پاکستان کے مسائل اور حل کی تجاویز

پاکستان کے مسائل اور حل کی تجاویز

Share

General problems of Pakistan

30/10/2025
08/10/2025

پاکستانی عوام کے لیے خوشخبری

خاطر جمع رہے کہ پاکستانی عوام کو یہ جان کر خوشی اور اطمینان ہونا چاہیئے کہ وہ اب بھارتی جارحیت کے خوف سے اِن شاء اللہ مکمل آزاد ہیں۔ بھارت اب پاکستان پر دوبارہ حملے کا ارادہ بھی نہیں کرے گا سوائے اپنی سیاست بچانے کے چکر میں اپنے مُلک کو توڑنے کی تباہی کرنے کے۔ اور اس کی وجوہات بھی بالکل واضح ہیں وجوہات بین الاقوامی سیاست کے تناظر میں ہیں۔ پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ عالمی طاقتوں نے اپنے مفادات کا رُخ بدل دیا ہے۔ امریکہ نے بھارت کو چین کے مقابلے کے لیے ایک "گھوڑے" کے طور پر تیار کیا تھا، لیکن یہ حکمت عملیمکمل ناکام ہو چکی ہے کیونکہ اِس گھوڑے کو تو خچر بلکہ گدھا تو پاکستان نے ہی بنا دیا ہے لہذا اب یہ خچر امریکہ کے لئے بالکل ہی بیکار ہے۔ دوسرا بڑا سبب یہ ہے کہ اگر بھارت پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو اسے عرب ممالک کی جانب سے شدید معاشی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تمام اہم عرب ممالک بھارت کے معاشی مفادات کو بری طرح متاثر کریں گے، جس سے بھارت کی معیشت کا سارا ڈھانچہ بیٹھ سکتا ہے۔

تیسری اور سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ اب امریکہ ایک بار پھر دو وجوہات کی بِنا پر پاکستان کے قریب آنا چاہے گا۔ امریکہ کو ادراک ہو چکا ہے کہ اب بھارت کے ذریعے چین کو قابو کرنا ممکن نہیں رہا، کیونکہ چین عسکری لحاظ سے بھی امریکہ سے بہت آگے نکل چکا ہے لہذا چین سے قُربت بذریعہ پاکستان اور پاکستان سے نایاب مٹی ، سونے اور تیل کی تلاش کا کاروبار۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال میں، امریکہ کا سب سے بڑا مفاد یہی ہے کہ وہ چین کے ساتھ معاشی تعلقات بڑھائے تاکہ ڈالر کے عالمی اثر و رسوخ کو سنبھالا جا سکے۔ لہٰذا، یہ بدلتے ہوئے عالمی اور معاشی مفادات کا توازن ہی ہے جو پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کی ضمانت دے رہا ہے۔

02/10/2025

جِن جِن بھارتی کُتوں نے احتجاج کی آڑ میں پاکستان کو گالیاں دی ہیں اُن تمام آوارہ کُتوں کو بھارت کی طرف پھینک دِیا جائے۔

18/09/2025

پاکستان کے وزیر اعظم کے طیارے کو رائل سعودی فورس کے طیاروں نے اپنی حفاظت میں لے لیا اور بلا شُبہ یہ ایک غیر معمولی اور عالی شان استقبال ، غیر معمولی حالات کے تحت دیا گیا۔ قطر میں حماس کی قیادت کو اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے بعد پُورے خطے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ جس کے جواب میں پاکستان اور سعودی عرب نے ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کئے۔ معاہدے میں یہ طے پایا ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک مُلک پر حملہ دونوں پر حملہ سمجھا جائے گا۔ یہ ایک غیر معمولی بات ہے۔ دراصل پاکستان اس سال مئی میں بھارت کے خلاف اپنی مضبوط فوجی کارکردگی کی وجہ سے اپنی نئی عالمی اہمیت اور حاصل کردہ وقار سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔

