05/06/2026
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) پر ایک عام تنقید یہ کی جاتی ہے کہ یہ "مفت رقم" ہے جو غریب خاندانوں کو دوسروں کا محتاج بنا دیتی ہے، انہیں کام کرنے سے روکتی ہے، اور عوامی وسائل کا ضیاع ہے جنہیں صنعتوں اور معاشی ترقی پر خرچ ہونا چاہیے۔ یہ مؤقف عموماً معاشرے کے تعلیم یافتہ اور نسبتاً خوشحال طبقوں کی جانب سے سامنے آتا ہے جو پاکستان کے غریب ترین خاندانوں کی حقیقی زندگی سے بہت دور ہیں۔ یہ سماجی تحفظ (Social Protection) اور ہدفی نقد امداد (Targeted Cash Transfers) کے معاشی کردار کو محدود انداز میں سمجھنے کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ بی آئی ایس پی کے مستحقین اسی رقم پر زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ حقیقت کے برعکس ہے۔ اس وقت بینظیر کفالت پروگرام کے تحت فی خاندان 14,500 روپے فی سہ ماہی دیے جاتے ہیں، جو تقریباً 4,833 روپے ماہانہ بنتے ہیں۔ تازہ ترین ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (HIES) کے مطابق غریب ترین 20 فیصد خاندانوں کی اوسط ماہانہ آمدنی تقریباً 41,851 روپے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بی آئی ایس پی کی امداد ان کی اوسط ماہانہ آمدنی کا صرف 11.5 فیصد بنتی ہے۔
دوسرے الفاظ میں، یہ خاندان اپنی باقی آمدنی دیہاڑی مزدوری، غیر رسمی شعبے کی ملازمتوں، کھیتی باڑی، گھریلو کام، چھوٹے کاروبار، مویشی پالنے یا دیگر غیر یقینی ذرائع سے حاصل کرتے ہیں۔ کوئی بھی خاندان صرف 4,833 روپے ماہانہ پر زندگی نہیں گزار سکتا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ بی آئی ایس پی لوگوں کو کام سے دور کر دیتی ہے، ایک کمزور دلیل ہے۔ یہ رقم کام کا متبادل نہیں بلکہ ایک معمولی مگر انتہائی اہم سہارا ہے جو ایسے وقت میں خاندانوں کی مدد کرتا ہے جب روزگار غیر یقینی ہو، اجرتیں کم ہوں اور خوراک و یوٹیلٹی بلوں کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہوں۔
بی آئی ایس پی کا اصل مقصد لوگوں کو دوسروں کا محتاج بنانا نہیں بلکہ غیر مستحکم آمدنی اور ناگزیر اخراجات کے درمیان فرق کو کم کرنا ہے۔
غریب خاندانوں کے پاس متوسط طبقے جیسی سہولیات نہیں ہوتیں۔ جب ان کی آمدنی کم پڑ جائے تو وہ بچت، مالی اثاثوں، کریڈٹ کارڈز یا انشورنس پر انحصار نہیں کر سکتے۔ ان کے پاس عموماً چند ہی راستے بچتے ہیں: رشتہ داروں یا دکانداروں سے قرض لینا، اپنے محدود اثاثے بیچنا، خوراک کم کرنا، علاج مؤخر کرنا، بچوں کو اسکول سے نکالنا یا دوسروں سے مدد مانگنا۔
اس لحاظ سے بی آئی ایس پی بھیک مانگنے کو فروغ نہیں دیتی بلکہ اس کی ضرورت کو کم کرتی ہے۔
میں نے خود بہت سی غریب خواتین کو یہ کہتے سنا ہے کہ وہ دن میں دو وقت کا کھانا بھی پوری طرح نہیں کھا سکتیں۔ بعض خواتین بتاتی ہیں کہ اگر ان کا بچہ ایک اضافی روٹی مانگ لے تو وہ خود کھانا چھوڑ دیتی ہیں اور خالی پیٹ کھیتوں میں کام کرنے چلی جاتی ہیں۔ ایسے خاندانوں کے لیے یہ رقم "مفت پیسہ" نہیں بلکہ عزت، خوراک اور مشکلات سے تحفظ کا ذریعہ ہے۔
