیں:
ایک ہی شخصیت…
مگر دو مختلف مواقع…
اور دونوں کے مطابق مکمل مختلف انداز۔
یہی اصل لیڈرشپ ہے—ہر فریق سے اس کی زبان میں بات کرنا۔
اصل طاقت صرف مضبوط ہونے میں نہیں، بلکہ یہ جاننے میں ہے کہ کب سپاہی بننا ہے اور کب سفارت کار۔
دو تصویریں، دو انداز…
مگر مقصد ایک:
ایسا کردار ادا کرنا جو ہر طرف قابلِ قبول ہو۔ کیونکہ جو سب کی زبان سمجھتا ہے، وہی درمیان میں بیٹھ کر معاملات سنبھالتا ہے… اور اکثر وہی تاریخ کا رخ بھی متعین کرتا ہے۔
09/04/2026
حکومت نے پٹرولیم قیمتوں کا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا یہ فیک نیوز ہے ،
پٹرولیم ڈویژن 🥲💔
09/04/2026
رپورٹس کے مطابق، ایران 🇮🇷 اور امریکہ 🇺🇸 کے وفود کو پاکستان 🇵🇰 کی جانب سے زمین، فضا اور سمندری حدود میں اعلیٰ ترین سطح کی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی، جسے “وی وی آئی پی-1” (VVIP-1) کا درجہ دیا گیا ہے۔
فضائی حدود کو محفوظ بنانے کے لیے جنوبی، جنوب مغربی اور مشرقی راستوں پر جنگی طیاروں کی مسلسل نگرانی (Combat Air Patrols) قائم کی جائے گی، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