01/11/2025
ڈاکٹر بابر خان قادری صاحب
مرکزی صدر
پاکستان ریلوے ورکرز یونین رجسٹرڈ اوپن لائن اسٹیبلشمنٹ
Official Page: Railway Worker's Union (Rawalpindi Division)
01/11/2025
ڈاکٹر بابر خان قادری صاحب
مرکزی صدر
پاکستان ریلوے ورکرز یونین رجسٹرڈ اوپن لائن اسٹیبلشمنٹ
18/10/2022
16/10/2022
Haripur Hazara Sirf worker union ka
Geo baber Qadri, Shokat Khan Jadoon, maqbool Hussain
Rao Naseem zindabad
ورکرز یونین پہیہ نشان - جیوے جیوے پاکستان
ریلوے مزدوروں کی عظمت کا نشان - ریل کا پہیہ
(پاکستان ریلوے کو کیسے منافع بخش بنایا جائے)
*ریلوے اسکولز، ہسپتال اور زمینیں*
1. پاکستان ریلوے کے پاس پاکستان آرمی اور پاکستان نیوی کی طرح ملک بھر کے تمام بڑے شہروں میں اسکول اور ہسپتال موجود ہیں۔ جو مجموعی طور پر بڑے رقبوں پر پھیلی ہوئی عمارات کی شکل میں ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ آج تک پاکستان ریلوے ان دو اہم ڈیپارٹمنٹ کو منافع بخش بناکر ادارے کو درپیش خسارے میں کمی دور کرنے میں ناکام ہے۔
ملک بھر میں موجود تمام اسکولوں کو کالجز بنا کر بیکن ہاؤس، آرمی پبلک، بحریہ کالج اور اس جیسے بڑے اسکولوں کی طرز پر تعلیم کا آغاز کرکے آمدنی میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
2. ملک بھر میں موجود ریلوے ہسپتالوں کو سی ایم ایچ، پی این ایس شفا ہسپتال، آغا خان، ضیاالدین، لیاقت نیشنل کی طرز پر اپگریڈ کیا جائے اور کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں موجود ہسپتالوں کو یونیورسٹی کا درجہ دلوایا جائے تاکہ پاکستان ریلوے اس اہم شعبے میں تحقیق کیساتھ ساتھ میڈیکل کے شعبے میں تعلیم فراہم کرنے اور اپنے ہسپتالوں سے بڑی رقم بطور منافع کماسکے۔
اسکولوں اور ہسپتالوں سے ہم ملازمین اور عام عوام کو اعلی تعلیم اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی ممکن بناسکیں گے۔
3. پاکستان ریلوے کے پاس ملک بھر میں تقریبا ایک لاکھ 67 ہزار ایکڑ سے زائد زمین ہے جسے سنجیدگی کے ساتھ صحیح معنوں میں استعمال کرکے اربوں روپے سالانہ منافع کمایا جاسکتا ہے اور ملازمین بھی اس شعبے میں اقساط کی صورت میں سرمایہ کاری کرکے اپنے لیے رہائش بھی بناسکتے ہیں۔
ریلوے کی شہروں میں موجود فالتو زمینوں پرکمرشل و رہائشی پلازے بنائے جاسکتے ہیں۔
اہم مقامات پر موجود زمینوں کو کمرشلائز کرکے شاپنگ پلازے، 5 اسٹار ہوٹل، ریسٹورنٹ کی صورت میں فوڈ اسٹریٹ قائم کیے جاسکتی ہیں جو آمدنی میں اضافے کا باعث بنے گا۔
ڈی ایچ اے کی طرز پر ہاؤسنگ اتھارٹی کا قیام عمل میں لاکر ایک جدید رہائشی و کمرشل منصوبہ بھی بنایا جاسکتا ہے جس سے پاکستان ریلوے سالانہ اربوں روپے ٹیکس کی صورت میں لے سکتا ہے۔ واضح رہے کہ بڑے شہروں میں ریلوے کی زمینیں ڈی ایچ اے، کنٹونمنٹ سے متحصل ہیں جب ایسے منصوبے شروع ہوں اور مقررہ وقت پر مکمل ہونگے تو عوام دلچسپی بھی لیگی۔
درج بالا تحریر صرف آمدنی میں اضافے کے لیے ایک مثال ہے، اگر ادارہ چاہے تو اس سے بڑھ کر بھی بہت کچھ کرسکتا ہے۔ ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے زمینوں کو کوڑیوں کے بھاؤ ٹھکانے نہ لگایا جائے بلکہ ایسی پالیسی مرتب کی جائے جس سے ملازمین، عام عوام بھی مستفید ہوسکے اور ریلوے اپنی زمینوں سے منافع کماکر زمینوں کی اونرشپ بھی اپنے پاس رکھے جسکی مثال ہم درج بالا تحریر میں دے چکے ہیں۔
یہ کام پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کیے جاسکتے ہیں ہم دعوہ کرتے ہیں کہ پاکستان ریلوے صرف اس سے سالانہ اربوں روپے کا منافع کما سکتا ہے۔
نوٹ: ریلوے ورکرز یونین کی اعلی قیادت کئی بار ریلوے کے پالیسی سازوں کو ایسی کئی منافع بخش تجاویز تحریری صورت میں دے چکی ہے جس پر کئی بار مذاکرات بھی ہوئے، ماضی میں کمیٹیاں بھی قائم کی گئیں مگر عمل درآمد آج تک نہ ہوا۔
جاری کردہ
شعبہ نشرو اشاعت
ریلوے ورکرز یونین اوپن لائن رجسٹرڈ 15/78
ملحقہ: انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن (لندن)
25/04/2019
چلو چلو راولپنڈی ریلوے اسٹیشن چلو
عظیم الشان جلسہ عام
ڈاکٹر بابر قادری، شوکت خان جدون، مقبول حسین، ناصر خان،
قدم بڑھاو رائو محمد نسیم ۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں
28/03/2019
جئے نسیم ۔۔۔ صدا جئے
مورخہ 28/3/2019 راولپنڈی یونین دفتر کے باہر
02/02/2019
ہمارے محبوب قائد محمد نسیم راو صاحب
15/11/2018
قائد ورکرز یونین پاکستان محمد نسیم راو اور منظور رضی کی راولپنڈی امد پر شاندار استقبال
01/10/2018
Railway Rawalpindi Division Jobs 2018
28/09/2018
Shahzad Iqbal Information Sec Rawalpindi
21/09/2018
Our Quaid with (Farukh Taimur Ghilzai Secretary Railway Board)
20/09/2018
Niyaz (Langar) by Rawalpindi Division outside Union Office