یہ کہانی کا وہ پہلو ہے جو اکثر ٹی وی مباحثوں، اخباری کالموں اور سوشل میڈیا پر نظر نہیں آتا۔ غریب خواتین کی آواز ٹوئٹر، فیس بک، انسٹاگرام، ٹی وی یا اخبارات تک آسانی سے نہیں پہنچتی۔ وہ اپنے گھریلو بجٹ میں 4,833 روپے کی اہمیت پر مضامین نہیں لکھ سکتیں اور نہ ہی ٹاک شوز میں جا سکتی ہیں۔ متوسط طبقے کے تبصرہ نگار کے لیے یہ رقم معمولی ہو سکتی ہے، لیکن ایک غریب خاتون کے لیے جو بھوک، قرض اور غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہی ہو، یہ رقم بھوکے سونے اور پیٹ بھر کر کھانے کے درمیان فرق پیدا کر سکتی ہے۔
اس تنقید میں ایک تضاد بھی موجود ہے۔ جب پٹرول، بجلی یا گیس کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو سب سے زیادہ سبسڈی کا مطالبہ اکثر وہی متوسط اور بالائی متوسط طبقہ کرتا ہے جو غریبوں کی امداد پر تنقید کرتا ہے۔ بجلی کے بلوں، ایندھن اور توانائی کے اخراجات میں ریلیف کا مطالبہ مسلسل کیا جاتا ہے۔
لیکن یہ بھی سبسڈیز ہی ہیں۔
فرق صرف اتنا ہے کہ ایسی غیر ہدفی سبسڈیز کا فائدہ اکثر متوسط اور خوشحال طبقوں کو غریب ترین خاندانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ بڑے گھروں، زیادہ برقی آلات، ایئر کنڈیشنرز، گاڑیوں اور زیادہ توانائی استعمال کرنے والے افراد کو اس سے زیادہ فائدہ پہنچتا ہے۔ لیکن جب ایک غریب عورت کو ایک معمولی نقد امداد دی جاتی ہے تو اچانک بحث "انحصار" اور "وسائل کے ضیاع" پر شروع ہو جاتی ہے۔
یہ ایک اہم سوال پیدا کرتا ہے:
جب سبسڈی متوسط طبقے کو فائدہ دے تو وہ قابل قبول کیوں ہوتی ہے، لیکن جب وہ غریب ترین خواتین کے لیے ہو تو اس پر تنقید کیوں کی جاتی ہے؟
بی آئی ایس پی جیسی ہدفی امداد زیادہ شفاف اور منصفانہ ہے۔ ریاست غریب خاندانوں کی نشاندہی کرتی ہے اور انہیں براہ راست مدد فراہم کرتی ہے۔ یہ امداد قیمتوں میں پوشیدہ نہیں ہوتی اور نہ ہی زیادہ استعمال کرنے والوں کے ہاتھوں غیر متناسب طور پر حاصل کی جاتی ہے۔ یہ ان لوگوں تک پہنچتی ہے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ بی آئی ایس پی کی رقم ضائع ہو جاتی ہے کیونکہ اسے خرچ کر دیا جاتا ہے۔
یہ بھی غریب خاندانوں کے اخراجات اور مقامی معیشت کے طریقہ کار کو غلط سمجھنے کا نتیجہ ہے۔
غریب خاندان اس رقم کو بینک اکاؤنٹس میں جمع نہیں کرتے اور نہ ہی پرتعیش درآمدی اشیاء پر خرچ کرتے ہیں۔ وہ اسے فوری طور پر مقامی سطح پر خرچ کرتے ہیں۔ ایک مستحق خاتون اپنی رقم وصول کرتی ہے اور آٹا، چاول، دالیں، سبزیاں، دودھ، ادویات، اسکول کا سامان، کپڑے، ٹرانسپورٹ یا مقامی دکاندار کا ادھار چکانے پر خرچ کرتی ہے۔
دکاندار پھر اس رقم سے تھوک فروش سے سامان خریدتا ہے۔ تھوک فروش تاجروں، ملوں، ٹرانسپورٹرز اور صنعت کاروں سے خریداری کرتا ہے۔ ٹرانسپورٹر کماتا ہے، فلور مل زیادہ فروخت کرتی ہے اور دکاندار اپنا کاروبار جاری رکھتا ہے۔
اسی کو نقد امداد کا "ملٹی پلائر ایفیکٹ" کہا جاتا ہے۔
پہلا اثر مستحق خاندان پر پڑتا ہے، لیکن دوسرا اثر مقامی منڈی پر پڑتا ہے۔ نقد امداد دیہات، چھوٹے شہروں اور کم آمدنی والی آبادیوں میں قوتِ خرید بڑھاتی ہے، جہاں طلب پہلے ہی کمزور ہوتی ہے۔ اس سے دکانداروں، تاجروں، ٹرانسپورٹرز، مل مالکان اور دیگر مقامی کاروباروں کو فائدہ پہنچتا ہے۔
