Mohammad Ali Official
Provincial President Of Pakhtoonkhwa Mili Awami party Khyber PakhtoonKhwa
چمن
پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے چمن میں عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی پاکستان کو چلانا اور بچانا چاہتا ہے ہم ان کے ساتھ ہیں، بچانے اور چلانے کا طریقہ یہ ہوگا کہ یہاں ایک آئین ہوگا جس کاہر ادارہ آئین میں متعین کیے گئے فریم ورک کا پابند ہوگا، منتخب پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی،داخلہ اور خارجی پالیسیاں وہاں سے نکلیں گی یہ پاکستان ترقی بھی کرے گا۔ افغانستان کے ساتھ ہمارے انتہائی برادرانہ تعلقات ہیں،افغانستان آزادی کے بارے میں انتہائی حساس ہے افغانستان کی آزادی کا احترام کرنا چاہیے اور افغانوں کو بھی ہر صورت میں پاکستان کی آزادی کا احترام کرنا چاہیے۔اگر کوئی اس کا حل چاہتا ہے تو پاکستان اپنے ہمسایوں کی ایک اجلاس بُلائیں اس میں افغانوں پر جو جو الزامات ہیں وہ لگائیں ان کے جواب سنیں،گولیوں، دھماکوں سے مسائل حل اور ختم نہیں ہوں گے، برطانیہ، امریکہ، روس افغانستان میں داخل ہوئے انہیں بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑااور افغانستان سب کا قبرستان بن گیا۔ خدا نخواستہ اگر ہم نے یہ غلطی کی تو یہ سارا علاقہ پشتون بلوچ یہ سارا علاقہ خطرناک آگ کی لپیٹ میں آجائے گا،ہمارے خطے میں ایران کی جو صورتحال ہے یہاں دنیا کے تمام طاقتور ممالک امریکہ،روس، چین،برطانیہ، فرانس اگر ان کا میدان جنگ ہمارا یہ خطہ بنے تو پھر بہت بڑی بربادی ہوگی۔یہ ہم دو سال سے کہہ رہے تھے کہ ہمارے حکمرانوں کی عقل کا امتحان ہے۔ ہیں ہر صورت اپنے خطے کو جنگ سے نکالنا ہے اور تمام ممالک ایک دوسرے کی آزادی، سالمیت وخودمختاری کوتسلیم کریں۔ افغانستان کے معاملے میں لوگ مداخلت نہ کریں، افغانستان تاریخی طور پر آزاد رہا ہے۔اگر خدانخواستہ افغانستان ٹوٹا تو پاکستان اور ایران بھی ٹوٹ جائیں گے۔ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔افغانستان کے ہمسایہ ممالک بیٹھ کر مسئلہ حل کریں، اگر افغانستان کی موجودہ حکومت پر لوگ الزام لگاتے ہیں تب بھی ہم پہلے افغانستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔لاکھوں پاکستانی کینیڈا، اٹلی اور دیگر ممالک کی دوہری شہریت رکھتے ہیں۔ہر پشتون اپنا تذکرہ بنوائے اور لوگوں کے سامنے واضح طور پر دکھائے کہ میرے پاس یہ تذکرہ موجود ہے۔یہ خاردار تار امریکہ کے کہنے پر لگائی گئی ہے۔جلسہ سے عام سے پشتونخوامیپ کے مرکزی ڈپٹی چیئرمین عبدالرؤف لالا، مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، مرکزی سیکرٹری نواب ایاز خان جوگیزئی، مرکزی سیکرٹری ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان نے خطاب کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض ضلع قائمقام سیکرٹری جمال خان اچکزئی نے سرانجام دیئے جبکہ تلاوت کلام پاک کی سعادت مولوی شراف الدین صاحب نے حاصل کی۔ جلسہ عام میں ایڈووکیٹ دارو خان اچکزئی، خان شوقی اور عبداللہ خان رحمان کہول نے اپنے خاندانوں سمیت مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہوکر پشتونخواملی عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، مذاکرات ہی خطے میں امن و ترقی کی ضمانت بن سکتے ہیں، سرحدی علاقوں میں ٹریڈ فری زون قائم کرنے کی ضرورت ہے۔محمود اچکزئی نے کہا کہ ملک کو سیاسی و انتظامی مسائل سے نکالنے کا واحد حل 73 19کے آئین کی بحالی میں ہے، منتخب پارلیمنٹ کو ہی طاقت کا سرچشمہ تسلیم کرنا ہوگا۔محمود اچکزئی نے کہا کہ پاکستان میں تمام اقوام کو برابری کے حقوق دینے کی ضرورت ہے، چاروں صوبوں کو وسائل اور اختیارات میں مساوی حصہ دیے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچ ماما اپنی آزادی کا جنگ لڑ رہے ہیں میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے نام پر لوگ ہماری گاڑیوں کو جلاتے ہیں،پشتونوں سے گاڑیاں، نقدی اور زیورات چھینتے ہیں۔