My words

My words

Share

Save your heart for someone who really cares. انسان
مٹی کا وہ لٹو ہے
جوگھوم پھر کربنانے والے
کے ہاتھ میں آجاتا ہے 😊

12/09/2023

کہانی ٹھیک بنتی ہے نظارے ٹھیک ملتے ہیں
عموما وقت اچھا ہو تو سارے ٹھیک ملتے ہیں
ہمیں جو بھی ملا اپنا وہی ڈسنے میں ماہر تھا
نجانے کیسے لوگوں کو سہارے ٹھیک ملتے ہیں

07/01/2021

چلانّی ،،، ٹآرہ ،،، باورچی خانہ ،،، کچن

بالکل ایسا ہی چھوٹا سا کچن تھا ،،، جس کی دیواروں پر اماں نے ماہر مستری کی طرح ہاتھ سے مٹی کا لیپ کیا تھا ،،، اس دیوار پر کانے کے فریم میں جڑا شیشہ جھولتا رہتا ، جس کی ٹرے پر سرسوں کے تیل کی بوتل ،، تاج کی شکل کی سرمے دانی، پاوڈر اور کنگھی پڑی رہتی ، یہ چار پانچ چیزیں اس دور کی فیشن انڈسٹری تھیں۔
کچن کا دروازہ جالی کا تھا ،،، جس پر سردیوں میں پٹ سن کا ٹاٹ لٹکا رہتا ، صبح صبح تیار ہو کر جب کچن میں ٹاٹ کی دبیز تہہ پر آلتی پالتی مار کے چولہے کے قریب بیٹھنا تو توے پر اماں کی انگلیوں کے بیچ گھومتی شرماتی آلو والی روٹی بھوک بھڑکا دیتی ،،،، اماں روٹی کو یوں گھماتی جیسے کسی عرس پر کوئی مست ملنگ گھومتا ہے ، جونہی روٹی جنگیر میں آتی مکھن کا پیڑا شڑپ سے بغل گیر ہوتے ہوئے خود کو روٹی کے عشق میں فنا کر دیتا ، گویا دو جسم ایک جان ہوں۔
دہی کی کٹوری میں شکر کا چھڑکاو کر کے روٹی کے کناروں کو میری پوسٹ کی طرح اگنور کرنا اور عین وسط میں سے کڑکتا نوالہ اٹھا کر دہی میں غسل دینا ،،، ٹھنڈے ہاتھوں میں گرمی روٹی ٹکور کرتی ، اور اسی اثناء میں دوسری روٹی نیکسٹ پلیز get a side , and make a room for me کہتی ہوئی چنگیر کی رونق بڑھاتی۔
چائے کی نقش و نگار والی پیالی سے ٹھٹھرتے ہونٹ جو لگنے تو گویا زندگی کی رمق لوٹ آنی ، ایک ایک گھونٹ بڑے اہتمام سے نگلنا۔۔۔
جب کہنا اچھا امی جی ، چلتا ہوں تو ۔۔۔
اپنے آٹے والے ہاتھ پلو سے صاف کر کے اماں نے سر پر پھیر کے محبت بھرا بوسہ دینا ، اتنا معتبر اتنا، معتبر جذبہ کہ جس کی تاثیر روح تک محسوس ہوتی ۔
جب کچے گھر کی جگہ پکی دیواریں کھڑی کرنے کا فیصلہ ہوا تو آپا نے کال کر کے کچھ وقت کے لئے مہلت مانگی ، جیسے پرانے گھر میں انکا کچھ رہ گیا ہو ، گھر آئیں، اور ان در و دیوار کو ایک ٹک دیکھتی رہیں ، اسپیشلی وہ کچن کی دیوار جس پر انہوں نے حسین پھلکاریاں کندہ کی تھیں ، کیسے محبت ہو جاتی ہے ان مٹی کے در و دیوار سے ،، آپا نے ہم سب کو آبدیدہ کر دیا ،،، سب کی آنکھیں نم اور دل غمزدہ تھے ۔۔۔
یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس آنگن میں رہنے والے مکینوں سے ہی برکتیں اور رونق تھی بس ،،، اور وہ سارا منظر آنکھوں کے آگے گھوم گیا جب صحن میں دھوپ سینکتے تمام بہن بھائی اور ابا اماں بیٹھا کرتے تھے ۔۔۔۔ دل کی آنکھوں سے وہ بیتا زمانہ دیکھ رہی تھیں ، جیسے ابھی کچھ روز بعد وہ نئے طرز تعمیر کا گھر تو دیکھ پائیں گی مگر وہ منظر شاید پردہ تخیل پہ وہ تصویر دوبارہ نہ بنا پائے جو اسوقت موجود تھی ۔۔۔
سب کچھ ویسا ہی نظر آرہا تھا ،،،، مگر اس سارے منظر میں اچانک ہی کچھ دھندلا گیا تھا ،،،
ماں ،،، نظروں کے سامنے سے اچانک ہنستی کھیلتی اوجھل ہو گئی تھی ۔ کپکپاتے ،،، لرزتے ہونٹوں اور گھگیائی آواز میں آپا بس اتنا ہی کہہ پائی ،،،
ماں ۔۔۔ ماں یاد آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
۔۔۔آسی