لہٰذا انتخاب "نقد امداد" اور "معاشی ترقی" کے درمیان نہیں ہے۔ ایک ذمہ دار ریاست کو دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان کو صنعت، برآمدات، مہارتوں، بنیادی ڈھانچے اور روزگار میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، لیکن اسے ان لوگوں کے لیے سماجی تحفظ بھی درکار ہے جو پہلے ہی غریب، غذائی قلت کا شکار، بیوہ، معذور یا غیر رسمی روزگار میں کام کر رہے ہیں۔
صنعتی ترقی ایک درمیانی اور طویل مدتی حکمت عملی ہے، لیکن بھوک ایک فوری مسئلہ ہے۔ ایک بچہ آج کے کھانے کے لیے کسی صنعتی پالیسی کے نتائج کا انتظار نہیں کر سکتا۔ ایک حاملہ خاتون اپنی غذائی ضروریات کو معاشی ترقی تک مؤخر نہیں کر سکتی۔
بی آئی ایس پی کو پاکستان کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ یہ ایک قومی پلیٹ فارم ہے جو ریاست کو لاکھوں غریب اور کمزور خاندانوں، خصوصاً خواتین، سے جوڑتا ہے۔ یہی رابطہ حکومت کو ہنگامی حالات میں فوری امداد پہنچانے، تعلیم و صحت کے پروگراموں سے جوڑنے اور ایک زیادہ جامع فلاحی ریاست کی بنیاد رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
بی آئی ایس پی اب صرف غیر مشروط نقد امداد تک محدود نہیں رہی۔ اس کے تعلیم، صحت اور غذائیت سے منسلک پروگرام انسانی سرمائے (Human Capital) کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ تعلیمی وظائف بچوں خصوصاً لڑکیوں کی اسکول میں داخلے اور حاضری کو فروغ دیتے ہیں، جبکہ صحت و غذائیت کے پروگرام حاملہ خواتین، ماؤں اور بچوں کی مدد کرتے ہیں۔
اصل پالیسی سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو بی آئی ایس پی ہونی چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اسے مزید مؤثر، آفات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط، انسانی ترقی کے پروگراموں سے زیادہ مربوط اور غربت سے نکلنے کے مواقع سے کس طرح جوڑا جائے۔
آخر میں میں صرف یہ کہنا چاہوں گا:
اس معمولی امداد کو "انحصار" کہنا ناانصافی ہے۔
اسے "وسائل کا ضیاع" کہنا اس کی انسانی اہمیت اور معاشی کردار دونوں کو نظر انداز کرنا ہے۔
بی آئی ایس پی لوگوں کو بھکاری نہیں بنا رہی بلکہ انہیں بھیک مانگنے سے بچا رہی ہے۔
یہ لوگوں کو کام سے نہیں روک رہی بلکہ ایسے محنت کش غریب خاندانوں کی مدد کر رہی ہے جن کی آمدنی غیر یقینی اور اجرت ناکافی ہے۔
یہ مردہ خرچ نہیں بلکہ مقامی معیشت میں براہ راست شامل کی جانے والی قوتِ خرید ہے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ریاست کی ذمہ داری صرف سڑکیں، فیکٹریاں اور بازار بنانا نہیں بلکہ اپنے غریب ترین شہریوں کی عزت و وقار کا تحفظ کرنا بھی ہے۔
اپنے اگلے مضمون میں، میں یہ وضاحت کروں گا کہ بی آئی ایس پی کے تعلیم، صحت اور غذائیت سے منسلک نقد امدادی پروگرام کس طرح انسانی سرمائے کی ترقی میں مدد دیتے ہیں اور غربت کے بین النسلی چکر کو توڑنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