11/12/2025
مکران میڈیکل کالج کے متنازع نتائج طلبہ پر مسلط کی گئی ناانصافی ہیں۔ ترجمان بی ایس او تربت زون
تربت (پ ر) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن تربت زون نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ مکران میڈیکل کالج کے حالیہ سپلیمنٹری نتائج نے ادارے کے پورے امتحانی ڈھانچے کو مشکوک بنا دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ نتائج کا موجودہ طریقہ کار ثبوت ہے کہ ایم ایم سی میں امتحانی فیصلے شفافیت کے بجائے انتظامی کمزوری، غیر ذمہ دارانہ رویے اور طلبہ پر مسلط کی گئی غیر اعلانیہ پابندیوں کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ ایسے فیصلے نہ صرف طلبہ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں بلکہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے میں نتائج مرتب کرنے کے دوران بنیادی اصولوں اور انصاف کی کیا حیثیت رہ گئی ہے۔
بی ایس او تربت زون نے کہا کہ تھیوری میں بارہا کامیاب ہونے والے طلبہ کو پروف اور سپلیمنٹری دونوں وائیواز میں ناکام قرار دینا کسی اصول، ضابطے یا منطق کے تحت ممکن نہیں۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی کھلی نشاندہی کرتا ہے کہ امتحانی بورڈ کی کارکردگی اور مارکنگ کا پورا عمل غیر شفاف ہے اور طلبہ کے مستقبل کا فیصلہ غیر واضح، غیر دستاویزی اور غیر منصفانہ بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ “یہ محض نتائج کی خامی نہیں بلکہ طلبہ کی محنت اور وقت کو غیر ضروری جبر کے ذریعے ضائع کرنے کے مترادف ہے۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ صوبے کے دیگر کالجز کے مقابلے میں ایم ایم سی میں غیر معمولی تعداد میں سپلیمنٹری دینا انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی اور تعلیمی نظام کی عدم فعالیت کو ظاہر کرتا ہے۔ طلبہ برسوں سے امتحانی مسائل، وائیوا بورڈ کی مبہم پالیسیوں، اور مارکنگ کے متضاد طریقوں پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں مگر انتظامیہ کی مسلسل خاموشی نے معاملے کو شدت بخش دی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ “انتظامیہ کی خاموشی خود اس بات کا اعتراف ہے کہ مسئلہ محض غلطیاں نہیں بلکہ ایک منظم بے ضابطگی ہے جس کا اثر براہِ راست طلبہ کے مستقبل پر پڑ رہا ہے۔”
بی ایس او تربت زون نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ چند متاثرہ طلبہ تک محدود نہیں بلکہ پوری طلبہ برادری کے حقوق، ذہنی سکون اور تعلیمی مستقبل کا مسئلہ ہے۔ اداروں میں خوف، غیر یقینی اور دباؤ کی فضا قائم کر کے کسی بھی صورت ترقی یافتہ تعلیمی ماحول تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ بیان میں زور دیا گیا کہ انتظامیہ کو نتائج، وائیوا مارکنگ اور امتحانی عمل سے متعلق اپنے فیصلوں کو کھلے عام واضح کرنا ہوگا ورنہ طلبہ کے شکوک مزید بڑھیں گے۔
بیان کے آخر میں تنظیم نے کہا کہ اگر ایم ایم سی انتظامیہ نے اپنی پالیسیوں، امتحانی ڈھانچے اور فیصلوں پر سنجیدگی سے نظر ثانی نہ کی تو طلبہ برادری اپنے اجتماعی جمہوری حق کا استعمال کرنے پر مجبور ہوگی۔ ادارے کی مسلسل بے حسی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے جس پر اعلیٰ حکام کو فوری اور سنجیدہ نوٹس لینا ضروری ہے، کیونکہ اس بار طلبہ کے مستقبل پر ہونے والی ناانصافی کو خاموشی سے برداشت نہیں کیا جائے گا۔
04/12/2025
لیکچرار بالاچ بالی کی گمشدگی پورے مکران کیلئے لمحۂ فکریہ ہے — ترجمان بی ایس او تربت زون
تربت:(پ ر) بی ایس او تربت زون کے ترجمان کی جانب سے تربت یونیورسٹی کے لیکچرار بالاچ بالی کی جبری گمشدگی کے خلاف مزاحمتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک تعلیم یافتہ استاد کا لاپتہ کیا جانا نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ تعلیمی ماحول پر حملہ بھی ہے۔ ایک استاد کی گمشدگی سے نہ صرف طلبہ میں خوف و بے یقینی پیدا ہوتی ہے بلکہ یہ پورے معاشرے کیلئے انتہائی تشویشناک پیغام ہے کہ یہاں تعلیم سے وابستہ افراد بھی محفوظ نہیں۔