ہمیں بتانا ہوگا کہ جب آپ اپنی آزادی کا جنگ لڑ رہے ہیں زندہ باد لیکن میرے گھر کے سامنے لوگوں کو مارنا کون سی آزادی ہے میرے گھر کے سامنے غنڈا ٹیکس چوری ڈکیتی لوٹ کھسوٹ یہ سب کیا ہے؟ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پاکستان کی حکمرانی میں پشتونوں کاحصہ نہ ہو یہاں کے وسائل پر یہاں کے بچوں کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ افغانوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ ناقابل برداشت ہے افغانستان کے لوگ یہاں اپنی مرضی سے نہیں آئے بلکہ آپ اور امریکہ لے آئیں اور یہاں بسایا۔ جب آپ ان لوگوں سے ان کے اپنے وطن کو برباد کروانے کا کام کر رہے تھے تو انہیں عثمان غنی،صحابہ کرام،مجاہدین اور پتہ نہیں کیا کیا بڑے القابات دے رہے تھے آج ان کے یہاں پیدا ہونے والے بچوں کو،پڑھنے والے بچوں کو بڑی ذلالت والے طریقے سے نکال رہے ہیں۔ جب ایک بچہ یہاں پیدا ہوا ہے اور ان سب کو اردو زبان آتی ہے کسی نے بھی اپنا وطن آج تک دیکھا نہ ہو اور آپ زبردستی اسے اٹھا کر وہاں پھینک دیں اس سے نفرتیں بڑھیں گی۔ محمود خان اچکزئی نے تاجروں کو بھی خبردار کیا کہ اپنے سامانوں کو بلوچوں کے راستے سے اور انہیں کرائے دینے سے گریز کریں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم ایسے حالات میں چمن آئے ہیں کہ وطن پر ہر طرف بدبختی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔میں چمن کے لوگوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ بھوکے ہو، آپ کے تجارتی دروازے بند ہوں اور میں آپ کے ساتھ کھڑا نہ ہوں تو میں پشتون نہیں، لیکن آپ بھی میرے ساتھ کھڑے رہو گے۔ ہر گھر سے ایک ایک آدمی پشتونخوا کو دینا ہوگا ہم اپنی قومی لشکر بنائیں گے۔ لشکر اس لیے نہیں کہ کسی کو گالی دے گے بلکہ اس لیے کہ وطن کی مفادات کا تحفظ کر سکیں۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک کی تمام بارڈر کھلے ہوئے ہوں اور بلوچ آزادی کی جنگ لڑ رہا ہو پھر بھی تفتان بارڈر کھلا ہے کاروبار جاری ہے جبکہ دوسری جانب چمن کے لوگوں پر رزق اور روزگار کے دروازے بند ہوں یہ سب ناقابل قبول ہے۔ قبائل کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کیلئے ٹیکس میں رعایت دینے کی ضرورت ہے۔بے شک چمن کے لوگوں سے تمام اشیاء پر ٹیکس لیا جائے لیکن انہیں تجارت کے راستے کھولنے دیے جائیں۔مشاہد حسین اور وسیم سجاد کی سربرائی میں کمیٹی آئی تھی انہوں نے سوائے اسلحہ و منشیات کے تمام اشیاء کے لانے اور لے جانے کی اجازت دی تھی لیکن آج پشتونخوا وطن کے لوگوں پر رزق روزگار کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں جو ناقابل قبول ہے۔آج ہمارے وطن میں ہر طرف ظلم و بربریت کی تاریکیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ ڈیورنڈ خط کے دونوں اطراف ایک ہی قوم ایک ہی قبیلے کے لوگ آدھے ادھر آدھے ادھر آباد ہیں کوئی بندہ جس کا گھر یہاں اور زمینداری وہاں ہو آخر وہ اپنی زمینوں میں کیسے جا سکتا ہے۔اس کا ایک ہی حل ہے تار کو اکاڑ کر پھینکنا ہوگا۔محمود خا ن اچکزئی نے کہا کہ جب ون یونٹ ٹوٹا تو پشتونوں کو اس طرح تقسیم کیا گیا کہ وہ اپنی شناخت ہی بھول گئے۔بلوچ حیران تھے کہ کیا کریں، لیکن انہیں آسمان سے تحفے کے طور پر صوبہ مل گیا۔چمن کے لوگوں نے خان شہید کے ساتھ قربانی دی، تمام قومیں ان کے ساتھ کھڑی رہیں اور خان شہید کو صوبائی اسمبلی تک پہنچایا۔ چمن کے لوگوں کا پشتونخوا ملی عوامی پارٹی پر بڑا احسان ہے، اب اس کی حفاظت میں بھی آپ میرا ساتھ دو گے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب پاکستان بننا جب پاکستان بنا اور نیشنل عوامی پارٹی نے صوبوں کے بننے کے وقت اپنے منشور سے انحراف کرتے ہوئے دوسرے لوگوں کی خواہشات کے مطابق صوبے بنائے جا رہے تھے تو خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی جو پورے بر صغیر پاک و ہند کے درخشاں ستارے مانے جاتے تھے مجبورا ان تین اضلاح تک محدود کر دیے گئے کہ انہوں نے سب سے پہلے یہ آواز اٹھائی کہ صوبے غلط بنائے گئے۔وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے کہا کہ ہم بلوچ کے ساتھ نہیں بلکہ برٹش بلوچستان کو پشتو نخوا وطن کے ساتھ منسلک کرنا چاہیے تاکہ صوبے خالص، قومی،لسانی،ثقافتی بنیادوں پر نیپ کے منشور کے تحت بنے۔اس بات پرڈیورنڈ خط کے دونوں اعتراف سے خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کوبُرے القابات سے نوازاگیا۔ چمن کے لوگوں نے سازشوں کے باوجود یہاں کے عوام نے پشتونخوا میپ کا انتخابات میں بھرپور ساتھ دیا ہے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کرنل،میجر، برگیڈیر صاحبان اگر واقعی کسی کو پاکستان عزیز ہے تو سن لے پاکستان چوری اور ڈاکے سے نہ بن سکتا ہے نہ چل سکتا ہے۔ووٹ چرانے سے پاکستان نہیں بن سکتا کیا انجام ہوگا جب آپ ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے ووٹ چرا رہے ہوں نتائج کو تبدیل کر رہے ہوں اور پھر ہم بھی وہاں ا ٓکر کھڑے ہوں تب کیا ہوگا؟۔اگر کوئی پاکستان کو بچانا اور چلانا چاہتا ہے تو اس واحد حل یہ ہے کہ آئین کو ماننا ہوگا۔ آئین کو جس طرح چھیڑا گیا اس لیے واپس اپنی حالت میں لانا ہوگا عوام کے حقیقی ووٹوں سے منتخب پارلیمنٹ کو با اختیار بنانا ہوگا میڈیا اور عدلیہ کو آزاد کرنے ہو گے، فوج سمیت تمام جاسوسی ادارے اپنے فریم میں رہیں گے،قوموں کے وسائل پر ان کے بچوں کا واک و اختیار ہوگا تب ہی پاکستان بچ سکتا ہے اور چل سکتا ہے۔آخر میں محمود خان اچکزئی نے نعرہ تکبیر اللہ اکبر، گران افغانستان زندہ آباد، جمہوری پاکستان زندہ آباد، پشتونستان زندہ آباد اور چمن زندہ آباد کے نعریں لگائیں۔
"دا ډېره بده خبره، ډېر ناروا کار دی چې موږ په سايه ولاړ وو او تاسو په لمر کې ناست واست. خير دا زموږ د حق ګټلو د عرفات میدان دی"
~ اپوزيشن ليډر مشر محمود خان اچکزی
پارلیمنٹ میں اگر آپ کا رویہ، مجھے یہ خطرہ ہے، اگر آپ کا رویہ عمران خان کے ساتھ، پرسنلی عمران خان کے ساتھ ایک قیدی کی عزت سے یہ رویہ رہا، اور آپ پتا نہیں کن کن وہ لگا کے، پچاس سال جیل آپ نے کبھی سنا ہے؟ کیا ہوا ہے، قتل کیا ہے انہوں نے؟ انہوں نے صرف یہ کہا ہے کہ میرا چھینا ہوا مینڈیٹ مجھے واپس دو۔ اس پر آپ پچاس سال جیل دیتے ہیں۔ ورنہ آپ کو ملٹری کورٹ، کوئی جنرل ہے، وہ کرنا ہے کیا بلائے ہیں یہ۔
پھر اسمبلیاں بیٹھنے کا وہ کچھ نہیں ہوگا۔
خدانخواستہ. استعفے دیئے جا سکتے ہیں...
خدانخواستہ اگر آج عمران، عمران نہ کہے، کوئی مرکزی کمیٹی کہہ دے، کہ پنجاب کی اسمبلی سے نکلو، سندھ کی اسمبلی سے نکلو، قومی اسمبلی سے نکلو، ہم پشاور اپنی حکومت چلائیں گے، پھر کیا کون سنبھالے گا؟ ان اسمبلیوں کا کیا فائدہ ہے، جس کا یہ بھی نہیں ہو کہ آپ ایک قیدی کے لئے ملاقات لے سکیں۔ اگر یہ ہوا پھر کیا کرے گا شہباز؟
خيبر پشتونخوا کے عوام نے اس گھٹن کے وقت میں یہ ہمت کی کہ رات کے رزلٹ اناؤنس ہونے تک ہزاروں کی تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں پہ کھڑے رہے۔ اس سے پہلے آپ کو پتا ہے، عدالت کے ذریعے ایک پارٹی کا انتخابی نشان چھینا گیا۔ ایسے آدمی کو خطرے کا نشان ڈکلیئر کر دیا گیا جو اس ملک کا وزیراعظم بنا تھا، انہوں نے خود بنایا تھا۔ کہ اس آدمی کو ووٹ دینا، اس کی پارٹی کو ووٹ دینا، یہ بہت بڑا جرم ہے۔ جب منڈیاں لگیں گی تو اس بہت بڑی اکثریت پاکستان کی اس منڈی، اس بولی میں حصہ نہیں لے گی۔ ڈاکو، ٹریفکرز، چور، لکیت، جائز ناجائز طریقے سے دولت میں کھیلنے والے لوگ، وہ آئیں گے۔ دکھ ہوتا ہے،
