11/07/2026
Al-Namal Alliance
A political party to unite middle class to poorest people for their rights.
11/07/2026
پاکستان کو اس قدر قرضوں کی زنجیروں میں جکڑا جا رہا ہے کہ آنے والی ہر حکومت کے ہاتھ پہلے ہی بندھے ہوں۔
فیصلے پارلیمنٹ میں ہوں یا کابینہ میں، اصل اختیار قرض دینے والوں کی شرائط کے تابع ہو جائے۔ جب معیشت گروی رکھ دی جائے تو خارجہ پالیسی بھی آزاد نہیں رہتی، اور خودمختاری صرف تقریروں کا موضوع بن کر رہ جاتی ہے۔
قرض صرف رقم نہیں لیتا، وہ اختیار بھی لے جاتا ہے۔ اور جس قوم کے فیصلے اس کے اپنے نہ رہیں، اس کی آزادی بھی آہستہ آہستہ محض ایک علامت بن کر رہ جاتی ہے۔
کچھ میں ہی جانتا ہوں جو مجھ پر گزر گئی
دنیا تو لطف لے گئی میرے واقعات کا
ہر ظلم کو تماشۂ قسمت کہا گیا
کس نے حساب مانگا یہاں واردات کا
سچ بولنے کی قیمت بھی آخر عجیب تھی
نیلام ہو گیا تھا سکوں میری ذات کا
وہ تخت پر تھے، ہاتھ میں قانون بھی تھا ان کے
مجھ پر ہی ڈالتے رہے الزام رات کا
میں نے قلم اٹھایا تو دیوار ہل گئی
ان کو تھا خوف میرے ذرا سے خیالات کا
اک روز وقت خود ہی گواہی میں آئے گا
کھل جائے گا ورق بھی سبھی حادثات کا
جو آج قہقہوں میں اڑاتے ہیں درد کو
کل دیں گے وہی ماتم اپنے حالات کا
سر جھک نہ سکا میرا کسی جبر کے حضور
یہی تو حاصل ہے مری پوری حیات کا
کچھ میں ہی جانتا ہوں جو مجھ پر گزر گئی
دنیا تو لطف لے گئی میرے واقعات کا
بہت سے طاقتور خاندان اپنے لیے شرافت اور اخلاقیات کے معیار خود طے کرتے ہیں، مگر جیسے ہی کسی قریبی فرد پر سنگین الزام آئے تو فوراً کہا جاتا ہے: "خاندان کو نہ گھسیٹیں، ہر شخص اپنے فعل کا خود ذمہ دار ہے۔"
یہ بات درست ہے، مگر یہی اصول سب پر یکساں لاگو ہونا چاہیے، چاہے وہ عام آدمی ہو یا کسی بااثر خاندان کا فرد۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر دوہرے معیار نظر آتے ہیں۔ مخالفین کے معاملے میں ایک فرد کا عمل پورے خاندان یا جماعت سے جوڑ دیا جاتا ہے، لیکن طاقتور کے لیے اچانک "عدالت فیصلہ کرے گی" اور قانونی باریکیوں کی باتیں یاد آ جاتی ہیں۔
اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات سے سچ سامنے آنا چاہیے۔ اور اگر ثابت ہو جائیں تو پھر یہ نہیں دیکھا جانا چاہیے کہ ملزم کس خاندان یا اثر و رسوخ سے تعلق رکھتا ہے۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
اصل مسئلہ کسی ایک خاندان سے نہیں، بلکہ اس نظام سے ہے جہاں طاقتور کے لیے نرمی اور کمزور کے لیے سختی محسوس ہوتی ہے۔ انصاف تبھی معتبر ہوگا جب وہ بلاامتیاز ہو۔
شرافت دعووں سے نہیں، کردار سے ثابت ہوتی ہے۔ عزت قانون کے سامنے جواب دہ ہونے سے قائم ہوتی ہے۔ اور خاندانی وقار تب ہی نمایاں ہوتا ہے جب قانون کو رشتوں پر ترجیح دی جائے۔
اگر انصاف ہے تو سب کے لیے ہو۔
اگر قانون ہے تو سب پر ہو۔
اگر احتساب ہے تو طاقتور اور کمزور دونوں کا یکساں ہو۔
ورنہ عوام یہی سمجھے گی کہ قانون کی سختی صرف کمزور کے لیے ہے، جبکہ طاقتور کے لیے الگ معیار موجود ہے۔
# JUSTICE # PAKISTAN Namal Alliance
بندے اٹھانے کیلئے پنجاب پولیس
بندے مارنے کیلئے سی سی ڈی
کاروبار تباہ کرنے کیلئے پیرا فورس
کوئی خدمت رہ تو نہیں گئ
# Al namal Alliance
اس سسٹم سے وہی خوش ہیں جو حرام كما رہے ہیں رزق حلال کمانے والوں کے لئے تو یہ ملک عذاب بن چکا ہے
Namal Alliance
یزید کا سب سے بڑا جرم صرف اس کی ذاتی زندگی کے الزامات نہیں تھے، بلکہ یہ تھا کہ اس نے اقتدار کے حصول اور اس کے استعمال کے بارے میں ایک ایسا راستہ اختیار کیا جس پر صدیوں سے اختلاف اور تنقید ہوتی رہی ہے۔
اصول یہ ہونا چاہیے کہ جو بھی عوام کی رضامندی، انصاف اور قانون کو پامال کر کے جبر، ظلم یا طاقت کے زور پر حکومت قائم کرے، وہ اپنے کردار کے دعووں سے قطع نظر ظلم کا ذمہ دار ہے۔ اقتدار کی اصل عزت اس کی مشروعیت، انصاف اور عوامی رضامندی سے ہوتی ہے، نہ کہ محض طاقت سے .
پاکستان کے بچنے کی دو ہی صورتیں ہیں:یا تو لوٹنے والوں کو ترس آ جائے،یا لُٹنے والوں کو عقل آ جائے۔
جب تک ظلم کرنے والے باز نہیں آتے،اور ظلم سہنے والے جاگتے نہیں،تب تک حالات بدلنا مشکل رہتا ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Sialkot
51310