15/07/2020

کر کے وضو تو باہروں پاک تے ہو گیا
جسم نوں لے کے وچ نماز کھلو گیا
تو تے جھک دا دل تیرا نئیں جھک دا
مک جانیاں کم تیرا نئیں مک دا
لوڑ ہے تیری لوڑ نہ تیرے چم دی
نیت بھاج نماز نہ کسے کم دی
کر لے دل دی صفائی تو کر لے دل دی صفائی.

10/06/2020

میں تو چُپ ہوں کہ اندر سے بہت خالی ہوں
کچھ لوگ پُر اسرار سمجھتے ہیں مجھے

میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوں
دیکھنے والے فنکار سمجھتے ہیں مجھے

وہ اِس پار ہیں اُن کے لئے اُس پار ہوں میں
وہ جو اُس پار ہیں اِس پار سمجھتے ہیں مجھے

نیک لوگوں میں مجھے نیک گِنا جاتا ہے
اور گنہگار، گنہگار سمجھتے ہیں مجھے

میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوں
اور سب لوگ اداکار سمجھتے ہیں مجھے

جَڑ اُکھڑنے سے جھُکاؤ ہے میری شاخوں میں
دور سے لوگ ثمربار سمجھتے ہیں مجھے

کیا خبر کل یہی تابوت میرا بن جائے
آپ جس تخت کا حقدار سمجھتے ہیں مجھے

میں تو خود بِکنے کو بازار میں آیا ہوا ہوں
اور دُکاندار خریدار سمجھتے ہیں مجھے

روشنی بانٹتا ہوں سرحدوں کے پار بھی میں
ہم وطن اس لئے غدّار سمجھتے ہیں مجھے

جُرم یہ ہے کہ اِن اندھوں میں ہوں آنکھوں والا
اور سزا یہ ہے کہ سردار سمجھتے ہیں مجھے