عدالتوں کی پوزیشن کیا بن گئی ہے، انصاف نام کی چیز بالکل غائب ہو گئی ہے۔ پریس کی آزادی ایک تصور، ایک آئیڈیلزم کی طرف چلا گیا ہے کہ یہ کون سا ہوا ہے۔ ان حالات میں بھی کچھ مذاکرات... دو متحرک گروپوں میں ہوتے ہیں۔ جب دو متحرک گروپ ایک اس پہ لڑ رہے ہوں یا مذاکرات کیسے کیے جائیں، کس سے کیے جائیں؟ دنیا جانتی ہے، ساری دنیا جانتی ہے، وہ لوگ جو سن رہے ہیں وہ بھی جانتے ہیں۔ پچھلے انتخابات دنیا میں کہیں بھی، دنیا میں کہیں بھی اس قسم کے انتخابات نہ ہوئے ہیں اور نہ شاید آئندہ ہوں گے۔ آکوپینٹ فورسز ہوتی ہیں، ملک پہ قبضہ ہوتا ہے، افریقہ میں، ایشیا میں، ادھر ہمارے ہاں برصغیر، ہند و پاک میں وہاں بھی انتخابات ہوتے تھے، کچھ رنگ انتخابات کا ہوتا تھا۔ فروری کے انتخابات میں باقاعدہ معافی چاہتا ہوں، یہ کہتے ہوئے دکھ ہوتا ہے، پچیس کروڑ کا ملک، بہت بڑی جدوجہد آزادی کے لیے انگریزوں کے خلاف اور بھی غیر ملکیوں کے خلاف، دکھ ہوتا ہے اس ملک میں۔ باقاعدہ منڈی لگائی گئی۔ اسمبلی کی قیمت یہ ہے۔ اب منڈی جب لگے گی تو منڈی میں پھر کون حصہ دار ہوگا؟ کون اس منڈی میں بولی دے گا؟
اس اس طرز کے حکمرانوں کے ساتھ کیسے مذاکرات ہوں گے؟ مذاکرات تو یہ ہیں کہ آپ تحریک انصاف کا لوٹا ہوا مینڈیٹ انہیں واپس کریں، بھلا کرے خدا جوانوں کا، ہزاروں کا، لاکھوں کا، کارکنوں کا، پتہ نہیں دو سو پچیس، دو سو پچاس، تین سو، پونے دو سو، انتخابی نشانات پہ انہوں نے الیکشن لڑا۔
کسی کو مرغی ملی، کسی کو کبوتر، کسی کو ڈھول، کسی کو باجا، کسی کو یہ... اس پہ بھی ہمت کر دی انہوں نے، اپنے اپنے نشانات پہ ووٹ لگائے۔ اور جو کچھ گیم ان لوگوں نے بنائی تھی، جو پاکستان کا اپنے آپ کو دوست سمجھتے ہیں، پاکستان کی بقا کے اپنے آپ کو ضامن سمجھتے ہیں، ان کی وہ ساری کھیل کو وہ کر دیا، تہس نہس بام کر دیا۔
دنیا کو پتہ چلا، دنیا نے گانا گایا، ان حالات میں مذاکرات ہوں گے تو اس بات پہ کہ بھئی آپ میرے گھر کا سارا سامان بھگا کے لے گئے ہیں، واپس کرو۔ یہ واپس کرنے کے موڈ میں ہیں یا نہیں ہیں؟ مذاکرات تو تب ہوں گے۔ دکھ ہوتا ہے
ہم سارا اگر دوش، سارا الزام اگر ہم اسٹیبلشمنٹ پہ لگائیں گے، غلط ہے۔ اگر اسٹیبلشمنٹ کے بعض لوگ یہ چاہتے تھے، کم سے کم ان سیاسی پارٹیوں کو زیب نہیں دیتا تھا اور مستقبل کا مورخ... نہیں، ابھی فوری جب یہ تحقیقات ہوں گے، انگشت نمائی ان کی طرف کرے گا، جن کے آباء و اجداد نے، جن کے بزرگوں نے جمہوریت کے لیے جدوجہد کی تھی، قید کاٹی تھی، ایون اس کے لیے مرے تھے۔ ان پارٹیوں کا ووٹ ان حالات میں مستبد قوتوں کو ملنا، اپنے آئین کو... اس کو وہ فقیر کی گدڑی کی طرح اس کو پیوند لگانا، عدالت کے پر کاٹنا، کہ ہر قسم کی پریس کی آزادی پہ پابندی لگانا، ان کو زیب نہیں دیتا تھا۔
چھبیسویں آئینی ترمیم، میں... صحیح معلومات میرے پاس نہیں ہیں، چھبیسویں آئینی ترمیم یا کوئی بھی ترمیم بمشکل دو ووٹ سے، ٹو تھرڈ میجورٹی تین ووٹ سے... ہماری اس اسمبلی میں چھوٹے صوبوں کے ووٹ بہت زیادہ ہیں۔ یہ ووٹ کیوں گئے؟ یہ ووٹ کیوں گئے اور کس نے دیئے؟ اس کا وہ اپنے عوام کو کیا جواب دیں گے؟ یا اپنے ضمیر کو کیا جواب دیں گے؟ یا اپنے ان بزرگوں کی قربانی کو کیا جواب دیں گے؟
پاکستان سر زمین بے آئین رہا پہلے دن سے۔ تاریخ بہت لمبی چوڑی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہم نے عوام کی رائے نہیں مانی، ہم نے عوام کی اس کو وہ نہیں کیا..."
پچیس کروڑ انسانوں کا ملک بغیر آئین کے چلے بغیر انصاف کے چلے کسی یعنی حالت اب یہ ہوگئی ہے اگر کسی ضلعے کا آدمی خدانخواستہ کسی ڈویژن کا آدمی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی شکایت کرنے جو ہمارے دفاتر ہیں ڈسٹرکٹ ڈپٹی کمشنر کا یا کمشنر کا فلانا کا جب وہ بیچارہ وہاں جاتا ہے تو جن لوگوں کے خلاف وہ شکایت کرنا چاہتا ہے وہ وہاں معزز مہمان کی حیثیت سے بیٹھے رہتے ہیں اس دفتر میں وہ معزز ہوتے ہیں غریب آدمی کہاں جائے گا دنیا میں انسان ہر چیز میں گزارا کر سکتا ہے بے انصافی میں گزارا مشکل ہو جاتا ہے بے انصافی اور اس قسم کی بے انصافی ابھی تو خدانخواستہ میں تو یہ فقرہ استعمال کرتے ہوئے مجھے شرم بھی آتی ہے خدانخواستہ ہماری حالت یہ ہو گئی ہے جج بھی برا مانیں گے پتہ نہیں لوگ بھی برا مانیں گے اگر کسی غریب کی ود ڈیو اپالوجی ناموس پہ بھی پیسے والے نے دعویٰ کر دیا وہ جیت جائے گا وہ چیختا رہے گا کہ بابا خدا کو مانو میرے گواہ ہیں عالم میرے گواہ ہیں دنیا میری گواہ ہے کہ میری شادی ایسے ہوئی ہے وہ کہتے ہیں تیری نہیں ہوئی یہ کیسے پھر چلے گا لوگوں کے لئے آپ کونسا راستہ چھوڑ رہے ہیں تو سر پھر آپ کے پاس کونسا راستہ ہے اگر مذاکرات نہیں تو پھر کیا سڑکوں پر نکلیں گے
