18/12/2024
یونان کشتی حادثہ میں جس پاکستانی کی سب سے پہلے ڈیڈ باڈی کی شناخت ہوئی اس کا نام محمد سفیان والد عرفان احمد تعلق ضلع سیالکوٹ سے ہے۔ اس نوجوان کی شناخت اس وجہ سے پہلے ہوگئ تھی کیونکہ اس کی جیب میں اس کا پاسپورٹ تھا
Latest News Historical places Beauty of Sialkot either from Rural as well as urban Here u can directly share picture news incidents from around sialkot
Sialkot (Urdu: سيالكوٹ), is a city and capital of Sialkot District located in the north-east of the Punjab province in Pakistan at the foot of Kashmir hills near the Chenab River. The city is about 125 km (78 mi) north of Lahore. The recorded history of Sialkot covers thousands of years. Sialkot has, since its foundation, changed hands from Hindu, Buddhist, Persian, Greek, Afghan, Turk, Sikh, Mugh
18/12/2024
یونان کشتی حادثہ میں جس پاکستانی کی سب سے پہلے ڈیڈ باڈی کی شناخت ہوئی اس کا نام محمد سفیان والد عرفان احمد تعلق ضلع سیالکوٹ سے ہے۔ اس نوجوان کی شناخت اس وجہ سے پہلے ہوگئ تھی کیونکہ اس کی جیب میں اس کا پاسپورٹ تھا
10/12/2024
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ☉
نجی تعلیمی ادارے ELC والے کاشف محمود کے چھوٹے بھائی آصف محمود قضائے الہی سے وفات پا گئے ہیں انکی نماز جنازہ آج دوپہر 2:30 پر ماڈل ٹائون گرائونڈ میں ادا کی جائے گی اور تدفین امام صاحب قبرستان میں کی جائے گی
15/11/2024
💕باپ دو دن سے بیٹی کے نمبر پر ڈسکہ کے نواحی گاؤں کال کر رہا تھا مگر نمبر بند تھا ، وہ گھبرا کر بیٹی کے سسرال چلا آیا اور پوچھا زارا کہاں ہے ؟ فون کیوں بند ہے اس کا ، جبکہ زارا کا دو سال کا بیٹا گھر میں موجود تھا ، ساس اور نندوں نے بتایا دو دن پہلے رات کو کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی ، موبائل بھی ساتھ لے گئی ۔ ہم تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ، خاموشی سے تلاش کررہے ہیں ۔۔۔
باپ کو یقین نہ آیا ، چار سال پہلے اس نے بہت چاؤ سے اس کا رشتہ اس کی خالہ صغری کے بیٹے قدیر سے کیا ، اور وہ دونوں بہت خوش تھے ، ہاں سگی خالہ اس سے اکثر نالاں رہتی تھی مگر وہ پھر بھی بیٹی کو نباہ اور صبر کی تلقین کرتا رہا ۔ اس نے تلاش گمشدگی کے لیے پولیس کی مدد لی ، پولیس نے سسرالیوں کے بیان لیے ، زارا کی ساس اور نندوں کو شامل تفتیش کیا گیا ، ہر ایک کے بیان میں تضاد موجود تھا ، جس پر پولیس نے ان کو گرفتار کر لیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ زارا بھاگی نہیں بلکہ 11 نومبر کی رات انہوں اس کو مار کر پھینک دیا تھا۔ اور اس کے شوہر کو بھی یہی بتایا کہ وہ کسی سے رابطے میں تھی اور گھر سے نکل گئی ، جبکہ زارا سات ماہ کی حاملہ تھی ، اس کے ساتھ ننھی جان بھی ماری گئی ۔
جھگڑا کیا تھا؟ وہی ساس بہو کی ازلی چپقلش اور نند بھابی کا بیر ۔۔۔ زارا کی پانچ نندیں تھیں اور قدیر ان کا اکلوتا بھائی ۔۔ اور انہوں نے خود زارا کا رشتہ مانگا اور اپنے ہاتھوں سے رخصت کرکے گھر لائیں ۔ جھگڑا پیسے کا تھا ، ان کا خیال تھا ان کا بیٹا سارا خرچ بہو کے ہاتھ رکھتا ہے جبکہ اسے سب کچھ ماں بہنوں کو دینا چاہیے ، وہ خود زارا کو دیں ۔ انہی جھگڑوں سے تنگ آ کر قدیر اسے اٹلی بھی لے گیا اور کچھ ماہ پہلے سسرال چھوڑ گیا ۔ اس بار ساس اور نندوں نے سوچا کہ زارا کو واپس ہی نہ جانے دیا جائے اور قدیر کی ساری کمائی ہمیں ملے ، پلان کے تحت لاہور سے کسی کو بلایا ، فجر سے کچھ دیر پہلے سوئی ہوئی زارا کے منہ پر تکیہ رکھ کر سانس بند کی اور موت کے حوالے کردیا ۔۔۔ اب مسئلہ لاش کا تھا کہ وہ کہاں کریں ۔۔ اور شناخت کیسے چھپائیں تو سر کو دھڑ سے الگ کرکے چولہے پر جلایا گیا تاکہ نین نقش مسخ ہوجائیں ، پھر جسم کاٹ کر دو الگ الگ بوریوں میں ڈالا ، ایک بوری نہر میں اور ایک دور جھاڑیوں میں پھینک دی ۔ پولیس نے ان کی نشان دہی پر مختلف جگہوں سے جسم کی باقیات برآمد کر لیں ۔