دوستوں نے بھی مجھے راہ کی دیوار سمجھا
میں سمجھا کے میرے یار سمجھتے ہیں مجھے

لاش کی طرح سرِ آب ہوں میں اور شاہد
ڈوبنے والے مددگار سمجھتے ہیں مجھے♥️

07/11/2019

*پہلے لگتا تھا تم ہی دنیا ہو*
*اب یہ لگتا ہے تم بھی دنیا ہو*

07/11/2019

کبھی یاد آؤ تو اس طرح
کہ لہو کی ساری تمازتیں
تمہیں دھوپ دھوپ سمیٹ لیں
تمہں رنگ رنگ نکھار دیں
تمہیں حرف حرف میں سوچ لیں
تمہیں دیکھنے کا جو شوق ہو
تو دیارِ ہجر کی تیرگی کو
مژہ کی نوک سے نوچ لیں
کبھی یاد آؤ تو اس طرح
کہ دل و نظر میں اُتر سکو
کبھی حد سے حبسِ جنوں بڑھے
تو حواس بن کے بکھر سکو
کبھی کھِل سکو شبِ وصل میں
کبھی خونِ جگر میں سنور سکو
سرِ رہگزر جو ملو کبھی
نہ ٹھہر سکو نہ گزر سکو
مرا درد پھر سے غزل بنے
کبھی گنگناؤ تو اس طرح
مرے زخم پھر سے گلاب ہوں
کبھی مسکراؤ تو اس طرح
مری دھڑکنیں بھی لرز اٹھیں
کبھی چوٹ کھاؤ تو اس طرح
جو نہیں تو پھر بڑے شوق سے
سبھی رابطے سبھی ضابطے
کسی دھوپ چھاؤں میں توڑ دو
نہ شکستِ دل کا ستم سہو
نہ سنو کسی کا عذابِ جاں
نہ کسی سے اپنی خلش کہو
یونہی خوش پھرو،
یونہی خوش رہو
نہ اُجڑ سکیں ،
نہ سنور سکیں
کبھی دل دُکھاؤ تو اس طرح
نہ سمٹ سکیں ، نہ بکھر سکیں
کبھی بھول جاؤ تو اس طرح
کسی طور جاں سے گزر سکیں
کبھی یاد آؤ تو اس طرح!!!!!!
کبھی یاد آؤ تو اس طرح!!!!!!

محسن نقوی

28/10/2019

سوشل میڈیا کی حریم شاہ کی وزیرآعظم ہاٶس کابینہ میٹنگ ہال میں وڈیو دیکھ کر ایک پرانا واقعہ یاد آگیا پاکستان کے صدر تھے یحیی خان اس وقت کی سپر سٹار تھی جسکا نام تھا ترانہ وہ صدر سے ملنے ایوان صدر گٸ تو گارڈز نے دروازے پر روک لیا ترانہ نے کہا ایک بار صدر صاحب سے پوچھ لو کہیں تمھاری نوکری نہ چلی جاۓ گارڈ اندر گیا واپس آیا اور ترانہ کو ایوان صدر میں بھیج دیا کافی دیر بعد جب ترانہ واپس آٸ تو ان ہی گارڈز نے ترانہ کو سلیوٹ مارا ترانہ نے مسکراتے ہوۓ سلیوٹ کی وجہ پوچھی تو گارڈز نے ندامت سے سر جھکا کر جواب دیا پہلے آپ صرف ترانہ تھی اور اب قومی ترانہ بن گٸ ہو😂😂😂😂😂

26/10/2019

یا اللہ تو رحیم ہے کریم ہے
میرے مولا تو رحم کر اپنا کرم کر
یا اللہ تو ایسا وقت کسی دشمن کو بھی نہ دکھا.!