یہ تو تھی خبر۔ اب یہاں میرے تجزیے کے چند نکات ہیں۔ دوستو، پاکستان کو اپنی نئی اہمیت کے لیے جس حقیقی شخص کا شکریہ ادا کرنا چاہیے وہ نریندر مودی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ قوم پرستی تنگ نظری کو جنم دیتی ہے اور بالآخر دائیں بازو کے قوم پرست رہنما اکثر اپنے ممالک کو اس سے بھی بدتر حالت میں چھوڑ جاتے ہیں۔ جب سے مُوذی نے ، اوہ سوری مُوہدی نے عہدہ سنبھالا ہے تو اگر بھارت محض ایک علاقائی طاقت کے طور پر اپنا موقف برقرار رکھتا تو یہ سب سے دانشمندانہ عمل ہوتا۔ لیکن جب کوئی احمق ہٹلر بنتا ہے تو حیرت انگیز قسم کا نُقصان ہی کرتا ہے - اور اس طرح کا مُوذی یا ہٹلر قوم کے ساتھ ساتھ اپنی حیثیت کو بھی نقصان پہنچانے کا خطرہ مول لیتا ہے۔ سمجھدار راہنما طاقت کو لاپرواہی سے استعمال کرنے کے بجائے اس کے جادُوئی بلکہ غیر مرئی اور مصنوعی ہالے پر انحصار کرتے ہیں؛ کیونکہ یہ زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔ تاہم، مودی نے اپنی طاقت کو آزمانے کا انتخاب کیا، غلط جگہ پنگا لیا اور پاکستان نے تُرنت اور زبردست جواب دیا۔ایک طویل عرصے کے بعد پاکستان کے ہاتھ جیسے سونے کی چڑیا آ گئی یا سونے کے انڈے دینے والی مُرغی۔ دُنیا کی سامنے اقتصادی طور پر حیران و پریشان پاکستان کی جگہ عسکری طور پر نہایت پراعتماد، پاکستان اچانک اپنے آپ خود کو مطلوب و مقصود پاتا ہے۔

بہر حال، دنیا بدل رہی ہے اور بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔ہر کمال کو زوال لازم ہے لہذا تمام باکمال تغیرات ، ثبات کو سمٹ رہے ہیں۔ سب سے پہلے مائٹی امریکہ اور ساتھ میں جُمعہ جنج نال (اسرا-ئیل اور ہندُوتوا). بین الاقوامی سیاسی شدت پسندی علاقائی سلامتی کے اتحاد کو جنم دے رہی ہے۔ اچانک ہی انسانی یا ریاستی سلامتی سب سے اہم موضوع بن گیا ہے۔ صرف ایک سال پہلے، بات محض کاروبار کے بارے میں ہو رہی تھی۔ اب، میدان میں کاروبار نہیں بلکہ سلامتی
کا غلبہ ہے۔

بہرحال یہ ایک اچھی روش نہیں ہے۔

تحریر - Bahadar Ali Khan
مترجم :- اے۔ائی ،
ایڈیٹنگ اور آمیزش ، مائی سیلف

17/05/2025

کُچھ بھائیوں کا خیال یا رائے یا دفاعی تجزیہ ہے کہ بھا-رت اسرا-ئیل کی مدد سے دوبارہ حملہ کرے گا اور پاکستان کا پہلے سے دو گُنا یا تین گُنا زیادہ نُقصان ہو گا۔ عرض یہ ہے کہ اگر پاکستان کا پہلے سے زیادہ یعنی دو گُنا یا تین گُنا نُقصان ہو گا تو بھا-رت نِرا ہی تباہ جائے گا۔ بھا-رت کو اگر مزید 800 سے 1200 یا 1400 ارب ڈالر کا نُقصان ہو گیا تو پھر الحمد اللہ بھا-رت یقینی طور پر ٹُوٹ جائے گا ، بِکھر جائے گا۔ لہذا پاکستان کا دو گُنا یا تین گُنا نُقصان کوئی بہت بڑی قُربانی نہیں ہو گی۔ فلس-طینی اِس سے کئی گُنا بڑی قُربانی دے چُکے ہیں۔ اگر بھا-رت واقعی ٹُوٹ جاتا ہے (اِن شاء اللہ ٹُوٹے جائے گا) تو پھر اسرا-ئیل نہ چاہتے ہُوئے بھی جیتے جی خوف سے ہی مر جائے گا۔ نہ بھی مرا تو روز خوف سے مر مر کر جیئے گا۔ میں پاکستانیوں کی طرف سے قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں ، حلف دے سکتا ہوں ، کہ پاکستانی اس قُربانی کے لئے پُورے مذہبی جذبے اور خُوشی کے احساس کے ساتھ تیار ہیں۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Rawalpindi
Rawalpindi

Opening Hours

Saturday 17:20 - 22:00
Sunday 09:00 - 17:00