مذاکرات یہ ہیں کہ جن لوگوں کے ساتھ ہم بات کر رہے ہیں یا جو لوگ ان کو سپورٹ کر رہے ہیں بیہائنڈ دی سین، انہیں ہم کیا... ہم کوئی کیلکولس اور ٹرگنومیٹری یا جیومیٹری کا خطرناک مسئلہ پیش نہیں کر رہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ آئین ہونا چاہیے اور ہم سب، ہم سب انڈر اوتھ ہیں۔ ہم سب انڈر اوتھ ہیں۔ ہم نے اوتھ لیا ہے آئین کا۔ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ خدا کو مانو، جس جس آدمی نے، جس جس ادارے نے اس آئین کے دفاع کا، اس آئین کو رسپیکٹ دینے کا، اس آئین کو اوپر رکھنے کا، اوتھ لیا، مہربانی کریں اپنے اوتھ کا احترام کریں۔ اوتھ وعدہ ہوتا ہے۔ اوتھ اپنے انسان سے... ضمیر سے وعدہ ہوتا ہے، اگر آدمی بیلیور ہے خدا سے وعدہ ہوتا ہے، اپنے عوام سے وعدہ ہوتا ہے
میں تصدیق کرتا ہوں کہ ان کے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے ہوئے ہیں۔
موجودہ حکومتی عہدیداروں میں ان کے پرانے ساتھی شامل ہیں جس پر انہیں شدید دکھ ہے۔
لوگوں کو بلیک میل کرنے اور ڈرانے دھمکانے کی پالیسیوں نے پاکستان کو بربادی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
سیاست کو بدنام کرنے کی کوشش اور موجودہ ریاستی کریک ڈاؤن کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
مجھے افسوس ہے کہ کم عمر بچے اور 75 سال کی ضعیف خواتین ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی جیلوں میں کسمپرسی کا شکار ہیں۔
دنیا میں کہیں بھی نوجوانوں کے جذبۂ آزادی کو تشدد اور مار پیٹ کے ذریعے اس طرح نہیں کچلا جاتا۔
گھروں میں زبردستی گھسنے اور چادر و چاردیواری کا تقدس پامال کیا اور یہ صریح فسطائیت اور پاگل پن ہے۔
میں مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، اے این پی اور جے یو آئی جیسی بڑی سیاسی جماعتوں کے طرزِ عمل پر کڑی تنقید کرتا ہوں۔
ان جماعتوں کو اپنے ضمیر اور ووٹرز کے سامنے شرم آنی چاہیے کہ وہ اس فسطائیت کی حامی بن گئی ہیں۔
اس ظلم کو سپورٹ کرنے کے نتیجے میں مستقبل میں ان پارٹیوں کا سیاسی وجود اور نام و نشان ختم ہو جائے گا۔
مولانا صاحب ان کے اور سب کے دوست ہیں۔ مگر وہ بھی اس نظام کا حصہ ہیں۔ ۔
مولانا فضل الرحمن میرے بڑے عزیز دوست ہیں ۔ مولانا صاحب، مطلب کچھ تو ہے۔ یہ کیسے کیسے ہوا؟ کیسے کیسے یہ ترمیمیں ہوئیں؟ کیسے ہوئیں؟ کیسے۔ کون، ان میں سے کون نہیں سمجھتا تھا کہ عدالت کے اس طرح پر کاٹنا پاکستان کے لیے، عوام کے لیے، انسانیت کے لیے، اسلام کے لیے، شرافت کے لیے... مولانا صاحب کیوں نہیں چلتے یا کیوں نہیں چلے یہ سوال تو ان سے متوجہ ہوگا۔ ہمارے دوست ہیں، ہمارے ساتھی رہے ہیں۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ہم سب بسم اللہ کر کے بیٹھ جائیں۔ نہیں ہے مشکل، نہیں ہے مشکل، کون سا مشکل کام ہے؟ اسمبلیاں... کبھی کبھی پلٹتا ہوں آئین، کبھی کبھی ایسے ورق گردانی کرتا ہوں۔ تین چار پانچ، بس یہ کام پارلیمنٹ کا رہ گیا ہے۔ فلانے سن سے لے کر فلانے سن تک ایوب کے دور میں
دنیا میں کشمکش کے دوران ریزسٹنس بھی ہوتی ہے، مذاکرات بھی ہوتے ہیں۔ معنی خیز مذاکرات، ہر وقت، معنی خیز مذاکرات ہر وقت جہاں بھی ہوں گے ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ اور ہم کوئی بری وہ نہیں مانگ رہے، ہم کہتے ہیں بھئی بسم اللہ، عمران خان پاکستان کا الیکشن جیتا ہے اس کی جماعت نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں وزیراعظم اس کو ہونا چاہیے تھا الیکشن جو جیتا ہے۔ یعنی آپ اندازہ لگائیں، بالکل اپنے محب وطن ہونے کی وہ فارمولا ہی بدل دیا ہے کہ جو آدمی بکتا ہے وہ اچھا پاکستانی ہے۔"
نہیں ہے کہ ان سے مذاکرات کیے