15/11/2024
💕باپ دو دن سے بیٹی کے نمبر پر ڈسکہ کے نواحی گاؤں کال کر رہا تھا مگر نمبر بند تھا ، وہ گھبرا کر بیٹی کے سسرال چلا آیا اور پوچھا زارا کہاں ہے ؟ فون کیوں بند ہے اس کا ، جبکہ زارا کا دو سال کا بیٹا گھر میں موجود تھا ، ساس اور نندوں نے بتایا دو دن پہلے رات کو کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی ، موبائل بھی ساتھ لے گئی ۔ ہم تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ، خاموشی سے تلاش کررہے ہیں ۔۔۔
باپ کو یقین نہ آیا ، چار سال پہلے اس نے بہت چاؤ سے اس کا رشتہ اس کی خالہ صغری کے بیٹے قدیر سے کیا ، اور وہ دونوں بہت خوش تھے ، ہاں سگی خالہ اس سے اکثر نالاں رہتی تھی مگر وہ پھر بھی بیٹی کو نباہ اور صبر کی تلقین کرتا رہا ۔ اس نے تلاش گمشدگی کے لیے پولیس کی مدد لی ، پولیس نے سسرالیوں کے بیان لیے ، زارا کی ساس اور نندوں کو شامل تفتیش کیا گیا ، ہر ایک کے بیان میں تضاد موجود تھا ، جس پر پولیس نے ان کو گرفتار کر لیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ زارا بھاگی نہیں بلکہ 11 نومبر کی رات انہوں اس کو مار کر پھینک دیا تھا۔ اور اس کے شوہر کو بھی یہی بتایا کہ وہ کسی سے رابطے میں تھی اور گھر سے نکل گئی ، جبکہ زارا سات ماہ کی حاملہ تھی ، اس کے ساتھ ننھی جان بھی ماری گئی ۔
جھگڑا کیا تھا؟ وہی ساس بہو کی ازلی چپقلش اور نند بھابی کا بیر ۔۔۔ زارا کی پانچ نندیں تھیں اور قدیر ان کا اکلوتا بھائی ۔۔ اور انہوں نے خود زارا کا رشتہ مانگا اور اپنے ہاتھوں سے رخصت کرکے گھر لائیں ۔ جھگڑا پیسے کا تھا ، ان کا خیال تھا ان کا بیٹا سارا خرچ بہو کے ہاتھ رکھتا ہے جبکہ اسے سب کچھ ماں بہنوں کو دینا چاہیے ، وہ خود زارا کو دیں ۔ انہی جھگڑوں سے تنگ آ کر قدیر اسے اٹلی بھی لے گیا اور کچھ ماہ پہلے سسرال چھوڑ گیا ۔ اس بار ساس اور نندوں نے سوچا کہ زارا کو واپس ہی نہ جانے دیا جائے اور قدیر کی ساری کمائی ہمیں ملے ، پلان کے تحت لاہور سے کسی کو بلایا ، فجر سے کچھ دیر پہلے سوئی ہوئی زارا کے منہ پر تکیہ رکھ کر سانس بند کی اور موت کے حوالے کردیا ۔۔۔ اب مسئلہ لاش کا تھا کہ وہ کہاں کریں ۔۔ اور شناخت کیسے چھپائیں تو سر کو دھڑ سے الگ کرکے چولہے پر جلایا گیا تاکہ نین نقش مسخ ہوجائیں ، پھر جسم کاٹ کر دو الگ الگ بوریوں میں ڈالا ، ایک بوری نہر میں اور ایک دور جھاڑیوں میں پھینک دی ۔ پولیس نے ان کی نشان دہی پر مختلف جگہوں سے جسم کی باقیات برآمد کر لیں ۔
18/09/2024
اطلاع گمشدگی
سائیں غلام رسول گاوں اسومیتا ڈاکخانہ کینٹ سیالکوٹ
جو کہ 17 ستمبر 2024 سے لا پتہ ہیں
اہل علاقہ سے گزارش ہے کسی نے ان کو دیکھا ہو یا جانتے ہو کہ کہاں ہیں تو ان بکس کریں گاؤں اسومیتا
29/07/2024
سیالکوٹ پولیس نے سائنسی انداز میں تفتیش کرتے ہوئے 6 گھنٹوں میں قتل ٹریس کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا، چھینی ہوٸی رقم اور آلہ قتل برآمد
سیالکوٹ: سیالکوث شہر میں آج صبح بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کوارڈینیٹر سید ارتضیٰ حیدر گیلانی ساکن چونڈہ کو ملک کالونی صدر کینٹ تھانہ کی حدود میں قتل کر کے اس سے رقم 85 لاکھ چھیننے والا ملزم سید وصی الحسن گیلانی مقتول کا حقیقی کزن نکلا، چھینی گٸی رقم اور آلہ قتل موزر برآمد، ملزم نے 5 گھنٹے قبل اپنے فیس بک پیج پر مقتول کے قتل کی پوسٹ بھی لگائی تھی۔ملزم ارتضی کے ساتھ موٹرسائیکل پر ساتھ آیا پیچھے بیٹھا تھا اور سر میں گولی مار کر قتل کرکے رقم سمیت فرار ہوگیا تھا.
❤️charhdapunjab
04/04/2024
Sialkot Sports House, Sialkot, Punjab, United India 1931
بنگلہ دیش میں دنیا کے سب سے بڑے ٹیکسٹائل سٹی کا افتتاح ہوا
انڈیا میں سامسنگ،آئی فون پلانٹ کا افتتاح ہوا
اور پاکستان میں آٹے کی لائنوں کا افتتاح ھوا