ترجمان نے کہا کہ بالاچ بالی اپنی علمی، سماجی و تعلیمی خدمات کے حوالے سے ایک باوقار شخصیت تھے۔ ایسے افراد کی جبری گمشدگی پورے مکران، خصوصاً تربت یونیورسٹی کے طلبہ و اساتذہ میں شدید اضطراب کا باعث بن رہی ہے۔ بی ایس او تربت زون مطالبہ کرتی ہے کہ بالاچ بالی کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور ان کی جبری گمشدگی میں ملوث عناصر کو بے نقاب کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ پورے بلوچستان میں ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو تعلیمی اداروں تک جا پہنچا ہے۔ بی ایس او واضح کرتی ہے کہ اگر اساتذہ اور طلبہ ہی محفوظ نہیں تو تعلیم کے فروغ کی تمام حکومتی دعوے محض کاغذی کاروائی کے سوا کچھ نہیں۔
بی ایس او تربت زون نے انسانی حقوق کے اداروں، سول سوسائٹی، وکلاء تنظیموں اور طلبہ برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بالاچ بالی کی بحفاظت بازیابی کیلئے آواز اٹھائیں اور جبری گمشدگیوں کے خلاف منظم انداز میں اقدام کریں۔ بی ایس او اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہتے ہوئے اس مسئلے کے حل تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی
21/10/2025
بلوچ خواتین کو فورتھ شیڈول میں شامل کرنا انتقامی سیاست کا تسلسل ہے — بی ایس او تربت زون
تربت (پ۔ر) بی ایس او تربت زون نے بلوچ خواتین کو فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کے حالیہ اقدام کو شدید الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے ریاستی جبر، انتقامی سیاست اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
بی ایس او تربت زون کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ صوبائی حکومت بلوچستان کی جانب سے انسانی حقوق کے میدان میں سرگرم بلوچ خواتین کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست پرامن سیاسی و انسانی جدوجہد سے خائف ہے۔ بلوچ خواتین کا نام فورتھ شیڈول میں ڈالنا ایک ایسا اقدام ہے جو آئین، قانون اور انسانی وقار تینوں کے منافی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹر شلی بلوچ کامریڈ سید بی بی سمیت دیگر باشعور بلوچ خواتین اپنی پرامن جدوجہد کے ذریعے انسانی وقار، عدل و آزادی کی علامت بن چکی ہیں۔ ان پر مقدمات، وارنٹس اور فورتھ شیڈول جیسے ہتھکنڈے دراصل اُن آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش ہیں جو ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف اُٹھ رہی ہیں۔
بی ایس او تربت زون نے واضح کیا کہ بلوچ خواتین کو نشانہ بنانا دراصل بلوچ سماج کی اجتماعی شعور پر حملہ ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ بلوچ قوم کی باشعور بیٹیاں کسی بھی جبر سے خوفزدہ نہیں ہوں گی اور اپنی جدوجہد کو مزید منظم انداز میں جاری رکھیں گی۔
بیان کے آخر میں بی ایس او تربت زون نے مطالبہ کیا کہ فورتھ شیڈول میں شامل تمام بلوچ خواتین کے نام فوری طور پر نکالے جائیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں۔ بلوچستان میں آزادی اظہار، سیاسی عمل اور احتجاج کے بنیادی حقوق کو یقینی بنایا جائے۔
بی ایس او تربت زون نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچ طلبہ اور نوجوان اپنے قومی، جمہوری اور انسانی حقوق کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے، اور کسی بھی ریاستی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔
13/10/2025
Baloch Students Organisation (Balochistan University Unit) Shaal Zone, organized a weekly study circle on the topic
"The Palestinian Movement and What We Can Learn from It."