اگر اسٹیبلشمنٹ ہے بھی تو اس کا چہرہ کوئی اور ہے۔ وہ چہرہ جو بھی ہے وہ ریپریزنٹیٹو چہرہ ہے۔ اس سے ہم نے مذاکرات کرنے ہیں، ہم نے کون سی وہ کرنی ہے۔ کیا ہوگا ابھی انصاف کی کیا حالت ہے؟ آپ جرنلزم کی کیا حالت ہے؟ بڑی بڑی تنخواہیں ججوں کی پتہ نہیں کیا کیا۔ مہربانی کریں یہ ملک بہت بری مشکل میں ہے، یہ ملک بالکل خدانخواستہ، خدانخواستہ بالکل ڈوبنے جا رہا ہے۔ انڈس کے اس پار آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟"
اگر کوئی واقعی چاہتا ہے کہ پاکستان واقعی ہمارا ملک ہے... یہ ہمارا ملک ایسا ملک بھی نہیں ہے، دنیا جہان کی نعمتوں سے پُر ملک۔ کسی چیز کا نام لیں جو اس ملک میں نہیں ہے۔ پھر دس کروڑ انسان، نو کروڑ انسان غربت کی لکیر کے نیچے گزارا کیوں کر رہے ہیں؟
میں بار بار گھسے پٹے فقرے استعمال کرتا ہوں، ہمارے ان کاریگر ہاتھوں نے، ہمارے ان غریبوں نے، پشتون، بلوچ، سرائیکی، سندھی، یہاں آپ ان کو جواب نہیں دے رہے تھے، انہوں نے جا کے اس بدترین گرمی میں سعودی عرب کو بنایا۔ انہوں نے کویت بنایا، انہوں نے دبئی بنایا، دنیا جہان جہاں بھی دیکھیں آپ کو پاکستان کا محنت کش... ملائیشیا، انڈونیشیا۔ آپ ان لوگوں کو یہاں کیوں موقع نہیں دیتے؟ کس چیز کی کمی ہے؟
سعودی عرب کے پاس صرف پیٹرول ہے، کویت کے پاس صرف پیٹرول ہے۔ ہمارے سارے روزگار ادھر بھاگ رہے ہیں، آپ نے انہیں بے روزگار کر دیا، ان کی مادرِ وطنوں پہ آپ نے قبضہ کر لیا۔ یہاں دنیا کی کوئی نعمت ایسی نہیں ہے جو آپ کے ملک میں نہیں ہے۔ سسٹم میں نقص ہے، سسٹم میں نقص ہے۔ آپ لوگوں کی اپنے... بار بار میں یہ کہتا ہوں، سندھ ہے، ایک صوبہ ہے، بلوچستان ہے، ایک صوبہ ہے، جس میں پشتون بلوچ رہتے ہیں، خیبر ہے، سندھ اور علاقے ہیں... آپ صرف ایک فقرہ کر دیں، اور آئین بھی یہی کہتا ہے، آئین بھی یہی کہتا ہے، آپ ان سے یہ کہہ دیں کہ بابا سندھی مانڑو، بلوچ بھائی، پشتون بھائی، سرائیکی بیٹھا، پنجاب کے لوگ، بابا آپ کے وطنوں میں اللہ پاک نے جو نعمتیں پیدا کی ہیں اس پہ پہلا آئینی طور پہ آپ کے بچے کا حق ہے۔ 50 پرسنٹ یہ بھی... لہٰذا یہ ٹمپریچر... آپ نے گولیاں اٹھائی ہوئی ہیں،
پنجاب کے لوگ، بابا، آپ کے وطن میں اللہ پاک نے جو نعمتیں پیدا کی ہیں، اُس میں پہلا آئینی طور پر آپ کے بچے کا حق ہے۔
گولیاں چلا رہے ہیں ۔
اسپیکر کی کرسی قابل قدر ہے، ہمارے آئین کا حکم ہے، دنیا کے آئین کا حکم ہے، کہ جو اس کرسی پر بیٹھے گا وہ غیر جانبدار ہو گا۔ وہ پارٹیزن نہیں ہو گا۔
وہ اپنے ممبران کی، پارلیمنٹ کی، طاقت اور توقیر کی بات کرے گا۔ جو اسپیکر، یہ نہیں کہ، میرا دوست رہا ہے، ہم ایک کولیگ رہے ہیں تین چار سال۔
جو اسپیکر اپنی پارلیمنٹ کی طاقت کو مرڑتا دیکھتے ہوئے، اسپیکر کی کرسی پر بیٹھتا ہے، He is not a speaker. وہ اسپیکر نہیں ہے۔
جو وزیراعظم اپنی طاقت، جوڈیشری کی طاقت کو، اُس کے پر نکالنے میں دستخط کرتا ہے، وہ وزیراعظم نہیں ہے۔
وہ کسی اور ایجنڈے پر ہے۔
آیاز صادق صاحب غیر جانبدار نہیں ہیں۔
نہ، آیاز صادق صاحب اسپیکر کا رول ادا کر رہے ہیں، نہ کوئی وزیراعظم کا رول ادا کر رہا ہے۔
پتہ نہیں کہاں سے اُن کی ڈوریاں، چلائی جا رہی ہیں۔ وہ کٹھ پتلیوں کی طرح ہم ناچ رہے ہیں۔ یہ خطرناک ہے، وہ جو کٹھ پتلیوں کو نچا رہے ہیں، وہ بھی پاکستان کے ساتھ ظلم کر رہے ہیں۔
آپ ایک عام اور کو، اچھا پاکستانی کہتے ہیں؟
جو بھی ہے، مہربانی کریں، رحم کریں اِس ملک پر۔
یہ ملک اِس طرح نہیں چلے گا۔
آپ نے مینڈیٹ کی مخالفت کی، اُس کے نتیجے میں پاکستان ٹوٹا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے الیکشن کروایا، لوگ نکلے، ہم اس لیے نہیں نکلتے، یہ عوام کروڑوں لوگ، جب سڑکوں پر آجاتے ہیں پھر ان کو روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے انتخابات کیے، الزامات ہوئے، ایک طوفان کھڑا ہوا، مردہ باد زندہ باد، بھٹو غریب پھانسی ہوا۔
یہ لوگ نکلیں گے، ہم رکوئسٹ کرتے ہیں، ہم نہیں نکالنا چاہتے، بسم اللہ، آئیں بیٹھیں،