26/10/2019

وہ ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہونے والی انتہائی تمیز دار لڑکی تھی.. اسلامی تعلیمات کی پابند بھی تھی... صوم و صلوٰۃ سے بھی کبھی روگردانی نہ کرتی تھی.. دینی تعلیم کے حصول کے لیے والدین نے ایک دینی مدرسے میں داخل کرایا..
وہاں کے معلم گرامی نے استاد اور شاگرد کے مقدس رشتے کا لحاظ نہ کرتے ہوئے ساری حدود پامال کیں اور اس لڑکی کے ساتھ دست درازی کرنے کی کوشش کی..
لیکن رکیں!
کیا آپ کو یہ خبر عجیب لگی ؟
نہیں لگی ہو گی...
کیونکہ آج کل تو اس طرح کی خبریں اتنی عام ہوچکی ہیں کہ اپنی بہن، بیٹیوں کو سکول، کالج، یونیورسٹی یہاں تک کہ دینی مدارس میں بھیجتے ہوئے بھی کئی طرح کے وسوسے دل و دماغ میں گھر کئے ہوتے ہیں.. حتیٰ کہ گھر میں آکر پڑھانے والے اساتذہ کے بھی کئی قصے زبان زد عام ہیں.. اور ایسے واقعات صرف بچیوں کے ساتھ نہیں بچوں کے ساتھ بھی رونما ہوتے رہتے ہیں.. ہمارے معاشرے میں ایسے معاملات کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بچے، بچی اور خاندان کی بدنامی ہوگی.. اور اسی طرز کو دیکھتے ہوئے ہمارے زیادہ تر ناسمجھ بچے، بچیاں ایسی کوئی بھی بات اپنے بڑوں تک پہنچنے ہی نہیں دیتے اور یوں شیطان صفت عناصر اپنی ناپاک حرکات جاری رکھتے ہوئے کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں.....
یہ تو ہے تصویر کا ایک رخ ، دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ قصور وار ہمیشہ استاد ہی نہیں ہوتے، کچھ حدوں سے نکلے ہوئے شاگرد بھی اپنا گھٹیا پن ظاہر کرنے سے باز نہیں رہتے
ایسے کئی بے حیا طلباء و طالبات اپنے ناجائز مطالبات یا کسی بغض کی وجہ سے اساتذہ پر بہتان باندھتے ہیں جیسا کہ ہم نے حال ہی میں ایم اے او کالج لاہور کے ایک پروفیسر صاحب کے معاملے میں دیکھا جنہوں نے جھوٹے الزام اور بدنامی کے باعث خود کشی کر لی..)
کہتے ہیں کہ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا گیا..
کیا کہ کوئی مرد کسی غیر محرم کو پڑھا سکتا ہے؟
فرمایا:
"اگر پڑھانے والا بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ ہو اور پڑھنے والی رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہ، جس جگہ پڑھایا جا رہا ہو وہ بیت اللہ شریف ہو اور جو کچھ پڑھایا جا رہا ہو وہ کلام اللہ شریف ہو،پھر بھی اجازت نہیں ہے"
لیکن اسلام مجبوری کی صورت میں اس بات کی اجازت ضرور دیتا ہے کہ غیر محرم ایک دوسرے کو تعلیم دے سکتے ہے بشرطیکہ پردہ کا مناسب انتظام ہو.. لیکن شریعت کے معاملات میں یقیناً علماء کرام ہماری بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں..
خیر ہم واپس آتے ہیں اصل واقعہ کی طرف جس کی اوپر بات ہو رہی تھی.. استاد صاحب کی دست درازی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے وہ وہاں سے بھاگ کر گھر پہنچی، گھر والوں کو تمام واقعہ سے آگاہ کیا، انہوں نے بھی اپنی بچی کا ساتھ دیا.... یہاں ان کا کردار قابلِ تحسین ہے کہ وہ بیٹی کو ساتھ لے کر پولیس سٹیشن گئے اور معلم کے خلاف پرچہ درج کرانے کی کوشش کی.. لیکن پولیس تو پولیس ہے.. یوں تو کسی بھی بچی کی عزت بچانے کی خاطر بات کو صیغہ راز میں رکھا جانا چاہیے لیکن اس معاملے میں لڑکی کا ویڈیو بیان ریکارڈ کیا گیا اور اسے سوشل میڈیا پر بھی ڈال دیا گیا.. وہ بیچاری شرم کے مارے چہرہ ڈھکنے کی کوشش کرتی تو تفتیشی افسر صاحب ہاتھ ہٹانے کا حکم صادر کرتے.. خیر جیسے تیسے مقدمہ درج ہوا.. استاد صاحب گرفتار ہو گئے..ان کے حق میں کچھ طلباء اور سیاسی تنظیموں نے مظاہرے بھی کئے. لڑکی اور اس کے گھر والوں پر مختلف حیلوں بہانوں سے مقدمہ واپس لینے کے لئے دباؤ ڈالتے رہے.. لیکن یہ لوگ اپنے عزم پر قائم رہے..
لڑکی جب اپنے سالانہ امتحانات کے لیے مدرسے گئی تو وہاں موجود ایک لڑکی نے اسے مدرسے کی چھت پر چلنے کے لیے کہا...بہانہ یہ تھا کہ چھت پر موجود کسی دوسری لڑکی کو ان کی مدد درکار تھی.. جب وہاں پہنچی تو آٹھ دس برقع پوش مرد موجود تھے.. انہوں نے اسے دھمکایا اور استاد جی کے خلاف مقدمہ واپس لینے کی بات کی.. جب وہ نہ مانی تو پیٹرول چھڑک کر اسے آگ لگادی گئی.. لڑکی کا اسی فیصد جسم جھلس گیا، پانچ دن زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اس نے داعی اجل کو لبیک کہا.. لیکن اس شدید کرب کے عالم میں بھی اس نے اپنے بیان میں یہی کہا کہ اس نے کسی پر جھوٹا الزام نہیں لگایا....
لڑکی کی موت کے بعد چھ ماہ کے اندر اندر مقدمہ کا فیصلہ ہوا اور آج 16 افراد کو سزائے موت سنا دی گئی..
یہ کہانی ہے نصرت جہاں کی.. جو عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش (سابقہ مشرقی پاکستان) سے تعلق رکھتی تھی..
دوسری طرف اگر بات کی جائے اپنے گھر کی تو ہمارے ہاں.. موجودہ پاکستان میں بھی نو ماہ پہلے ایک اندوہناک واقعہ ہوا تھا جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے معصوم بچوں کی آنکھوں کے عین سامنے ان کے والدین کو بے دردی سے قتل کر دیا تھا.. وزیر اعظم صاحب قطر کے دورہ پر تھے اور واپس پہنچتے ہی فراہمیِ انصاف کی یقین دہانی کرائی تھی..
آج اس مقدمہ کا بھی فیصلہ آیا ہے...
تمام ملزمان شواہد کی عدم موجودگی کی بنیاد پر عدالت سے بری ہو گئے ہیں....

