23/03/2026
بھٹو کا وہ ماسٹر اسٹروک جب پاکستان نے 'عظیم چین' کا ہاتھ تھاما!
وہ فیصلہ جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا!
"ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی دوستی"
یہ محض الفاظ نہیں، ایک ایسی حقیقت ہے جس کی بنیاد قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بے مثال دور اندیشی اور جرات سے رکھی تھی۔
جب سرد جنگ کے دوران دنیا بلاکس میں بٹی ہوئی تھی، تب بھٹو صاحب نے اپنی کرشماتی شخصیت اور دور اندیش ڈپلومیسی کے ذریعے چین کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ پاکستان کی بقا مغرب کی غلامی میں نہیں بلکہ اپنے عظیم ہمسائے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنے میں ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب چین عالمی سطح پر تنہائی کا شکار تھا، لیکن بھٹو کی بصیرت نے اس دوستی میں نہ صرف پاکستان بلکہ چین کا بھی مستقبل دیکھا۔
بھٹو کی وہ کامیابیاں جنہوں نے تاریخ رقم کی
1963 میں چین کے ساتھ سرحدی معاہدہ کر کے دشمنوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے۔ یہ ایک ایسا اقدام تھا جس نے پاکستان کی سلامتی پر دیرپا اثرات مرتب کیے۔
قراقرم ہائی وے (سی پیک کی بنیاد) کا وہ تصور جو آج پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے۔ اس منصوبے نے دونوں ممالک کو جغرافیائی طور پر متحد کر دیا۔
پاکستان کے دفاعی اور ایٹمی پروگرام کے لیے چین کا تعاون حاصل کرنا بھٹو صاحب کا وہ احسان ہے جسے قوم کبھی نہیں بھول سکتی۔ آج ہم جو دفاعی صلاحیت رکھتے ہیں، اس کی جڑیں اس دوستی میں ہیں۔
پاکستان نے ہی چین اور امریکہ کے درمیان پل کا کردار ادا کیا، جس کا سہرا بھٹو کی بصیرت کو جاتا ہے۔ یہ وہ اقدام تھا جس نے چین کو عالمی سیاست کے مرکزی دھارے میں لا کھڑا کیا۔
"اگر ہم نے چین کے ساتھ دوستی نہ کی ہوتی، تو آج خطے کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔"
ذوالفقار علی بھٹو
آج کا پاکستان اور عظیم چین
بھٹو صاحب نے جو پودا لگایا تھا، آج وہ ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ سی پیک (CPEC) سے لے کر جے ایف-17 تھنڈر تک، ہر سنگِ میل کے پیچھے اس مردِ آہن کی سوچ جھلکتی ہے۔ یہ دوستی آج کل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
سلامِ عقیدت اس لیڈر کو جس نے ہمیں جینا سکھایا اور دوستی نبھانا ۔۔ راجہ طاہر نعیم جنجوعہ انفارمیشن سیکرٹری راولپنڈی ڈویژن ۔۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین پنجاب

21/03/2026
13/03/2026
11/03/2026
08/03/2026