پاکستان کو چلائیں ایک شریف ملک جس میں ایک آئین ہوگا، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی، بین الاقوامی تعلقات، اسٹیبلشمنٹ اپنا رول ادا کرے دنیا میں کرتی ہے۔
ملاقاتیں ہماری ہوئی ہیں، لمبی چوڑی ہوئی ہیں۔
نہیں وزیراعظم کے ساتھ نہیں، جن کے ساتھ ہوئی ہیں لمبی چوڑی ملاقاتیں ہوئی ہیں، دوستانہ ماحول میں ہوئی ہیں۔ ابھی جب نتیجہ خیز نہ ہوں ان مذاکرات کا افشا کرنا کہ کب ہوا اور کس نے کہا، کون آیا، آپ کدھر گئے... مذاکرات ہوتے رہتے ہیں، مذاکرات ہوں گے، اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہے۔
پاکستان کا ایک پاپولر ترین ادمی (عمران احمد خان نیازی) ہے، پاکستانی قیدی ہے، وہ بیمار ہے، آپ اس کو رات کے اندھیرے میں پی آئی ایم ایس اسپتال لے آتے ہیں
وہ کہتے ہیں مجھے فلانے اسپتال لے جاؤ، یہ کون سا ایسا مطالبہ ہے جس میں آسمان ٹوٹ پڑے گا
یہ انا کا مسئلہ بنانا، یا اپنے لوگوں کو جیل میں آپ نے کوشش کی عمران خان کو توڑنے کی وہ نہیں ٹوٹا
تو یہ تو مثبت پراپرٹی ہے اگر وہ ٹوٹ جاتا کیا فائدہ ملتا آپ کو کیا فائدہ ملتا، ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں
پہلے تو بات یہ ہے کہ اگر آپ اس کو چھوڑ دیں کیا آسمان گرے گا، کیا آسمان گرے گا، کیا آسمان گرے گا
کیوں آپ نے اس کو وہ مسئلہ بنا دیا ہے، اور وہ اتنا خطرناک آدمی تھا تو وزیراعظم کیوں بنایا، آئیں بسم اللہ کریں
خدا کا، توبہ کریں اسٹیبلشمنٹ بھی توبہ کرے آپ بھی کریں میں بھی کروں، سب مل کے بات کریں آئیں اس ملک کو چلائیں
ہمارا خطہ بڑی خطرناک پوزیشن میں ہے، ساری ایٹمی قوتیں، ایران، امریکہ جنگ کی وجہ سے متوجہ ہیں ہمارے خطے میں
ان میں ان چالاکیوں سے کام نہیں چلے گا، ہم نے ان میں گزارا کرنا ہے، ہم نے گزارا کرنا ہے، اور سر اٹھا کے گزارا کرنا ہے
جاتی عمرہ میرے لیے وہاں جانا نا اجازت کی ضرورت تھی، ایک ٹیلیفون کر کے میں آ سکتا تھا جا سکتا تھا، یا پیپپز پارٹی کے تمام دوستوں سے بالکل بھائیوں جیسا
بینظیر سے میرے بہن جیسے تعلقات تھے، میں لڑتا تھا ان سے زرداری کی موجودگی میں، ہم لڑتے تھے بھئی یہ ہم کیا کر رہے ہیں؟
یہ وہ بات نہیں ہے پتہ نہیں کیا ہوگیا، دکھ ہوتا ہے
انشاءاللہ، جب سینیٹی ول پریویل (Sanity will prevail)
مذاکرات ہونگے، اور ہونے چاہیے، یعنی اب فرض کرو، ہمارا مسئلہ پھنس گیا ہے
تو اس کے لیے مذاکرات، سرکار کی بھی ضرورت ہے ہماری بھی ضرورت ہے، آئیں بیٹھیں، آئیں بیٹھیں
یعنی آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ عمران خان کو زندگی بھر نہیں چھوڑنا، یا خدانخواستہ اس کی زندگی لینی ہے
مضبوطی ان باتوں سے نہیں ہوتی۔ پاکستان ٹھیک ہے، ایک تو قدرت کی طرف سے ایک مہربانی ہے کہ پاکستان۔۔۔ پاکستان ایک کوریئر۔۔۔ اس پر بھروسہ کیا جا رہا ہے کہ میرا پیغام وہاں ٹھیک جائے گا، میرا پیغام یہاں ٹھیک آئے گا۔ لیکن پاکستان وہ رول نہیں پلے کر سکتا جو میڈیٹر (mediator) پلے کرتے ہیں۔"
سیاسی لوگ گھبرا گئے ہیں، جنہوں نے غلطیاں کیں وہ بھی گھبرا گئے ہیں، ہم تو ویسے بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ گھبرا گئے ہیں، آپ طے شدہ چیزوں کو چھیڑ رہے ہیں۔ صوبے بن گئے ہیں بڑی مشکل سے، آپ کہتے ہیں ہم صوبے توڑیں۔ (18th amendment) یونینیمس (unanimous) ایک فیصلہ ہوا، آپ کہتے ہیں اس کو ہم رول بیک (roll back) کریں۔
میں تو تجویز کروں گا، ریکویسٹ (request) کروں گا تمام سیاسی پارٹیوں کو کہ آئیں بسم اللہ کریں۔ جس طرح ایٹینتھ امینڈمنٹ ہم نے یونینیمسلی (unanimously) پاس کی تھی، آئیں سب اکٹھے مل بیٹھ کر، جو غلطیاں ہوئی ہیں، میں آپ کی غلطی معاف کر دوں، آپ میری بھی غلطی معاف کر دیں۔ یونینیمسلی جس طرح ہم نے ایٹینتھ امینڈمنٹ کے لیے کام کیا تھا، اسی طرح ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی (restoration of democracy)، ریسٹوریشن آف پارلیمنٹ (restoration of parliament)، ریسٹوریشن آف دی کانسٹیٹیوشن (restoration of the constitution)، ریسٹوریشن آف انڈیپنڈنٹ جوڈیشری اینڈ انڈیپنڈنٹ پریس (restoration of independent judiciary and independent press)۔ آئیں بسم اللہ اس پہ کام کریں، ٹائم بہت تھوڑا ہے، ہم پھنس جائیں گے۔
چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم کو رول بیک کیے بغیر ہم آرام سے بیٹھیں گے ہی نہیں، ہم نے کسی طرح نہیں چھوڑنا
مہنگائی کی جو حالت ہے، غریب آدمی، غریب آدمی۔۔۔ ہم نے، ہم نے کچھ نہیں کیا۔ میں بار بار وہ کرتا ہوں، میں نے اپنے ایک بھتیجے سے پوچھا، بھتیجا، بھانجا، اس کے بچے شاید لاہور میں پڑھتے ہیں، میں نے کہا کیا فیس دیتے ہو؟ کہتا ہے ایک لاکھ روپے مہینے کا۔ ایک لاکھ روپے مہینے کا! ایک ایجوکیشن۔۔۔ دنیا میں ایسے نہیں ہوتا، دنیا میں قومیں جبری تعلیم، جبری۔۔۔ تم نے اپنا بچہ بھیجنا ہے، ذمہ وار میں ہوں، تم نے اپنا بچہ بھیجنا ہے اسکول، لڑکی ہے، لڑکا ہے، میں نے پڑھائی کا وہ کرنا ہے۔
پارلیمانی کمیٹیاں، کس لئے رک جائیں، اگر پارلیمنٹ واقعی خود مختار پارلیمنٹ ہوئی، کیوں ہم نہیں جائیں گے، کیوں نہیں جانا چاہیے ہمیں لوگوں نے بھیجا اسی لئے ہے۔
دوسرا راستہ کون سا ہے؟ دوسرا راستہ کون سا بچ جاتا ہے؟ اگر خدانخواستہ یہ کینگرو کورٹ عمران خان کو بیس سال جیل دے دیتی ہے، پھر کیا آپشن رہ جاتا ہے تحریک انصاف کے پاس؟ کیا آپشن رہ جاتا ہے ان کو اسمبلی میں بیٹھنے کے لئے؟ کیا آپشن رہ جاتا ہے وہ کمیٹیوں میں؟ جہاں قاتل ویسے پھر رہے ہیں، قاتل، ڈرگ ٹریفکر، بدمعاش، دنیا کے چور پھر رہے ہیں۔ آپ لگے ہوئے ہیں جی یہ نکاح ایسا نہیں تھا، وہ نکاح ویسا تھا، تمہارا اس سے کیا تعلق ہے یار؟ فلانا ایسا نہیں ہے، فلانا ایسا نہیں ہے۔ آخر تم پُش کر رہے ہو لوگوں کو، آپ پُش کر رہے ہیں۔ درجنوں نہیں پتا نہیں صوبائی اسمبلی میں عمران خان کی تقریباََ پچاس ساٹھ سیٹیں ہیں، کیا کریں گے آپ؟ اگر انہوں نے کہا خداحافظ۔
بیٹھیں، ایک ایسی حکومت بنائیں جو ان غلطیوں کا ازالہ کرے۔ یہ جو الیکشن میں جو کچھ ہوا ہے، جو بائی لاز میں خرابیاں ہوئی ہیں، جو آئین کے ساتھ چھیڑ خانی کی گئی ہے۔ اس میں بیٹھیں، نواز شریف بیٹھیں، فضل الرحمان بیٹھیں، جماعت اسلامی والے بیٹھیں، اے این پی والے بیٹھیں، سب بیٹھیں، توبہ استغفار پڑھیں، اسٹیبلشمنٹ بھی گزارہ کرے۔ بیٹھیں اور اس کی اصلاح کے لیے 4، 5 مہینے کے لیے حکومت بنا دیں، جس کا منتہائے مقصود یہ ہو کہ یہاں واقعی جینون الیکشن ہوں گے، واقعی یہاں آئین ہوگا، واقعی یہاں ایک خود مختاری ہوگی، پاکستان بہترین ملک بن جائے گا۔"
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
26/05/2026
Mehmood Khan Achakzai, opposition Leader in the National Assembly and leader of the Tehreek Tahaffuz Ayeen-i-Pakistan (TTAP), on Monday hinted that the opposition alliance might quit the assemblies if the government did not change its attitude towards former prime minister Imran Khan.
Speaking on Dawn News programme “Doosra Rukh”, he said: “I fear that if the current attitude towards Imran Khan continues, we will not be able to stay in the assembly.”
“What has he [Imran] done? Has he committed murders, as you are threatening that a 50-year prison sentence can be announced? He has only said that his snatched mandate should be returned to him. But you have been saying that a 50-year prison term can be announced.”
Read more: https://www.dawn.com/news/2003056
18/05/2026
جنوبی وزیرستان کے مرکزی بازار وانہ میں ہونے والا افسوسناک دھماکہ نہایت تشویشناک ہے، جس میں چیف آف احمدزئی وزیر ملک طارق سمیت تین قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے، جن میں بعض کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
اس سانحے پر متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ وزیرستان کے عوام مسلسل عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، جسے ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