فیض نے التجا کی تھی..
مِٹ‌ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
منصف ہو تو حشر اُٹھا کیوں‌ نہیں‌ دیتے

یہاں مخلوق مٹ بھی گئی اور انصاف تب بھی نہیں ہوا..

(تحریر : ڈاکٹر عرفان ریاض)

25/10/2019

‏جِس کےپلّو سے چمکتے ہوں شہنشاہ کےبُوٹ
‏ایسی دربار سے بخشی ہوئی دستار پہ تُھو

‏جو فقط اپنے ہی لوگوں کا گلا کاٹتی ہو
‏ایسی تلوار مع صاحبِ تلوار پہ تُھو

‏شہر آشوب زدہ،اُس پہ قصیدہ گوئی
‏گنبدِ دہر کے اس پالتو فنکار پہ تُھو

‏سب کے بچوں کو جہاں سے نہ میسّر ہو خوشی
‏ایسے اشیائے جہاں سے بھرے بازار پہ تُھو

‏روزِ اوّل سے جو غیروں کا وفادار رہا
‏شہرِ بد بخت کے اُس دوغلے کردار پہ تُھو

‏زور کے سامنے کمزور، تو کمزور پہ زور
‏عادلِ شہر ترے عدل کے معیار پہ تُھو

‏کاٹ کے رکھ دیا دنیا سے تری راغب نے
‏اے عدو ساز، تری دانشِ بیمار پہ تُھو

11/10/2019

ارون کمار کئی ہفتوں کی مسافت طے کر کے ہمالیہ کی چوٹیوں میں دنیا کے ٹھنڈے ترین مقام پر ایک جوگی سے ملنے پہنچا
ارون نے جوگی سے کہا کہ اس جگہ پر آپ کیسے رہ رہے ہیں؟
میرے لیے تو چند منٹ گزارنا مشکل ہوا جا رہا ہے۔
جوگی نے کہا اس کے دو کارن ہیں۔
میری اکیس سال کی تپسیا اور سبز چائے۔
آپ کیا لیں گے تپسیا یا چائے؟
ارون کمار گھبرا کر بولا ، سبز چائے.
جوگی نے آواز لگائی ۔
*تپسیا! دو پیالی چائے تو لانا*🤪😂😂😂

02/10/2019

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
"اپنے آپ کو ، اپنی اولاد کو ،اپنے خادموں کو اور اپنے مال کو بددعا نہ دو ،(ایسا نہ ہو ) کہ وہ گھڑی قبولیت کی ہو اور تمہاری دعا قبول ہو جائے۔"
(سنن ابی داود:1532)

Want your business to be the top-listed Government Service in Sialkot?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Pakki Kotly Daska Road Sialkot
Sialkot
51310