A large number of students participated, and the lecture was delivered by Zarak Bugti, Member of the Central Committee BSO.
13/10/2025
گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول نودز میں ایس ایس ٹی کی عدم تعیناتی تعلیم دشمنی کے مترادف ہے — ترجمان بی ایس او تربت زون
تربت (پ ر) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) تربت زون کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول نودز میں گزشتہ کئی سالوں سے ایس ایس ٹی کی عدم تعیناتی محکمہ تعلیم کی مجرمانہ غفلت اور طالبات کے مستقبل سے کھلواڑ کے مترادف ہے۔ ترجمان نے کہا کہ 2019 میں مذکورہ اسکول کو ہائی کا درجہ دیا گیا تھا اور ابتدا میں ایک ایس ایس ٹی سائنس کو بطور انچارج تعینات کیا گیا، مگر صرف ایک سال بعد انہیں ٹرانسفر کردیا گیا، جس کے بعد سے آج تک اسکول بغیر ایس ایس ٹی کے چل رہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ایک ہائی اسکول کا بغیر انچارج اور ایس ایس ٹی کے چلنا پورے تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ نہم اور دہم کی طالبات کا تعلیمی سلسلہ بری طرح متاثر ہے جبکہ سکول کے اساتذہ کی قلت نے تدریسی معیار کو مزید زوال پذیر بنا دیا ہے۔ اسکول میں اس وقت 6 جے وی ٹی، ایک جے ای ٹی، ایک معلم، ایک ڈی ایم اور ایک پی ٹی آئی (جو مطالعاتی چھٹی پر ہے) موجود ہیں، جبکہ جے اے ٹی کا نام و نشان تک نہیں۔
بی ایس او تربت زون نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول نودز کا دورہ کریں، زمینی حقائق کا جائزہ لیں اور ایک فیمیل ایس ایس ٹی کو مستقل طور پر وہاں تعینات کریں تاکہ طالبات کا قیمتی وقت مزید ضائع نہ ہو۔ ترجمان نے کہا کہ تربت شہر سے روزانہ درجنوں اساتذہ کئی مسافت کے بعد ڈیوٹی کیلئے آتے ہیں تو ایک ایس ایس ٹی کو وہاں تعینات کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہونا چاہیے۔
بی ایس او تربت زون نے واضح کیا کہ اگر محکمہ تعلیم نے فوری اقدام نہ اٹھایا تو تنظیم اس غفلت کے خلاف احتجاجی لائحہ عمل ترتیب دے گی۔ تعلیم ہر شہری اور خاص طور پر طالبات کا بنیادی حق ہے، اور اس حق کی فراہمی میں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
آخر میں بی ایس او تربت زون نے مطالبہ کیا کہ محکمہ تعلیم نودز گرلز ہائی اسکول میں ایس ایس ٹی کو تعینات کرکے اسکول کا چارج اور ڈی ڈی او پاور جلد از جلد حوالے کرے تاکہ تعلیمی سلسلہ بحال ہو سکے
05/10/2025
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کی جانب سے شہید چیئرمین زبیر بلوچ اور شہید نثار جان براسو بلوچ کی یاد میں منعقدہ مشترکہ تعزیتی ریفرنس اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینیئر نائب صدر ایڈوکیٹ ساجد ترین، نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمد شہی، بلوچ وائس فار مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ، اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن و ضلعی صدر غلام نبی مری مہمانان خاص تھے۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض آغا حامد شاہ سرانجام دے رہے تھے۔ اجلاس کا آغاز شہدائے بلوچستان کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی سے ہوا۔
اجلاس سے بی ایس او پجار کے مرکزی وائس چیئرمین ملک بابل بلوچ، بی ایس او کے مرکزی سینیئر وائس چیئرمین نذر بلوچ، بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل صمند بلوچ، ایڈوکیٹ ساجد ترین، میر کبیر احمد محمد شہی، نیشنل پارٹی کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری علی احمد لانگو، غلام نبی مری، پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر طاہر شاہ، نصراللہ بلوچ، ایڈوکیٹ اسحاق بلوچ، بلوچ وائس فار مسنگ پرسنز کے حوراں بلوچ، اور بی ایس او پجار کے سینٹرل کمیٹی کے رکن اغا حق نواز شاہ نے خطاب کیا۔
