منافق۔

منافق۔

Share

I Just post the things specially Poetry Which attracts me on Facebook,A platform for the poetry Mashup.

Photos from Civil  Engineering's post 20/12/2023
13/09/2023

اتنی بھی فراغت ہے یہاں کس کو میسر
یہ ایک طرف بیٹھ کے رونا ہی بہت ہے

تجھ سے کوئی فی الحال طلب ہے نہ تمنا
اس شہر میں جیسے ترا ہونا ہی بہت ہے

ہم اوڑھ بھی لیتے ہیں اسے وقت ضرورت
ہم کو یہ محبت کا بچھونا ہی بہت ہے

ظفر اقبال

12/07/2023

‏اِک صدا اُس کی مرے لیکھ بدل سکتی ہے
‏اُس کی آواز کے تابع ہیں ستارے میرے

‏عاجز کمال

11/07/2023

اِس شہرِ خرابی میں ، غمِ عشق کے مارے
زندہ ہیں ، یہی بات ، بڑی بات ہے پیارے

یہ ہنستا ہُوا چاند ، یہ پُر نُور ستارے
تابندہ و پائندہ ہیں ، ذروں کے سہارے

حسرت ہے ، کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے
ارماں ہے ، کوئی پُھول ہمیں دِل سے پُکارے

ہر صُبح ، مِری صُبح پہ روتی رہی شبنم
ہر رات ـــــ مِری رات پہ ہنستے رہے تارے

کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اَے غمِ جاناں
کب تک کوئی ، اُلجھی ہُوئی زُلفوں کو سنوارے

”حبیب جالبؔ“

Photos from ‎منافق۔‎'s post 29/06/2023

‏ہم تو تری آواز کو ترسے ہُوئے ہیں دوست
کہتا ہو بھلے سارا جہاں ، عید مبارَک

شہزادقیس

20/06/2023

تیری باتوں پہ ہنس تو دیتے ہیں
دیر تک دل بجھا سا رہتا ہے __ 🖤

نجم صدیق

14/06/2023

اِس طرح خرچ نہ کر ، سیم و زرِ سلکِ وجُود
اے میری عمرِ رواں ، مجھ سے کوئی کام تو لے
اختر عثمان

12/06/2023

یہ راز بہار گلشن ہے اس راز کو کیا سمجھے کوئی
شبنم کو رلایا پھولوں نے یا رات کو شبنم خود روئی
قمر جلالوی

11/06/2023

جس کو ملی وہ، مجھے اسکی ہتھیلی دیکھنی ہے
کیسی ہوتی ہے وہ لکیر، جو میرے ہاتھوں میں نہیں

04/06/2023

تلی دی اِک اِک لکیر دُکھ اے
جے سوچیۓ تے فقیر دکھ اے

فضول نبضاں نہ ٹوہ طبیبا
سمجھ لے رانجھا واں ہیر دُکھ اے

میں عشق سوہنئی دا ویکھیا اے
غریب گھر نوں امیر دکھ اے

ہزار خُشیاں ہنڈاو بھاویں
ایہہ ساہ اے ایہدی اخیر دکھ اے

کلیم کِنی کُو دیر بچسیں
حیات پنچھی اے تیر دکھ اے

شاعر: تجمل کلیم جی

25/05/2023

خواب تیرے ہی رہیں گے ہمیشہ
مُجھے بھروسہ ہے اپنی آنکھوں پر

Want your business to be the top-listed Government Service in Sahiwal?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Sahiwal