شرکاء نے شہید زبیر بلوچ اور شہید نثار جان براسو بلوچ کی قربانیوں پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ یہ تعزیتی ریفرنس ان کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے عزم کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ شہید زبیر بلوچ ایک اصول پسند، پرامن، اور بے باک سیاسی کارکن تھے جنہوں نے اپنی زندگی بلوچ قوم کے بنیادی حقوق، انصاف، اور مساوات کے لیے وقف کی۔ انہوں نے ماورائے آئین قتل، جبری گمشدگیوں، اور ریاستی جبر کے خلاف نہ صرف آواز بلند کی بلکہ بلوچ طلبہ اور عوام کو شعور اور منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
شرکاء نے متفقہ طور پر کہا کہ شہید زبیر بلوچ کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت نشانہ بنایا گیا تاکہ بلوچ قوم کی حق پر مبنی آواز کو دبایا جائے۔ ان کی شہادت کو ماورائے آئین قتل قرار دیتے ہوئے شرکاء نے ریاستی بیانیے کو مسترد کیا جو ان کے کردار، جدوجہد، اور نظریے کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ شرکاء نے زور دیا کہ شہید زبیر بلوچ کی زندگی اور قربانی بلوچ قوم کے لیے ایک روشن مثال ہے جو ظلم و جبر کے خلاف لڑنے کی تحریک دیتی رہے گی۔
اسی طرح شہید نثار جان براسو ب
24/09/2025
تنظیم چیئرمین زبیر بلوچ کے بیہیمانہ قتل پر رنجیدہ ہے: بی ایس او
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بی ایس او پجار کے سابق چیئرمین زبیر بلوچ کے بہیمانہ قتل پر گہرے رنج و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ بلوچ طلبا تحریک اور قومی جدوجہد کو کچلنے کی منظم سازش ہے۔ زبیر بلوچ کو نشانہ بنا کر دراصل بلوچ طلبا سیاست کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں تحریکوں کو مٹانے کے بجائے مزید طاقتور بنا دیتی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ زبیر بلوچ نے اپنی زندگی تعلیم، انصاف، قومی شعور اور طلبا کے حقوق کے لیے وقف کی۔ وہ ایک جری اور اصولی رہنما تھے جنہوں نے ہر مشکل وقت میں نوجوانوں کو امید اور رہنمائی دی۔ ان کا قتل اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچ قوم کے باشعور بیٹوں کو راستے سے ہٹانے کے لیے گھناؤنی پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں۔
بی ایس او اس بہیمانہ قتل کی شدید ترین مذمت کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ زبیر بلوچ جیسے رہنما جسمانی طور پر مارے جا سکتے ہیں مگر ان کے نظریات اور قربانیاں کبھی ختم نہیں کی جا سکتیں۔ ان کا خون بلوچ طلبا کے لیے عزم اور مزاحمت کا نیا عہد ہے۔تنظیم شہید زبیر بلوچ کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان کرتی ہے۔ اس دوران تمام تنظیمی سرگرمیاں محدود رکھی جائیں گی اور مختلف تقریبات کے ذریعے شہید کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔
بیان کے آخر میں کہا گیا کہ شہید زبیر بلوچ کی قربانی اس بات کا اعلان ہے کہ بلوچ طلبا اپنے قومی حق، اپنی شناخت اور اپنی سرزمین کے تحفظ کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کے خون کا ایک ایک قطرہ بلوچ قوم کے اجتماعی عزم کو اور زیادہ مضبوط کرے گا۔
08/09/2025
بی ایس او کے مرکزی سیکریٹری جنرل صمندبلوچ،شالزون کے صدر سنگت کبیر بلوچ درجنوں تنظیمی کارکنان کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ پرامن احتجاج اور جمہوری حقوق سے خائف حکومت بلوچستان میں سیاسی آوازوں کو کچکنا چاہتا ہے۔تنظیمی ذمہ داران کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
08/09/2025
بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل صمند بلوچ بی ایس او شال زون کے آرگنائزر کبیر بلوچ تھانہ منتقل